فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ بَقِيَّةُ قَوْلِهِ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ» · حديث 184
184 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَخَلَتِ امْرَأَةٌ النَّارَ فِي هِرٍّ أَوْ هِرَّةٍ، رَبَطَتْهُ فَلَا هِيَ أَطْعَمَتْهُ، وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهُ فَيَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، ثُمَّ مَاتَ وَشَهِدَ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَيْسَ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ، وَبَيْنَا رَجُلٌ رَاكِبٌ بَقَرَةً فَالْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ لِهَذَا خُلِقْتُ إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ، وَيَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَيْسَ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ، وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا، فَأَدْرَكَهُ الرَّجُلُ فَنَزَعَهَا مِنْهُ، وَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ فَقَالَ: يَا هَذَا، نَزَعْتَهَا مِنِّي الْيَوْمَ، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي؟ وَيَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَلَيْسَ ثَمَّ أَبُو بَكْرٍ وَلَا عُمَرُ ".
سیدنا ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ابو القاسم (نبی کریم ﷺ کی کنیت )نے فرمایا : ایک عورت صر اس وجہ سے جہنم میں داخل کی گئی کہ اس نے ایک بلے یا بلی کو باندھے رکھا ، اے کچھ کھانے کے لیے دیا اور نہ ہی اسے آزاد کیا ،البتہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھاتی رہی ،بالاخر مر گئی ، اس پر ابو بکر اور عمر گواہ ہیں حالانکہ وہاں سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر موجود نہیں تھے۔اسی طر ح ایک آدمی بیل پر سوار ہو کر اسے ہانگے ہوئے لے جا رہا تھا جب وہ اس پر سوار ہوا تو ا سےمارا توبیل نے اسے کہا بلا شبہ مجھے بار برداری کے لیے تو پیدا نہیں کیا گیابلکہ مجھے تو کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے ۔ لوگوں نے یہ سن کر تعجب کرتے ہوئے کہا : سبحان الللہ !(بڑی عجیب بات ہے ) کیا بیل بھی کلام کرتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقیناََ مین اس پر ایمان رکھتا ہوں ابو بکر اور عمر بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ اس محفل میں وہ دونوں (ابو بکر صدیق اور عمر فاروق ) موجود نہیں تھے پھر مزید اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا :ایک چر واہا اپنی بکریوں میں موجود تھا اسی اثنا میں ایک بھڑیااس ے ریوڑ پر حملہ آور ہوا اور اس نے ان میں سے ایک بکری دبوچ لی۔ چرواہے نے بکری کے حصول کے لیے اس کا تعاقب کیا حتی کہ اس سے اپنی بکری چھڑالی ۔بھیڑیے نے اس کو کہا آج تو تم نے مجھ سے بکری چھین لی ۔درندوں کے دن ان کا محافظ کون ہوگا۔اس دن میرے علاوہ ان کا کوئی چروایا نہیں ہو گا؟ لوگوں نےپھر تعجب کرتے ہوئے کہا سبحان اللہ ! بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یقیناََ مین اس پر ایمان رکھتا ہوں ابو بکر اور عمر بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ اس محفل میں وہ دونوں (ابو بکر صدیق اور عمر فاروق ) موجود نہیں تھے(1)
أَبِيهِ ← أَبِي، قثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ أَبُو سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.” · Hadith 184
