Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1728

1728 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شِمَاسَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُؤَلِّفُ الْقُرْآنَ مِنَ الرِّقَاعِ إِذْ قَالَ: «طُوبَى لِلشَّامِ» قِيلَ: وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنَّ مَلَائِكَةَ الرَّحْمَنِ بَاسِطَةٌ أَجْنِحَتَهَا عَلَيْهَا» .

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قرآن کو مختلف ٹکڑوں سے جمع کر رہے تھے آپ ﷺ نے فرمایا : اہل شام کے لیے خوشخبری ہے ، کسی نے پوچھا : کیوں ! یا رسول اللہ ﷺ ؟ فرمایا یقینا رحمن کے فرشتوں نے شام پر اپنے پرپھیلا رکھے ہیں ۔ (4)

يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of a people of the Levant · Hadith 1728

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1729

1729 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ فَلَمَقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً» .

نسیر بن ذعلوق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے نبی کریم ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہ کو برا مت کہو کیونکہ انکا حضور ﷺ کی رفاقت میں گزرا ہوا ایک لمحہ تمہاری زندگی بھر کے تمام اعمال سے بہتر ہے ۔ (1)

ابْنِ عُمَرَ ← نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1729

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1730

1730 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَمَّنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أَصْحَابِي فِي النَّاسِ كَمَثَلِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ» ، ثُمَّ يَقُولُ الْحَسَنُ: هَيْهَاتَ ذَهَبَ مِلْحُ الْقَوْمِ

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کرام لوگوں میں ایسے ہیں جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے پھر امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : اس قوم کا کیا حال ہو گا جس کا نمک ہی چلا گیا ۔ (2)

الْحَسَنِ، ← معمر عمن ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1730

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1731

1731 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا فَقَالَ: «يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ، مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي أَنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ، فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟» قَالَ: مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ، فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «بِهَذَا» .

سیدنا ابو بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ سیدنا بلال کو پاس بلایا اور دریافت کیا : بلال ! تم کس طرح مجھ سے جنت میں سبقت لے گئے ۔ ( یعنی تم کونسا عمل کرتے ہو ) کہ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو تمہارے قدموں کی آہت اپنے آگے سنی ؟ میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا ہی تھا تو پھر بھی تمہارے قدموں کی آہٹ اپنے آگے سنی تم کیسے مجھ جنت میں سبقت لے گئے ؟سیدنا بلال رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے : یا رسول اللہ ﷺ جب بھی میں بے وضو ہوتا ہوں تو وضو کر کے دور کعت ضرور پڑھتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ عظمت اسی وجہ سے ہے۔(3)   نوٹ : یہ قصہ نبی کریم ﷺ کے خواب کا ہے جیسا کہ دوسری روایات یں اس کی صراحت منقول ہے اسے معراج کا واقعہ سمجھنا جہالت ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ بِهَذَا ← مَا أَحْدَثْتُ إِلَّا تَوَضَّأْتُ، فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ ← خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟» ← خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ ← يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا ← أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ فَدَعَا بِلَالًا ← أَبي بُرَيْدَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1731

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 1

1 - قثنا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ: قثنا عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ الْحَذَّاءُ التَّمِيمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ»

سید نا عبداللہ بن مغٖفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کرام کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور میرے بعد انکو اپنی گفتگو کا نشانہ مت بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میری وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انکو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی جس نے اللہ کو تکلیف پہچائی عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی گرفت فرمائے گا۔(1)

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ أَوْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 1

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 2

2 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْخَزَّازِ، وَكَانَ مِنَ الثِّقَاتِ، قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي، فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ يُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ» . [ص:49]

سید نا عبداللہ بن مغٖفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کرام کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور میرے بعد انکو اپنی گفتگو کا نشانہ مت بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میری وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انکو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی جس نے اللہ کو تکلیف پہچائی عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی گرفت فرمائے گا۔(2)

عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، ← كَانَ مِنَ الثِّقَاتِ، قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْخَزَّازِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 2

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 3

3 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يُونُسُ قثنا إِبْرَاهِيمُ، يَعْنِي: ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَصْحَابِي لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي» ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ نَحْوَهُ.

سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد صحابہ کو اپنی گفتگو کا نشانہ مت بنانا ۔پھر راوی نے سابقہ کی مثل باقی حدیث کو بیان کیا۔(3)

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، ← أَبِي، قثنا يُونُسُ قثنا إِبْرَاهِيمُ، يَعْنِي: ابْنَ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 3

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 4

4 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ زَحْمَوَيْهِ، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوا أَصْحَابِي غَرَضًا، مَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ» .

سید نا عبداللہ بن مغٖفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کرام کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور میرے بعد انکو اپنی گفتگو کا نشانہ مت بنانا کیونکہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے میری وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انکو تکلیف پہنچائی اس نے مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی اس نے اللہ کو تکلیف پہنچائی جس نے اللہ کو تکلیف پہچائی عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی گرفت فرمائے گا۔(1)

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيُّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صَبِيحٍ زَحْمَوَيْهِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 4

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 5

5 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ» .

سید نا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کرام کو برا مت کہو اس ذات کی قس ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے پس اگر تم میں کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو بھی وہ ان میں سے کسی ایک کے مدبرابریا اسکے آدھے (دانے خرچ کرنے) کے بھی برابر نہیں پہنچ سکتا ۔(2)

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 5

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 6

6 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ، وَلَا نَصِيفَهُ» .

سید نا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کرام کو برا مت کہو اس ذات کی قس ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے پس اگر تم میں کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو بھی وہ ان میں سے کسی ایک کے مدبرابریا اسکے آدھے (دانے خرچ کرنے) کے بھی برابر نہیں پہنچ سکتا ۔(3)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 6

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 7

7 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو النَّضْرِ، قَالَا: نا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سابق کی مثل روایت بیان کی ہے ۔(4)

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَأَبُو النَّضْرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 7

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 8

8 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ قثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الصُّدَائِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو شَيْبَةَ الْجَوْهَرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَّا نُسَبُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَبَّ أَصْحَابِي فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا» .

سید نا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں برا بھلا کہا جاتا ہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا ،پس اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اور قیامت کے روز اللہ ان کے کسی حیل و حجت کو قبول نہیں کرے گا۔(1)

أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو شَيْبَةَ الْجَوْهَرِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ قثنا عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الصُّدَائِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 8

Daif

chevron_left Previous
1…149150151…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him