Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1260

1260 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَسَنٌ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: أَوَّلُ مَنْ سَلَّ سَيْفَهُ فِي ذَاتِ اللَّهِ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ وَبَيْنَمَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ قَائِلٌ فِي شِعْبِ الْمَطَابِخِ إِذْ سَمِعَ نَغَمَةً: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ، فَخَرَجَ مِنَ الْبَيْتِ مُتَجَرِّدًا، بِيَدِهِ السَّيْفُ صَلْتًا، فَلَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَفَّةَ كَفَّةَ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ يَا زُبَيْرُ؟ " قَالَ: سَمِعْتُ أَنَّكَ قُتِلْتَ، قَالَ: «فَمَا كُنْتُ صَانِعًا؟» قَالَ: أَرَدْتُ وَاللَّهِ أَنْ أَسْتَعْرِضَ أَهْلَ مَكَّةَ قَالَ: «فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْرٍ» . قَالَ سَعِيدٌ أَرْجُو إِنْ لَا تَضِيعَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ دَعْوَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے اپنی تلوار کو اللہ کو راہ میں نیام سے نکالا تھا ، ایک دفعہ سیّد نا زبیر رضی اللہ عنہ مطابخ کی گھاٹی مں قیلولہ کر رہے تھے کہ اچانک آوازآئی کہ محمد ﷺ کو قتل کر دیا گیا ہے ، وہ فوراًاپنی تیز تلوار کو نیام سے نکالتے ہوئے اپنے گھر سے نکلے ، راستے میں نبی کریم ﷺ نے دیکھ لیا ،پوچھا : زبیر ! رک جاؤ ، رک جاؤ، کیا بات ہے ؟عرض کرنے لگے :میں نے سنا تھا کہ آپ ﷺ کو شہید کر دیا گیا ہے ۔آپ ﷺ نے پوچھا :پھر تم کیا کر سکتے تھے ؟ عرض کیا : اللہ کی قسم !میں نے ارادہ کیا کہ تمام اہل مکہ کے لیے راستہ مین بیٹھتا ہوں (یعنی ا ن کا راستہ بند کر دیتا )نبی کر یم ﷺ نے ان کے لیے ا س وقت خصو صی د عا فرما ئی ۔سعید بن مسیب رحمتہ اللہ علیہ فرماتےہیں: میں اُ مید کرتاہوں کہ ان کے حق نبی کریم ﷺ ک دعا کو اللہ ضائع نہیں کرے گا۔ (1)

نَغَمَةً: ← بَيْنَمَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ قَائِلٌ فِي شِعْبِ الْمَطَابِخِ إِذْ ← أَوَّلُ مَنْ سَلَّ سَيْفَهُ فِي ذَاتِ اللَّهِ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← أَبِي، قثنا حَسَنٌ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1260

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1261

1261 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَا خَالِدُ مَا لَكَ وَمَا لِرَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، لَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ» .

عامر شعبی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے سیّدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ کو شکایت لگائی تو رسول ﷺ نے فرمایا : تم اس مہاجر شخص سے مقابلہ نہیں کر سکتے اگر تم اُ حد پہاڑکے برابر (سونا ) بھی خرچ کر دو ، تب بھی اس کے عمل کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ (2)

شَكَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← عَامِرٍ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1261

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1262

1262 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ: أنا هِشَامٌ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَلَا إِخَالَهُ يُتَّهَمُ عَلَيْنَا قَالَ: كُنْتُ ذَاتَ يَوْمٍ عِنْدَ عُثْمَانَ وَقَدْ أَصَابَهُ رُعَافٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَوْصَى، وَمَنْعَهُ مِنَ الْحَجِّ قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اسْتَخْلِفْ، قَالَ: «وَقَدْ قِيلَ ذَاكَ؟» قَالَ: فَسَكَتَ الرَّجُلُ قَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، قَالَ: ثُمَّ أَتَاهُ رَجُلٌ آخَرُ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، اسْتَخْلَفْتَ أَحَدًا؟ قَالَ عُثْمَانُ: «وَقِيلَ ذَاكَ؟» قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ الزُّبَيْرُ قَالَ عُثْمَانُ: «أَمَا وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ خَيْرُكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» .

ہشام رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہے کہ میں نے مروان بن حکم سے سنا ہے ، مجھے گمان نہیں کہ وہ ہمیں موردِ الزام ٹھہرائے گا ، مروان بیان کرتے ہین کہ میں ایک دن سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہو اتھا ، انہیں سخت نکسیر پھوٹ پڑی ، یہاں تک انہوں نے وصیت بھی کردی اور نکسیر نے انہیں حج سے بھی روک دیا ، اس وقت ان کے پاس ایک قریشی شخص نے آکر کہا : امیر المومنین ! کسی کو آپ سے خلیفہ بنایا ہے ؟سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ بات ہو چکی ، اس نے کہا : سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو؟ یہ سن کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : یقیناً تم لوگ جانتے ہو کہ وہ تم میں سب سے بہتر ہیں ۔ یہ بات تین مرتبہ دہرائی ۔ (1)

مروان [بن] الحكم -ولا إخاله يتهم علينا- ← أَبِي ← هِشَامٍ ← أَبِي، قثنا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1262

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1263

1263 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَيَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَإِنَّ حَوَارِيِّي الزُّبَيْرُ وَابْنُ عَمَّتِي» .

ہشام رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کا کوئی نہ کوئی مخلص ساتھ ہوتا ہے میرا مخلص ساتھی زبیر ہے جو کہ میری پھو پھی کا بیٹا ہے ۔ (2)

أَبِي ← هِشَامٍ ← أَبِيهِ، وَيَحْيَى، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1263

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1264

1264 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ» .

ہشام رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ !ﷺ نے خندق کے دن لوگوں کے جہاد کے لیے اُ بھارا تو سیّد نا زبیر رضی اللہ عنہ میدان میں نکل آئے پھر لوگوں کو ابھارا تو پھر سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ میدان میں نکل آئے ، پھر لوگوں کو ابھارا ، پھر سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ میدان میں نکل آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کا کوئی نہ کوئی مخلص ساتھ ہوتا ہے میرامخلص ساتھی زبیر ہے ۔ (3)

جَابِرًا ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← أَبِي، قثنا سُفْيَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1264

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1265

1265 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ: أنا هِشَامٌ، قَالَ: «أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشْرَةَ سَنَةً، وَلَمْ يَتَخَلَّفْ عَنْ غَزَاةٍ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ، وَقُتِلَ وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسِتِّينَ» .

ہشام رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ (16)سال کی عمر میں اسلام لائے ،رسول اللہ ﷺ کے عزوات میں سے کبھی بھی پیچھے نہیں رہے اور (60)سال سے کچھ زیادہ عمر پا کر شہید ہوئے ۔ (4)

غَزَاةٍ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ قَطُّ، وَقُتِلَ وَهُوَ ابْنُ بِضْعٍ وَسِتِّينَ» ← أَسْلَمَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ ابْنُ سِتَّ عَشَرَةَ سَنَةً وَلَمْ يَتَخَلَّفْ ← هِشَامٍ ← أَبِي، قثنا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1265

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1266

1266 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قَالَ: نا حَمَّادٌ قَالَ: أنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ رَجُلٍ سَلَّ سَيْفَهُ فِي اللَّهِ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ، نَفْخَةٌ نَفَخَهَا الشَّيْطَانُ، أُخِذَ رَسُولُ اللَّهِ، فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ يَشُقُّ النَّاسَ بِسَيْفِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ قَالَ: «مَا لَكَ يَا زُبَيْرُ؟» قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّكَ أُخِذْتَ، قَالَ: «فَصَلَّى عَلَيْهِ وَدَعَا لَهُ وَلِسَيْفِهِ» .

ہشام رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیّدنا زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ پہلے انسان ہیں جنہوں نے اپنی تلوار کو اللہ کی رہ میں نیام سے نکالا تھا کہ جب شیطان ایک آواز لگا رہا تھا کہ محمد ﷺ کو پکڑ لیا گیا ہے ، وہ فوراً لوگوں کو چیر تے ہوئے اپنی تلوار کو لے کر نکلے ، حالانکہ کریم ﷺ مکہ کے بلائی حصہ میں تھے ، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا : زبیر ! کیا بات ہے ؟عرض کرنے لگے : میں نے سنا تھا کہ آپ ﷺ کو پکڑ لیا گیا ہے آپ ﷺ نے ان کے لیے اور ان کی تلوار کے لیے دعا فرمائی ۔(1)

أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1266

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1267

1267 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «جَمَعَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ» .

سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اُحد کے مقام پر میرے لیے اپنے والدین کو ایک ساتھ جمع کیا ۔ (یعنی فرمایا تم پر میرے والدین قربان ہوں ) (2)

جَمَعَ لِي النَّبِيُّ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ ← الزُّبَيْرِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← أَبِيهِ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا هِشَامٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1267

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1268

1268 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ قَالَ: «كَانَتْ عَلَى الزُّبَيْرِ رَيْطَةٌ صَفْرَاءُ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ نَزَلَتْ يَوْمَ بَدْرٍ عَلَيْهَا عَمَائِمُ صُفْرٌ» .

عباد بن حمزہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ پر بدر کے دن زردرنگ کی چادر تھی اور فرشتے بھی اس دن زدر رنگ کی پگڑیوں میں اُترے تھے ۔ (3)

عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1268

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1269

1269 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قَالَ: نا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، «إِنَّ الزُّبَيْرَ كَانَتْ عَلَيْهِ عِمَامَةٌ صَفْرَاءُ يَوْمَ بَدْرٍ، فَنَزَلَتِ الْمَلَائِكَةُ عَلَيْهَا عَمَائِمُ صُفْرٌ» .

عباد بن حمزہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّدنا زبیر رضی اللہ عنہ بدر کے دن زردرنگ کا عمامہ پہنے ہوئے تھے اور فرشتے بھی اس دن زردرنگ کی پگڑیوں میں اُترے تھے ۔(4)

هِشَامٍ ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1269

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1270

1270 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ سُنْبُلَةَ، عَنْ مَوْلَاتِهَا قَالَتْ: جَاءَ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ، وَأَنَا عِنْدَ عَلِيٍّ جَالِسَةٌ يَسْتَأْذِنُ فَجَاءَ الْغُلَامُ فَقَالَ: هَذَا قَاتِلُ الزُّبَيْرِ فَقَالَ: «لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ» قَالَتْ: وَجَاءَ قَاتِلُ طَلْحَةَ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ الْغُلَامُ: هَذَا قَاتِلُ طَلْحَةَ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ: «لِيَدْخُلْ قَاتِلُ طَلْحَةَ النَّارَ» .

سنبلہ اپنی ملکہ سے نقل کرتی ہیں کہ وہ ایک دن سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھی تھی کہ قاتل سیّد نا زبیر رضی اللہ عنہ نے آکراجازت مانگی غلام آیا ، بولا : یہ باہر سیّد نا نا طلحہ رضی اللہ عنہ کا قاتل اجازت مانگ رہا ہے ، انہوں نے فرمایا : سیّد نا طلحہ رضی اللہ عنہ کا قاتل جہنم میں جائے ۔ (1)

«لِيَدْخُلْ قَاتِلُ طَلْحَةَ النَّارَ» ← الْغُلَامُ: هَذَا قَاتِلُ طَلْحَةَ يَسْتَأْذِنُ ← وَجَاءَ قَاتِلُ طَلْحَةَ يَسْتَأْذِنُ ← «لِيَدْخُلْ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ النَّارَ» ← هَذَا قَاتِلُ الزُّبَيْرِ ← عِنْدَ عَلِيٍّ جَالِسَةٌ يَسْتَأْذِنُ فَجَاءَ الْغُلَامُ ← جَاءَ قَاتِلُ الزُّبَيْرِ، ← مَوْلَاتِهَا، ← سُنْبُلَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1270

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1271

1271 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ قَالَ: نا زَائِدَةُ قَالَ: نا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ» .

سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے ۔ (2)

عَلِيٍّ، ← زِرٍّ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← زَائِدَۃَ، ← أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him · Hadith 1271

Hassan

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him