فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 719
719 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ الْقَطِيعِيُّ , قثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ حَوَالَةَ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دُومَةٍ، وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: «أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟» قُلْتُ: فِيمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ فَقَالَ: «أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟» قُلْتُ: فِيمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ، فَقَالَ: «أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ، كَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ؟» قُلْتُ: لَا أَدْرِي، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، فَقَالَ: «فَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا انْتِفَاخَةُ أَرْنَبٍ؟» قُلْتُ: لَا أَدْرِي، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، قَالَ: «اتَّبِعُوا هَذَا» ، وَرَجُلٌ مُقَفًّى حِينَئِذٍ، فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبَيْهِ، فَأَقْبَلْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَهَذَا؟ - وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: هَذَا؟ - قَالَ: نَعَمْ، يَعْنِي وَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ.
ابن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ درخت کے سائے تلے تشریف فرما تھے اور کاتب سے کچھ لکھوا رہے تھے ، مجھے فرمایا: ابن حوالہ ! کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوا دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کس ضمن میں ؟ آپ ﷺ نے مجھ سے منہ پھیرا اور ہمہ تن کاتب سے لکھوانے میں مشغول ہو گئے آپ ﷺ نے فرمایا: ابن حوالہ ! کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوا دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کس ضمن میں ؟ اسی دوران اچانک میری نظر پڑی کہ کتابت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مشغور تھے میں نے کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں لکھتے تو آپ ﷺ نے فرمایا ابن حوالہ ! کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوا دوں ؟ میں نے کہا جی ہاں ! لکھوا دیں تو فرمایا ابن حوالہ ! ان فتنو ں کے ظہور کے وقت کیا کرو گے؟ جو زمین کے مختلف اطراف سے گائے کے سینگ کی طرح رونما ہوں گے۔ میں نے عرض کیا میں نہیں جانتا کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ میرے لیے کیا تجویز فرماتے ہیں ؟ تو پھر فرمایا : اس فتنے سے کیا کرو گے جو پہلے سے بھی برا ہوگا؟ میں نے کہا جو اللہ اور اسکا رسول ﷺ میرے لیے تجویز کریں گے تو فرمایا تم اس وقت اس شخص کی پیروی کرو وہ آدمی اس وقت ہماری طرف پیٹھ کیے بیٹھا تھا میں ان کے پیچھے دوڑ ا اور ان کو کندھے سے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے لایا ۔ میں نے عرض کیا ۔ کیا وہ یہ شخص ہیں ؟ اسماعیل نے ایک مرتبہ یہ الفاظ بیان کیے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! میں نے جب انکو دیکھا تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ (1)
ابْنِ حَوَالَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 719
