Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 67

67 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قثنا جَرِيرٌ، يَعْنِي: ابْنَ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبًا رَأْسَهُ فِي خِرْقَةٍ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنْ خَلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ، سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ» .

سیدنا عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے مرض وفات میں (حجرہ مبارک سے) باہر تشریف لائے اور اپنا سر مبارک کپڑے کے ٹکڑے سے باندھا ہوا تھا آپ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ابو بکر کے برابر مجھ پر کسی کے بھی مال و بدنی احسانات نہیں ۔اگر میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا البتہ بھائی بندی تو ہے ہی جو افضل ہے ۔ مزید فرمایا : ابوبکر صدیق کی کھڑکی کے علاوہ اس مسجد کی طرف کھلنے والی تمام کھڑکیوں کو بند کردو (1)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قثنا جَرِيرٌ، يَعْنِي: ابْنَ حَازِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 67

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 68

68 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، وَاشْرَأَبَّ النِّفَاقُ بِالْمَدِينَةِ، فَلَوْ نَزَلَ بِالْجِبَالِ الرَّوَاسِي مَا نَزَلَ بِأَبِي لَهَاضَهَا، فَوَاللَّهِ مَا اخْتَلَفُوا فِي نُقْطَةٍ إِلَّا طَارَ أَبِي بِحَظِّهَا وَعَنَائِهَا فِي الْإِسْلَامِ، وَكَانَتْ تَقُولُ مَعَ هَذَا: وَمَنْ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَرَفَ أَنَّهُ خُلِقَ غَنَاءً لِلْإِسْلَامِ، كَانَ وَاللَّهِ أَحْوَزِيًّا، نَسِيجَ وَحْدَهُ، قَدْ أَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا.

سید ہ عائشہ صدیقہ س روایت ہے کہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد کچھ عرب قبائل مرتد ہو گئے ۔مدینہ میں نفاق نے سر اٹھا لیا۔ اس وقت جن نازک حالات سے میرے ابا جان کو واسطہ پڑا ہے ۔ اگر وہ مضبوط پہاڑوں کوبھی پڑیا تو وہ بھی لرز اٹھتے اللہ کی قسم اگر کسی چیز میں بھی لوگوں نے اختلاف کیا تو میرے باپ وہاں پورے اہتمام کے ساتھ پہنچ جاتے اس کے باوجود سیدہ عائشہ صدیقہ کہتی ہیں جو سیدنا عمر کو دیکھے گا تو وہ جان لے گا کہ وہ بالیقین اسلام کے نفع کے لیے پیدا کیے گئے ۔ اللہ کی قسم وہ ایک زہین و فطین پھرتیلے ہونے کے ساتھ ساتھ ایک لاثانی شخصیت تھی کہ ہر مشکل کا سامنا کرتے وقت انکے اس کا کوئی نہ کوئی حل ضرور ہوتا تھا ۔(2)

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 68

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 69

69 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ» .

ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے ابو الا حوصؑ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے ہے : اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا(1)

النَّبِيِّ لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ ← كَانَ عَبْدُ اللهِ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 69

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 70

70 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي فَقَالَ: «سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ» ، فَقَالَ عُمَرُ: فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، فَسَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، وَمَا اسْتَبَقْنَا إِلَى خَيْرٍ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: إِنَّ مِنْ دُعَائِي الَّذِي لَا أَكَادُ أَنْ أَدَعَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ.

سیدنا عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اُم عبد کے بیٹے! سوال کر تجھ کو دیا جائے گا۔ سیدنا عمر نے کہا میں نے ایک مرتبہ ابوبکر صدیق سے مقابلہ کیا مگر اس میں ابو بکر سبقت لے گئے جب بھی ہم نے کسی نیک کام یمں مقابلہ کرنا چاہا تو ابو بکر صدیق نے اس یمں سبقت اختیار کی ۔ فرمایا میری دعاؤں میں سے وہ دُعا جس کو میں نے کبھی نہیں چھوڑا وہ یہ ہے : اے اللہ یمں تجھ سے نہ ختم ہونے والی نعمت اور نہ فنا ہونے والی آنکھوں کی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں اور اس جنت معلیٰ یعنی جنت خلد میں سیدنا محمد ﷺ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔ (2)

عُمَرُ فَابْتَدَرْتُ ← «سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ» ← أُصَلِّي ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 70

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 71

71 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ: أنا عُبَيْدُ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ النَّجْرَانِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي جُنْدُبٌ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُتَوَفَّى بِخَمْسٍ يَقُولُ: «إِنَّهُ كَانَ لِي مِنْكُمْ إِخْوَةٌ وَأَصْدِقَاءُ، وَإِنِّي أَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَكُونَ لِي مِنْكُمْ خَلِيلٌ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ أَبِي إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، فَلَا تَتَّخِذُوا الْقَبْرَ مَسْجِدًا، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِكَ» .

عبداللہ بن حارث نجرانی ؑ بیان کرتے ہیں کہ مجھے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو وفات سے پانچ دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا : بے شک تم میں سے میرے بھائی اور دوست ہیں میں اللہ تعالی کے ہاں تم میں سے کسی کو خلیل بنانے سے بری ہوں ، اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا، لیکن بے شک میرے رب نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے کہ جس طرح میرے باپ سیدنا ابرہیم ؑ کو خلیل بنایا تھا ۔ خبردار ! تم سے پہلے لوگوں نے اپنے ابنیائے کرام ؑ اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا پس تم قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمہیں اس سے روکتا ہوں (3)

جُنْدُبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ النَّجْرَانِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ← أَبِي، قثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 71

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 72

72 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ مِنْ كِتَابِهِ قثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ قَالَ: أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ سَلْعٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَامَ عَلِيٌّ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ، فَعَمِلَ بِعَمَلِهِ وَسَارَ بِسِيرَتِهِ، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفَ عُمَرُ فَعَمِلَ بِعَمَلِهِمَا، وَسَارَ بِسِيرَتِهِمَا، حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَلَى ذَلِكَ.

عبدخیر ؑ سے روایت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑےہوئے ، رسول اللہ ﷺ کی رحلت کے بعد آپ ﷺ کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا : سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا ، انہوں نے آپ ﷺ جیسے کام کیے اور آپ ﷺ کی سیر طیبہ کے مطابق زندگی بسر کی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا ، انکے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بائے گئے انہوں نے ان دونوں (رسول اکرم ﷺ اور ابو بکر صڈیق رضی اللہ عنہ) جیسے کام کیے اور ان دونوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے زندگی بسر کی یہاں تک وہ بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے ۔(1)

رَسُولِ اللَّهِ ← قَامَ عَلِيٌّ عَلَى الْمِنْبَرِ ← عبد خير ← عبد الملك بن سلع الهمداني ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ مِنْ كِتَابِهِ قثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 72

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 73

73 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا أَبُو بَكْرٍ، يَعْنِي: ابْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ اتَّخَذَنِي خَلِيلًا كَمَا اتَّخَذَ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلِي» .

ابو امامہ البابلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بے شک اللہ نے مجھے اپنا ایسے ہی خلیل بنایا ہے جیسے سیدنا ابراہیم ؑ کو خلیل بنایا تھا اور بے شک ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے خلیل ہیں (2)

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← أَبِي الْمُهَلَّبِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 73

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 74

74 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: وَجَدْتُ فِي بَعْضِ الْكُتُبِ يَوْمَ غَزَوْنَا الْيَرْمُوكَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَصَبْتُمُ اسْمَهُ، عُمَرُ الْفَارُوقُ قُرِنَ مِنْ حَدِيدٍ أَصَبْتُمُ اسْمَهُ، عُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ أُوتِيَ كِفْلَيْنِ مِنَ الرَّحْمَةِ لِأَنَّهُ يُقْتَلُ، أَصَبْتُمُ اسْمَهُ، قَالَ: ثُمَّ يَكُونُ وَالِي الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ وَابْنُهُ، قَالَ عُقْبَةُ: قُلْتُ لِابْنِ الْعَاصِ: سَمِّهُمَا كَمَا سَمَّيْتَ هَؤُلَاءِ، قَالَ: مُعَاوِيَةُ وَابْنُهُ.

سید نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ یرموک کے دن میں نے کسی کتاب میں لکھا ہوا پایا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تم نے انہیں اس بامسمیٰ پایا ، عمر فاروق رضی اللہ عنہ آہنی مرد تھے تم نے انہیں بھی اسم بامسمیٰ پایا ، سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو دوگنی رحمت سے نوازا گیا ، کیوں کہ وہ شہید کیے جائیں گے تم نے انہیں بھی اسم بامسمیٰ پایا ۔پھر ارض مقدس (شام) کے امیر وہ خود اور پھر ان کے بیٹے ہوں گے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ ان دونوں کے نام بھی بتا دیجیے جیسے باقی بتائے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کابیٹا (یزید)(3)

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 74

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 75

75 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: رَأَى رَجُلٌ أَبَا بَكْرٍ، وَعَلَى عَاتِقِهِ عَبَاءَةٌ، فَقَالَ: أَرِنِي أَعِنْكَ فَقَالَ: إِلَيْكَ لَا تَغُرَّنِي أَنْتَ وَلَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ عِيَالِي.

عمیر بن اسحاق ؑ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے کندھے پر چادر تھی تو ا س نے کہا یہ مجھے دیجیے میں آپ رضی اللہ عنہ کی مدد کرتا ہوں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم چھوڑ دو ،مجھے دھوکہ نہ دو اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے اہل خانہ سے نہیں ہیں (1)

أَرِنِي أَعِنْكَ ← رَأَى رَجُلٌ أَبَا بَكْرٍ، وَعَلَى عَاتِقِهِ عَبَاءَةٌ، ← عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 75

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 76

76 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَطَلَعَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، ثُمَّ قَالَ: «يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَطَلَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم پر ایک جنتی شخص نمودار ہونے والا ہے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اتنے میں حاضر ہوئےمزید آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم پر ایک جنتی شخص ظاہر ہونے والا ہے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے (2)

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 76

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 77

77 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ، يَنْزِلُ قَنْطَرَةَ بَرْدَانَ، وَكَانَ ثِقَةً - سَأَلْتُ أَبِي عَنْ عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ بِخَيْرٍ - قثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ، وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: «هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ س روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد بنوی میں داخل ہوئے جبکہ آپ ﷺ کے دائیں جانب سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور بائیں جانب سیدنا عمرضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یوں ہی ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے (3)

يَسَارِهِ فَقَالَ: «هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ← يَمِينِهِ وَعُمَرُ ← دَخَلَ النَّبِيُّ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ بِخَيْرٍ قثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ، يَنْزِلُ قَنْطَرَةَ بَرْدَانَ، وَكَانَ ثِقَةً سَأَلْتُ أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 77

Daif

All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him