Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 301

301 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُكَلِّمْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ، عَالِيَةً أَصْوَاتُهُنَّ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ قُمْنَ يَبْتَدِرْنَ الْحِجَابَ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ يَضْحَكُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: «عَجِبْتُ مِنْ هَؤُلَاءِ اللَّاتِي كُنَّ عِنْدِي، فَلَمَّا سَمِعْنَ صَوْتَكَ ابْتَدَرْنَ الْحِجَابَ» ، قَالَ عُمَرُ: فَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ أَحَقَّ أَنَّ يَهَبْنَ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ، أَتَهَبْنَنِي وَلَا تَهَبْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْنَ: نَعَمْ، أَنْتَ أَغْلَظُ وَأَفَظُّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ قَطُّ سَالِكًا فَجًّا إِلَّا سَلَكَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ» . قَالَ يَعْقُوبُ: مَا أُحْصِي مَا سَمِعْتُهُ، يَعْنِي أَبَاهُ، يَقُولُ: نا صَالِحٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ. [ص:245]

سیدنا سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی اس وقت آپ ﷺ کے پاس قریش کی چند عورتیں بیٹھی بلند آواز سے باتیں کر رہی تھیں۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو وہ اُٹھ کر دوڑیں اور پردہ میں ہو گئیں ۔ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت دی ، رسول اللہ ﷺ مسکرارہے تھے ،سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہنستارکھے (تبسم کا کیا سبب ہے؟) نبی کریم ﷺ نےفرمایا : مجھے ان عورتوں سے بڑا تعجب ہوا جو میرے پاس بیٹھی تھیں جب انہوں نے تیری آوازی سنی تو و ہ جلدی سے پردہ میں چلی گئیں سیدنا عمر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ آپ ﷺ سے ڈریں ،نیز عورتوں سے فرمایا : اپنی جان کی دشمنو! کیا تم مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللہ ﷺ سے نہیں ڈر تیں ؟ ان عورتوں نے کہا : ہاں (کیونکہ ) آپ رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ سخت ہیں ۔ رسول اللہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس راستہ سے بھی تجھے شیطان ملتا ہے وہ بھی تجھ سے ڈر کر اپنے راستہ بدل لیتا ہے ۔ امام یعقوب فرماتے ہیں کہ میں نے شمار نہیں کیا کہ اس روایت کو اپنے باپ سے کتنی بار سنا ہے ۔(1)

عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحٍ، ← يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 301

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 302

302 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ نِسْوَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَسْأَلْنَهُ وَيَسْتَكْثِرْنَهُ مِنْهُ رَافِعَاتٍ أَصْوَاتَهُنَّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ.

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ ﷺ کے پاس قریش کی چند عورتی تھیں جو سوال کر رہی تھیں اور اونچی آواز میں بول رہی تھیں پھر آگے سابقہ روایت کی مثل الفاظ ہیں ۔ (1)

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 302

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 303

303 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَتْ: وَهَى. . . يَوْمَ مَاتَ عُمَرُ. [ص:246]

سیدہ ا م ایمن رضی اللہ عنہا سے روایت کہ پھر (بعد میں ) اسی دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ۔(2)

وَهَى. يَوْمَ مَاتَ عُمَرُ. [ص:246] ← أُمِّ أَيْمَنَ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 303

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 304

304 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ إِمْلَاءً قثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: أَبْطَأَ عَلَيْهِ خَبَرُ عُمَرَ، فَكَلَّمَ امْرَأَةً فِي بَطْنِهَا شَيْطَانٌ، فَقَالَتْ: حَتَّى يَجِيءَ شَيْطَانِي فَأَسْأَلُهُ، قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ مُتَّزِرًا بِكِسَاءٍ يَهْنَأُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ، وَقَالَ: لَا يَرَاهُ الشَّيْطَانُ إِلَّا خَرَّ لِمِنْخَرَيْهِ، لَلْمَلَكُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَرُوحُ الْقُدُسِ يَنْطِقُ عَلَى لِسَانِهِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَا بِهِ شُجَاعٌ مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً قَالَ: عَنْ أَبِي مُوسَى، وَمَرَّةً قَالَ: أَبْطَأَ عَلَى أَبِي مُوسَى خَبَرُ عُمَرَ.

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ا ن کے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خبر آنے میں دیر ہوئی تو انہوں نے ایک عورت سے پوچھا جس کے اندر میں شیطان (جن ) بولتا تھا ، عورت نے کہا : صبر کریں یہاں تک کہ میرا شیطان آجائے میں اس سے پوچھ کر بتاؤں گی ، پھر اس عورت نے کہا : میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کے اونٹوں کے باڑے میں تہبند پہنے ہوئے دیکھا ہے مگر جب شیطان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہے تو وہ گر پڑتا ہے ، ایک فرشتہ انکی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور روح القدس (سیدنا جبرائیل علیہ السلام ) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے بات کرتے ہیں۔(3)

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ إِمْلَاءً قثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 304

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 305

305 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي شُجَاعٌ قثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: 4] قَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.

امام امجاہد رحمت اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فرمان ( وصالح المومنین) سے مراد سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ (4)

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← مُجَاهِدٍ: {وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ} [التحريم: ← عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ مُجَاهِدٍ، ← شُجَاعٌ قثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 305

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 306

306 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ قثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، يَعْنِي: ابْنَ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ شَقِيقٍ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا رَأَيْتُ عُمَرَ قَطُّ إِلَّا وَأَنَا يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَلَكًا يُسَدِّدُهُ.

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں جب بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ آ پ رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھوں کے سامنے ایک فرشتہ ہے جو انکو تلقین کرتا ہے ۔ (5)

شَقِيقٍ أَبِي وَائِلٍ، ← أَبِيهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 306

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 307

307 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقُرَشِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ الْعَبْدِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَقَدْ أَحْبَبْتُ عُمَرَ حُبًّا حَتَّى لَقَدْ خِفْتُ اللَّهَ، لَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّ كَلْبًا يُحِبُّهُ عُمَرُ لَأَحْبَبْتُهُ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ خَادِمًا لِعُمَرَ حَتَّى أَمُوتَ، وَلَقَدْ وَجَدَ فَقْدَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْعِضَاهُ، إِنَّ إِسْلَامَهُ كَانَ فَتْحًا، وَإِنَّ هِجْرَتَهُ كَانَتْ نَصْرًا، وَإِنَّ سُلْطَانَهُ كَانَ رَحْمَةً.

سیدنا عبداللہ بن مسعود نے فرمایا: مجھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اتنی زیادہ محبت ہو گئی ، مجھے ڈر ہے اگر مجھے اس بات کا علم ہو جائے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کسی کتے کو پسند کرتے ہیں تو میں بھی اس کو پسند کرتا ، میری خواہش ہے کہ میں مرتے دم تک سیدنا عمر کا خادم رہوں ،یقینا سیدنا عمر کی کمی سب کو محسوس ہو رہی ہے حتی کہ کانٹے دار درخت کو بھی انکا مسلمان ہونا فتح تھی ان کی ہجرت مدد تھی اور انکی حکومت رحمت تھی ۔ (1)

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← رقبة بن مصقلة العبدي ← عَبْدُ الرَّحْمٰنِ الْمُحَارِبِیُّ ← عبد الله بن عمر القرشي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 307

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 308

308 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ قثنا النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ قَالَ الْمُشْرِكُونَ: قَدِ انْتَصَفَ الْقَوْمُ مِنَّا.

سیدنا عبداللہ بن عباس نے فرمایا: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایمان لائے تو مشرکین نے کہا : یقینا ہماری قوم دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے ۔ (2)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 308

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 309

309 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ بُكَيْرٍ التَّمِيمِيُّ قثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: مَنْ فَضَّلَ عَلِيًّا عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَدْ أَزْرَى عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَلَا أَدْرِي هَلْ يَعْطَبُ أَمْ لَا؟

امام ابراہیم نجعی فرماتے ہیں : جس شخص نے سیدنا علی کو سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر پر فضیلت دی ۔یقینا اس نے تمام مہاجرین اور انصار صحابہ کرام پر عیب لگایا اور اب میں نہیں جانتا کہ وہ آدمی ہلاک ہو گا یا نہیں (3)

مَنْ فَضَّلَ عَلِيًّا عَلَى أَبِي بَكْرٍ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 309

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 310

310 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ قثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَى الْمِنْبَرِ: مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ.

امام شعبی سے روایت ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ نے بر سر منبر فرمایا ہم سمجھتے تھے وقار اور اطمینان سیدنا عمر کی زبان سے جاری ہوتا ہے ۔ (4)

عَلِيٌّ عَلَى الْمِنْبَرِ: مَا كُنَّا نُبْعِدُ أَنَّ السَّكِينَةَ تَنْطِقُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ. ← الشَّعْبِيِّ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ قثنا سُفْيَانُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 310

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 311

311 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو كُرَيْبٍ الْهَمْدَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ قثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ، أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» ، فَأَصْبَحَ عُمَرُ فَغَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ يَوْمَئِذٍ.

سیدنا عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو عزت عطا فرما ، اس دعاکے دوسرے ہی دن سیدنا عمر بن خطب رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے ۔(5)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 311

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 312

312 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قثنا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» ، قَالَ: فَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے اپنے پسندیدہ بندے کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما! نیز فرمایا: الغرض ان دونوں میں سے عمر بن خطاب اللہ کو زیادہ پسند تھے ۔ (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 312

Hassan

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him