Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 316

316 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ نا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: مَرَرْتُ بِعُمَرَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا فَتًى ادْعُ لِي بِخَيْرٍ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَبُو ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَنْتَ أَحَقُّ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: نِعْمَ الْغُلَامُ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ» . [ص:252]

غضیف بن حارث رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرا گزر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا اس وقت ان کے ساتھ صحابہ کرام کا یک گروہ بھی تھا ، ان میں سے ایک آدمی نے میرے پاس آکر کہا : اے نوجوان ! اللہ تجھے برکت دے آپ میرے لیے بھلائی کی دعا کری ۔ میں نے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا: میں ابوذر ہوں۔ میں نے کہا : اللہ آپ کی مغفرت فرمائے آپ زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے لیے دعا کریں ۔انہوں نے فرمایا: جی ہاں !لیکن میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے کہ آپ اچھے لڑکے ہیں اور میں نے نبی کریم ﷺ سے بھی سنا تھا کہ یقینا اللہ نے عمر کی زبان پر حق جاری فرمادیا ہے ۔ (1)

بِهِ» [ص:252] ← إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَی لِسَانِ عُمَرَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← نِعْمَ الْغُلَامُ ← عُمَرَ، ← إِنِّي ← قُلْتُ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَنْتَ أَحَقُّ ← أَبُو ذَرٍّ ← قُلْتُ وَمَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ ← يَا فَتًى ادْعُ لِي بِخَيْرٍ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، ← مَرَرْتُ بِعُمَرَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ ← غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ← أَبِي، قثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 316

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 317

317 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يُونُسُ، يَعْنِي: ابْنَ مُحَمَّدٍ، وَعَفَّانُ، قَالَا نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ بُرْدٍ أَبِي الْعَلَاءِ. قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أنا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّهُ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ، فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ بَعْدَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «ضُرِبَ بِالْحَقِّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» ، وَقَالَ عَفَّانُ فِي الْحَدِيثِ: «عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ» .

سیدنا غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرا گزر عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا انہوں نے (میری طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کہا : غضیف بہت اچھا نوجوان ہے ۔ اس کے بعد مجھے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ملے پھر آگے حدیث کے الفاظ وہی ہیں مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ الل نے عمر کی زبان پر حق جاری فرما دیاہے ۔ (2)

بِهِ ← عَفَّانُ فِي الْحَدِيثِ: «عَلَى لِسَانِ عُمَرَ ← «ضُرِبَ بِالْحَقِّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ» ← نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ ← نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ، فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ بَعْدَ ذَلِكَ، ← غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← بُرْدٌ أَبُو الْعَلاءِ، ← عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ ← بُرْدٍ أَبِي الْعَلاَءِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبِي، قثنا يُونُسُ، يَعْنِي: ابْنَ مُحَمَّدٍ، وَعَفَّانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 317

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 318

318 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ: قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى قَالَ: كَانَ فِي وَجْهِ عُمَرَ خَطَّانِ أَسْوَدَانِ مِنَ الْبُكَاءِ.

امام عبداللہ بن عیسیٰ رحمۃ اللہ نے فرمایا: زیادہ رونے کی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے چہرے پر دو کالی لکیریں پڑگئی تھیں ۔(3)

«كَانَ فِي وَجْهِ عُمَرَ خَطَّانِ أَسْوَدَانِ مِنَ الْبُكَاءِ» ← قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى ← أَبِي، قثنا مُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 318

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 319

319 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ بَكْرٍ، أَوْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنِّي أُعْطِيتُ عُسًّا مَمْلُوءًا مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى تَمَلَّأْتُ، فَرَأَيْتُهُ يَجْرِي فِي عُرُوقِي بَيْنَ لَحْمِي وَجِلْدِي، وَفَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ، فَأَعْطَيْتُهَا ابْنَ الْخَطَّابِ» ، فَأَوَّلُوهَا قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا عِلْمٌ أَعْطَاكَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى امْتَلَأْتَ مِنْهُ، فَضَلَتْ مِنْهُ فَضْلَةٌ، فَأَعْطَيْتَهَا ابْنَ الْخَطَّابِ، قَالَ: «أَصَبْتُمْ» .

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا :نید کی حالت میں مجھے دودھ کا ایک بڑا پیالہ دیا گیا ۔ میں نے اس پیالے سے خوب سیر ہو کر دودھ پیا یہاں تک میں نے دودھ رگوں میں چلتا ہوا محسوس کیا پھر میں نے باقی بچا ہو اسیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا صحابہ کرام نے اس کی تعبیر بیان کی : اللہ کے نبی ﷺ! کیا اس سے مراد علم ہے کہ اس دودھ سے جب آپ سیر ہو گئے تو باقی بچا ہوا آپ نے ابن خطاب کو عطا فرماید اہے؟ آپﷺ نے فرمایا بے شک تم نے درست بتایا ۔(4)

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← بَكْرٍ، أَوْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سَالِمٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ قثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 319

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 320

320 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى جَعَلَ اللَّبَنُ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا أَوَّلْتَهُ؟ قَالَ: «الْعِلْمُ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا میں نے وہ پیا یہاں تک اس کی سیرابی میرے ناخنوں سے نکلنے لگی۔ پھر میں نے بچا ہوا عمر کو دیا ، صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ اسکی کیا تعبیر کرتے ہیں ؟ آپٌ ﷺ نے فرمایا: اسکی تعبیرعلم ہے ۔ (1)

أَتَيْتُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 320

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 321

321 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيتُ فِي النَّوْمِ أَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَقَى فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى رَوَى النَّاسَ وَضَرَبُوا بِعَطَنٍ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے خواب دیکھا میں نے ایک کنویں سے بذریعہ ڈول پانی نکالا پھر ابو بکر آئے انہوں نے پانی نکالا ایک یا دو ڈول لیکن ان میں کمزوری تھی ، اللہ ان کی کمزور ی کو معاف فرمائے پھر عمر نے پانی نکالا وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بہت بڑا ہو گیامیں نے کسی قوی شخص کو نہیں دیکھا جو عمر کی مثل کام کرتا ہو یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کو سیراب کیا اور اونٹوں کے لیے باڑ مقرر کیا (2)

عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 321

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 322

322 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ ثَوْبًا أَبْيَضَ، فَقَالَ: «أَجَدِيدٌ ثَوْبُكَ أَمْ غَسِيلٌ؟» قَالَ: فَلَا أَدْرِي بِمَا رَدَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا، وَيَرْزُقُكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سفید کپڑوں میں ملبوس دیکھا۔ آپ ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا نئے کپڑے ہیں یا دھوئے ہوئے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں میں نہیں جان سکا کہ سیدنا عمر نے کیا جواب دیا آپ ﷺ نے فرمایا: آپ کا لباس اچھا ہو آپ کی زندگی پاکیزہ ہو اور شہادت کی موت نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کی آنکھوں کو دنیا اور آخرت میں ٹھنڈک عطا کرے۔ (3)

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 322

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 323

323 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عُمَرَ ثَوْبًا، فَقَالَ: «أَجَدِيدٌ هُوَ أَمْ غَسِيلٌ؟» قَالَ: غَسِيلٌ، فَقَالَ: «الْبَسْ جَدِيدًا، وَعِشْ حَمِيدًا، وَمُتْ شَهِيدًا» . [ص:256]

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لباس کو دیکھ کر دریافت فرمایا : کیا یہ نیا کپڑا ہے یا دوھویا ہوا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : دھویا ہوا تو آپ ﷺ نے (دعاکرتے ہوئے ) فرمایا : آپ کا لباس اچھا ہو ،زندگی قابل تعریف ہو اور شہادت کی موت نصیب ہو۔(4)

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْبَذَشِيُّ قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 323

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 324

324 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَالِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، «وَزَادَكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ، فَقَالَ عُمَرُ، وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ.

سالم رحمۃ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بھی فرمایا : اللہ تعالیٰ دنیاو آخرت میں تیری آنکھوں کی ٹھنڈک میں اضافہ کرے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواباَ عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ کی بھی ۔(1)

النَّبِيِّ مِثْلَهُ، «وَزَادَكَ اللَّهُ قُرَّةَ عَيْنٍ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» فَقَالَ عُمَرُ، وَإِيَّاكَ ← سَالِمٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ ← نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 324

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 325

325 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ نا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ سَيْفُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الَّذِي شَهِدَ بَدْرًا فِيهِ سَبَائِكُ مِنْ ذَهَبٍ.

سیدنا عبداللہ بن عمرسے روایت ہے کہ میدان بدر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تلوار پگھلے ہوئے سونے کی مثل تھی ۔(2)

كَانَ سَيْفُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الَّذِي شَهِدَ بَدْرًا فِيهِ سَبَائِكُ مِنْ ذَهَبٍ. ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سعيد بن مسلمة بن هشام بن عبد الملك، ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 325

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 326

326 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قثنا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ جَوَارٍ قَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُنَّ عَلَى صَوْتِهِ، فَأَذِنَ لَهُ، وَبَادَرْنَ فَذَهَبْنَ، فَدَخَلَ عُمَرُ وَرَسُولُ اللَّهِ يَضْحَكُ، فَقَالَ: أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ: «عَجِبْتُ لِجَوَارٍ كُنَّ عِنْدِي فَلَمَّا سَمِعْنَ حَسَّكَ بَادَرْنَ فَذَهَبْنَ» ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ: أَيْ عَدُوَّاتِ أَنْفُسِهِنَّ، وَاللَّهِ لَرَسُولُ اللَّهِ كُنْتُنَّ أَحَقَّ أَنْ تَهَبْنَ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ دَعْهُنَّ عَنْكَ يَا عُمَرُ، فَوَاللَّهِ إِنْ لَقِيَكَ الشَّيْطَانُ بِفَجٍّ قَطُّ إِلَّا أَخَذَ فَجًّا غَيْرَ فَجِّكَ» .

سیدنا سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اجازت مانگی اس وقت آپ کے پاس کچھ لڑکیاں تھیں جن کی آوازیں آپ ﷺ کی آواز سےا نوچی تھیں ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اندر آنے کی اجازت ملی تو یہ سن کر وہ تمام پردے میں چلی گئیں۔ جب سیدنا عمر تشریف لائے تو آ پﷺ مسکرا رہے تھے ۔ سیدنا عمر فاروق نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ اللہ آپ کو ہنستار کھے آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں ( اس قدر تبسم کا کیا سبب ہے ) آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ان لڑکویں سے تعجب ہے جو میر پاس جمع تھیں ۔آپ کا سن کر وہ پردہ مین چلی گیئں ۔ سیدنا عمر نے ان لڑکیوں کو فرمایا : اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے زیادہ ڈرنے کا حق تو آپ ﷺ کا ہے ! آپ ﷺ نے فرمایا : اے عمر ! انکو چھوڑ دو ۔اللہ کی قسم ! یقینا شیطان آپ کو دیکھ کر اپنا راستہ بدل دیتا ہے۔ (3)

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قثنا ابْنُ شِهَابٍ، ← أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 326

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 327

327 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: أنا عَبْدُ اللَّهِ، يَعْنِي: ابْنَ الْمُبَارَكِ قَالَ: أنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى سَرِيرِهِ فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ وَيُصَلُّونَ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ، وَأَنَا فِيهِمْ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَجُلٌ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ فَقَالَ: مَا خَلَّفْتُ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ أُكْثِرُ أَنْ أَسْمَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ» ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ لَيَجْعَلَنَّكَ اللَّهُ مَعَهُمَا.

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ س روایت ہے کہ جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بغرض تکفین و تجہیز چار پائی پر رھا گیا تو لوگوں نے ان کے لیے دعائے خیر کی اور انکی نماز جنارہ ادا کی ، ابھی جنازہ اٹھایا نہیں گیا تھا ،میں وہاں ہی تھا اسی حالت میں ایک شخص نے میر ے پیچھے سے اپنی کہنی میرے کندھے پر رکھی ۔جب میں نے دیکھا تو وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے بھی دعائے خیر کی اور (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )فرمایا : بے شک آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد کسی شخص کو بھی چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل لے کر میں اپنے رب سے لاقات کروںاور اللہ کی قسم ! مجھے اُمید ہے اللہ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں (نبی کریم ﷺ اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) سے ملائے گا ، اس لیے کہ میں رسول اللہ ﷺ سے اکثر سنا کرتا تھا آپ فرماتے تھے : میں ابو بکر اور عمر گئے ۔ میں ، ابو بکر اور عمر داخل ہوئے ، میں ، ابو بکر اور عمر نکلے (یعنی نبی کریم ﷺ اپنے اہم کام می اپنا رفیق سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر کو بناتے ) اس لیے میرا یہ گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان دونوں کے ساتھ ملائے گا۔ (1)

ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 327

Sahih

chevron_left Previous
1…121314…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him