Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 719

719 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ بْنِ مَالِكٍ الْقَطِيعِيُّ , قثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ حَوَالَةَ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ دُومَةٍ، وَعِنْدَهُ كَاتِبٌ يُمْلِي عَلَيْهِ، فَقَالَ: «أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟» قُلْتُ: فِيمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيَّ فَقَالَ: «أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟» قُلْتُ: فِيمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَأَعْرَضَ عَنِّي وَأَكَبَّ عَلَى كَاتِبِهِ يُمْلِي عَلَيْهِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا فِي الْكِتَابِ عُمَرُ، فَعَرَفْتُ أَنَّ عُمَرَ لَا يُكْتَبُ إِلَّا فِي خَيْرٍ، فَقَالَ: «أَنَكْتُبُكَ يَا ابْنَ حَوَالَةَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ، كَيْفَ تَفْعَلُ فِي فِتَنٍ تَخْرُجُ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي بَقَرٍ؟» قُلْتُ: لَا أَدْرِي، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، فَقَالَ: «فَكَيْفَ تَفْعَلُ فِي أُخْرَى تَخْرُجُ بَعْدَهَا كَأَنَّ الْأُولَى فِيهَا انْتِفَاخَةُ أَرْنَبٍ؟» قُلْتُ: لَا أَدْرِي، مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، قَالَ: «اتَّبِعُوا هَذَا» ، وَرَجُلٌ مُقَفًّى حِينَئِذٍ، فَانْطَلَقْتُ فَسَعَيْتُ فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبَيْهِ، فَأَقْبَلْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: أَهَذَا؟ - وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: هَذَا؟ - قَالَ: نَعَمْ، يَعْنِي وَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ.

ابن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ ﷺ درخت کے سائے تلے تشریف فرما تھے اور کاتب سے کچھ لکھوا رہے تھے ، مجھے فرمایا: ابن حوالہ ! کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوا دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کس ضمن میں ؟ آپ ﷺ نے مجھ سے منہ پھیرا اور ہمہ تن کاتب سے لکھوانے میں مشغول ہو گئے آپ ﷺ نے فرمایا: ابن حوالہ ! کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوا دوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کس ضمن میں ؟ اسی دوران اچانک میری نظر پڑی کہ کتابت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مشغور تھے میں نے کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں لکھتے تو آپ ﷺ نے فرمایا ابن حوالہ ! کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوا دوں ؟ میں نے کہا جی ہاں ! لکھوا دیں تو فرمایا ابن حوالہ ! ان فتنو ں کے ظہور کے وقت کیا کرو گے؟ جو زمین کے مختلف اطراف سے گائے کے سینگ کی طرح رونما ہوں گے۔ میں نے عرض کیا میں نہیں جانتا کہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ میرے لیے کیا تجویز فرماتے ہیں ؟ تو پھر فرمایا : اس فتنے سے کیا کرو گے جو پہلے سے بھی برا ہوگا؟ میں نے کہا جو اللہ اور اسکا رسول ﷺ میرے لیے تجویز کریں گے تو فرمایا تم اس وقت اس شخص کی پیروی کرو وہ آدمی اس وقت ہماری طرف پیٹھ کیے بیٹھا تھا میں ان کے پیچھے دوڑ ا اور ان کو کندھے سے پکڑ کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے لایا ۔ میں نے عرض کیا ۔ کیا وہ یہ شخص ہیں ؟ اسماعیل نے ایک مرتبہ یہ الفاظ بیان کیے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! میں نے جب انکو دیکھا تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ (1)

ابْنِ حَوَالَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 719

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 720

720 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَهِيجُ عَلَى الْأَرْضِ فِتَنٌ كَصَيَاصِي الْبَقَرِ» ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ» ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَكَشَفْتُ قِنَاعَهُ وَأَقْبَلْتُ بِوَجْهِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ هَذَا؟ قَالَ: «هُوَ هَذَا» ، قَالَ: فَإِذَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ.

مرہ بہزی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زمین پر گائے کے سینگ کی ماند فتنے ظہور پیذیر ہوں گے اس وقت ایک شخص منہ ڈھاپنے ہوئے وہاں سے گزرا ان کو دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ شخص اور اسکے ساتھی اس وقت حق پر ہوں گے میں فورا ان کی طرف اٹھا اور انکے چہرے سے پردہ ہٹایا اور انکا منہ نبی کریم ﷺ کی طرف کر کے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا یہ ہے وہ ؟ فرمایا یہ ہے سووہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔(1)

مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← قَتَادَةَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 720

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 721

721 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ قثنا مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا وَعَظَّمَهَا، قَالَ: ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فِي مِلْحَفَةٍ فَقَالَ: «هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ» ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مُسْرِعًا، أَوْ مُحْضِرًا، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هَذَا» ، فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنے کا تذکرہ کیا نیز اس کی قربت و شدت کا بیان فرمایا تو وہاں سے ایک شخص چادر سے اپنے سر اور چہرے کو ڈھانے ہوئے گزر رہا تھا ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یہ اور اس کے ساتھ اس وقت حق پر ہوں گے میں تیزی سے انکے پاس گیا ان کا پہلو تھام کر عرض کیا : یار سول اللہ ﷺ! یہ شخص ؟ فرمایا ہاں ! یہی ، سو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔ (2)

فَانْطَلَقْتُ مُسْرِعًا، أَوْ مُحْضِرًا، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَقُلْتُ: هَذَا ← ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فِي مِلْحَفَةٍ فَقَالَ: «هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ» ← رَسُولُ اللَّهِ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا وَعَظَّمَهَا، ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ قثنا مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 721

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 722

722 - حَدَّثَنَا أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فَقَالَ: «هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى» ، قَالَ: فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى أَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَحَوَّلْتُ وَجْهَهُ إِلَيْهِ وَكَشَفْتُ عَنْ رَأْسِهِ فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ

سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریب آنے والے ایک فتنے کا تذکرہ کیا وہاں قریب سے ایک شخص چہرہ و ڈھانے ہوئے گزر رہا تھا ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یہ اور اس کے ساتھ اس وقت حق پر ہوں گے میں نے ان کا پیچھا کیا یہاں تک میں نے انہیں پہلو سے تھام کر چہرہ یار سول اللہ ﷺکی طرف کیا اور ان سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! یہ شخص ؟ فرمایا ہاں ! سو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔ (3)

رَأْسِهِ فَقُلْتُ: هَذَا ← فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى أَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَحَوَّلْتُ وَجْهَهُ إِلَيْهِ وَكَشَفْتُ ← هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى ← فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ ← كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 722

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 723

723 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَفَّانُ قثنا وُهَيْبٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمِّي حَبِيبَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا، أَوْ قَالَ: اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً "، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ: فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ» وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ.

سیدنا موسیٰ بن عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے ام حبیبہ کے والد نے بیان کیا کہ وہ اس گھر میں داخل ہوا جہاں سیدنا عمر بن عفان رضی اللہ عنہ قید تھے اس وقت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اجازت لی ان کو اجازت مل گئی پس انہوں نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد ثنا بیان کی اور فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا بے شک تم میرے بعد بہت زیادہ اختلافات اور فتنے پاؤ گے پس اس وقت کسی نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ! پھر ہمارا اس دن کون ہو گا۔؟ فرمایا امین اور اس کے ساتھی اور آپ ﷺ کا وہ اشارہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف تھا ۔ (1)

أَبُو أُمِّي حَبِيبَةَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَفَّانُ قثنا وُهَيْبٌ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 723

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 724

724 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا سِنَانُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً، فَمَرَّ رَجُلٌ، فَقَالَ: «يُقْتَلُ هَذَا الْمُقَنَّعُ يَوْمَئِذٍ مَظْلُومًا» ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کا تذکرہ فرمایا تو وہاں سے ایک آدمی گزر رہا تھا انکو دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا : یہ شخص اس دن مظلوم قتل کیا جائے جب میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ۔(2)

فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ. ← رَسُولُ اللَّهِ فِتْنَةً، فَمَرَّ رَجُلٌ، فَقَالَ: «يُقْتَلُ هَذَا الْمُقَنَّعُ يَوْمَئِذٍ مَظْلُومًا» ← ابْنِ عُمَرَ ← کُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ ← أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا سِنَانُ بْنُ هَارُونَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 724

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 725

725 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَجِيلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَارِيَةٌ تَضْرِبُ بِالدُّفِّ، فَدَخَلَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَدَخَلَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَأَمْسَكَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيُّ» .

سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی اس وقت رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگی اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بچی دف بجا رہی تھی وہ اندر داخل ہوئے آپ ﷺ اسی طرح بیٹھے رہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی اور اندر داخل ہوئے ( آپ ﷺ اسی طرح بیٹھے رہے ) پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو لونڈی خاموش ہو گئی آپ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ عثمان بہت با حیا انسان ہے ۔ (3)

ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← شَيْخٍ مِنْ بَجِيلَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 725

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 726

726 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا مِسْعَرٌ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: اسْمَعُوا نُحَدِّثْكُمْ عَمَّا جِئْتُمُونَا لَهُ، إِنَّكُمْ عَتَبْتُمْ عَلَى عُثْمَانَ فِي ثَلَاثِ خِلَالٍ: فِي إِمَارَةِ الْفَتَى، وَمَوْضِعِ الْغَمَامَةِ، وَضَرْبِهِ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا، حَتَّى إِذَا مُصْتُمُوهُ مَوْصَ الثَّوْبِ بِالصَّابُونِ عَدَوْتُمْ عَلَيْهِ الْفِقَرَ الثَّلَاثَ: حُرْمَةَ الْبَلَدِ، وَحُرْمَةَ الْخِلَافَةِ، وَحُرْمَةَ الشَّهْرِ الْحَرَامِ، وَإِنْ كَانَ عُثْمَانُ لَأَحْصَنَهُمْ فَرْجًا، وَأَوْصَلَهُمْ لِلرَّحِمِ.

موسیٰ بن طلحہ ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے لوگوں ! سنو ہم وہ بات بیان کرتے ہیں جس کے لیے تم یہاں جمع ہوئے ہو کہ بے شک تم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر تین طرح کے اعترضات کیے ہیں ۔ 1۔ انہوں نے نوجوانوں کو خلافت میں حصہ دار بنایاہے ۔ 2۔غمامہ نامی جگہ کے متعلق ۔ 3۔ ان کے لاٹھی اور کوڑے مارنے کے متعلق ۔ یہاں تک کہ تم نے ان کو ایسے نچوڑا جس طرح کپڑوں سے صابن کو نچوڑا جاتا ہے پھر تم لوگ حد سے گز ر گئے اور تین حرمتوں کا بھی خیال نہیں رکھا اس شہر کی حرمت ، خلافت اور حرمت والے مہینے کا حرمت ۔ حالانکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پاکدامن اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔(1)

مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 726

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 727

727 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نَا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَافِعًا حِضْنَيْهِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ.

عبدالرحمن بن ابی لیلی ؒ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کودیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر کہہ رہے تھے اے اللہ میں عثمان کے کون سے بری ہوں ۔ (2)

«اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِنْ دَمِ عُثْمَانَ» ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَافِعًا حِضْنَيْهِ ← الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 727

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 728

728 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ أَبُو أَحْمَدَ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَسَاكَ يَوْمًا قَمِيصًا، وَإِنْ أَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَهُ فَلَا تَخْلَعْهُ» .

جبیر بن نفیر ؒ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ آپ کو قمیص پہنائے گا اور اگر منافقین اسے اتارنے کی کوشش کریں تو تم اسے مت اتارنا ۔ (3)

أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ أَبُو أَحْمَدَ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 728

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 729

729 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عُمَرَ بِنْتُ حَسَّانَ بْنِ يَزِيدَ أَبِي الْغُصْنِ - قَالَ أَبِي: وَكَانَتْ عَجُوزَ صِدْقٍ - قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْأَكْبَرَ، مَسْجِدَ الْكُوفَةِ، قَالَ: وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تُكْثِرُونَ فِي عُثْمَانَ، فَإِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَهُ كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] .

ابو غصن سے روایت ہے کہ میں کوفہ کی مرکزی مسجد میں داخل ہوا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بر سر منبر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور انہوں نے تین مرتبہ بآواز بلند فرمایا : اے لوگو! اے لوگو! اے لوگو! تم ؑعثمان کے بارے میں بڑی باتیں کرتے ہوئے ، حالانکہ میری اور انکی مثال یہ آیت ہے : ونزعنا ما فی صدور ھم من غل اخوانا علی سرر متقابلین ترجمہ : اور ہم وہ ساری کدورت باہر کھینچ لیں گے جو دنیا میں انکے سینوں میں (مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے ) تھی ، وہ جنت میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختیوں پر بیٹھے ہوں ۔ (4)

أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 729

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 730

730 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ عُمَرَ بِنْتُ حَسَّانَ - قَالَ أَبِي: عَجُوزُ صِدْقٍ - قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ» ، قَالَ: فَقَالَ عُثْمَانُ: عَلَيَّ مِائَةُ رَاحِلَةٍ، ثُمَّ قَالَ: أَقِلْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَقَالَهُ، فَقَالَ عَلَيَّ عَدَدُهَا مِنَ الْخَيْلِ، فَسَّرَ ذَاكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ عِنْدَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ كَلَامًا حَسَنًا. فَحَفِظَهُ أَبُوهَا وَنَسِيَتْهُ أُمُّ عُمَرَ، قَالَتْ: وَسَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: إِنَّ عُثْمَانَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مَرَّتَيْنِ.

ام عمر بنت حسان اپنے باپ سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو (تبوک کے ) حبیش العسرۃ کے لیے انتظام کرے گا۔ اس جنت ملے گی۔سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا میں (100) اونٹ دوں گا۔ پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! مجھ پر مزید بوجھ ڈالیے ؟ آپ ﷺ نے مزید بوجھ ڈالا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا میں مزید اتنے گھوڑے دوں گا یہ سن کر آپ ﷺ بہت خوش ہوئے اور سیدنا عثمان کے حق میں بڑی خوب صورت بات ارشاد فرمائی جو ر اویہ ام عمر کے باپ کو یاد تھی مگر ام عمر بھول گئی وہ کہتی ہیں میں نے اپنے باپ سے سنا وہ کہہ رہے تھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے دو دفعہ حبش العسرۃ کے لیے سامان مہیا کیا تھا۔(1)

بلغني ← أَبِي ← أَبِي عَجُوزُ صِدْقٍ ← حَدَّثَتْنَا أُمُّ عُمَرَ بِنْتُ حَسَّانَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him · Hadith 730

Daif

chevron_left Previous
1234…9
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him