Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1039

1039 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْآخَرِ مِنْ سَنَةِ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا أَبُو عَاصِمٍ وَهُوَ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ، عَنْ أُمِّ شَرَاحِيلَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَلِيًّا فِي سَرِيَّةٍ، فَرَأَيْتُهُ رَافِعًا يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عَلِيًّا»

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علاس وقت نبی کریم ﷺ کو دیکھا آپ کھجور کے چھوٹے چھوٹے درختوں کی نچلی جانب دیکھ رہے تھے اای رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت لشکر بھیجا اور ہاتھ اٹھا کر ان کے لیے دعا فرمائی۔ اے اللہ! مجھے زندہ رکھنا کہ میں دوبارہ علی کو دیکھ سکوں۔(3)

أُمِّ عَطِيَّةَ ← أُمِّ شَرَاحِيلَ ← جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ ← أَبِي الْجَرَّاحِ، ← ثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا أَبُو عَاصِمٍ وَهُوَ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1039

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1040

1040 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا أَبُو الْوَلِيدِ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرٍو، يَعْنِي: ابْنَ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَمْزَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سب سے پہلے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی ہے۔(4)

«أَوَّلُ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبَا حَمْزَةَ ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ ← إِبْرَاهِيمُ قثنا أَبُو الْوَلِيدِ قثنا شُعْبَةُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1040

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1041

1041 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، قثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ قَالَ: نا حَمَّادٌ، يَعْنِي: ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ وَأَنَا أَهَابُكَ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهُ، قَالَ: فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ يَا ابْنَ أَخِ، إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِي عِلْمًا فَسَلْنِي عَنْهُ وَلَا تَهَبْنِي، فَقُلْتُ: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ حِينَ خَلَّفَهُ فِي الْمَدِينَةِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخَلِّفُنِي فِي الْخَالِفَةِ فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ قَالَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى» ؟ قَالَ: بَلَى، فَرَجَعَ مُسْرِعًا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارِ قَدَمَيْهِ يَسْطَعُ.

سعید بن مسعیب ؒ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر میں آپ سے ایک حدیث کے بارے میں سوال کروں پھر اس کے بدلے جو آپ مانگیں گے میں آپ ﷺ کو دوں گا اور انہوں نے: میرے بھتیجے ! ایسا مت کرو، اگر حدیث میرے علم میں ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے سوال کرنا چاہتے ہو تو میں تم سے (اس کے بدلے) کچھ نہیں لوں گا تو پھر میں نے ان سے کہا: جب غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ پیچھے رہے تھے تو اس وقت نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا فرمایا تھا؟ (تو انہوں نے کہا: اس وقت جب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے رہ جانے والوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو (سیدنا ) ہارون ؑ کو سیدنا موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی تو پھر انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ! تو وہ قدر خوشی خوشی واپس پلٹے کہ جیسے میں انکے قدموں کی اُڑتے غبار دیکھ رہا ہوں۔(1)

قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِكٍ إِنِّي أُرِيدُ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ← إِبْرَاهِيمُ، قثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1041

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1042

1042 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا حَجَّاجٌ قثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ وَهُوَ ابْنُ عَازِبٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى كُنَّا بِغَدِيرِ خُمٍّ، فَنُودِيَ فِينَا: إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، وَكُسِحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَتَيْنِ، فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «هَذَا مَوْلَى مَنْ أَنَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ، فَلَقِيَهُ عُمَرُ فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.

سیدنا ابراءبن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع سے واپس آرہے تھے کہ غدیر خم کے مقام پر ہم نے پڑاؤ ڈالا ہم میں سے ایک آدمی نے نماز کا اعلان کیا۔ نبی کریم ﷺ کے لیے دو درختوں کے نیچے جگہ صاف کی گئی تھی۔ آپ ﷺ نے نماز ظہر پڑھائی تع پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما اور فرمایا: کیا میں مومنیں کے لیے ان کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہوں؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں! آپﷺ نے فرمایا:جس کا میں دوست ہوں، علی اس کا دوست ہے، اے اللہ ! علی کے دوست کو تُو بھی اپنا دوست بنا اور علی کے دشمن کو تُو بھی اپنا دشمن بنا۔ اس کے بعد جب بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرتے تو کہتے: ابن ابی طالب: تمہیں مبارک ہو تم صبح اور شام اس حال میں کرتے ہو کہ ہرمومن اور مومنہ تمہارا دوست ہوتا ہے۔(2)

أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَتَّى كُنَّا بِغَدِيرِ خُمٍّ، فَنُودِيَ فِينَا: ← البراء -وهو ابن عازب- ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1042

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1043

1043 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، عَنِ الْكَلْبِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَلَسْتُ أَبْسَطَ مِنْكَ لِسَانًا، وَأَحَدَّ مِنْكَ سِنَانًا، وَأَمْلَأَ مِنْكَ حَشْوًا؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا لَا يَسْتَوُونَ} [السجدة: 18] .

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ولید بن عقبہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ سے زیادہ تیز زبان، زیادہ تیز دانتوں اور طاقت والا ہوں۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: (افمن کان مومنا کمن کان فاسقالا یستون) ترجمہ: بھلا کہیں یہ ہوسکتا ہے کہ جومومن ہو وہ اُس شخص کی طرح ہوجائے جو فاسق ہو؟ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ (سورۃ السجدۃ: 18)۔(3)

ابن عباس أن الوليد بن عقبة ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1043

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1044

1044 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ قثنا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأَدْفَعَنَّ اللِّوَاءَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ» ، فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ يَا عَلِيُّ» ، فَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ قَالَ: «اذْهَبْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يَفْتَحَ اللَّهُ عَلَيْكَ» ، فَقَالَ عَلِيٌّ: عَلَامَ أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ»

سیدنا ابو ہرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خیبر کے دن فرمایا : کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے ، اللہ اسکے ہاتھ پر فتح دے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتےہیں میں نے اس دن کے علاوہ کبھی امارت کی تمنا نہیں کی ، میں نے اس دن امید لگا رکھی تھی مگررسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کھڑے ہو جاؤ! اے علی! اس جھنڈے کو اٹھاؤ ، جاؤ لڑو، ادھر ادھر التفات نہ کرنا یہاں تک کہ اللہ تمہیں فتح عطا فرمائے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یار سول اللہ ﷺ میں کس بنیاد پر جنگ کروں گا ؟ تو فرمایا : اس وقت تک جنگ کرنا جب تک کہ وہ گواہی دے دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور بلاشبہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ۔ (1)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← إِبْرَاهِيمُ قثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ قثنا حَمَّادٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1044

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1045

1045 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قَالَ: نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى» . قَالَ سُفْيَانُ: أُرَاهُ قَالَ: غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي.

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے جو (سیدنا) ہارونؑ کو (سیدنا) موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی۔ امام سفیانؑ فرماتے ہیں: میرے خیال میں (نبی کریمﷺنے) یہ بھی فرمایا: مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔(2)

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1045

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1046

1046 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ الشُّعَيْثِيُّ قثنا ابْنُ عَوْنٍ قثنا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ لِي: لَا أُنَبِّئُكَ إِلَّا مَا أَنْبَأَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: «فِيهِمْ مُودَنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، أَوْ مُخْدَجُ الْيَدِ، لَوْلَا أَنْ تَبْطَرُوا لَأَنْبَأْتُكُمْ مَا وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» ، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، يَعْنِي ثَلَاثًا

محمد بن سیرین ؑ سےروایت ہے کہ ابو عبیدہؑ نےمجھے کہا: میں تمہیں وہ کچھ بتاؤں گا جو کچھ مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ ان(خارجیوں) میں ایک ناقص ہاتھ والا ہوگا، اگر تم میری بات کو رد نہیں کرو گےتو بتادیتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کی زبان سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے جو ان سے جنگ کریں گے، راوی ابو عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا آپ نے یہ رسول اللہﷺ سے بذات خود سنا ہے؟ انہوں نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: ہاں! رب کعبہ کی قسم، رب کعبہ کی قسم (تین مرتبہ یہ قسم کھائی) (3)

عُبَيْدَةُ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1046

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1047

1047 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قثنا أَبُو مَسْعُودٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ قثنا عِيسَى، ذَكَرَهُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَسَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «تُؤْتَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِنَاقَةٍ مِنْ نُوقِ الْجَنَّةِ، فَتَرْكَبُهَا وَرُكْبَتُكَ مَعَ رُكْبَتِي، وَفَخِذُكَ مَعَ فَخِذِي، حَتَّى تَدْخُلَ الْجَنَّةَ» .

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: قیامت کے دن جنت سے ایک اونٹ لایا جائے گا جس پر میں اور تم سوار ہوگے، تیرا گھٹنہ میرے گھٹنے کے ساتھ ہوگا، تیری ران میری ران کے ساتھ ہوگی یہاں تک کہ ہم جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (1)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← رَجُلٌ: ← يذكره ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1047

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1048

1048 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ يَقُولُ، وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جِنَازَةً، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: أَبَا عَامِرٍ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لِعَلِيٍّ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ أَبُو لَيْلَى: فَقُلْتُ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَدْ قَالَهَا لَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ "

ابو لیلیٰ کندی ؒ سے روایت ہے کہ میں نے سنا سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے۔ ہم اس وقت ایک جنازے کا انتظار کررہے تھے کہ ایک آدمی نے ان سے سوال کیا تو ابو عامر نے کہا: کیا آپﷺ نے سنا ہےکہ آپﷺ ٖغدیر والے دن سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے لیے فرما رہے تھے: جس کا میں دوست ہوں تو علی بھی اس کا دوست ہے تو انہوں نے (سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ) نے کہا جی ہاں! ابو لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: یہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں میں نے چار مرتبہ ان سے یہی سوال کیا: تو انہوں نے کہا : ہاں!۔ (2)

نَعَمْ ← نَعَمْ، قَدْ قَالَهَا لَهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ؟ ← أَبُو لَيْلَى: فَقُلْتُ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ ← نَعَمْ ← يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ لِعَلِيٍّ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ← أَبَا عَامِرٍ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ← وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جِنَازَةً، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ أَنَّهُ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قثنا أَبِي،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1048

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1049

1049 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّهْشَلِيُّ قثنا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ قثنا أَبُو الْجَارُودِ الرَّحَبِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ بَدْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَسْتَقِي لَنَا مِنَ الْمَاءِ؟» فَأَحْجَمَ النَّاسُ، فَقَامَ عَلِيٌّ فَاحْتَضَنَ قِرْبَةً ثُمَّ أَتَى بِئْرًا بَعِيدَةَ الْقَعْرِ مُظْلِمَةً فَانْحَدَرَ فِيهَا، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ: تَأَهَّبُوا لِنَصْرِ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحِزْبِهِ، فَهَبَطُوا مِنَ السَّمَاءِ لَهُمْ لَغَطٌ يُذْعِرُ مَنْ سَمِعَهُ، فَلَمَّا حَاذَوَا الْبِئْرَ سَلَّمُوا عَلَيْهِ مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ إِكْرَامًا وَتَجْلِيلًا.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہ رسول اللہﷺنے بدر کے موقع پر اعلان کیا: آج کو ہمارے لیے پانی لائے گا؟ لوگ کچھ جھجک گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنا مشکیزہ اُٹھا کر کنویں پر گئے جو اندھیری گہرائی والا تھا، اس میں اُتر گئے تو اللہ نے سیدنا جبرایئل ، میکائیل اور اسرافیل سے کہا جاؤ! سیدنا محمد ﷺ کے ساتھیوں کی مدد کرو وہ آسمان سے ہر چیز کو ڈراتے ہوئے کنویں تک آئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے عزت وجلال کی وجہ سے سب نے سلام کیا۔ (3)

لَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ بَدْرٍ ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النَّهْشَلِيُّ قثنا سَعْدُ بْنُ الصَّلْتِ قثنا أَبُو الْجَارُودِ الرَّحَبِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1049

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1050

1050 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمَخْزُومِيُّ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عُمَرَ الْأَقْطَعُ قثنا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ عَلِيًّا أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ لَيْلَةً، فَقَالَ لَهُمْ: «أَلَا تُصَلُّونَ؟» فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَنْفُسَنَا بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِنْ شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، فَانْصَرَفَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِ شَيْئًا وَهُوَ يَقُولُ: {وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54] .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت ان کے گھر تشریف لائے اور کہا: کیا تم تہجد نہیں پڑھتے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ ہماری اللہ کے ہاتھ میں ہے جب چاہے وہ ہمیں اُٹھائے گا۔ یہ سن کر آپﷺ یہ تلات کرتے ہوئے واپس تشریف لے گئے اور کچھ بھی نہیں کہا، ( کان الا نسان اکثر شی ء جدلا) ترجمعہ : انسان ہر چیز میں جھگڑتا ہے (سورۃ کہف:54) (1)

الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، أَنَّ عَلِيًّا ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إسحاق بن راشد

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1050

Daif

chevron_left Previous
1234…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him