Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 220

220 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا صَالِحُ بْنُ مَالِكٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ قثنا زِيَادُ بْنُ عِلَاقَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَرْفَجَةَ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ: «وُزِنَ أَصْحَابُنَا اللَّيْلَةَ، وُزِنَ أَبُو بَكْرٍ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُمَرُ فَوَزَنَ، ثُمَّ وُزِنَ عُثْمَانُ فَخَفَّ، وَهُوَ صَالِحٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» .

عرفجہ اشجعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : رات کو میرے صحابہ کا وزن کیا گیا ۔ ابو بکر کا وزن کیا گیا پس وہ بھاری بھر کم تھے ، پھر عمر فاروق کا وزن ہوا وہ بھی وزنی تھے اور ان کے بعد عثمان کا وزن ہوا پس وہ قدر خفیف تھے حالانکہ وہ نیک شخص ہے، اللہ ان سے راضی ہوا ہے ۔(1)

عرفجة الأشجعي ← قُطْبَةَ بْنِ مَالِکٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 220

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 221

221 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِهِ، وَعُمَرُ عَنْ يَسَارِهِ، وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ: «هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» .

سیدنا عبدا للہ بن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ مسجد میں داخل ہو ئے اور دائیں جانب سیدنا ابوبکر صدیق اور بائیں جانب سیدنا عمر ہیں اس وقت آپ ان دونوں کا سہارا لیے ہوئے تھے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا یوں ہی ہم قیامت کے دن اٹھیں گے۔ (2)

يَسَارِهِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهِمَا فَقَالَ: «هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ← يَمِينِهِ وَعُمَرُ ← دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ وَأَبُو بَكْرٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 221

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 222

222 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو مَعْمَرٍ قثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ.

سید نا سہل بن سعدسے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر اپنی نمازمیں التفات نہیں کرتے تھے ۔(3)

كَانَ أَبُو بَكْرٍ «لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ» ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو مَعْمَرٍ قثنا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 222

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 223

223 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ، نا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ فَقَالَ: مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: كَمَنْزِلَتِهِمَا مِنْهُ السَّاعَةَ.

سیدنا ابو حازم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے علی بن حسین سے پوچھا کہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر فاروق کا رسول اللہ کے نزدیک کیا مقام تھا ؟ انہوں نے فرمایا جس طرح آپ کے نزدیک ان کا آج مقام ہے (یعنی ان کو وفات کے بعد بھی نبی کریم ﷺ کی رفاقت کا شرف نصیب ہوا ہے )۔(4)

كَمَنْزِلَتِهِمَا مِنْهُ السَّاعَةَ. ← مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 223

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 224

224 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: نا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فِي رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَأَيْتُ النَّاسَ اجْتَمَعُوا، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَأَرْوَى فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسَ بِعَطَنٍ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر کے متعلق خواب آیا کہ انہوں نے لوگوں کا ایک جگہ اجتماع دیکھا۔ سیدنا ابو بکر کھڑے ہوئے ایک یا دو ڈول پانی نکالا جب کہ ان نکالنے میں کمزوری ہے اللہ تعالیٰ انکی مغفرت فرمائے پھر سیدنا عمر کھڑے ہوئے وہ ڈول سیدنا عمر کے ساتھ میں بہت بڑا ہو گیا ۔ تو میں نے کسی بھی باکمال شخص کو ان کی مثل کام کرتے نہیں دیکھا، یہاں تک لوگوں نے اپنے اونٹوں کو بھی سیراب کر لیا ۔(1)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فِي رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ فِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ قثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 224

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 225

225 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي رَيَاحُ بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ الْأَكْبَرِ، وَعِنْدَهُ أَهْلُ الْكُوفَةِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يُدْعَى سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، فَحَيَّاهُ الْمُغِيرَةُ وَأَجْلَسَهُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَاسْتَقْبَلَ الْمُغِيرَةَ فَسَبَّ وَسَبَّ، فَقَالَ: مَنْ يَسُبُّ هَذَا يَا مُغِيرُ بْنُ شُعْبَ؟ ثَلَاثًا، أَلَا أَسْمَعُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبُّونَ عِنْدَكَ وَلَا تُنْكِرُ وَلَا تُغَيِّرُ. وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي لَمْ أَكُنْ أَرْوِي عَلَيْهِ كَذِبًا يَسْأَلُنِي عَنْهُ إِذَا لَقِيتُهُ، أَنَّهُ قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدُ بْنُ مَالِكٍ فِي الْجَنَّةِ» ، وَتَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ شِئْتُ أَنْ أُسَمِّيَهُ سَمَّيْتُهُ، فَرَجَّ أَهْلُ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُونَهُ: يَا صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ، مَنِ التَّاسِعُ؟ قَالَ: أَنَا تَاسِعُ الْمُؤْمِنِينَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَاشِرُ.

رباح بن حارث سے روایت ہےکہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ کوفہ کی بڑی مسجد میں تھے ۔ اہل کوفہ انکے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے تھے اتنے میں ایک آدمی آیا جن کو سیدنا سعید بن زید کہا جاتا تھا وہ مغیرہ بن شعبہ نے انکوسلام کیا اور اپنے ساتھ چار پائی پر بیٹھایا تو اہل کوفہ سے ایک آدمی آیا وہ سیدنا مغیربن شعبہ کے سامنے آکر بُرا بھلا کہنے لگا تو سعید بن زید نےکہا اے مغیرہ بن شعبہ ! یہ کس کو برا بھلا کہہ رہا ہے ؟ تین مرتبہ یہ کہا پھر کہا یہ میں کیا سن رہا ہوں کہ آپ کی موجودگی میں اصحاب محمد ﷺ کو سب و شتم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور آپ روکتے نہیں اور آپ پر کوئی اثر بھی نہیں ہو رہا ؟ میں رسول اللہ ﷺ پر گواہی دیتا ہوں جس کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور دل نےیاد کیا یہ کہ میں نبی کریم ﷺ سے کوئی ایسی جھوٹی روایت بیان کر وں کہ جس کے بارے میں مجھ سے روز قیامت سوال کیا جائے گا۔ بلاشبہ آپ نے فرمایا ابو بکر جنت میں ، عمر جنت میں ، علی جنت میں عثمان بن عفان جنت میں ،طلحہ جنت میں ،زبیر جنت میں ، عبد الرحمان بن عوف جنت میں سعدبن مالک جنت میں اور نواں مسلمان بھی جنت میں اگر میں چاہوں تو اس کا نام بھی بتا سکتا ہوں ۔ تو راوی کہتے ہیں کہ اہل مسجد نے اس پر شور کیا اور کہا اے رسول اللہ ﷺ کے صحابی آپ کو اس پر اللہ کی قسم دیتے ہیں کہ نواں کون ہے ؟ نواں مسلمان میں ہوں اور رسول اللہ ﷺ کو شامل کر کے دس پورے ہو جاتے ہیں ۔ (2)

جَدِّي رِيَاحَ بْنَ الْحَارِثِ ← صَدَقَةُ بْنُ الْمُثَنَّى ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 225

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 226

226 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: «ائْتِنِي بِكَتِفٍ أَوْ لَوْحٍ حَتَّى أَكْتُبَ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ» ، فَلَمَّا ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَقُومَ، قَالَ: «أَبَى اللَّهُ وَالْمُؤْمِنُونَ أَنْ يُخْتَلَفَ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ» .

سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ جب رسولﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ ﷺ عبدا لرحمن بن ابوبکر کو فرمایا : کندھے کی ہڈی یا کوئی تختی لے آؤ تاکہ میں ابوبکر کے بارے میں وصیت لکھ دوں جس پر اختلاف نہ ہو جب عبدا لرحمن نے آپ سے اٹھنے کا ارادہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ابو بکر ! اللہ تعالیٰ اور مومنین انکار کریں گے کہ آپ پر کوئی اختلاف کیا جائے (یعنی ابوبکر کے علاوہ کوئی اور خلفیہ ہو)۔(1)

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْقُرَشِيُّ، ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 226

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 227

227 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ادْعُ لِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَكْتُبْ لِأَبِي بَكْرٍ كِتَابًا لَا يُخْتَلَفُ عَلَيْهِ مَا حَيِيتُمْ» ، ثُمَّ قَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَخْتَلِفَ الْمُؤْمِنُونَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ ".

سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ جب رسولﷺ کی بیماری شدت اختیار کر گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا عبدا لرحمن بن ابوبکر کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ابوبکر کے بارے میں وصیت لکھ دوں اور تمہاری زندگی میں کوئی تمہارے ساتھ اختلاف نہیں کرے گا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی پناہ ! کہ ابوبکر کے بارے میں مسلمان اختلاف کریں۔(2)

أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ: ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 227

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 228

228 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ قثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْوَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَائِشَةَ، وَكَانَ امْرَأَ صِدْقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا كَأَنِّي أُتِيتُ بِالْمَقَالِيدِ وَالْمَوَازِينِ، فَأَمَّا الْمَقَالِيدُ فَهِيَ الْمَفَاتِيحُ، وَأَمَّا الْمَوَازِينُ فَهِيَ مَوَازِينُكُمْ هَذِهِ، فَرَأَيْتُ كَأَنِّي وُضِعْتُ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ، وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فِي كِفَّةٍ، فَرَجَحْتُ بِهِمْ، ثُمَّ وُضِعَ أَبُو بَكْرٍ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فَرَجَحَ بِهِمْ، ثُمَّ وُضِعَ عُمَرُ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فَرَجَحَ الْمِيزَانُ بِهِمْ، ثُمَّ وُضِعَ عُثْمَانُ وَوُضِعَتْ أُمَّتِي فَرَجَحَ الْمِيزَانُ، ثُمَّ رُفِعَ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہےکہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ابھی ابھی مجھے چابیاں اور ترازو دیے گئے ،مقالید سے مراد چابیاں ہیں باقی رہا ترازو تو اس سے مراد تمہارے اوزان ہیں میں نے خواب دیکھا ؟ ترازو کے ایک پلڑے میں مجھے اور دوسرے میں میری امت کو رکھا گیا تو میں ان پر بھاری ہو گیا ۔ پھر ابو بکر صدیق اور میری امت کا وزن کیا گیا تو ابو بکر ان سے وزن میں بھاری رہے ۔ پھر عمر کو ایک پلڑے میں اور دوسرے پلڑے میں میری امت کو رکھا گیا تو عمر کا پلڑ ا وزنی ہو گیا ۔پھر عثمان کو ایک پلڑے میں اور دوسرے پلرے میں میری امت کو رکھا گیا تو عثمان کا پلڑا وزنی ثابت ہوا پھر وہ میزان اوپر اٹھا لیا گیا ۔ (3)

خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← أَبُو عَائِشَةَ، وَكَانَ امْرَأَ صِدْقٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَرْوَانَ ← بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ← أَبُو مَعْمَرٍ قثنا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 228

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 229

229 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ أَبُو عُثْمَانَ قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ.

سیدنا سہل بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر اپنی نماز میں التفات نہیں کرتے تھے ۔ (4)

كَانَ أَبُو بَكْرٍ «لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ» ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ أَبُو عُثْمَانَ قثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 229

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 230

230 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ النَّاقِدِ قثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهُ عُودٌ لَا يَتَحَرَّكُ، وَحُدِّثْتُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ كَذَلِكَ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: ذَلِكَ الْخُشُوعُ.

سیدنا مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا عبدا للہ بن زبیر جب نماز پڑھتے تو خشک لکڑی کی طرح حرکت نہ کرتے اور (سیدنا عبدا للہ بن زبیر نے )مجھے بیان کیا کہ سیدنا ابو بکر کا خشوع بھی اسی طرح تھا۔ (1)

وَكَانَ يُقَالُ: ذَلِكَ الْخُشُوعُ. ← أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ كَذَلِكَ، ← كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهُ عُودٌ لَا يَتَحَرَّكُ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← عَمْرُو بْنُ النَّاقِدِ قثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 230

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 231

231 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَهْلُ مَكَّةَ يَقُولُونَ: أَخَذَ ابْنُ جُرَيْجٍ الصَّلَاةَ مِنْ عَطَاءٍ، وَأَخَذَهَا عَطَاءٌ مِنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَخَذَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ، وَأَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَحْسَنَ صَلَاةً مِنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.

امام عبدالرزاق سے روایت ہے کہ اہل مکہ کہا کرتے تھے امام ابن جریح نے عطاء سے اور عطاء نے سیدنا عبداللہ بن زبیر سے نماز سیکھی ہے سیدنا عبد اللہ بن زبیر نے سیدنا ابو بکر سے اور سیدنا ابو بکر صدیق نے نبی کریم ﷺ سے سیکھی ہے ( اور امام عبد الرزاق فرماتے ہیں کہ ) میں نے ابن جریج سے خوبصورت نماز کسی کی نہیں دیکھی ۔(2)

أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 231

Sahih

chevron_left Previous
1…456…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him