Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 878

878 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا مُؤْتَزِرًا بِإِزَارٍ مُرْتَدِيًا بِرِدَاءٍ مَعَهُ الدِّرَّةُ، كَأَنَّهُ أَعْرَابِيٌّ يَدُورُ بَدَوِيُّ، حَتَّى بَلَغَ أَسْوَاقَ الْكَرَابِيسِ فَقَالَ: يَا شَيْخُ، أَحْسِنْ بَيْعِي فِي قَمِيصٍ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، فَلَمَّا عَرَفَهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا، ثُمَّ أَتَى آخَرَ فَلَمَّا عَرَفَهُ لَمْ يَشْتَرِ مِنْهُ شَيْئًا، فَأَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، ثُمَّ جَاءَ أَبُو الْغُلَامِ فَأَخْبَرَهُ، فَأَخَذَ أَبُوهُ دِرْهَمًا ثُمَّ جَاءَ بِهِ فَقَالَ: هَذَا الدِّرْهَمُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: مَا شَأْنُ هَذَا الدِّرْهَمِ؟ قَالَ: كَانَ قَمِيصًا ثَمَنَ دِرْهَمَيْنِ قَالَ: بَاعَنِي رِضَايَ وَأَخَذَ رِضَاهُ.

ابومطر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیّد نا علی رضی اللہ ُعنہ کو شلوار اور چادر میں ملبوس دیکھا ان کے ہاتھ میں دَرَّہ (کوڑا)تھا ، وہ دیہاتی کی طرح بازار میں گھوم رہے تھے یہاں تک کہ وہ کرابیس بازار پہنچے ، انہوں نے کہا : اے بوڑھے ، میرے ساتھ اچھی سودابازی کرو اور اس قمیض کی تین درہم قیمت لگاؤ ، مگر جب اس نے پہچان لیا تو آپ نے اس سے کچھ نہ خریدا،،پھر دوسرے شخص کے پاس چلے گئے ،اس نے بھی پہچان لیا تو اس سے کچھ نہ خریدا، پھر ایک نوجوان لڑکے کے پاس آئے ، اس سے تین درہم کی قمیض خریدی ۔ چنانچہ جب نوجوان کا باپ آیا ، اس نے بتادیا ، اس کاباپ ایک درہم لے کر واپس آیا اور کہنے لگا : امیرالمومنین ! یہ ایک درہم واپس لے لیں ، آپ رضی اللہ ُعنہ نے کہا:اس درہم کو کیا ہو؟اس نے کہا :قمیض کی قیمت دو درہم تھی ، یہ سن کر سیّد نا علی رضی اللہ ُعنہ نے کہا : سودا ہم دونوں کی مرضی سے ہوا تھا ۔(1)

أَبِي مَطَرٍ ← أَبِي قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، ← أبو عبد الرحمن عبد الله بن أحمد بن محمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 878

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 879

879 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ الْمُرَادِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلِيُّ إِلَى ظَهْرِ الْكُوفَةِ فَرَأَى حُمَّرَةً تَطِيرُ فَقَالَ: [البحر الرجز] يَا لَكِ مِنْ حُمَّرَةٍ بِمَعْمَرٍ ... خَلَا لَكِ الْجَوُّ فَبِيضِي وَاصْفِرِي وَزَادَ فِيهِ غَيْرُ عَلِيٍّ: وَنَقِّرِي مَا شِئْتِ أَنْ تَنْقُرِي.

ہانی بن عمروہ مرادی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دفعہ کوفہ سے باہر گئے ۔ وہا ں ایک پرندے کو اڑا تے دیکھا اور فرمایا :اے پرندے !تم کتنے خوش نصیب ہو یہ فضا تیرے لیے خالی ہےجہاں مرضی انڈے دو جیسے چاہو سیٹی بجاؤ علی بن صالح رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ بعض راویوں نے یہ الفاظ زاہد بیان کیے ہیں : جہاں سے مرضی چونچ مار کر دانے اٹھاؤ۔(2)

خَرَجَ عَلِيُّ إِلَى ظَهْرِ الْكُوفَةِ فَرَأَى حُمَّرَةً تَطِيرُ ← يَحْيَى بْنِ هَانِئِ بْنِ عُرْوَةَ المُرَادِيِّ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 879

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 880

880 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قَالَ نا عُمَرُ بْنُ مُنَبِّهٍ السَّعْدِيُّ، عَنْ أَوْفَى بْنِ دَلْهَمٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ: تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ تَعْرِفُوا بِهِ، وَاعْمَلُوا بِهِ تَكُونُوا مِنْ أَهْلِهِ، فَإِنَّهُ سَيَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانٌ يُنْكِرُ الْحَقَّ فِيهِ تِسْعَةُ أَعْشَارِهِمْ لَا يَنْجُو مِنْهُ إِلَّا كُلُّ نُوَمَةٍ، أُولَئِكَ أَئِمَّةُ الْهُدَى وَمَصَابِيحُ الْعِلْمِ، لَيْسُوا بِالْعُجْلِ الْمَذَايِيعِ بُذْرًا.

اوفی بن دلہم عدوی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! علم حاصل کرو اور اسے جان لو اس پر عمل کرو تاکہ تم اہل علم بن جاؤ تمہارے بعد ایسا وقت آئے گا کہ لوگ حق کے دسویں حصے میں سے نو حصوں کا انکار کریں گے ۔ اس سے کوئی بھی نہیں بچے گا مگر وہ شخص جو سورہا ہو ۔ یہی لوگ ہدائت کے امام ہوں گے علم کے چراغ بنیں گے نسل پھیلانے والے بچھڑے نہ ہوں گے۔(1)

عَلِیٍّ اَنَّہٗ ← بلغني ← أَوْفَى بْنُ دَلْهَمٍ الْعَدَوِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُنَبِّهٍ السَّعْدِيُّ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 880

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 881

881 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ زُبَيْدٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ وَكِيعٌ، وَنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُهَاجِرٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمُ اثْنَتَانِ: طُولُ الْأَمَلِ، وَاتِّبَاعُ الْهَوَى، فَأَمَّا طُولُ الْأَمَلِ فَيُنْسِي الْآخِرَةَ، وَأَمَّا اتِّبَاعُ الْهَوَى فَيَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ، أَلَا وَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ وَلَّتْ مُدْبِرَةً، وَالْآخِرَةُ مُقْبِلَةً، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا بَنُونَ، فَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الْآخِرَةِ وَلَا تَكُونُوا مِنْ أَبْنَاءِ الدُّنْيَا، فَإِنَّ الْيَوْمَ عَمَلٌ وَلَا حِسَابٌ، وَغَدًا حِسَابٌ وَلَا عَمَلٌ.

مہاجر عامر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :دو چیزیں سب سے زیادہ ڈرانے والی ہیں ۔لمبی لمبی اُمیدیں اور خواہش پر ستی لمبی اُمید سے آخرت بھول جاتی ہے اور خواہش پر ستی حق سے روکتی ہے ۔اے لوگو !دنیا جانے والی اور قیامت آنے والی ہے ، ان دنوں (یعنی دنیا آخرت )کے طالب موجود ہیں البتہ تم آخرت کے طالب بنوں اور دنیا کے طالب مت بنو ، آج اس دنیا میں علم ہو گا مگر حساب نہیں ہوگا اور کل (روز قیامت)حساب ہوگا مگر عمل نہیں ہوگا ۔(2)

عَلِيٍّ، ← مُهَاجِرٍ الْعَامِرِيِّ؛ ← يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ← وَكِيعٌ، ← عَلِيٍّ، ← زُبَيْدٍ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 881

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 882

882 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قثنا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِيهِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: أَعْطَى عَلِيٌّ النَّاسَ فِي سَنَةٍ ثَلَاثَ عطيَاتٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْهِ مَالٌ مِنْ أَصْبَهَانَ فَقَالَ: هَلُمُّوا إِلَى عَطَاءِ الرَّابِعِ فَخُذُوا، ثُمَّ كَنَسَ بَيْتَ الْمَالِ وَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ: يَا دُنْيَا غُرِّي غَيْرِي، قَالَ: وَقَدِمَ عَلَيْهِ حِبَالٌ مِنْ أَرْضٍ، فَقَالَ: إِيشْ هَذَا؟ قَالَ: حِبَالٌ جِيءَ بِهَا مِنْ أَرْضِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: أَعْطُوهَا النَّاسَ، قَالَ: فَأَخَذَ بَعْضُهُمْ وَتَرَكَ بَعْضُهُمْ، فَنَظَرُوا فَإِذَا هُوَ كَتَّانٌ يُعْمَلُ، فَبَلَغَ الْحَبْلُ آخِرَ النَّهَارِ دَرَاهِمَ.

مسلم بن ہر مز رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک سال میں تین مرتبہ لوگوں میں عطیات تقسیم کیے۔ جب چوتھی مرتبہ اصیہان سےمال آیا تو فرمایاعطیات کی تقسیم رابع کی طرف آکر لے لو، پھر بیت المال کو جھاڑو لگا کر وہاں دو رکعت پڑھی اور فرمانے لگے ۔ اے دنیا ! تم میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ دو ، پھر کہیں سے کچھ رسیاں آئیں ، پوچھا :یہ کیا ہے ؟ بتایا گیا : یہ رسیاں ہیں فلاجگہ سے آئی ہیں تو فرمایا :ان کو بھی لوگو ں میں تقسیم کرو ، کچھ لوگوں نے لیں کچھ نے نا لیں ، بعد میں پتا چلا کہ وہ کتان کپڑے سے بنی تھیں شام تک ایک رسی کی قیمت چند درہموں تک پہنچ چکی تھی۔(3)

أَبِيهِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قثنا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 882

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 883

883 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا لَيْثٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا أَصْبَحَ بِالْكُوفَةِ أَحَدٌ إِلَّا نَاعِمًا، إِنَّ أَدْنَاهُمْ مَنْزِلَةً لَيَأْكُلُ مِنَ الْبُرِّ، وَيَجْلِسُ فِي الظِّلِّ، وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءِ الْفُرَاتِ.

عبداللہ بن سخیرہ رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : آج کوفہ میں ہر شخص خوش حال ہے، اب تو ایک غریب تر بھی اپنا گھر رکھتا ہے، بیٹھنے کےلیے سایہ میسر ہے ، کھانے کے لیے گندم کے دانے ہیں اور پینے کے لیے فرات کا پانی ہے ۔(1)

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ ← مُجَاهِدٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا لَيْثٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 883

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 884

884 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: جَاءَهُ ابْنُ التَّيَّاحِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، امْتَلَأَ بَيْتُ مَالِ الْمُسْلِمِينَ مِنْ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ: فَقَامَ مُتَوَكِّيًا عَلَى ابْنِ التَّيَّاحِ حَتَّى قَامَ عَلَى بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: هَذَا جَنَايَ وَخِيَارُهُ فِيهِ، وَكُلُّ جَانٍ يَدُهُ إِلَى فِيهِ، يَا ابْنَ التَّيَّاحِ، عَلَيَّ بِأَشْيَاخِ الْكُوفَةِ، قَالَ: فَنُودِيَ فِي النَّاسِ، فَأَعْطَى جَمِيعَ مَا فِي بَيْتِ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ يَقُولُ: يَا صَفْرَاءُ، يَا بَيْضَاءُ، غُرِّي غَيْرِي هَاوَهَا وَهُوَ يَقُولُ: يَا صَفْرَاءُ، يَا بَيْضَاءُ، غُرِّي غَيْرِي هَاوَهَا، حَتَّى مَا بَقِيَ فِيهِ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، ثُمَّ أَمَرَ بِنَضْحِهِ وَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.

علی بن ربیعہ رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک دن ابن تیاح نے سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آکر کہا : امیر المومنین !بیت المال چاندی اور سونے سے بھر گیا ہے تو فرمایا : اللہ اکبر ، پھر ابن تیاح کا سہارا لیتے ہوے کھڑے ہوئے اوربیت المال کے پاس آئے اور کہا یہ میرا جمع شدہ مال ہے ۔ اس میں عمدہ چیزیں مو جود ہیں جب کہ ہر صاحب مال کا ہاتھ منہ پر ہوتا ہے ۔ ابن تیاح ! کوفہ کے بوڑھو ں کو میرےپاس بلاؤ ، چنانچہ لوگو ں میں اعلان ہوا ، مسلمانوں کے بیت المال کی تمام چیزوں کو لوگوں میں تقسیم کرتے ہوئے فرمائے جارہے تھے: اے چاندی اور سونے !میرے علاوہ کسی اور کو فریب دینا ۔ نیزفرمانے لگے : اے چاندی اور سونے ! میرے علاوہ کسی اور کو فریب نہ دینا۔ یہاں تک کہ درہم و دینار میں سے کچھ بھی نہ بچا ۔ پھر صاف کرنے کا حکم دیا اور دورکعت نماز پڑھی۔(2)

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، ← أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 884

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 885

885 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، نا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي بَحْرٍ، عَنْ شَيْخٍ لَهُمْ قَالَ: رَأَيْتُ عَلَى عَلِيٍّ إِزَارًا غَلِيظًا، قَالَ: اشْتَرَيْتُهُ بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ، فَمَنْ أَرْبَحَنِي فِيهِ دِرْهَمًا بِعْتُهُ، وَرَأَيْتُ مَعَهُ دَرَاهِمَ مَصْرُورَةً فَقَالَ: هَذِهِ بَقِيَّةُ نَفَقَتِنَا مِنْ يَنْبُعَ.

ابو بحر رحمۃاللہ علیہ اپنے استاد سے روایت کرتے ہیں کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک موٹی شلوار تھی ، وہ فرمارہے تھے کہ میں نے اس کو پانچ درہم کے عوض خریدا ہے اور جو بھی ایک درہم منافع دے گا میں اس کو فروخت کر دوں گا ، میں نے دیکھا ، ان کے بٹوے میں کچھ درہم تھے ، فرمانے لگے : یہ ہماری کمائی سےنان و نفقہ کے لیے بچا ہوا کچھ مال ہے ۔(3)

هَذِهِ بَقِيَّةُ نَفَقَتِنَا مِنْ يَنْبُعَ. ← اشْتَرَيْتُهُ بِخَمْسَةِ دَرَاهِمَ، فَمَنْ أَرْبَحَنِي فِيهِ دِرْهَمًا بِعْتُهُ، وَرَأَيْتُ مَعَهُ دَرَاهِمَ مَصْرُورَةً ← رَأَيْتُ عَلَى عَلِىٍّ إِزَارًا غَلِيظًا ← شَيْخٍ لَهُمْ ← أَبِي بَحْرٍ ← مِسْعَرٍ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 885

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 886

886 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ قَالَ: حَدَّثَنِي مُجَمِّعٌ وَهُوَ التَّيْمِيُّ، أَنَّ عَلِيًّا كَانَ يَأْمُرُ بِبَيْتِ الْمَالِ فَيُكْنَسُ، ثُمَّ يُنْضَحُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَجَاءَ أَنْ يَشْهَدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ لَمْ يَحْبِسْ فِيهِ الْمَالَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ.

مجمع تیمی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیت المال میں جھا ڑو لگواتے ۔ پھر پانی کو چھڑکواکر وہاں نماز پڑھتے ، اس اُمید سے کہ قیامت کے دن یہ بیت المال گواہی دے کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مال کو مسلمانوں سے نہیں روکا،(4)

مُجَمِّعٌ وَهُوَ التَّيْمِيُّ، ← أَبِي حَيَّانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 886

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 887

887 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا بَهْزٌ هُوَ ابْنُ أَسَدٍ، قثنا جَعْفَرٌ، هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، قثنا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَجُوزٌ مِنَ الْحَيِّ: زَوَّجَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ بَعْضَ بَنِيهِ، فَأَوْلَمَ عَلَيْهِ، فَدَعَا النَّاسَ، قَالَتْ: فَأَتَى عَلِيٌّ قِيلَ: جَاءَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَفُتِحَتْ بَابُ الدَّارِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفِي يَدِهِ دِرَّةٌ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ لَيْسَ لَهُ جُرُبَّانُ.

عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 887

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 888

888 - نا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا مِنْدَلٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: مَا تَقُولُونَ إِنَّ أَعْلَمَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالْفَرَائِضِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.

مَا تَقُولُونَ إِنَّ أَعْلَمَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِالْفَرَائِضِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. ← عَبْدُ اللَّهِ ← سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُطَرِّفٍ ← يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا مِنْدَلٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 888

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 889

889 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَلِيًّا كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ، كَانَ إِذَا كَانَ يَوْمُ هَذِهِ اشْتَرَى لَحْمًا بِنِصْفِ دِرْهَمٍ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ هَذِهِ اشْتَرَى لَحْمًا بِنِصْفِ دِرْهَمٍ.

سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا أَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him · Hadith 889

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him