فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1535
1535 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ جَهَرَ بِالْقُرْآنِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: اجْتَمَعَ يَوْمًا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا سَمِعَتْ قُرَيْشٌ هَذَا الْقُرْآنَ يُجْهَرُ لَهَا بِهِ قَطُّ، فَمَنْ رَجُلٌ يُسْمِعُهُمُوهُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «أَنَا» ، قَالُوا: إِنَّا نِخْشَاهُمْ عَلَيْكَ، إِنَّمَا نُرِيدُ رَجُلًا لَهُ عَشِيرَةٌ يَمْنَعُونَهُ مِنَ الْقَوْمِ إِنْ أَرَادُوهُ، قَالَ: «دَعُونِي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَمْنَعُنِي» قَالَ: فَغَدَا ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَتَى الْمَقَامَ فِي الضُّحَى، وَقُرَيْشٌ فِي أَنْدِيَتِهَا فَقَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، ثُمَّ قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَافِعًا صَوْتَهُ {الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ} [الرحمن: 2] قَالَ: ثُمَّ اسْتَقْبَلَهَا يَقْرَأُ فِيهَا " قَالَ: وَتَأَمَّلُوا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: مَا يَقُولُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ؟ قَالَ: ثُمَّ قَالُوا: إِنَّهُ لَيَتْلُو بَعْضَ مَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ، فَقَامُوا إِلَيْهِ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ فِي وَجْهِهِ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ حَتَّى بَلَغَ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَقَدْ أَثَّرُوا فِي وَجْهِهِ، فَقَالُوا: هَذَا الَّذِي خَشِينَا عَلَيْكَ قَالَ: «مَا كَانَ أَعْدَاءُ اللَّهِ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْهُمُ الْآنَ، وَلَئِنْ شِئْتُمْ لَأُغَادِيَنَّهُمْ بِمِثْلِهَا» ، قَالُوا: حَسْبُكَ فَقَدْ أَسْمَعْتَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ.
عروہ بن زبیر ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کے بعد سب سے پہلے مکہ میں قرآن اونچی آواز میں پڑھا۔ ایک دن صحابہ کرام رسول اللہﷺ کے پاس جمعہ ہوئے اور کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! قریش نے کبھی کسی کو قرآن اونچی آواز سے پڑھتے سنا، کون شخص اس کو (قرآن) کو سنائے گا؟ تو سیدنا عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں ، لوگوں نے کہا: ہم ڈر رہےہیں کہ آپ کو وہ اذیت دیں گے اور آپ کی قوم بھی نہیں ہے جو آپ کی حفاظت کرے۔سیدنا عبد اللہ مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے چھوڑ دو ، میرا اللہ محافظ ہے۔ دوسرے دن سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ضحیٰ کے وقت مقام ابراہیم پرآئے ، ابھی قریش اپنے مجلسوں میں مشغول تھے تو مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوکر قرآن پرھنے لگے، بلند آواز سے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھی اور سورۃ رحمٰن کی ابتدائی دو آیات پڑھیں، پھر آگے اس کی تلاوت کرنے لگے تولوگ کہنے لگے: ابن ام عبد! (سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضیااللہ عنہ کی کنیت) کیا پڑھ رہے ہو؟ تو ان میں سے بعض کہنے لگے: یہ وحی ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ یہ سن کر انہوں نے ان کو مارنا شروع کردیا۔ اس وقت بھی انہوں نے جہاں تک اللہ نے چاہا اپنی تلاوت کو جاری رکھا ۔یہاں تک کہ مار کی وجہ سے ان کئ چہرے پر نشان پڑگئے۔ جب قرآن سن کر صحابہ کرام کے پاس گئے۔ صحابہ کرام نے کہا: ہمیں اسی چیز کا ڈر تھا تو وہ کہنے لگے: اللہ کے دشمن آج بھی میری نظروں میں حقیر ہیں۔اگر تم کہتے ہو تو میں کل بھی اسی طرح ان کو سناؤں گا۔ صحابہ کرام نے کہا: بس کافی ہے ، آپ نے انہیں وہ بات سنائی جس سے وہ نفرت کرتے ہیں۔ (1)
أَبِيهِ ← يَحْيَی بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1535
