Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1625

1625 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ. أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي عَائِشَةَ وَعَابَهَا، فَقَالَ: لَهُ عَمَّارٌ «وَيْحَكَ مَا تُرِيدُ مِنْ حَبِيبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا تُرِيدُ مِنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ» ، بَيْنَ يَدَيْ عَلِيٍّ وَعَلِيٌّ سَاكِتٌ

ابو اسحاق ؒ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما پر لعن طعن شروع کیا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو تو حبیب رسولﷺسے کیا چاہتا ہے؟ اور تم ام المومنین(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما) سے کیا چاہتے ہو؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنت میں بھی نبی کریم ﷺ کی بیوی ہوں گی، یہ سب کچھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ہوا اور وہ خاموش رہے۔ (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خاموشی بتا رہی تھی کی عمار نے بلکل درست فرمایا ہے، یہ وضاحت ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ ناصبی اسے پڑھ کر یہ نتیجہ اخذ نہ کرلے کہ نعوذباللہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں سیدہ عائشہ کو برا بھلا کہا جار ہا تھا وہ خاموش رہے)۔ (1)

أَبِي إِسْحَاقَ. أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي عَائِشَةَ وَعَابَهَا، ← أَبِي، قثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1625

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1626

1626 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: ثنا أُمُّ عُمَرَ ابْنَةُ حَسَّانَ بْنِ زَيْدٍ قَالَتْ: وَحَدَّثَنِي يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ قَيْسِ بْنِ عَبْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ كَانَتْ تَقُولُ: «لَا يَنْتَقِصُنِي إِنْسَانٌ فِي الدُّنْيَا، إِلَّا تَبَرَّأْتُ مِنْهُ فِي الْآخِرَةِ»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما فرمایا کرتی تھیں کہ اگر کوئی انسان دنیا میں مجھ ہر عیب لگائے تو میں اس سے قیامت کے دن بیزارہوجاؤں گی۔ (2)

يَعْنِي سَعِيدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ قَيْسِ بْنِ عَبْسٍ، ← أُمُّ عُمَرَ ابْنَةُ حَسَّانَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1626

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1627

1627 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: «هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» فَقَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، تَرَى مَا لَا نَرَى

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: یہ جبرائیل ہیں جو تجھے سلام کررہے ہیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے جواب میں کہا: وعلیہ السلام ورحمتہ اللہ وبرکاۃ، (یا رسو ل اللہﷺ!) آپ وہ دیکھتے جو ہم نہیں دیکھ پاتے۔ (3)

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1627

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1628

1628 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ، عائشہ کو باقی عورتوں پر فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو باقی کھانوں پرحاصل ہے۔ (1)ٰ

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الْحَارِثِ ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبِي، قثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1628

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1629

1629 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْذَرَ أَبَا بَكْرٍ مِنْ عَائِشَةَ، وَلَمْ يَخْشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَالَهَا أَبُو بَكْرٍ بِالَّذِي نَالَهَا، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِهِ فَلَطَمَ فِي صَدْرِ عَائِشَةَ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: «مَا أَنَا بِمُسْتَعْذِرُكَ مِنْهَا بَعْدَ فِعْلَتِكَ هَذِهِ» .

سیدنا سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو کوئی شکایت لگائی ،آپ ﷺ کو یہ خدشہ نہیں تھا کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ وہ سلوک کریں گے جو انہوں نے کیا ، پس سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کو سینے پر اپنا ہاتھ مارا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو محسوس کرتے ہوئے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اب چونکہ آپ نے یہ کام کر دیا ہے تو میں آپ سے اس کام (مار) کے بعد کوئی شکایت نہیں کروں گا۔(2)

يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1629

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1630

1630 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الْوَلِيدِ وَكَادَ أَنْ يَتَنَاوَلَ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَكَانَ أُوتِيَ حِكْمَةً قَالَ: مَنْ هُوَ؟ قُلْتُ: هُوَ أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ، وَسَمِعَ أَهْلَ الشَّامِ كَادُوا يَنَالُونَ مِنْ عَائِشَةَ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَثَلِكُمْ وَمَثَلِ أُمِّكُمْ هَذِهِ، كَمَثَلِ عَيْنَيْنِ فِي رَأْسٍ، يُؤْذِيَانِ صَاحِبَهُمَا وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعَاقِبَهُمَا، إِلَّا بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ لَهُمَا قَالَ: فَسَكَتَ ". ذَكَرَهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں خلیفہ ولید کے پاس تھا ، قریب تھا کہ وہ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کچھ کہتا تو میں نے کہا : امیر المومنین ! کیا میں آپ کو شامی انسان کے بارے میں بتاؤں جو کہ صاحب حکمت ہے ؟ پوچھا : وہ کون ہے ؟ میں نے کہا : ابو مسلم خولانی ، جنہوں نے اہل شام کو سنا ، قریب تھا کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کچھ نازیبا الفاظ کہہ دیتے تو ابو مسلم نے ان لوگوں سے کہا : میں تمہاری اور تمہاری ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مثال نہ بتاؤں تمہاری اور ان کی مثال اس انسان کی مانند ہے جس کے سر پر دو آنکھیں ہوں ۔ جن سے اس انسان کو تکلیف ہو رہی ہو مگر وہ کچھ نہیں کر پاتا، ہاں ! اگر ان دونوں آنکھوں کے بدلے اور دو بہتر آنکھیں لے آئے ( جو کہ نا ممکن ہے ) یہ سن کر خلیفہ بھی خاموش ہوئے ، یہ امام زہری نے ابو ادریس کے حوالے سے ابو مسلم خولانی سے بیان کیا ہے ۔ (3)

كُنْتُ عِنْدَ الْوَلِيدِ وَكَادَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1630

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1631

1631 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَرِيبِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ فَوَقَعَ فِي عَائِشَةَ فَقَامَ عَمَّارٌ فَقَالَ: «اخْرُجْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَزَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» .

عریب بن حمید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کچھ برا بھلا کہنے لگا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : نکل جاؤ شرمندہ اور دھتکارے ہوئے ہو کر ، اللہ کی قسم ! وہ تو دینا آخرت میں رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ہوں گی ۔ (1)

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ فَوَقَعَ فِي عَائِشَةَ فَقَامَ عَمَّارٌ ← عَرِيبِ بْنِ حُمَيْدٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِيهِ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1631

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1632

1632 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ مَرَّةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ» . قَالَ: يَحْيَى: امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ.

سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مردوں میں تو بہت کامل لوگ گزرے ہیں مگر عورتوں میں آسیہ کے علاوہ کوئی کامل نہیں ہے۔ امام یحیٰ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا فرعون کی بیوی اور سیدہ مریم عمران کی بیٹی تھیں اور عائشہ کو باقی عورتوں پر وہ فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو باقی کھانوں پر حاصل ہے ۔ (2)

اَبِیْ مُوْسیٰ ← مُرَّۃُ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا شُعْبَةُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1632

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1633

1633 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةَ: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ كَفَّيْهَا، لَيُهَوَّنُ بِذَلِكَ عَلَيَّ عِنْدَ مَوْتِي» .

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے عائشہ کو جنت میں دیکھا کہ میں ان کے ہاتھوں کی سفیدی کی طرف دیکھ رہا تھا شاید اس وجہ سے موت کے وقت مجھ پر بوجھ ہلکا ہو جائے۔ (3)

عَائِشَةَ ← مُصْعَبِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةَ: ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1633

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1634

1634 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ» قَالَتْ: وَعَلَيْهِ وَرَحْمَةُ اللَّهِ أَوْ وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : یہ جبرائیل ہیں جو تجھے سلام کر رہے ہیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب میں کہا : وعلیہ و رحمۃ اللہ یا کہا : وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ ۔ (4)

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَامِرٍ، ← زَکَرِیَّا، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1634

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1635

1635 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَكَ عَلَى مَعْرَفَةِ الْفَرَسِ وَأَنْتَ تُكَلِّمُ رَجُلًا، وَقَالَ مَرَّةً: قَالَتْ عَائِشَةُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى مَعْرَفَةِ رَأْسِ فَرَسٍ وَهُوَ يُكَلِّمُ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ وَاضِعًا يَدَكَ عَلَى مَعْرَفَةِ فَرَسِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ وَأَنْتَ تُكَلِّمُهُ قَالَ: أَوَ رَأَيْتِيهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ، وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، جَزَاهُ اللَّهُ خَيْرًا مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ وَنِعْمَ الدَّخِيلُ ". قَالَ سُفْيَانُ: الدَّخِيلُ: الضَّيْفُ.

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں نے ابھی آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے کسی آدمی سے گفتگو کر رہےتھے ۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سے گفتگو کر رہے تھے سیدہ عائشہ نے عرض کیا : ( یارسول اللہ ﷺ) میں نے ابھی آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے سر پر ہاتھ رکھے ہوئے ان سے گفتگو کر رہے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اس کو دیکھا ہے ؟ عرض کیا ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ! وہ جبرائیل تھے آپ کو سلام دے رہے تھے ۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : وعلیہ السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ، اللہ تعالیٰ اس ساتھی اور مہمان کو جزائے خیر دے وہ کتنے اچھے راز دار اور کتنے اچھے مہمان ہیں ۔ امام سفیان رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : دخیل کا مطلب الضیف ( مہمان ) ہے ۔(1)

عَائِشَةَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← أَبِي، قثنا سُفْيَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1635

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1636

1636 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ أَبِي إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَلَى عَائِشَةَ فِي مَرَضِهَا الَّذِي مَاتَتْ فِيهِ، فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ فَلَمْ يَزَلْ بِهَا حَتَّى أَذِنَتْ لَهُ فَسَمِعَهَا وَهِيَ تَقُولُ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» قَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعَاذَكَ مِنَ النَّارِ، كُنْتِ أَوَّلَ امْرَأَةٍ نَزَلَ عُذْرُهَا مِنَ السَّمَاءِ» .

عبداللہ بن عبید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیمار پرسی کے لیے اجازت طلب کی جس مرض میں وہ وفات پا گئیں تھیں مگر انہوں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تو وہ مسلسل ان سے اجازت طلب کرتے رہے ۔ یہاں تک کہ ان کو اجازت مل گئی ۔ انہوں نے ان سے سنا وہ کہہ رہی تھی اے اللہ مجھے آگ کے عذاب سے پناہ دے ۔ تو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : ام المومنین ! اللہ نے آپ کو آگ سے پناہ دی ہے کیونکہ آپ تو وہ پہلی ام المومنین ہیں جن کا غدر آسمان سے نازل ہوا ہے ۔ (2) نوٹ:۔۔۔ یہاں سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے عذر کا اشارہ غالبا اسی طرف ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائے گئے الزام سے ان کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے وحی کے ذریعے بری کیا تھا ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ← هَارُونَ بْنِ أَبِي إِبْرَاهِيمَ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1636

Sahih

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him