فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1
1 - قثنا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ: قثنا عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ الْحَذَّاءُ التَّمِيمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»
سید نا عبداللہ بن مغٖفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کرام کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور میرے بعد انکو اپنی گفتگو کا نشانہ مت بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میری وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انکو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی جس نے اللہ کو تکلیف پہچائی عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی گرفت فرمائے گا۔(1)
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 1
