Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1535

1535 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ أَوَّلَ مَنْ جَهَرَ بِالْقُرْآنِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ: اجْتَمَعَ يَوْمًا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا سَمِعَتْ قُرَيْشٌ هَذَا الْقُرْآنَ يُجْهَرُ لَهَا بِهِ قَطُّ، فَمَنْ رَجُلٌ يُسْمِعُهُمُوهُ؟ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «أَنَا» ، قَالُوا: إِنَّا نِخْشَاهُمْ عَلَيْكَ، إِنَّمَا نُرِيدُ رَجُلًا لَهُ عَشِيرَةٌ يَمْنَعُونَهُ مِنَ الْقَوْمِ إِنْ أَرَادُوهُ، قَالَ: «دَعُونِي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَمْنَعُنِي» قَالَ: فَغَدَا ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَتَى الْمَقَامَ فِي الضُّحَى، وَقُرَيْشٌ فِي أَنْدِيَتِهَا فَقَامَ عِنْدَ الْمَقَامِ، ثُمَّ قَالَ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ رَافِعًا صَوْتَهُ {الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ} [الرحمن: 2] قَالَ: ثُمَّ اسْتَقْبَلَهَا يَقْرَأُ فِيهَا " قَالَ: وَتَأَمَّلُوا فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: مَا يَقُولُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ؟ قَالَ: ثُمَّ قَالُوا: إِنَّهُ لَيَتْلُو بَعْضَ مَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ، فَقَامُوا إِلَيْهِ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ فِي وَجْهِهِ، وَجَعَلَ يَقْرَأُ حَتَّى بَلَغَ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَقَدْ أَثَّرُوا فِي وَجْهِهِ، فَقَالُوا: هَذَا الَّذِي خَشِينَا عَلَيْكَ قَالَ: «مَا كَانَ أَعْدَاءُ اللَّهِ أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْهُمُ الْآنَ، وَلَئِنْ شِئْتُمْ لَأُغَادِيَنَّهُمْ بِمِثْلِهَا» ، قَالُوا: حَسْبُكَ فَقَدْ أَسْمَعْتَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ.

عروہ بن زبیر ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کے بعد سب سے پہلے مکہ میں قرآن اونچی آواز میں پڑھا۔ ایک دن صحابہ کرام رسول اللہﷺ کے پاس جمعہ ہوئے اور کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! قریش نے کبھی کسی کو قرآن اونچی آواز سے پڑھتے سنا، کون شخص اس کو (قرآن) کو سنائے گا؟ تو سیدنا عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں ، لوگوں نے کہا: ہم ڈر رہےہیں کہ آپ کو وہ اذیت دیں گے اور آپ کی قوم بھی نہیں ہے جو آپ کی حفاظت کرے۔سیدنا عبد اللہ مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے چھوڑ دو ، میرا اللہ محافظ ہے۔ دوسرے دن سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ضحیٰ کے وقت مقام ابراہیم پرآئے ، ابھی قریش اپنے مجلسوں میں مشغول تھے تو مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہوکر قرآن پرھنے لگے، بلند آواز سے "بسم اللہ الرحمٰن الرحیم" پڑھی اور سورۃ رحمٰن کی ابتدائی دو آیات پڑھیں، پھر آگے اس کی تلاوت کرنے لگے تولوگ کہنے لگے: ابن ام عبد! (سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضیااللہ عنہ کی کنیت) کیا پڑھ رہے ہو؟ تو ان میں سے بعض کہنے لگے: یہ وحی ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ یہ سن کر انہوں نے ان کو مارنا شروع کردیا۔ اس وقت بھی انہوں نے جہاں تک اللہ نے چاہا اپنی تلاوت کو جاری رکھا ۔یہاں تک کہ مار کی وجہ سے ان کئ چہرے پر نشان پڑگئے۔ جب قرآن سن کر صحابہ کرام کے پاس گئے۔ صحابہ کرام نے کہا: ہمیں اسی چیز کا ڈر تھا تو وہ کہنے لگے: اللہ کے دشمن آج بھی میری نظروں میں حقیر ہیں۔اگر تم کہتے ہو تو میں کل بھی اسی طرح ان کو سناؤں گا۔ صحابہ کرام نے کہا: بس کافی ہے ، آپ نے انہیں وہ بات سنائی جس سے وہ نفرت کرتے ہیں۔ (1)

أَبِيهِ ← يَحْيَی بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1535

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1536

1536 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَضِيتُ لِأُمَّتِي مَا رَضِيَ لَهُمُ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، وَكَرِهْتُ لِأُمَّتِي مَا كَرِهَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ» .

قاسم بن عبد الرحمٰن ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں اپنی امت کے لیے وہ چیز پسند کرتا ہوں جس کو عبد اللہ بن مسعوس رضی اللہ عنہ پسند کرتے ہیں اورمیں اپنی کے لیے وہ چیز پسند نہیں کرتا جو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نا پسند کرچیز پسند کرتا ہوں جس کو عبد اللہ بن مسعوسآپ نے انہیں وہ بات سنائی جس ستے ہیں۔ (1)

الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مَنْصُورٌ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا سُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1536

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1537

1537 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» .

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص چاہتا ہے قرآن اس طرح پڑھے جس طرح نازل ہوا ہے پس اسے چاہیئے کہ وہ ابن ام عبد (ابن مسعود) کی قراٰت پڑھے۔ (2)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي زُرْعَةَ ← جَرِيرِ بْنِ أَيُّوبَ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1537

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1538

1538 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوِ اسْتَخْلَفْتُ أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ، لَاسْتَخْلَفْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں کسی کو مشورہ کے بغیر خلیفہ بناتا تو ابن ام عبد (ابن مسعود) کو بنا دیتا۔ (3)

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1538

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1539

1539 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا مَالِكٌ، يَعْنِي: ابْنَ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَضِيتُ لِأُمَّتِي مَا رَضِيَ لَهَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ» .

عبد الرحمٰن بن سعید بن وہب ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: میں اپنی امت کے لیے وہ چیز پسند کرتا ہوں جو ابن ام عبد (ابن مسعود) پسند کرتے ہیں۔ (4)

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا مَالِكٌ، يَعْنِي: ابْنَ مِغْوَلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1539

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1540

1540 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى قثنا سُفْيَانُ نا سُلَيْمَانُ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ قَالَ: جَاءَ نَعْيُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ: «مَا تَرَكَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ» .

حریث بن ظہیر ؒسے روایت ہے کہ جب سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر پہنچی تو فرمانے لگے: انہوں نے اپنے بعد اپنے جیسا کوئی نہیں چھوڑا۔ (یعنی ان کےبعد ان جیسا کوئی نہیں ہے)۔ (5)

جَاءَ نَعْيُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ: «مَا تَرَكَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ» ← حُرَيْثِ بْنِ ظُهَيْرٍ ← عُمَارَةَ، ← سُلَیْمَانَ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى قثنا سُفْيَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1540

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1541

1541 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ " أَخْبِرْنَا بِأَقْرَبِ النَّاسِ سَمْتًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ عَنْهُ، وَنَسْمَعُ مِنْهُ، فَقَالَ: كَانَ أَشْبَهُ النَّاسِ سَمْتًا وَدَلًّا وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ".

عبد الرحمٰن بن یزید ؒ سے روایت ہےکہ ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کوئی شخص ایسا ہے جو اپنی عادت اور خصلت میں نبی کریمﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو تا کہ ہم ان سے حدیث کا علم حاصل کریں۔ اس پر انہوں نے فرمایا: خصلتوں ، وضع اور چال چلن میں آپﷺ کے سب سے زیادہ مشابہہ ابن ام عبد (سید عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) ہیں۔ (1)

بِأَقْرَبِ النَّاسِ سَمْتًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ نَأْخُذُ عَنْهُ، وَنَسْمَعُ مِنْهُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1541

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1542

1542 - وَقَالَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ حُذَيْفَةَ «قَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ وَسِيلَةً» .

عبد الرحمٰن ؒ کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام سے یہ علم یاد کیا گیا ہے کہ ابن ام عبد کو سب سے بڑھ کر اللہ کا قرب حاصل تھا۔ (2)

عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1542

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1543

1543 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ «إِنَّ أَشْبَهَ النَّاسَ هَدْيًا، وَدَلًّا وَسَمْتًا بِمُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ مِنْ حِينِ يَخْرُجُ إِلَى أَنْ يَرْجِعَ، لَا أَدْرِي مَا يَصْنَعُ فِي بَيْتِهِ» .

شفیق بن عبد اللہ ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: چال چلن ، خصلتوں اور وضع میں سیدنا محمدﷺ کے گھر سے نکنے سے لے کر واپس پلٹنے تک ( تمام معمولات زندگی میں) لوگوں میں سب سے بڑھ کر آپﷺ کے مشابہہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ البتہ ان کی گھر یلوزندگی کے بارے میں نہیں جانتا۔ (3)

شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1543

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1544

1544 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَابْنِ جَعْفَرٍ، قثنا شُعْبَةُ نا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ أَخْبِرْنَا بِرَجُلٍ قَرِيبِ الْهَدْيِ وَالسَّمْتِ وَالدَّلِّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَأْخُذُ عَنْهُ قَالَ: «مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَقْرَبَ سَمْتًا، وَهَدْيًا وَدَلًّا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُوَارِيَهُ جِدَارُ بَيْتِهِ مِنَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» .

عبد الرحمٰن بن یزید ؒ سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کوئی شخص ایسا ہے جو اپنی عادت اور خصلت میں نبی کریمﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوتا کہ ہم ان سے حدیث کا علم حاصل کریں۔ اس پر انہوں نے کہا: ہم نہیں جانتے خصلتوں، وضع اور چال چلن میں ابن ام مکتوم سے بڑھ کر کوئی رسول اللہﷺ کے مشابہہ ہو، یہاں تک کہ ابن مسعود کوان کے گھر کی دیواریں چھاپلیتی۔ (4)

بِرَجُلٍ قَرِيبِ الْهَدْيِ وَالسَّمْتِ وَالدَّلِّ بِرَسُولِ اللَّهِ نَأْخُذُ عَنْهُ ← قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةَ، وَابْنِ جَعْفَرٍ، قثنا شُعْبَةُ ← يَحْيَى ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1544

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1545

1545 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، فِي حَدِيثِهِ قَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ «لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ وَسِيلَةً» .

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب محمدﷺ سے یہ علم یاد کیا گیا کہ ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کو سب سے بڑھ کر اللہ کا قرب حاصل تھا۔ (1)

أَبِي وَائِلٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، فِي حَدِيثِهِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1545

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1546

1546 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ عُمَرَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي قَدْ «بَعَثْتُ إِلَيْكُمْ عَمَّارًا أَمِيرًا، وَعَبْدَ اللَّهِ مُعَلِّمًا وَوَزِيرًا، وَإِنَّهُمَا مِنْ نُجَبَاءِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، وَمِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، اسْمَعُوا لَهُمَا وَأَطِيعُوا، وَقَدْ آثَرْتُكُمْ بِهِمَا عَلَى نَفْسِي» .

حارثہ بن مضرب ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لا خط ہمیں پڑھ کر سنایا گیا۔ جس میں انہوں نے لکھا تھا: السلام علیکم –اما بعد ! میں نے تم پر عمار رضی اللہ عنہ کو امیر اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلم اور وزیر بنا کر بھیجا ہے، یہ رسول اللہﷺ کے مخلص صحابی ہیں اور یہ بدر میں حاضر ہونے والوں میں سے ہیں پس تم ان دونوں کی بات سنو اور اطاعت کرو، میں نے ان دونوں کو اپنے آپ پر تر جیح دی ہے۔ (2)

حَارِثَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا شَرِيكٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him · Hadith 1546

Hassan

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him