Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1510

1510 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: «لَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ إِلَّا ثَلَاثَةَ مَسَاجِدَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَمَسْجِدَ الْمَدِينَةِ، وَالْبَحْرَيْنِ» .

سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد عرب مرتد ہو گئے ماسوائے ان تین مسجدوں 0والوں) کے مسجد حرام ، مسجد مدینہ (یعنی مسجد نبوی ) اور مسجد بحرین والے ۔ (1)

قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1510

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1511

1511 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قثنا الْعَوَّامُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ ذِي قَارٍ انْتَصَفَتْ بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ مِنَ الْفُرْسِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " انْتَصَفُوا مِنْهُمْ بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، مِنَ الْفُرْسِ وَنَحْوِهِمْ قَالَ: هَذَا أَوَّلُ يَوْمٍ فَضَّ اللَّهُ فِيهِ جُنُودِ الْفُرْسِ بِفَوَارِسَ مِنْ بَنِي ذُهْلِ بْنِ شَيْبَانَ ".

ابراہیم تیمی رحمۃ اللہ سے روایت ہے کہ ذی قار کے دن بکر بن وائل آدھے فارسیوں کو لے کر الگ ہوئے ،جب رسول اللہ ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : آدھے فارسیوں کو لے کر بکر بن وائل فارسل سے الگ ہوا ہے اور یہ پہلا دن ہے جس دن اللہ نے بنی ذہل بن شیبان قبیلے کے شہسواروں سے فارسیوں کے لشکر میں ٹوٹ پھوٹ ڈالی ہے ۔ (2)

انْتَصَفُوا مِنْهُمْ بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ، مِنَ الْفُرْسِ وَنَحْوِهِمْ ← ائِلٍ مِنَ الْفُرْسِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ← لَمَّا كَانَ يَوْمُ ذِي قَارٍ انْتَصَفَتْ بَكْرُ بْنُ ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قثنا الْعَوَّامُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1511

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1512

1512 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي شَيْخٌ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ: حَفْصُ بْنُ مُجَاهِدٍ، وَكَانَ عَالِمًا بِأَخْبَارِ النَّاسِ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بِي نُصِرُوا» قَالَ: وَكَانَ ذَلِكَ عِنْدَ مَبْعَثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

مؤرخ کبیر حفص بن مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میری وجہ سے ان (بکربن وائل) کی مدد کی گئی تھی ، راوی کہتے ہیں : یہ رسو ل اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت ہوا تھا ۔ (3)

بلغني ← شَيْخٌ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ: حَفْصُ بْنُ مُجَاهِدٍ، وَكَانَ عَالِمًا بِأَخْبَارِ النَّاسِ ← أَبِي، قثنا هُشَيْمٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1512

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1513

1513 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا شُعْبَةُ قثنا قَتَادَةُ قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ لِأَصْحَابِهِ «مَنْ أَشْعَرُ الْعَرَبِ؟» قَالَ: قَالُوا: بَنُو فُلَانٍ قَالَ: إِنَّ أَشْعُرَ الْعَرَبِ لِلزُرْقِ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ فِي أُصُولِ الْعَرْفَجِ قَالُوا: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ الصُّفْرُ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ الْمُتَفَرِّقَةُ أَعْضَادُهُمْ فِي أُصُولِ الْفَسِيلِ.

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ہم مجلس لوگوں سے پوچھا : اہل عرب مین سب سے بڑے شاعر کون ہیںَ؟ لوگوں نے کہا : بنو فلاں ، انہوں نےفرمایا : سب سے بڑے شاعر بنو قیس بن ثعلبہ ہیں جو عرفج کی نسل سے ہیں ۔ لوگوں نے کہا : ان کے بعد کون ہیں ؟ فرمایا : ان کے بعد بنو نجار ہیں جو کہ فسیل کی نسل سے الگ ہوئے ہیں۔ (1)

ثُمَّ الصُّفْرُ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ الْمُتَفَرِّقَةُ أَعْضَادُهُمْ فِي أُصُولِ الْفَسِيلِ. ← ثُمَّ مَنْ ← إِنَّ أَشْعُرَ الْعَرَبِ لِلزُرْقِ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ فِي أُصُولِ الْعَرْفَجِ ← بَنُو فُلَانٍ ← مُعَاوِيَةُ لِأَصْحَابِهِ «مَنْ أَشْعَرُ الْعَرَبِ؟» ← أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا شُعْبَةُ قثنا قَتَادَةُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1513

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1514

1514 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ قثنا عَوْفٌ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْقَمُوصِ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَحَدُ الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ: وَأَهْدَيْنَا لَهُ فِيمَا نُهْدِي نَوْطًا أَوْ قِرْبَةً مِنْ تَعْضُوضٍ أَوْ بَرْنِيٍّ فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» قُلْنَا: هَدِيَّةٌ، قَالَ: فَأَحْسَبُهُ أَنَّهُ نَظَرَ إِلَى تَمْرَةٍ مِنْهَا فَأَعَادَهَا مَكَانَهَا، وَقَالَ: «أَبْلِغُوهَا آلَ مُحَمَّدٍ» . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ: «أَيُّ هَجَرٍ أَعَزُّ؟» قُلْنَا: الْمُشَقَّرُ فَقَالَ: «وَاللَّهِ لَقَدْ دَخَلْتُهَا وَأَخَذْتُ إِقْلِيدَهَا، أَيُّ الْخَطِّ أَعَزُّ؟» فَقُلْنَا: الزَّارَةُ فَقَالَ: «فَوَاللَّهِ لَقَدْ دَخَلْتُهَا وَأَخَذْتُ إِقْلِيدَهَا» قَالَ: وَقَدْ كُنْتُ نَسِيتُ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا فَأَذْكَرَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَرْوَةَ قَالَ: «وَقُمْتُ عَلَى عَيْنِ الزَّارَةِ» ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ قَيْسٍ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ كَارِهِينَ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَوْتُورِينَ، إِذْ بَعْضُ قَوْمٍ لَا يُسَلِّمُونَ حَتَّى يُخْزَوْا وَيُوتَرُوا قَالَ: وَابْتَهَلَ وَجْهُهُ هَا هُنَا مِنَ الْقِبْلَةِ حَتَّى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَالَ: إِنَّ خَيْرَ الْمَشْرِقِ عَبْدُ قَيْسٍ " [ص:830]

زید بن علی سے روایت ہے کہ بنو قیس کا جو وفد رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا تھا ان مین کسی ایک نے مجھے بتایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو ایک کالی کھجوروں کا مشکیزہ ہدیہ دیا ، آپ ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا : یہ ہدیہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا گمان ہے کہ اپ ﷺ نے ایک کھجور کو دیکھا ، پھر اسکو اپنی جگہ پر رکھ دیا اور آپ ﷺ نے فرمایا : آل محمد ﷺ کو یہ (کھجوریں ) پہنچا دو ، راوی نے آگے باقی حدیث کو بیان کی ا ور رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ھجر (علاقہ کا نام ) کا کون سا علاقہ اچھا ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا " مشقر کا قلعہ ۔ رواوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! میں اس میں داخل ہواہوں اور میں نے وہاں سے تابنا لیا ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا : خط (علاقہ کا نام) کا کون سا علاقہ اچھا ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا : زارہ کا، راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم !میں اس میں دآخل ہوا ہوں اور میں نے وہاں سے تابنا لیا ہے ۔راوی کہتے ہیں : میں اس حدیث کا کچھ حصہ بھول گیا تھا وہ مجھے عبیداللہ بن ابی جروہ رحمۃ اللہ علیہ نے یاد کروایا ہے ، میں زارہ کے چشمہ کے پاس کھڑا تھا آپ ﷺ نے دعا فرمائی : اے اللہ ! عبد قیس کی مغفرت فرما کیونکہ وہ کسی جبر کے بغیر اپنی خوشی سے اسلام لائے ہیں ، نہ ہی ان کو شرمندہ کرنا اور نہ ہی ان کو نقصان پہنچانا کیونکہ بعض قومیں اس وقت تک ایمان نہیں لاتی جب تک کہ وہ شرمندگی نہ اٹھا لیں اور نقصان نہ پائیں ، دعا کے وقت نبی کریم ﷺ نے اپنا چہرہ قبلہ رخ کیا ہوا تھا اور فرمایا : مشرق کی بھلائی عبد القیس ہیں ۔(2)

أَبُو الْقَمُوصِ زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبِي، قثنا إِسْمَاعِيلُ قثنا عَوْفٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1514

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1515

1515 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي الْقَمُوصِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَحَدُ الْوَافِدِينَ الَّذِينَ وَفَدُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ قَيْسٍ فَإِنْ لَا يَكُنْ؟ قَالَ قَيْسُ بْنُ النُّعْمَانِ فَإِنِّي نَسِيتُ اسْمَهُ، قَالَ: وَأَهْدَيْنَا لَهُ فِيمَا نُهْدِي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَابْتَهَلَ يَدْعُو لِعَبْدِ الْقَيْسِ وَجْهُهُ هُنَا مِنَ الْقِبْلَةِ يَعْنِي عَنْ يَمِينِ الْقِبْلَةِ حَتَّى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، يَدْعُو لِعَبْدِ الْقَيْسِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ خَيْرَ أَهْلِ الْمَشْرِقِ عَبْدُ الْقَيْسِ»

ابو قموص رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والے بنو عبدالقیس کے وفود میں سے کسی وفد نے بیان کیا جو رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے تھے اگرچہ ہو سکتا ہے کہ عبدالقیس قبیلہ نہ ہو (یعنی کوئی اور ہو) سیدنا قیس بن نعمان رضی اللہ علیہ کہتے ہیں ؒ: میں اس قبیلے کا نام بھول گیا ( جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا وہ قبیلے والے بیان کرتے ہیں کہ ) ہم نے آپ ﷺ کو ہدیہ دیا جو دینا تھا پس آگے انہوں نے باقی حدیث بیان کی ۔ راوی کہتے ہیں : آپ ﷺ نے عبدالقیس کے لیے بہت عاجزی سے دُعا ،مانگی ، آپ ﷺ کا چہرہ یہاں قبلے کی دائیں جانب تھا ، پھر آپ ﷺ قبلہ رخ ہوئے اور عبد القیس کے لیے دعا مانگی پھر فرمایا : یقینا اہل مشرق میں سے بہترین لوگ عبدالقیس ہیں ۔ (1)

أَبِي الْقَمُوصِ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا عَوْفٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1515

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1516

1516 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: قثنا عَفَّانُ قثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ نا أَبُو الْوَازِعِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي رَاسِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا لَهُ إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِي شَيْءٍ لَا يَدْرِي مَهْدِيُّ مَا هُوَ؟ قَالَ: فَسَبُّوهُ وَضَرَبُوهُ فَشَكَى ذَاكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَالَ «لَوْ أَنَّكَ أَهْلَ عُمَانٍ أَتَيْتَ مَا سَبُّوكَ وَلَا ضَرَبُوكَ» .

سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبائل عرب میں سے کسی قبیلے کی طرف کسی کام لیے قاصد بھیجا ، مہدی راوی کو نہیں پتہ کہ کام کیا تھا تو ان لوگوں نے اس قاصد کو سب وشتم کا نشانہ بنایا اور پٹائی کی ، کسی نے یہ با ت نبی کریم ﷺ کو بتا ئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم اہل عمان سے شروع کرتے تو آپ کو سب وشتم کا نشانہ بنایا جاتا اور نہ ہی مارا جاتا۔ (2)

أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1516

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1517

1517 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: وَقَالَ الزُّهْرِيُّ " هُمْ بَنُو حَنِيفَةَ أَصْحَابُ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ يَعْنِي قَوْلَهُ عَزَّ وَجَلَّ: {سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ} [الفتح: 16] ".

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان : (تڈعون الی قوم اولی باس شدید) سے بنع حنیفہ مسلمہ کذاب (جھوٹی بنوت کا دعویٰ کرنے والا بد بخت ) کی قوم کی طرف اشارہ ہے ۔ (3)

ابْنِ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1517

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1518

1518 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ فَقَالَ: «أَتْقَاهُمْ» ، قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ قَالَ: «فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ بْنِ خَلِيلِ اللَّهِ» ، قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : سب سے معزز انسان کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : سب سے زیادہ متقی ، لوگوں نے کہاں ہم نے اس کے بارے میں نہیں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نبی یوسف (علیہ السلام ) بن نبی اللہ (سیدنا یعقوب علیہ اسلام ) بن خلیل اللہ (سیدنا ابراہیم علیہ السلام ) لوگوں نے عرض کیا : ہم نے اس بارے میں بھی سوال نہیں کیا تو فرمایا : تم عربوں کے بارے میں پوچھتے ہوتو جو شخص جاہلت میں بہتر تھا وہی اسلام میں بھی بہتر ہے بشرطیکہ اسلام کو اچھی طرح سمجھ لے ۔ (4)

فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا ← هَذَا نَسْأَلُكَ، ← لَيْسَ ← «فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ بْنِ خَلِيلِ اللَّهِ» ← هَذَا نَسْأَلُكَ، ← لَيْسَ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ فَقَالَ: «أَتْقَاهُمْ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدٍ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1518

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1519

1519 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قثنا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «النَّاسُ مَعَادِنٌ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگ تانبے کی مانند ہیں جو ان میں جاہلیت میں بہتر تھا وہ اسلام میں بھی بہتر ہے بشر طیکہ اسلام کو اچھی طرح سمجھ لے ۔ (1)

النَّاسُ مَعَادِنُ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بن عَمْرو قثنا أَبُو سَلَمَةَ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1519

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1520

1520 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ، فَذَكَرُوا الْجُدُودَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ سَكَتُّمْ أَخْبَرْتُكُمْ: جَدُّ بَنِي عَامِرٍ جَمَلٌ أَحْمَرُ أَوْ آدَمُ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ فِي رَوْضَةٍ وَغَطَفَانُ أَكَمَةٌ خَشْنَاءُ تَنْفِي النَّاسَ عَنْهَا " قَالَ: فَقَالَ: الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَأَيْنَ جَدُّ بَنِي تَمِيمٍ؟ قَالَ: «لَوْ سَكَتَ» .

سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایے ہے کہ عیینہ بن بدر ، اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ رسول اللہ ﷺ کے اپس جمع ہوئے اور اپنے آباؤ اجداد کا تذکرہ کر رہے تھے تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا : اگر تم خاموش ہو جاؤ گے تو میں تمہیں بتا دوں گا کہ بنو عامر کا دادا تو سرخ یا خاکستر اونٹ کی طرح تھا جو درخت کے پتے کھاتا ہے ، راوی کہتے ہیں :میرا گمان ہے کہ روضہ اور عظفان کے بارے میں فرمایا کہ وہ کنکریوں کا ایک کھر دراٹیلہ تھا جو لوگوں کو بھگانے والا تھا تو اقرع بن حابس نے پوچھا : بنو تمیم کا دادا کہاں تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم خاموش ہوتے تو ۔ ( میں بتا دیتا مگر اب نہیں ) ( 2)

لَوْ سَكَتَ ← الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَأَيْنَ جَدُّ بَنِي تَمِيمٍ ← فِي رَوْضَةٍ وَغَطَفَانُ أَكَمَةٌ خَشْنَاءُ تَنْفِي النَّاسَ عَنْهَا ← وَأَحْسِبُهُ ← عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ فَذَكَرُوا الْجُدُودَ ← الأقرع بن حابس ← اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبِيِّ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَبِي، قثنا رَوْحٌ قثنا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1520

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْعَرَبِ · حديث 1521

1521 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا رَوْحٌ أَوْ غَيْرُهُ قثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خِيَارُ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا» .

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص جاہلیت میں بہتر تھا وہی اسلام میں بھی بہتر ہے بشرطیکہ اسلام کو اچھی طرح سمجھ لے۔ (3)

خِيَارُ النَّاسِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا ← النَّبِيِّ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← أَبِي، قثنا رَوْحٌ أَوْ غَيْرُهُ قثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of the Arabs · Hadith 1521

Sahih

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him