فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 301
301 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ، عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ يَضْحَكُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ» ، قَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَحَقَّ أَنَّ يَهَبْنَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ، أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَ: نَعَمْ، أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ» . قَالَ يَعْقُوبُ: مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ، يَعْنِي أَبَاهُ، يَقُولُ: نا صَالِحٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ. [ص:245]
سیدنا سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اس وقت آپ ﷺ کے پاس قریش کی چند عورتیں بیٹھی بلند آواز سے باتیں کر رہی تھیں۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو وہ اُٹھ کر دوڑیں اور پردہ میں ہو گئیں ۔ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دی ، رسول اللہ ﷺ مسکرارہے تھے ،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہنستارکھے (تبسم کا کیا سبب ہے؟) نبی کریم ﷺ نےفرمایا : مجھے ان عورتوں سے بڑا تعجب ہوا جو میرے پاس بیٹھی تھیں جب انہوں نے تیری آوازی سنی تو و ہ جلدی سے پردہ میں چلی گئیں سیدنا عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ آپ ﷺ سے ڈریں ،نیز عورتوں سے فرمایا : اپنی جان کی دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے نہیں ڈر تیں ؟ ان عورتوں نے کہا : ہاں (کیونکہ ) آپ رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ سخت ہیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس راستہ سے بھی تجھے شیطان ملتا ہے وہ بھی تجھ سے ڈر کر اپنے راستہ بدل لیتا ہے ۔ امام یعقوب فرماتے ہیں کہ میں نے شمار نہیں کیا کہ اس روایت کو اپنے باپ سے کتنی بار سنا ہے ۔(1)
عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 301
