Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1248

1248 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى رَهْطًا فِيهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَلَمْ يُعْطِهِ مَعَهُمْ شَيْئًا فَخَرَجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَبْكِي، فَلَقِيَهُ عُمَرُ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ فَقَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا مَعَهُمْ وَلَمْ يُعْطِنِي، وَأَخْشَى أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا مَنَعَهُ مَوْجِدَةٌ وَجَدَهَا عَلَيَّ، فَدَخَلَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ خَبَرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بِي سَخْطَةٌ عَلَيْهِ، وَلَكِنِّي وَكَلْتُهُ إِلَى إِيمَانِهِ» .

سیّد نا عبد اللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے لوگوں کے ایک گروہ کو حصہ دیا ،جن کے ساتھ مَیں بھی شامل تھا مگر مجھے کچھ نہیں دیا ،مجھے خدشہ ہے کہ آپﷺنے مجھے کسی ناراضگی کی وجہ سے نہ دیا ہو ،یہ سن کر سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور سیّد نا عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ کی بات سنائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:میں ان سے ناراض نہیں ہوں مگر میں نے کے ایمان پر چھوڑا ہے۔(1)

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1248

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1249

1249 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قثنا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ أُمِّ بَكْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ فَقَسَمَ فِي فُقَرَاءِ بَنِي زُهْرَةَ وَفِي ذِي الْحَاجَةِ مِنَ النَّاسِ، وَفِي أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ الْمِسْوَرُ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ بِنَصِيبِهَا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: مَنْ أَرْسَلَ بِهَذَا؟، قُلْتُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحْنَأُ عَلَيْكُنَّ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ، سَقَى اللَّهُ ابْنَ عَوْفٍ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ»

ام بکر رحمۃاللہ علیہا سے روایت ہے کہ سیّد نا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی زمین سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو چالیس ہزاردینار کے عوض فروخت کی ،ان دیناروں کو فقراء بنی زہرہ عام ٖغریب غربا اور امہات المومنین میں تقسیم کر دیا،سیّد نامسوَر کہتے ہیں کہ جب میں سیّد ہ عائشہ کا حصہ لے کر ان کے پاس گیا تو کہنے لگی:کس نے بھیجا ہے۔ میں نے کہا :سیّد نا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے وہ بولی :رسول اللہ ﷺنے فرمایاتھا :کہ تم پر میرے بعد مہربانی کرنے والے صابرین ہوں گےاللہ ابن عوف کو جنت کے چشمے سے سیراب کرے۔(2)

أُمِّ بَكْرٍ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قثنا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1249

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1250

1250 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، قثنا أَبُو سَعِيدٍ، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحْنَأُ عَلَيْكُمْ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ»

ام بکر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی زمین کو فروخت کیا پھر آ گے وہی حدیث ہے مگر اس میں اتنے ہی الفاظ ہیں کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگی ۔میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا تھا آپ ﷺنے فرمایا تھاکہ تم مہربانی کرنے والا صابروں میں سے ہو گا۔(1)

لَا يَحْنَا عَلَيْكُمْ بَعْدِي إِلَّا الصَّابِرُونَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَمَا إِنِّي ← الحديث، إلا أنه ← حَدَّثَتْنَا أُمُّ بَكْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ بَاعَ أَرْضًا لَهُ ← أَبِي، قثنا أَبُو سَعِيدٍ، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1250

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1251

1251 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا أَبِي، قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، وَقثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ الْمِسْوَرُ: بَيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ فِي رَكْبٍ بَيْنَ عُثْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قُدَّامِي وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَ عُثْمَانُ مَنْ صَاحِبُ الْخَمِيصَةِ السَّوْدَاءِ؟ قَالُوا: عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: فَنَادَانِي عُثْمَانُ فَقَالَ: يَا مِسْوَرُ قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: «مَنْ زَعَمَ أَنَّهُ خَيْرٌ مِنْ خَالِكَ فِي الْهِجْرَةِ الْأُولَى، وَفِي الْهِجْرَةِ الْآخِرَةِ فَقَدْ كَذَبَ»

سیّد نا مِسوَر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں قافلہ میں سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جارہا تھا ،ہمارے آگے ایک کالی چادر والا انسان تھا سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ کالی چادر والی شخص کون ہے ؟لوگوں نے کہا: عبدالرحمن بن عوف، سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : مسور! میں نے کہا : لبیک امیر المومنین ! انہون نے فرمایا : جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ یہ ( سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ) تمہارے ماموں سے ہجرت اولیٰ اور ہجرت ثانیہ میں بہتر تھا ، یقیناً اس نے جھوٹ بولا۔(2)

يَا مِسْوَرُ قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، ← فَنَادَانِي عُثْمَانُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عُثْمَانُ مَنْ صَاحِبُ الْخَمِيصَةِ السَّوْدَاءِ؟ ← أَسِيرُ فِي رَكْبٍ بَيْنَ عُثْمَانَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قُدَّامِي وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ، ← الْمِسْوَرُ: بَيْنَمَا ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، وَقثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1251

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1252

1252 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَنْ حَافَظَ عَلَى أَزْوَاجِي - وَقَالَ سُفْيَانَ مَرَّةً -: عَلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ - إِنَّ الَّذِي يُحَافِظُ عَلَيْهِنَّ بَعْدِي فَهُوَ الصَّادِقُ الْبَارُّ " قَالَ: فَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَحُجُّ بِهِنَّ، وَيَجْعَلُ عَلَى هَوَادِجِهِنَّ الطَّيَالِسَةَ وَيُنْزِلُهُنَّ الشِّعْبَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَنْفَذٌ.

ابن ابی نجیح سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جو شخص امہات المومنین کا محافظ بنے گا میرے بعد یقیناً وہ سچا اور نیک ہو گا ۔ روای کہتا ہے اس کے بعد ہم نے دیکھا کہ سیّد نا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ حج میں ان کے محافظ تھے ، ان کے کجاووں پر چادر ڈالتے تھے اور ان کو ایسی جگہ پر ٹھہراتے کہ جہاں سےراستہ نہ بنا ہوا ہو ۔ (تاکہ ان کے پاس سے لوگون کاگزرکم ہو )۔(3)

ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1252

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1253

1253 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أنا زَكَرِيَّا، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِذَا قَدِمَ مَكَّةَ لَمْ يَنْزِلْ مَنْزِلَهُ، الَّذِي كَانَ يَنْزِلُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهَا ".

سعد بن ارباہیم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عبدالرحمن بن عرف رضی اللہ عنہ جب مکہ آئے ، وہ ان جگہوں پر نہیں جاتے تھے جہاں وہ زمانہ جاہلیت جاتے تھے ، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ سے تشریف لے جاتے تھے ۔ (4)

سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← زَکَرِیَّا، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1253

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1254

1254 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَالَ: «اذْهَبِ ابْنَ عَوْفٍ بِبُطْنَتِكَ لَمْ يَتَغَضْغَضْ مِنْهَا شَيْءٌ» .

سعد بن ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیّد نا عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کو جب سیّد نا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر علی تو انہوں نے کہا :چلے جاؤ، اے ابن عوف! اپنے اس پیٹ کے ساتھ جس نے کچھ بھی نہیں کاٹا ہے ۔ ( یہ انہوں نے اس لیے کہا تھا کہ سیّد نا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پیٹ کی کسی بیماری سے فوت ہوئے تھے )(1)

«اذْهَبِ ابْنَ عَوْفٍ بِبُطْنَتِكَ لَمْ يَتَغَضْغَضْ مِنْهَا شَيْءٌ» ← لَمَّا مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْف ← عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَنَّهُ ← أَبِي ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1254

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1255

1255 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ قَارِظٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ يَوْمَ مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: «اذْهَبِ ابْنَ عَوْفٍ فَقَدْ أَدْرَكْتَ صَفْوَهَا وَسَبَقْتَ رَنْقَهَا» .

ابراہیم بن قارظ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے جب ان کی وفات کی خبر سنی تو فرمانے لگے : ابن عوف! چلے جاؤ( اپنے رب کی طرف ) آپ نے بہتر چیزوں کو جمع کیا اور گدلے پانی ( کو چھوڑ کر اس ) سےآگے گزر گئے ۔(2)

عَلِيًّا ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ قَارِظٍ، ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1255

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1256

1256 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: نا شُعْبَةُ، وَحَجَّاجٌ قَالَ: أنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ فِي جِنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عِنْدَ قَائِمَتَيِ السَّرِيرِ فَجَعَلَ يَقُولُ: «وَاجَبَلَاهُ» .

سعد بن ابرایم رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیّد نا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سیّد نا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جنازے کی چار پائی کے پاس کھڑ ے تھے اور کہہ رہے تھے : ہائے پہاڑ( یعنی آپ بڑے مضبوط انسان تھے ) (3)

وَاجَبَلاَه. ← قَّاصٍ فِي جِنَازَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عِنْدَ قَائِمَتَيِ السَّرِيرِ فَجَعَلَ ← لَقَدْ رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي ← أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1256

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1257

1257 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ يَوْمَ مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ «اذْهَبِ ابْنَ عَوْفٍ فَقَدْ أَدْرَكْتَ صَفْوَهَا وَسَبَقْتَ رَنْقَهَا» .

ابراہیم بن قارظ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے جب انکو وفات کی خبر سنی تو فرمانے لگے : ابن عوف چلے جاؤ ( اپنے رب کی طرف ) آپ نے بہتری چیزوں کو جمع کیا اور گدلے پانی (کوچھوڑ کر اس )سے آگے گزر گئے ۔ (4)

يَوْمَ مَاتَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ «اذْهَبِ ابْنَ عَوْفٍ فَقَدْ أَدْرَكْتَ صَفْوَهَا وَسَبَقْتَ رَنْقَهَا» ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِيهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1257

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1258

1258 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ قثنا صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ: «إِنَّ أَمْرَكُنَّ لَمِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي، وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ» ثُمَّ تَقُولُ لِي: سَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَكَانَ أَعْطَى نِسَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالًا بِيعَ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا وَصَلَهُنَّ بِهِ.

ابو سلملہ بن عبدالرحمن رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد ہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ فرمارہے تھے : تمہارا معاملہ میرے لیے میرے بعد پریشان کن ہے ، تمہاری کفالت پر صبر کرے والا صابر ین میں سے ہو گا ، پھر انہوں نے مجھے فرمایا : اللہ تمہارے باپ (سیّد نا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ)کوجنت کےچشمے سے سیراب کرے ۔ کیونکہ سیّد نا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جب چالیس ہزار دینار کی زمین فروخت کی تو ان میں سے رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کوتحفہ دے کر ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کی۔ (5)

عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ قثنا صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1258

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1259

1259 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، قَرَأْتُ كِتَابًا لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ، يُحَدِّثُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ قَالَ: «إِنْ ضَرَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى فَبَايَعُوهُ» .

محمد بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب عبدالرحمن اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارے تو تم لوگ ان سے بیعت کرو ۔ (6)

«إِنْ ضَرَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى فَبَايَعُوهُ» ← أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← كِتَابًا لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him · Hadith 1259

Daif

All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him