فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1525
1525 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ قَالَ: فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ، فَقَالَ: «إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ، فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ لِمَنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ، وَإِنَّ ابْنَهُ هَذَا لِمَنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ» .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی قوم کا سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا تو لوگوں نے انکی امارت پر اعتراض کیا تو نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے پس فرمایا : اگر تم ان کی امارت پر طعن کرتے ہوتو یقینا تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت پر بھی تعن کر چکے ہو ۔ اللہ کی قسم ! وہ شخص امارت کا صحیح حقدار تھا یقینا وہ مجھے سب سے زیادہ محبو ب تھا اور اس کا یہ بیتا ( اسامہ ) بھی اس کے بعد مجھے سب سے زیادہ محبو ب ہے ۔(1)
عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him · Hadith 1525
