Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 364

364 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أُتِيتُ بِقَدَحٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ» ، قَالُوا: مَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْعِلْمُ» ، قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ: أَبَلَغَكَ مَا كَانَ فِي الْإِنَاءِ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَبَنٌ. قَالَ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ مُقِيمٌ بِمَكَّةَ.

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بیان کیا کہ خواب میں مجھے دودھ کا پیالہ دیا گیا میں نے اس سے پیا اور اس قدر سیراب ہوا یہاں تک کہ میرے ناخنوں سے دود بہتا ہوا محسوس ہونے لگا پھر میں نے بچا ہو دودھ عمر کو دیا ۔ صحابہ کرام نے اسکی تعبیر پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا علم میں نے امام زہری ؑ سے پوچھا آپ کی معلومات کے مطابق اس برتن میں کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : اس میں دودھ ہی تھا۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 364

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 365

365 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا أَبُو ضَمْرَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ» ، قَالُوا: مَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الْعِلْمُ» .

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : مجھے خوا ب میں دودھ کا پیالہ دیا گیا میں نے اس سے خوب پیا یہاں تک کہ دودھ میرے ناخنوں سے بہتا ہوا محسوس ہوا پھر میں نے بچا ہو ا عمر کو دیا صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اس کی تعبیر کیا ہے ؟ تو فرمایا علم (3)

حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا أَبُو ضَمْرَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 365

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 366

366 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمُ الْقُمُصُ، مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثَّدْيَ، وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ» ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «الدِّينُ» .

سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بعض صحابہ کرام سے روایت کرتےہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں سو رہا تھا کہ میری امت میرے سامنے پیش کی گئی میں نے دیکھا کہ بعض کی قمیص چھاتی تک ، بعد کی اس سے کچھ زیادہ نیچے ہے اور پھر میرے سامنے عمر کو لایا گیا انکی قمیص اتنی لمبی تھی کہ وہ اسے کھینچ رہے تھے ۔ لوگوں نے تعبیر پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا : دین (1)

بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 366

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 367

367 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولَابِيُّ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَغْضَبُ إِذَا قِيلَ: إِنَّهُ هَاجَرَ قَبْلَ عُمَرَ، قَالَ: قَدِمْتُ أَنَا وَعُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدْنَاهُ قَائِلًا، فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَنْزِلِ، فَبَعَثَنِي عُمَرُ فَقَالَ: اذْهَبْ فَانْظُرْ هَلِ اسْتَيْقَظَ؟ فَأَتَيْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَبَايَعْتُهُ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهُ قَدِ اسْتَيْقَظَ، فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ، فَهَرْوَلَ هَرْوَلَةً حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ، فَبَايَعَهُ ثُمَّ بَايَعْتُهُ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَغْضَبُ إِذَا قِيلَ إِنَّهُ هَاجَرَ قَبْلَ أَبِيهِ.

ابو عثمان ؑ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب انکے سامنے کہا جاتا کہ آپ نے سیدنا عمر سے پہلے ہجرت کی ہے تو اس بات پر انہیں غصہ آجاتا اس پر انہوں نے فرمایا میں اور میرے والد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مدینہ آئے تو نبی کریم ﷺ کو ہم نے قیولہ کی حالت میں پایا ۔ ہم گھر واپس لوٹے پھر سیدنا عمر نےمجھے بھیجا کہ جاؤ دیکھو کیا نبی کریم ﷺ بیدار ہو چکے ہیں ۔( میں آیا دیکھا کہ آپ ﷺ بیدار ہو چکے تھے )میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیعت کی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور بتایا کہ آپ ﷺ جاگ رہے ہیں پھر ہم دونوں آپ ﷺ کی خدمت میں ھاضر ہوئے سیدنا عمر دوڑتے ہوئے آپ کے پاس گئے اور بیعت کی ، میں نے بھی دوبارہ بیعت کی (امام ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ) پس اس لیے سیدنا عبدا للہ بن عمر کو یہ بات غضناک کر دیتی تھی کہ کوئی یہ کہے آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر سے پہلے ہجرت کی ہے ۔ (2)

قَدِمْتُ ← ابْنَ عُمَرَ يَغْضَبُ إِذَا قِيلَ: إِنَّهُ هَاجَرَ قَبْلَ عُمَرَ، ← أَبِي عُثْمَانَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 367

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 368

368 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ قثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ.

سیدنا عبدا للہ بن عمر مسعود نے فرمایا ہمیشہ سیدنا عمر کے اسلام کی وجہ سے ہمیں عزت ملی ہے ۔ (3)

«مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُنْذُ أَسْلَمَ عُمَرُ» ← عَبْدُ اللَّهِ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ قثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 368

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 369

369 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ قثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ يَقُولُ: وَاللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّ عُمَرَ لَمُوثِقِي، وَأُخْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ عُمَرُ، وَلَوْ أَنَّ أُحُدًا ارْفَضَّ لِلَّذِي صَنَعْتُمْ بِابْنِ عَفَّانَ لَكَانَ قَدْ.

سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر مجھے اسلام پر مضبوط کیا کرتے تھے جبکہ سیدنا عمر ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے اور انکی بہن مسلمان تھیں مگر جو ظلم تم نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا اگر احد پہاڑ بھی اس کی وجہ سے اپنی جگہ سے ہٹ جاتا تو یہ بات قابل تسلیم تھی ۔ (1)

سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ قثنا سُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 369

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 370

370 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، عَلَى قُرَيْشٍ وَلَمْ يُدْرِكُوا مَا طَلَبُوا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَدَّهُمُ النَّجَاشِيُّ بِمَا يَكْرَهُونَ، أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَكَانَ رَجُلًا ذَا شَكِيمَةٍ، لَا يُرَامُ مَا وَرَاءَ ظَهْرِهِ، امْتَنَعَ بِهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِحَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، حَتَّى غَزَا قُرَيْشًا، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: مَا كُنَّا نَقْدِرُ عَلَى أَنْ نُصَلِّيَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ حَتَّى أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَلَمَّا أَسْلَمَ قَاتَلَ قُرَيْشًا حَتَّى صَلَّى عِنْدَ الْكَعْبَةِ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَكَانَ إِسْلَامُ عُمَرَ بَعْدَ خُرُوجِ مَنْ خَرَجَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ.

محمد بن اسحاق رحمۃ اللہ سے روایت ہے کہ جب عبد اللہ بن ابی ربیعہ اور عمر و بن العاص دربار نجاشی سے صحابہ کرام کے خلاف مطالبات پورے کیے بغیر قریش کے پاس واپس آگئے اس وقت سیدنا عمر اسلام لا چکے تھے وہ ایک قوی شخص تھے انکا پیچھا کرنے کی کسی کو ہمت نہ تھی تو سیدنا عمر اور سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی وجہ سے صحابہ کرام کو ایک حمایت حاصل ہوئی یہاں تک کہ قریش جنگ پر آمادہ ہوگئے ۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق کے اسلام سے پہلے ہم بیت اللہ شریف میں نماز پڑھنے سے قاص تھے پس جب سیدنا عمر ایمان لائے تو ہم نے بیت اللہ میں نماز پڑھنا شروع کی۔ سیدنا عمر اس وقت اسلام لائے جب بعض صحابہ کرام بغرض ہجرت سر زمین حبشہ گئے ہوئے تھے ۔ (2)

مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 370

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 371

371 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ لَا يُتَّهَمُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بِنْتِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَتْ: وَاللَّهِ، إِنَّهُ لَنَرْتَحِلُ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ وَقَدْ ذَهَبَ عَامِرٌ فِي بَعْضِ حَاجَتِنَا، إِذْ أَقْبَلَ عُمَرُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيَّ وَهُوَ عَلَى شِرْكِهِ، قَالَتْ: وَكُنَّا نَلْقَى مِنْهُ الْبَلَاءَ أَذًى لَنَا وَشَرًّا عَلَيْنَا، فَقَالَتْ: فَقَالَ: إِنَّهُ لَانْطِلَاقٌ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَاللَّهِ لَنَخْرُجَنَّ فِي أَرْضِ اللَّهِ، آذَيْتُمُونَا وَقَهَرْتُمُونَا، حَتَّى يَجْعَلَ اللَّهُ لَنَا مَخْرَجًا، قَالَتْ: فَقَالَ: صَحِبَكُمُ اللَّهُ، وَرَأَيْتُ لَهُ رِقَّةً لَمْ أَكُنْ أَرَاهَا، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ أَحْزَنَهُ فِيمَا أَرَى خُرُوجُنَا، قَالَتْ: فَجَاءَ عَامِرٌ مِنْ حَاجَتِنَا تِلْكَ فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، لَوْ رَأَيْتَ عُمَرَ آنِفًا وَرِقَّتَهُ وَحُزْنَهُ عَلَيْنَا، قَالَ: أَطَمِعْتِ فِي إِسْلَامِهِ؟ قَالَتْ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: لَا يُسْلِمُ الَّذِي رَأَيْتِ حَتَّى يُسْلِمَ حِمَارُ الْخَطَّابِ، قَالَتْ: يَأْسًا لِمَا كَانَ يَرَى مِنْ غِلْظَتِهِ وَقَسْوَتِهِ عَنِ الْإِسْلَامِ. وَكَانَ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِيمَا بَلَغَنِي أَنَّ أُخْتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ الْخَطَّابِ، وَكَانَتْ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، كَانَتْ قَدْ أَسْلَمَتْ وَأَسْلَمَ زَوْجُهَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ مَعَهَا، وَهُمْ يَسْتَخْفُونَ بِإِسْلَامِهِمْ مِنْ عُمَرَ، وَكَانَ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّحَّامُ رَجُلًا مِنْ قَوْمِهِ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَدْ أَسْلَمَ، وَكَانَ أَيْضًا يَسْتَخْفِي بِإِسْلَامِهِ فَرَقًا مِنْ قَوْمِهِ، وَكَانَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ يَخْتَلِفُ إِلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ الْخَطَّابِ يُقْرِئُهَا الْقُرْآنَ، فَخَرَجَ عُمَرُ يَوْمًا مُتَوَشِّحًا سَيْفَهُ يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَهْطًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَذُكِرَ لَهُ أَنَّهُمْ قَدِ اجْتَمَعُوا فِي بَيْتٍ عِنْدَ الصَّفَا وَهُمْ قَرِيبٌ مِنْ أَرْبَعِينَ مِنْ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمُّهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ [ص:280] الْمُطَّلِبِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ، فِي رِجَالٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِمَّنْ كَانَ أَقَامَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ، وَلَمْ يَخْرُجْ فِيمَنْ خَرَجَ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، فَلَقِيَهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قَالَ: أُرِيدُ مُحَمَّدًا، هَذَا الصَّابِيءُ الَّذِي قَدْ فَرَّقَ أَمْرَ قُرَيْشٍ، وَسَفَّهَ أَحْلَامَهَا، وَعَابَ دِينَهَا، وَسَبَّ آلِهَتَهَا، فَأَقْتُلُهُ، فَقَالَ لَهُ نُعَيْمٌ: وَاللَّهِ، لَقَدْ غَرَّتْكَ نَفْسُكَ مِنْ نَفْسِكَ يَا عُمَرُ، أَتَرَى بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ تَارِكِيكَ تَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَقَدْ قَتَلْتَ مُحَمَّدًا؟ أَفَلَا تَرْجِعُ إِلَى أَهْلِ بَيْتِكَ فَتُقِيمَ أَمْرَهُمْ؟ قَالَ: وَأَيُّ أَهْلِ بَيْتِي؟ قَالَ: خَتَنُكَ وَابْنُ عَمِّكَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، وَأُخْتُكَ فَاطِمَةُ بِنْتُ الْخَطَّابِ، فَقَدْ أَسْلَمَا وَتَابَعَا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى دِينِهِ، فَعَلَيْكَ بِهِمَا، فَرَجَعَ عُمَرُ عَامِدًا لِخَتَنِهِ وَأُخْتِهِ، وَعِنْدَهُمَا خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ مَعَهُ صَحِيفَةٌ فِيهَا طَهَ يُقْرِئُهُمَا إِيَّاهَا، فَلَمَّا سَمِعُوا حَسَّ عُمَرَ تَغَيَّبَ خَبَّابُ بْنُ الْأَرَتِّ فِي مَخْدَعٍ لِعُمَرَ أَوْ فِي بَعْضِ الْبَيْتِ، وَأَخَذَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ الْخَطَّابِ الصَّحِيفَةَ فَجَعَلَتْهَا تَحْتَ فَخِذِهَا، وَقَدْ سَمِعَ عُمَرُ حِينَ دَنَا مِنَ الْبَيْتِ قِرَاءَتَهُ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ: مَا هَذِهِ الْهَيْنَمَةُ الَّتِي سَمِعْتُهَا؟ قَالَا: مَا سَمِعْتَ شَيْئًا، قَالَ: بَلَى وَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ عَمَّا تَابَعْتُمَا مُحَمَّدًا عَلَى دِينِهِ، وَبَطَشَ بِخَتَنِهِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَقَامَتْ إِلَيْهِ فَاطِمَةُ أُخْتُهُ لِتَكُفَّهُ عَنْ زَوْجِهَا، فَضَرَبَهَا فَشَجَّهَا، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ قَالَتْ لَهُ أُخْتُهُ وَخَتَنُهُ: نَعَمْ، قَدْ أَسْلَمْنَا وَآمَنَّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ. وَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا بِأُخْتِهِ مِنَ الدَّمِ نَدِمَ عَلَى مَا صَنَعَ فَارْعَوَى وَقَالَ لِأُخْتِهِ: أَعْطِينِي هَذِهِ الصَّحِيفَةَ الَّتِي سَمِعْتُكُمْ تُقْرَآنِ آنِفًا أَنْظُرْ مَا هَذَا الَّذِي جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ؟ وَكَانَ عُمَرُ كَاتِبًا، فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ قَالَتْ لَهُ أُخْتُهُ: إِنَّا نَخْشَاكَ عَلَيْهَا، قَالَ: لَا تَخَافِي، وَحَلَفَ لَهَا بِآلِهَتِهِ لَيَرُدَّنَّهَا إِلَيْهَا إِذَا قَرَأَهَا، فَلَمَّا قَالَ لَهَا ذَلِكَ طَمِعَتْ فِي إِسْلَامِهِ، فَقَالَتْ لَهُ: يَا أَخِي، إِنَّكَ نَجِسٌ عَلَى شِرْكِكَ، وَإِنَّهُ لَا يَمَسُّهَا إِلَّا الطَّاهِرُ، فَقَامَ عُمَرُ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ أَعْطَتْهُ الصَّحِيفَةَ، وَفِيهَا طَهَ، فَقَرَأَهَا، فَلَمَّا قَرَأَ صَدْرًا مِنْهَا قَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا الْكَلَامَ وَأَكْرَمَهُ فَلَمَّا سَمِعَ خَبَّابٌ ذَلِكَ خَرَجَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ: يَا عُمَرُ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ خَصَّكَ بِدَعْوَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ [ص:281] أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِأَبِي الْحَكَمِ بْنِ هِشَامٍ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ» ، فَاللَّهَ اللَّهَ يَا عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ: فَادْلُلَّنِي عَلَيْهِ يَا خَبَّابُ حَتَّى آتِيَهُ فَأُسْلِمَ، فَقَالَ لَهُ خَبَّابٌ: هُوَ فِي بَيْتٍ عِنْدَ الصَّفَا، مَعَهُ فِئَةٌ، يَعْنِي مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَخَذَ عُمَرُ سَيْفَهُ فَتَوَشَّحَهُ، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَضَرَبَ عَلَيْهِمُ الْبَابَ، فَرَآهُ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فَزِعٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُتَوَشِّحًا السَّيْفَ، فَقَالَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ: فَائْذَنْ لَهُ، فَإِنْ كَانَ يُرِيدُ خَيْرًا بَذَلْنَا لَهُ، وَإِنْ كَانَ يُرِيدُ شَرًّا قَتَلْنَاهُ بِسَيْفِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنْ لَهُ» ، فَأَذِنَ لَهُ الرَّجُلُ وَنَهَضَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى لَقِيَهُ فِي الْحُجْرَةِ، فَأَخَذَ بِحُجْزَتِهِ أَوْ بِجُمْعِ رِدَائِهِ، ثُمَّ جَبَذَهُ جَبْذَةً شَدِيدَةً وَقَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَاللَّهِ مَا أَرَى أَنْ تَنْتَهِيَ حَتَّى يُنْزِلَ اللَّهُ بِكَ قَارِعَةً» ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ أُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكْبِيرَةً عَرَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عُمَرَ قَدْ أَسْلَمَ، فَتَفَرَّقَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَانِهِمْ ذَلِكَ وَقَدْ عَزُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ حِينَ أَسْلَمَ عُمَرُ مَعَ إِسْلَامِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَرَفُوا أَنَّهُمَا سَيَمْنَعَانِ رَسُولَ اللَّهِ، وَيَنْتَصِفُونَ بِهِمَا مِنْ عَدُوِّهِمْ. فَهَذَا حَدِيثُ الرُّوَاةِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ إِسْلَامِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ حِينَ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ

(ا)۔۔ام عبداللہ بنت ابی حثمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم لوگ حبشہ جانے کی تیاری کر رہے تھے جبکہ عامر کسی کام پر گئے تھے ۔ اچانک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہمارے پاس سے گزر ہوا وہ ابھی تک مشرک تھے اور ہمیں شدید مصائب سے دو چار کیا کرتے تھے ۔ وہ ہم سے پوچھنے لگے : ام عبد اللہ ! کہیں جانے کی تیار ہو رہی ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ہم اللہ کی زمین کی طرف جائیں گے تم لوگوں نے ہمیں اذیت دی اور مغلوب کر رکھا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اس سے نجات کا راستہ بنا دیا ہے ۔ انہوں نے کہا اللہ کے سپرد میں نے انکےدل میں نرمی محسوس کی پھروہ چلے گئے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی وہ چلے تو گئے لیکن ہمارے کوچ کرنے پر وہ غمزہ دہ تھے اتنے میں جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے کام سے آ گئے ۔ میں نے پوچھا اے ابو عبداللہ ! کاش آپ آج عمر کی نرمی اور (ہمارے کوچ کرنےپر) غمزدگی دیکھتے؟ ابو عبداللہ نے کہا: کیا تم ان کے اسلام لانے کی امید رکھتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں ! وہ بھی مسلمان ہو جائیں ابو عبداللہ نے نااُمیدی سے کہا : وہ ہرگز نہیں لائیں گئے حالانکہ خطاب کا گدھا توایمان لے آئے گا۔ ام عبداللہ کہتی ہیں : میرے شوہر نے کہا تھا کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (قبل از اسلام )اسلام کے خلاف بہت سخت تھے ۔

وَاللَّهِ ← أُمِّهِ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بِنْتِ أَبِي حَثْمَةَ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ← محمد بن إسحاق، عمن لا يتهم، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 371

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 372

372 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي الْمُؤَدِّبُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُذْ أَسْلَمَ عُمَرُ»

(ا)۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا ہمیشہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کی وجہ سے ہمیں عزت ملی ہے ۔

«مَا زِلْنَا أَعِزَّةً مُذْ أَسْلَمَ عُمَرُ» ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ قثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي الْمُؤَدِّبُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 372

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 372.1

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ: أَيُّ قُرَيْشٍ أَنْقَلُ لِلْحَدِيثِ؟ قِيلَ لَهُ: جَمِيلُ بْنُ مَعْمَرٍ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: فَغَدَا عَلَيْهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَغَدَوْتُ أَتْبَعُ أَثَرَهُ أَنْظُرُ مَا يَفْعَلُ، وَأَنَا غُلَامٌ، وَجَمِيلُ بْنُ مَعْمَرٍ هُوَ جَدُّ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ بْنِ جَمِيلِ بْنِ مَعْمَرٍ الْجُمَحِيُّ - أَعْقِلُ كُلَّمَا رَأَيْتُ، حَتَّى جَاءَهُ فَقَالَ: أَمَا عَلِمْتَ يَا جَمِيلُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَدَخَلْتُ فِي دِينِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَوَاللَّهِ، مَا رَاجَعَهُ حَتَّى قَامَ يَجُرُّ رِجْلَيْهِ، وَاتَّبَعَهُ عُمَرُ، وَاتَّبَعْتُ أَبِي، حَتَّى إِذَا قَامَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ صَرَخَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ - وَهُمْ فِي أَنْدِيَتِهِمْ حَوْلَ الْكَعْبَةِ - أَلَا إِنَّ عُمَرَ قَدْ صَبَا، قَالَ: يَقُولُ عُمَرُ مِنْ خَلْفِهِ: كَذَبَ، وَلَكِنْ قَدْ أَسْلَمْتُ وَشَهِدْتُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، قَالَ: وَثَارُوا إِلَيْهِ، قَالَ: فَمَا بَرِحَ يُقَاتِلُهُمْ وَيُقَاتِلُونَهُ حَتَّى قَامَتِ الشَّمْسُ عَلَى رُءُوسِهِمْ، قَالَ: وَطَلَحَ فَقَعَدَ، وَقَامُوا عَلَى رَأْسِهِ وَهُوَ يَقُولُ: افْعَلُوا مَا بَدَا لَكُمْ، فَأَحْلِفُ أَنْ لَوْ كُنَّا ثَلَاثَمِائَةِ رَجُلٍ لَقَدْ تَرَكْنَاهَا لَكُمْ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا لَنَا، قَالَ: فَبَيْنَاهُمْ عَلَى ذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ حِبَرَةٌ وَقَمِيصٌ قُومِسُ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: صَبَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، قَالَ: فَمَهْ، رَجُلٌ اخْتَارَ لِنَفْسِهِ أَمْرًا فَمَاذَا تُرِيدُونَ؟ أَتَرَوْنَ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ يُسْلِمُونَ لَكُمْ صَاحِبَهُمْ؟ هَكَذَا عَنِ الرَّجُلِ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّمَا كَانُوا ثَوْبًا كُشِفَ عَنْهُ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَقُلْتُ لِأَبِي بَعْدَ أَنْ هَاجَرْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ: يَا أَبَتِ، مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي زَجَرَ الْقَوْمَ بِمَكَّةَ يَوْمَ أَسْلَمْتَ وَهُمْ يُقَاتِلُونَكَ؟ قَالَ: ذَاكَ الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ.

(ب)۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیاتو کہنے لگے : قریش کا باتونی شخص کون ہے ؟ کسی نے جمیل بن معمر جمحی جو کہ نافع بن عمر بن جمیل بن معمر کے دادا ہیں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اگلے دن صبح اس کے پاس گئے ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان کے پیچھے گیا تا کہ دیکھوں کہ کیا کرتے ہیں ؟ سیدنا عمر نے اس کے پاس جا کر کہا اے جمیل ! کیا تجھے معلوم ہے کہ میں نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ اور محمد ﷺ کے دین میں داخل ہو گیا ہوں یہ سنتے ہی جمیل دوڑا سیدنا عمر نے اسکا پیچھا کیا اور میں (سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) بھی اپنے باپ کے پیچھے چل دیے ۔ وہ جمیل بن عمر مسجد کے دروازے پر آیا اور بلند آواز چیخنے لگا اے قریش کی جماعت اس وقت قریش اپنی محفلوں میں مگن تھے ۔ اعلان کرنے لگا : حضرات ! عمر صابی ہو گیا، سیدنا رضی اللہ عنہ نے پیچھے سے آواز آئی یہ جھوٹا آدمی مگر میں تو مسلمان ہوگیاہوں میں کلمہ توحید (لاالہ الا اللہ وحدہ لاشریک لا وان محمد ا عبدہ و رسولہ ) کی گواہی دے چکا ہوں ۔ یہ سن کر قریش سیدنا عمر پر ٹوٹ پڑے وہ لرتے جھگڑتے رہے یہاں تک کہ سورج ان کے سروں پر بلند ہو گیا ۔ جب وہ تھک ہار کر بیٹھ گئے دوبارہ ان پر ٹوٹ پڑے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوکر کہنے لگے جو تم سے ہوتا ہے کر لو میں قسم دے کر کہتا ہوں کہ ہم اگر تین آدمی ہوتے تم ان کو ہمارے مارنے پیٹنے کے لیے حوالے کرتے یا ہم ان کو تمہارے حوالے کرتے ۔ اسی دوران قریش کا ایک ضعیف العمر شخص جبہ (کوٹ ) پہنے ہوئے آیا اس نے امیر انہ قمیص پہن رکھی تھی کہنے لگا: کیا بت ہے ؟ قریش نے کہا: عمر صابی ہو گیا ہے اس نےکہا رک جاؤ پھر کیا ہوا اس نے اپنی مرضی سے یہ کام کیا ہے تو تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ اور تمہارا کیا خیال ہےکہ بنی عدی بن کعب (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قبیلہ) اس شخص کو تمہارے حوالے کردیں گے؟ اس شخص نے یہی کیا تو لوگ سیدنا عمر پر کپڑوں کی طرح لپٹے ہوئے تھے اس نے آکر ان کو ہٹادیا ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہجرت کے بعد میں نے اپنے باپ سے پوچھا : ابا جان ! وہ شخص کون تھا کہ جس دن آپ نے اسلام قبول کیا تھا قریش آپ سے لڑائی کر رہے تھے تو اس نے آکر اپنی قوم کو ڈانٹا تھا ؟ سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا وہ شخص عاص بن وائل سہمی تھا۔ (1)

فَغَدَا عَلَيْهِ، ← أَيُّ قُرَيْشٍ أَنْقَلُ لِلْحَدِيثِ؟ قِيلَ لَهُ: جَمِيلُ بْنُ مَعْمَرٍ الْجُمَحِيُّ، ← لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 372.1

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 373

373 - وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ بِمَكَّةَ قثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالُوا: صَبَا عُمَرُ، مَرَّتَيْنِ، وَكُنْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ، فَأَتَى الْعَاصُ بْنُ وَائِلٍ السَّهْمِيُّ وَعَلَيْهِ قُبَاءٌ دِيبَاجٌ مَكْفُوفٌ بِحَرِيرٍ، فَقَالَ: صَبَا عُمَرُ، صَبَا عُمَرُ، أَنَا لَهُ جَارٌ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَتَعَجَّبْتُ مِنْ عِزِّهِ.

سیدنا عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر اسلام لائے تو لوگ جمع ہو کر کہنے لگے کہ عمر صابی (نعوذباللہ بے دین ) ہو گیا ہے ۔ دو مرتبہ یہ کہا میں اپنے گھر کی چھت پر تھا اس وقت عاص بن وائل سہمی آیا جس نے ریشم کا جبہ پہن رکھا تھا اور اس نے کہا عمر صابی ہو گیا مگر میں عمر کو پناہ دیتا ہوں یہ سن کر قریش منتشر ہو گئے ۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے ان کا مقام و مرتبہ دیکھ کر تعجب ہوا۔ (2)

ابْنُ عُمَرَ: فَتَعَجَّبْتُ مِنْ عِزِّهِ. ← لَهُ جَارٌ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، ← صَبَا عُمَرُ، صَبَا عُمَرُ، ← ائِلٍ السَّهْمِيُّ وَعَلَيْهِ قُبَاءٌ دِيبَاجٌ مَكْفُوفٌ بِحَرِيرٍ، ← صَبَا عُمَرُ، مَرَّتَيْنِ، وَكُنْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ، فَأَتَى الْعَاصُ بْنُ ← لَمَّا أَسْلَمَ عُمَرُ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ بِمَكَّةَ قثنا سُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 373

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ إِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 374

374 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَصْحَابِهِ عَطَاءٍ وَمُجَاهِدٍ، أَوْ عَمَّنْ رَوَى ذَلِكَ عَنْهُ، أَنَّ إِسْلَامَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كَانَ فِيمَا تُحِدِّثُوا بِهِ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كُنْتُ لِلْإِسْلَامِ مُبَاعِدًا، وَكُنْتُ صَاحِبَ خَمْرٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، أُحِبُّهَا وَأَشْرَبُهَا، وَكَانَ لَنَا مَجْلِسٌ يَجْتَمِعُ فِيهِ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ بِالْحَزْوَرَةِ عِنْدَ دَارِ عَمْرِو بْنِ عَائِذِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مَخْزُومٍ، قَالَ: فَخَرَجْتُ لَيْلَةً أُرِيدُ جُلَسَائِي أُولَئِكَ فِي مَجْلِسِنَا ذَاكَ، فَلَمْ أَجِدْ مِنْهُمْ أَحَدًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَوْ أَنِّي جِئْتُ فُلَانًا، خَمَّارًا كَانَ بِمَكَّةَ، رَجُلٌ يَبِيعُ الْخَمْرَ، لَعَلِّي أَجِدُ عِنْدَهُ خَمْرًا فَأَشْرَبُ مِنْهَا، قَالَ: فَجِئْتُهُ فَلَمْ أَجِدْهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَوْ جِئْتُ الْكَعْبَةَ فَطُفْتُ بِهَا سَبْعًا أَوْ سَبْعِينَ، قَالَ: فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ أُرِيدُ أَنْ أَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَكَانَ إِذَا صَلَّى اسْتَقْبَلَ الشَّامَ وَجَعَلَ الْكَعْبَةَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الشَّامِ، كَانَ مُصَلَّاهُ بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ: الرُّكْنِ الْأَسْوَدِ وَالرُّكْنِ الْيَمَانِيِّ، قَالَ: فَقُلْتُ حِينَ رَأَيْتُهُ: وَاللَّهِ، لَوْ أَنِّي اسْتَمَعْتُ بِمُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَسْمَعَ مَا يَقُولُ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَئِنْ دَنَوْتُ مِنْهُ أَسْمَعُ مِنْهُ لَأُرْوِعَنَّهُ، قَالَ: فَجِئْتُ الْكَعْبَةَ مِنْ قِبَلِ الْحِجْرِ فَدَخَلْتُ تَحْتَ ثِيَابِهَا فَجَعَلْتُ أَمْشِي رُوَيْدًا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ، حَتَّى قُمْتُ فِي قِبْلَتِهِ مَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا ثِيَابُ الْكَعْبَةِ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعْتُ الْقُرْآنَ رَقَّ لَهُ قَلْبِي، فَبَكَيْتُ وَدَخَلَنِي الْإِسْلَامُ، فَلَمْ أَزَلْ قَائِمًا فِي مَكَانِي ذَلِكَ حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ، وَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ خَرَجَ عَلَى دَارِ بَنِي أَبِي حُسَيْنٍ، وَكَانَتْ طَرِيقَهُ حَتَّى خَرَجَ إِلَى الْمَسْعَى، ثُمَّ يَشْتَدُّ بَيْنَ دَارِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ دَارِ ابْنِ أَزْهَرَ بْنِ عَبْدِ عَوْفٍ الزُّهْرِيِّ، ثُمَّ عَلَى دَارِ الْأَخْنَسِ بْنِ شَرِيقٍ، حَتَّى يَدْخُلَ بَيْتَهُ، وَكَانَ مَسْكَنُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدَّارِ الرَّقْطَاءِ الَّتِي كَانَتْ بِيَدِ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ عُمَرُ: فَتَبِعْتُهُ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ بَيْنَ دَارِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَبَيْنَ دَارِ ابْنِ أَزْهَرَ أَدْرَكْتُهُ، فَلَمَّا سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسِّي قَامَ، وَعَرَفَنِي، فَظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي إِنَّمَا اتَّبَعْتُهُ لِأُوذِيهِ فَنَهَمَنِي ثُمَّ قَالَ: «مَا جَاءَ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ هَذِهِ السَّاعَةَ؟» قَالَ: قُلْتُ: أَنْ أُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَبِمَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: فَحَمِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهَ وَقَالَ: «قَدْ هَدَاكَ اللَّهُ يَا عُمَرُ» ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَدَعَا لِي بِالثَّبَاتِ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَيُّ ذَلِكَ كَانَ.

مجاہد ؑ روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق اسلام لانے کے بعد اپنے بارے میں کہا کرتے تھے کہ میں زمانہ جاہلیت میں سب سے زیادہ اسلام سے نفرت کرتاتھا ، مجھے شراب پینے کی عادت تھی اور مرو بن عائذ بن عمران بن مخدوم کے گھر کے پاس روز های بازار پر جاری فل نگا کرتی تھی۔ ایک رات میں اپنے ہم عقلوں کے پاس جانے کے لی کا و می ا کیاوی پاتوم اب فردت کر دال پا کا شراب تاقا کی اس سے شراب خرید کر پہوں مگر جب میں اس کے پاس آیا تو وہ ہی نہیں تھا، پھر میں نے کہا: کعبة الش جا کر سات یا ستر مرتبہ طواف کرتا ہوں۔ میں طواف کی غرض سے خانہ کعبہ کیا تو کیا دیکھ رہا ہوں ، سیدنامہ ) کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں۔ اس وقت قبلہ بیت المقدس تھا جو بیت الله اور شام کے درمیان پڑا تھا۔ آپ کا اصلی رکن یمانی اور رکن شامی کے درمیان تھا۔ آپ کو دیکھ کر مجھے شوق ہوا کہ دیکھوں تو آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟(پرمیں نے سوچا کہ اگر میں سننے کے لیے ان کے قریب جاؤں گا تو وہ گھبرا جائیں گے، پس میں مجرے کی طرف سے کہ میں داخل ہوا اس کے خلاف کے اپنے خود کو چھپا کر آہستہ آہستہ چلے گا،سیدناعم نام کھڑے نماز میں قرآن کی تلاوت فرمارہے تھے، میں آپ تلی کے اس قدر قریب ہوا یہاں تک کہ آپ کے اور میرے درمیان کعبة الله کا غلاف حال تھا۔ جب میں نے قرآن کی تلاوت کو سنا، اس کا مجھ پر گہرا اثر ہوا اور میں رو پڑا۔ مسلمان ہونے کا ارادہ کیا۔ میں اسی حالت میں کھڑا تھا کہ نبی کریم می نماز سے فارغ ہوئے اپنے گھر کی طرف چل پڑے، جب آپ وہاں سے جانتے تو بنو ایوکسین کی طرف سے جاتے ، یہاں تک کہ آپ مقام سعی کی طرف نکلے تو عباس بن عبد المطلب اور ابن ازہرعبدعوف از ہری کےگھر کے درمیان دوڑنے لگے پھر اخنس بن شریک کے گھر سے ہوتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہو گئے آپ کا گھر رقطاء پر تھا جو معاویہ بن ابو سفیان کی ملکیت میں تھا میں بھی پیچھے گیا تومیں نے آپکو عباس اور ابن الازہر کے گھر کے درمیان پایا ۔ جب آپ ﷺ نےمیرے پاؤں کی آواز کو سنا تو کھڑاہوگیا اور مجھے پہچان لیا۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ محسوس ہوا کہ ان کو نقصان پہچانے جارہا ہوں ۔ نبی کریم نےپوچھا ابن خطاب! اس وقت کیوں آئے ہو؟ میں نے عرض کیا: میں اللہ، اس کے رسول ﷺ اور جو چیز (قرآن) اللہ رب کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ہے، اس پر ایمان لاتا ہوں ، چنانچہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو آپ نے فرمایا: عمر ! یقینا تمھیں اللہ نے ہدایت دی ہے، پھر میرے سینے پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے استقامت کی دعا فرمائی ، پھر میں واپس آیا اور نبی کریم ﷺ اپنے گھر داخل ہوئے، الله تعالی بہتر جانتا ہے کہ ان دونوں کاموں میں سے کون سا کام ہوا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ الْمَكِّيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him · Hadith 374

Daif

chevron_left Previous
1…161718…164
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him