فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا · حديث 67
67 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قثنا جَرِيرٌ، يَعْنِي: ابْنَ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عَاصِبًا رَأْسَهُ فِي خِرْقَةٍ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَمَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِهِ وَمَالِهِ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنْ خَلَّةُ الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ، سُدُّوا عَنِّي كُلَّ خَوْخَةٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرَ خَوْخَةِ أَبِي بَكْرٍ» .
سیدنا عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے مرض وفات میں (حجرہ مبارک سے) باہر تشریف لائے اور اپنا سر مبارک کپڑے کے ٹکڑے سے باندھا ہوا تھا آپ ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : ابو بکر کے برابر مجھ پر کسی کے بھی مال و بدنی احسانات نہیں ۔اگر میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا البتہ بھائی بندی تو ہے ہی جو افضل ہے ۔ مزید فرمایا : ابوبکر صدیق کی کھڑکی کے علاوہ اس مسجد کی طرف کھلنے والی تمام کھڑکیوں کو بند کردو (1)
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قثنا جَرِيرٌ، يَعْنِي: ابْنَ حَازِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend · Hadith 67
