Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1485

1485 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدِ اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ» .

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سعد بن معاذ کی موت سے اللہ تعالیٰ کا عرش ہل گیا ۔ (1)

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1485

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1486

1486 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قثنا عَوْفٌ قثنا أَبُو نَضْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ» .

سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سعد بن معاذ کی موت سے اللہ تعالیٰ کا عرش ہل گیا ۔ (2)

اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ. ← النَّبِيِّ ← أَبَا سَعِيدٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قثنا عَوْفٌ قثنا أَبُو نَضْرَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1486

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1487

1487 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِثَوْبِ حَرِيرٍ، فَجَعَلُوا يَعْجَبُونَ مِنْ حُسْنِهِ وَلِينِهِ، فَقَالَ: «لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ، أَفْضَلُ أَوْ خَيْرٌ مِنْهَا» .

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے رسول اللہ ﷺ کو ریشم کا کپڑا دیا ، لوگ اس کی خوبصورتی دیکھ کر تعجب کرنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : یقینا سعد بن معاذ کے تو رومال ہی جنت میں اس ریشمی کپڑے سے کئی گناہ بہتر ہیں۔ (3)

الْبَرَاءِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1487

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1488

1488 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ الْخَنْدَقِ قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ، فَقَالَ عُمَرُ سَيِّدُنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ: أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْكُمْ فِيهِمْ» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب (غزوہ خندق کےموقع) پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو آتے دیکھا تو لوگوں سے فرمایا : اپنے سردار کے لیےکھڑے ہو جاؤ اور ان کو سواری سے نیچے اتارو ،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ہمارا سردار تو اللہ ہے ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ان کو اتار و پس جب اتارا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : اے سعد ! اب ان (یہود ) کے متعلق فیصلہ صادر کرو۔ (1)

لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «احْكُمْ فِيهِمْ» ← أَنْزِلُوهُ فَأَنْزَلُوهُ ← عُمَرُ سَيِّدُنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ← قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ، ← أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: فَلَمَّا طَلَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← حَدِيثَ الْخَنْدَقِ ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1488

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1489

1489 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ. رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ حِينَ أَمْسَى فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ جَاءَهُ جِبْرِيلُ أَوْ قَالَ: مَلَكٌ فَقَالَ: مَنْ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِكَ مَاتَ اللَّيْلَةَ اسْتَبْشَرَ بِمَوْتِهِ أَهْلُ السَّمَاءِ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ أَمْسَى دَنِفًا مَا فَعَلَ سَعْدٌ؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ قُبِضَ، وَجَاءَ قَوْمُهُ فَاحْتَمَلُوهُ إِلَى دَارِهِمْ قَالَ: فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجَ النَّاسُ مَشْيًا حَتَّى إِنَّ شُسُوعَ نِعَالِهِمْ تَقَطَّعُ مِنْ أَرْجُلِهِمْ وَإِنَّ أَرْدِيَتَهُمْ تَسْقُطُ مِنْ عَوَاتِقِهِمْ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ _ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ _ قَدْ بَتَتَّ النَّاسَ مَشْيًا قَالَ: «إِنِّي أَخْشَى أَنْ تَسْبِقَنَا إِلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ كَمَا سَبَقَتْنَا إِلَى حَنْظَلَةَ» . [ص:820]

سیدنا عاصم بن عمر بن قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو سو گئے پس جب بیدار ہو ئے تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے یا راوی نے کہا : کوئی فرشتہ آیا پوچھا آپ کی امت میں سے کون شخص ہے جو آج رات فوت ہوا ہے جس کی موت پر تمام آسمان والے خوش ہو رہے ہیں ؟ ( کہ کتنی پاکیزہ روح آسمان کی طرف تشریف لائی ہے )آپ ﷺ نے فرمایا میرا خیال ہے کہ وہ سعد بن معاذ ہی ہوں گے کیونکہ وہ آج رات سخت بیمار تھے لوگوں سے دریافت کیا : سعد کا کیا حال ہے ۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ وفات پا گئے ہیں اور ان کی قوم ان کو اپنے گھر لے گئی ہے جب رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی اور (باہر کی طرف ) نکلے لوگ بھی پیچھے نکلے یہاں تک کہ جوتوں کے تسمے ٹوٹ گئے اور چادریں کندھوں سے گر گئیں کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو پیدال چلنے نے مشقت میں ڈال دیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھے خدشتہ ہے کہ کہیں ہم سے ملائکہ پہلے نہ پہنچ جائیں جس طرح کہ حفظلہ ( کی شہادت کے موقع ) پر ہم سے سبقت لے گئے تھے۔ (2)

عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1489

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1490

1490 - قَالَ مُحَمَّدٌ: فَأَخْبَرَنِي الْأَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: فَحَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُغَسَّلُ قَالَ: فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ رُكْبَتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلَ مَلَكٌ فَلَمْ يَجِدْ مَجْلِسًا فَأَوْسَعْتُ لَهُ» قَالَ: وَأُمُّهُ تَبْكِي وَهِيَ تَقُولُ: [البحر الرجز] وَيْلٌ لِأُمِّ سَعْدٍ سَعْدًا ... بَرَاعَةً وَحَدًّا بَعْدَ إِيَادٍ يَا لَهُ وَمَجْدًا ... مَقْدِمَ سَدَّ بِهِ مَسَدًّا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ الْبَوَاكِي يَكْذِبْنَ، إِلَّا أُمُّ سَعْدٍ»

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کے موقع پر ) جب تشریف لائے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو غسل دیا جا رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے ان کی ٹانگ پکڑ کر فرمایا ابھی ایک فرشتہ آیا تھا اس کو جگہ نہیں ملی تو میں نے ان کو جگہ دی ان کی ماں روتے ہوئے کہہ رہی تھی : ام سعد کے لیے ہلاکت ہے ، ہائے اسکی بزرگی ، اب کون اس کا قائم مقام بنے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ام سعد کے علاوہ تمام رونے والی عورتیں جھوٹ بولتی ہیں ۔ (واقع سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ان کے اوصاف کے حامل تھے۔ )(3)

فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ رُكْبَتَهُ، ← فَحَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ وَهُوَ يُغَسَّلُ ← الْأَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← مُحَمَّدٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1490

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1491

1491 - قَالَ مُحَمَّدٌ: فَقَالَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِنَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَخْرَجَ بِجِنَازَةِ سَعْدٍ قَالَ نَاسٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ: مَا أَخَفَّ سَرِيرَ سَعْدٍ أَوْ جِنَازَةَ سَعْدٍ قَالَ: فَحَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ مَاتَ سَعْدٌ: «لَقَدْ نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، شَهِدُوا جِنَازَةَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ مَا وَطِئُوا الْأَرْضَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ» .

محمد بن عمر بن علقمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے کچھ لوگوں نے کہا : جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو کچھ منافقین کہنے لگے : سعد کی چار پائی بہت ہلکی ہے سعد بن ابراہیم بن عبدا لرحمن بن عوف رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن فرمایا : سعد بن معاذ کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہیں جو فرشتے آج سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترے۔ (1)

نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِنَا: ← مُحَمَّدٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1491

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1492

1492 - قَالَ مُحَمَّدٌ: وَسَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، وَدَخَلَ عَلَيْنَا الْفُسْطَاطَ وَنَحْنُ نَدْفِنُ وَاقِدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ مَا سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ سَعْدٌ: «لَقَدْ نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ شَهِدُوا وَفَاةَ سَعْدٍ، مَا وَطِئُوا الْأَرْضَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ» .

محمد بن عمر بن علقمہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام میں سے کچھ لوگوں نے کہا : جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو کچھ منافقین کہنے لگے : سعد کی چار پائی بہت ہلکی ہے سعد بن ابراہیم بن عبدا لرحمن بن عوف رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن فرمایا : سعد بن معاذ کے جنازے میں ستر ہزار فرشتے شریک ہیں جو فرشتے آج سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترے۔ (2)

أشياخنا يقولون ← أَلَا أُحَدِّثُكُمْ مَا ← دَخَلَ عَلَيْنَا الْفُسْطَاطَ وَنَحْنُ نَدْفِنُ وَاقِدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← مُحَمَّدٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1492

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1493

1493 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ قَالَ: أنا مُحَمَّدٌ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا كَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ فَقْدًا عَلَى الْمُسْلِمِينَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا مِنْ سَعْدٍ» .

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صاحبین (سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہم ) کے بعد سب سے زیادہ تکلیف سیدنا سعد کی جدائی پر ہوئی ،۔ (3)

عَائِشَةَ ← أبيه علقمة ← أَبِي ← مُحَمَّدٍ ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1493

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1494

1494 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: شُرَحْبِيلُ «إِنَّ رَجُلًا أَخَذَ مِنْ تُرَابِ قَبْرِ سَعْدِ قَبْضَةً يَوْمَ دُفِنَ، فَفَتَحَهَا بَعْدُ فَإِذَا هِيَ مِسْكٌ» .

محمد بن شرحبیل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی قبر سے مٹی اپنے ہاتھ میں لی جس دن ان کو دفنا یا گیا جب اس نے اپنا ہاتھ کھولا تو وہ مٹی خوشبو بن چکی تھی ۔ (4)

مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1494

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1495

1495 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: وَحَدَّثَنِي وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: فَقَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟، قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَكَانَ وَاقِدٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ وَأَعْظَمِهِمْ وَأَطْوَلِهِمْ قَالَ: إِنَّكَ لِسَعْدٍ لَشَبِيهٌ، ثُمَّ بَكَى فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ وَقَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى سَعْدٍ كَانَ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ، ثُمَّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرَ دُومَةٍ فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٌ فِيهَا الذَّهَبُ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَوْ جَلَسَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ ثُمَّ نَزَلَ فَجَعَلَ يَلْمِسُونَ الْجُبَّةَ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ» .

واقد بن عمر و بن سعد بن معاذ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا انہوں نے فرمایا : تم کون ہو؟ میں نے کہا : واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں ( حدیث کی سند کے ایک راوی محمد بن عمرو کہتے ہیں کہ ) واقد لوگوں میں سے سب سے بڑھ کر خوبصورت بلند مقام والے اور سب سے زیادہ قد آور تھے ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تم سیدنا سعد کے ہم شکل ہو پھر وہ بہت زیادہ روئے اور فرمایا : اللہ تعالی سعد پر رحم کرے وہ لوگوں میں سے سب سے عظیم اور سب سے زیاہ قد آور تھے پھر فرمایا رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر کو دومتہ الجندل کے باد شاہ کی طرف بھیجا اس نے رسول اللہ ﷺ کو ایک ریشمی جبہ بھیجا جس پر سونے سے کڑھائی کی گئی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ پہن کر منبر پر چڑھے یا بیٹھے ، گفتگو نہ کی پھر اترے لوگوں نے اس کی خوبصورتی پر بڑا تعجب کا اظہار کرتے ہوئے اس کی طرف دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سعد بن معاذ کے تو رومال جنت میں اس سے کئی گنابہتر ہیں ۔ (1)

لِي: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: ← دَخَلْتُ عَلٰی اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ← وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1495

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1496

1496 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ اللَّيْثِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِهَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، شُدِّدَ عَلَيْهِ ثُمَّ فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ» .

سیدنا جابر بن عبدا للہ علیہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ا س نیک بندے (سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ) کی وفات پر اللہ تعالیٰ کا عرش جھوم اُٹھا اور آسمانوں کے دروازے کھل گئے ان پر تھوڑی سختی ہوئی پھر دور ہو گئی ۔ (2)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ اللَّيْثِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1496

Sahih

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him