Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 947

947 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ» .

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کا میں دوست ہوں علی اسکا دوست ہے ۔ (1)

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 947

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 948

948 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا : آپ سے محبت نہیں کرے گا مگر مون اور بغض نہیں رکھے گا مگر منافق۔(2)

عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ «إِنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ» ← عَلِيٍّ، ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← وكيع قثنا الأعمش ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 948

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 949

949 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ عَلِيٍّ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنَا عَنْهُ، قَالَ: فَرَفَعَ حَاجِبَيْهِ بِيَدَيْهِ فَقَالَ: ذَاكَ مِنْ خَيْرِ الْبَشَرِ.

عطیہ بن سعد عوفی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ کی خدمت میں ھاضر ہوئے ۔ زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے ابرو آنکھوں پر جلوہ فرما رہے تھے ہم نے ان سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے ابروچشم کو اپنےہاتھوں سے آشکار ا فرمایا اور گویا ہو ئے : وہ بہترین لوگوں میں سے تھے ۔ (3)

فَرَفَعَ حَاجِبَيْهِ بِيَدَيْهِ فَقَالَ: ذَاكَ مِنْ خَيْرِ الْبَشَرِ. ← عَنْهُ ← عَلِيٍّ، فَقُلْتُ: ← دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَدْ سَقَطَ حَاجِبَاهُ عَلَى عَيْنَيْهِ، فَسَأَلْنَاهُ ← عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 949

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 950

950 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: كَانَ أَبِي يَسْمُرُ مَعَ عَلِيٍّ، وَكَانَ عَلِيٌّ يَلْبَسُ ثِيَابَ الصَّيْفِ فِي الشِّتَاءِ، وَثِيَابَ الشِّتَاءِ فِي الصَّيْفِ، فَقِيلَ لِي: لَوْ سَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: صَدَقَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرْمَدُ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيَّ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ» ، فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدُ، قَالَ: وَقَالَ: «لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ» ، قَالَ: فَتَشَرَّفَ لَهَا النَّاسُ، فَبَعَثَ عَلِيًّا.

ابن ابی لیلی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ میرے والد گرامی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کو محو گفتگو ہوا کرتے تھے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سردیوں میں گرمیوں والا اور گرمیوں میں سردیوں والا لباس زیب تن فرمایا کرتے تھے کسی نے مجھ سے کہا : کاش ! آپ ان سے دریافت فرمائیں کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ میں نے اس بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا آپ رضی اللہ عنہ نے تصدیق فرمائی کہ میں ایسا کرتا ہوں اور وجہ یہ ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن میری طرف کسی کو بھیجا مگر میں آشوب چشم میں مبتلا تھا میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ میں آنکھ میں تکلیف ہے تو آپ ﷺ نے میری آنکھ میں لعاب دہن ڈالا اور دعا فرمائی ۔ اے اللہ ! علی سے گرمی اور سردی کی تکلیف کو دور فرما ۔ اس دن سے مجھے نہ گرمی محسوس ہوتی ہے اور نہ سردی پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : میں ضرور جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس سے اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول محبت کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے ۔ ۔ وہ میدان سے بھاگنے والانہیں ہے۔ لوگ ادھر ادھر دیکھنے لگے ، پس آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا ۔ (1)

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْمِنْهَالُ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 950

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 951

951 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، شَكَّ الْأَعْمَشُ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ، وَمُبْغِضٌ مُفْتَرٍ.

ابو بختری یا عبد اللہ بن سلمہ رحمۃ اللہ علیہ ( یہ اعمش کو شک ہوا ہے ) سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے : میرے بارے میں دو طرح کے آدمی ہلاک ہو جائیں گے محبت میں غلو کرنے والے اور بغض رکھنے والے جھوٹا۔ (2)

عَلِيٌّ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ، وَمُبْغِضٌ مُفْتَرٍ. ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، شَكَّ الْأَعْمَشُ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، أَوْ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← وكيع قثنا الأعمش ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 951

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 952

952 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي السَّوَّارِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: لَيُحِبُّنِي قَوْمٌ حَتَّى يَدْخُلُوا النَّارَ فِي حُبِّي، وَلَيُبْغِضُنِي قَوْمٌ حَتَّى يَدْخُلُوا النَّارَ فِي بُغْضِي.

ابو سوار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : کچھ لوگ میری محبت میں افراط کے سبب جہنم میں جائیں گے اور کچھ لوگ مجھ سے زیادہ بغض رکھنے کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے ۔ (3)

أبي السوار ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 952

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 953

953 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ قُدَامَةَ الرُّؤَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ، تَدْرِي مَنْ شَرُّ الْأَوَّلِينَ؟» وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً عَنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ، تَدْرِي مَنْ أَشْقَى الْأَوَّلِينَ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «عَاقِرُ النَّاقَةِ» ، قَالَ: " تَدْرِي مَنْ شَرُّ، وَقَالَ مَرَّةً: مَنْ أَشْقَى الْآخَرِينَ؟ " قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «قَاتِلُكَ» .

ضحاک بن مزاحم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : علی ! کیا تو جانتا ہے کہ سابقہ لوگوں میں سب سے بڑا بد بخت کون تھا ؟ کبھی امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ ضحاک بن مزاحم رحمۃ اللہ علیہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : علی ! کیا تو جانتا ہے کہ سابقہ لوگوں میں سب سے بڑا بد بخت کون تھا؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ بہتر جانتے ہیں تو فرمایا : جس نے قوم صالح کی اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں ۔ کیا تو جانتا ہے کہ اب بدترین کون ہو گا؟ کبھی راوی نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : آنے والے لوگوں میں سب سے بد بخت کون ہو گا؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اسکے رسول ﷺ بہترجانتے ہیں ۔ تو فرمایا : تمہارا قاتل ۔ (1)

الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ ← أَبِيهِ ← قُتَيْبَةُ بْنُ قُدَامَةَ الرُّؤَاسِيُّ، ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 953

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 954

954 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ علیہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو سیدنا ہارون علیہ السلام کے سا تھ تھی ، مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ (2)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 954

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 955

955 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أُسَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَسُولُ اللَّهِ خَيْرُ النَّاسِ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، وَلَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ ثَلَاثَ خِصَالٍ، لَئِنْ تَكُنْ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، زَوَّجَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ، وَوَلَدَتْ لَهُ، وَسُدَّتِ الْأَبْوَابُ إِلَّا بَابَهُ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ.

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم نبی کریم ﷺ کے زمانے میں سب سے بہتر رسول اللہ ﷺ کو ان کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے ہیں ، لیکن سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تین اعزازات سے نوازا گیا ہے ، ان میں سے کسی ایک کا بھی مجھے مل جانا سرخ اونٹوں سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ :۔ 1۔آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کرایا ، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اولاد کو جنم دیا ۔ 2۔ان کے دروازے کے علاوہ مسجد نبوی ﷺ کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کا بند کروا دیا ۔ 3۔ خیبر کے مقام پر ان کو جھنڈا دیا ۔ (3)

ابْنِ عُمَرَ ← عُمَرَ بْنِ أَسِيدٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 955

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 956

956 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، قَالَا: نا ابْنُ الْمُسَيِّبِ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى سَعْدٍ فَقُلْتُ: حَدِيثٌ حُدِّثْتُهُ عَنْكَ، حَدَّثَنِيهِ حِينَ اسْتَخْلَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: فَغَضِبَ سَعْدٌ وَقَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهِ؟ فَكَرِهْتُ أَنْ أُخْبِرَهُ أَنَّ ابْنَهُ حَدَّثَنِيهِ فَيَغْضَبَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ اسْتَخْلَفَ عَلِيًّا عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ تَخْرُجَ وَجْهًا إِلَّا وَأَنَا مَعَكَ، فَقَالَ: «أَوَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» .

سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ابن سعد بن ابی وقاص رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے حوالے ایک حدیث بیان کی ، پھر جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ی ہوئی تو عرض کیا : ایک حدیث بیان کرتا ہوں ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے از خود وہ مجھے بیان کیجیے کہ جب نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ میں اپنا جانشین مقرر فرمایا ۔ اس پر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور فرمایا : یہ آپ کو کس نے بیان کی ہے ؟ میں نے اُ ن کے بیٹے کا نام لینا اچھا نہیں سمجھا کہ وہ اُ س پر غصہ ہوں گے۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ! میری خواہش تو یہ ہے کہ آپ جہاں بھی جائیں میں آپ کے ساتھ رہوں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو (سیدنا )موسیٰ علیہ السلام کو (سیدنا )ہارون علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ (1)

فَيَغْضَبُ عَلَيْهِ ثُمَّ ← أَنَّ ابْنَهُ ← فَغَضِبَ سَعْدٌ وَقَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ بِهِ؟ فَكَرِهْتُ أَنْ ← حِينَ اسْتَخْلَفَ النَّبِيُّ عَلِيًّا عَلَى الْمَدِينَةِ، ← فَدَخَلْتُ عَلَى سَعْدٍ فَقُلْتُ: حَدِيثٌ حُدِّثْتُهُ عَنْكَ، ← أَبِيهِ ← ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 956

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 957

957 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى» ، قِيلَ لِسُفْيَانَ: «غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» ، قَالَ: نَعَمْ.

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو (سیدنا ) موسیٰ (علیہ السلام ) کو (سیدنا ) ہارون (علیہ السلام ) کے ساتھ تھی ، امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا : کیا یہ الفاظ بھی ہیں کہ مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی بالکل ! (2)

سَعْدٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 957

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 958

958 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَعَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ، قَالَا: لَمَّا أُهْدِيَتْ فَاطِمَةُ إِلَى عَلِيٍّ لَمْ يَجِدْ أَوْ تَجِدْ عِنْدَهُ إِلَّا رَمْلًا مَبْسُوطًا وَوِسَادَةً، وَجَرَّةً، وَكُوزًا، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ: «لَا تَقْرَبِ امْرَأَتَكَ حَتَّى آتِيَكَ» ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِمَاءٍ فَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ نَضَحَ بِهِ صَدْرَ عَلِيٍّ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ دَعَا فَاطِمَةَ فَقَامَتْ إِلَيْهِ تَعَثَّرُ فِي ثَوْبِهَا، وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ: فِي مِرْطِهَا، مِنَ الْحَيَاءِ، فَنَضَحَ عَلَيْهَا أَيْضًا وَقَالَ لَهَا: «أَمَا إِنِّي لَمْ آلُ أَنْ أُنْكِحَكِ أَحَبَّ أَهْلِي إِلَيَّ» ، فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوَادًا وَرَاءَ الْبَابِ فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» قَالَتْ: أَسْمَاءُ، قَالَ: «أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمَعَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِئْتِ كَرَامَةً لِرَسُولِ اللَّهِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَدَعَا لِي دُعَاءً إِنَّهُ لَأَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيٍّ: «دُونَكَ أَهْلَكَ» ، ثُمَّ وَلَّى فِي حُجْرَةٍ، فَمَا زَالَ يَدْعُو لَهُمَا حَتَّى دَخَلَ فِي حُجْرَةٍ.

عکرمہ اور ابو یزید مدینی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رخصت کیا تو اس وقت ان کے پاس بچھی ہوئی ریت ، تکیے ، لوٹے اور مٹکے کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا ، آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ اس وقت تک اپنی زوجہ محترمہ کے پاس نہ جانا جب تک میں نہیں آجاتا ۔ پس جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو پانی منگوایا پھر اس میں اللہ نے جو کچھ چایا پڑھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سینے اور چہرے پر چھڑکا ۔ پھر سیدہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا کو بلایا تو وہ کپڑوں میں لپٹی ہوئی آئیں م کبھی معمر بیان کرتے ہیں : اپنی چادر میں باحیا حالت میں اٹھیں ، ان پر بھی پانی چھڑکا اور فرمایا : فاطمہ میں نے تمہارا نکاح اپنے خاندان میں سب سے بہتر شخص سے کیا ہے ۔ اس وقت رسول اللہ ﷺ نے دروازے کے پیچھے کچھ سیاہی سی دیکھی ، فرمایا : کون ؟ عرض کیا : اسماء فرمایا : کیا اسماء بنت عمیں ؟ عرض کیا : جی ہاں ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کیا تم رسول اللہ ﷺ کے احترام میں انکی بیٹی کے ساتھ آئی ہو؟ اسما کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ﷺ! پھر آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی ، وہ میرے نزدیک سب سے مضبوط عمل ہے بعد ازاں ! آپ وہاں سے تشریف لے گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اپنی بیوی کے ساتھ رہو ، پھر آپ ﷺ اپنے حجرہ مبارکہ کی طرف چل پڑے اور ان دونوں کے لیے دعا کرتے رہے یہاں تک کہ حجرہ میں داخل ہو گئے ۔ (3)

أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 958

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him