Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13

13 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ قثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ أَبُو الْفَضْلِ إِمْلَاءً قثنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْمُؤَدِّبُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ رَزِينٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، شَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، فَقَالَ: «يَا خَالِدُ، لِمَ تُؤْذِي رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ؟ لَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا لَمْ تُدْرِكْ عَمَلَهُ» ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَقَعُونَ فِيَّ فَأَرُدُّ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُؤْذُوا خَالِدًا، فَإِنَّهُ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ صَبَّهُ اللَّهُ عَلَى الْكُفَّارِ» .

سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سید نا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے سید نا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا رسول اکرم ﷺ سے گلہ کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خالد ! تم ایک بدری کو رنجیدہ کیوں کرتے ہو؟ اگر تم اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دو پھر بھی انکے ایک عمل (کے اجر وثواب) کو نہیں پہنچ سکتے ۔ سید نا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ﷺ وہ مجھ سے نکتہ چینی کرتے ہیں ،میں تو بس اسکا جواب دیتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: خالد کو رنج مت دینا ۔کیونکہ وہ "سیف اللہ " ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کفار پر مسلط کیا ہے (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 13

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 14

14 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: نا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أُمِرُوا بِالِاسْتِغْفَارِ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، فَسَبُّوهُمْ. وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ: يَا ابْنَ أُخْتِي، أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، فَسَبُّوهُمْ.

سید نا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں کو سید نا محمد ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لیے التجاؤں کا حکم تھا لیکن یہ انہیں بُرا بھلا کہتے ہیں ۔ابو معاویہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بھانجے ! لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ محمد ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے لیے بخشش طلب کریں یہ لوگ انکو گالیاں دیتے ہیں(2)

عَائِشَةَ: أُمِرُوا بِالِاسْتِغْفَارِ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ، فَسَبُّوهُمْ. ← أَبِيهِ ← هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 14

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15

15 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا سُفْيَانُ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، فَلَمَقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ ".

نسیربن ذعلوق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو برا مت کہو کیونکہ انکا نبی کریم ﷺ کی رفاقت میں گزرا ہوا یک لمحہ تمہاری زندگی بھر کے اعمال سے بہتر ہے (3)

«لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ فَلَمَقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عَمَلِ أَحَدِكُمْ عُمْرَهُ» ← ابْنِ عُمَرَ ← نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا سُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 15

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16

16 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَمَّنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ أَصْحَابِي فِي النَّاسِ كَمَثَلِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ» . ثُمَّ يَقُولُ الْحَسَنُ: هَيْهَاتَ ذَهَبَ مِلْحُ الْقَوْمِ.

امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :میرے صحابہ کرام لوگوں میں ایسے ہیں جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے پھر امام حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا : اس قوم کا کیاحال ہو گا جس کا نمک ہی چلا گیا ۔(4)

الْحَسَنِ، ← معمر عمن ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 16

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 17

17 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ أَبِي مُوسَى يَعْنِي إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَمَثَلِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ» . قَالَ: يَقُولُ الْحَسَنُ: وَهَلْ يَطِيبُ الطَّعَامُ إِلَّا بِالْمِلْحِ؟ قَالَ: ثُمَّ يَقُولُ الْحَسَنُ: فَكَيْفَ بِقَوْمٍ قَدْ ذَهَبَ مِلْحُهُمْ؟

امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تم لوگوں میں ایسے ہو جیسے کھانے میں نمک ،راوی نے کہا پھر اما م حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کہتے تھے کیا نمک کے بغیر کھانا ذائقہ دار ہوتا ہے ؟ مزید راوی نے کہا :پھر امام حسن رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تے : اس قوم کا کیاحال ہو گا کہ جن کا نمک ہی چلا گیا (1)

الْحَسَنِ، ← أَبِي مُوسَى يَعْنِي إِسْرَائِيلَ، ← أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 17

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18

18 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: وَنا رَجُلٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَرَ بِالِاسْتِغْفَارِ لَهُمْ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ سَيُقْتَلُونَ "

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :محمد کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو برا بھلا مت کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ جانتے ہوئے ان کے حق میں دعا کرنے کا حکم دیا ہے کہ عنقریب اُنھیں شہید کر دیاجائے گا۔(2)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← رَجُلٌ: ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 18

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19

19 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا جَعْفَرٌ، يَعْنِي: ابْنَ بُرْقَانَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ قَالَ: ثَلَاثٌ ارْفُضُوهُنَّ: سَبُّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالنَّظَرُ فِي النُّجُومِ، وَالنَّظَرُ فِي الْقَدَرِ.

میمون بن مہران رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : تم تین باتوں کو چھوڑ دو۔ 1۔نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی تنقیص کرنا۔۔2۔نجومیوں والا کام کرنا۔3۔ مسئلہ تقدیر میں بحث کرنا(3)

ثَلَاثٌ ارْفُضُوهُنَّ: سَبُّ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ وَالنَّظَرُ فِي النُّجُومِ، وَالنَّظَرُ فِي الْقَدَرِ ← مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا جَعْفَرٌ، يَعْنِي: ابْنَ بُرْقَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 19

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20

20 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، فَلَمَقَامُ أَحَدِهِمْ سَاعَةً خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً.

نسیر بن ذعلوق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ علیہ سے سنا وہ فرمایا کرتے تھے: نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو برا بھلا مت کہو،کیونکہ ان کا نبی کریم ﷺ کی رفاقت میں گزرا ہو ایک لمحہ تمہاری چالیس سالنہ عبادت سے بہتر ہے ۔(4)

ابْنِ عُمَرَ ← نُسَيْرِ بْنِ ذُعْلُوقٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 20

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21

21 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ الْهَمْدَانِيُّ قثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَرْحَبِيُّ قثنا عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنِ الْمُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «إِنَّ رِجْلَيَّ عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ، أَوْ تُرَعِ الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا أَحَبَّ، يَأْكُلُ مِنْهَا مَا أَحَبَّ، وَبَيْنَ لِقَاءِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنَّ الْعَبْدَ اخْتَارَ لِقَاءَ اللَّهِ» ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَهُوَ قَرِيبٌ مِنَ الْمِنْبَرِ، حَتَّى قَالَ شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: مَا يُبْكِي هَذَا؟ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَوْ رَجُلًا مِنَ النَّاسِ، قَالَ: وَعَرَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا عَنَى نَفْسَهُ، فَلَمَّا ذَهَبَتْ عَبْرَتُهُ فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَنْفُسِنَا، فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: «مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْظَمَ عَلَيْنَا حَقًّا فِي صُحْبَتِهِ، وَمَالِهِ، مِنِ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُهُ خَلِيلًا، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ» .

سید نا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے منبر پر تشریف فرماہو کر ارشاد فرمایا: بے شک میرا پاؤں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں یا حوض کوثر کے دہانے پر ہے اور بے شک اللہ نے اپنے کسی بندے کو ( دو باتوں میں ایک بات کا ) اختیار دیا ہے ۔1۔وہ جی بھر دنیا میں رہے اور اس میں من پسند کھائے۔2۔یا اللہ سے ملاقات کے لیے کمر بستہ ہو جائے اور اُس بندے نے لقائے الہی کو پسند کر لیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ منبر رسول ﷺ کے پہلو میں تشریف فرما سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اشک بار ہوتے تو ایک بزرگ انصاری فرمانے لگے :انہیں کس چیز نے رُلا دیا ؟ رسول اللہ ﷺ نے تو بنی اسرائیل میں سے یا عام لوگوں میں سے ایک آدمی کا ذکر فرمایا ہے ۔سید نا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق اس حقیقت کو بھانپ گئے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنے نفس نفیس کو ہی مراد لیا ہے پس جب آپ رضی اللہ عنہ کے آنسو تھم گئے تو عرض کیا : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربا ہوں بلکہ ہم اپنےآباواجداد ار جانوں کا آپ ﷺ پر فدا کر دیں گے تو رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر فرمایا اپی صحبت و مال کے اعتبار سے ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر کوئی مجھ پر استحقاق نہیں رکھتا ۔نیز میں لوگوں میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا تو انہی کو بناتا ، لیکن ایمانی محبت واخوت قائم ہے (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 21

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22

22 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَا طَرِيقَ ثَوْرٍ، قَالَ: فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَمْشِي خَلْفَهُ وَيَمْشِي أَمَامَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكَ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخَافُ أَنْ تُؤْتَى مِنْ خَلْفِكَ فَأَتَأَخَّرُ، وَأَخَافُ أَنْ تُؤْتَى مِنْ أَمَامِكَ فَأَتَقَدَّمُ، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الْغَارِ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَقُمَّهُ. قَالَ نَافِعٌ: فَحَدَّثَنِي رَجُلٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَأَى جُحْرًا فِي الْغَارِ فَأَلْقَمَهَا قَدَمَهُ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَتْ لَسْعَةٌ أَوْ لَدْغَةٌ كَانَتْ بِي

ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ گھر سے نکلے تو دونوں نے غارِ ثور کا راستہ لیا ؛ اثنائے سفر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کبھی رسول اکرم ﷺ کے آگے اور کبھی آپ ﷺ کے پیچھے چلتے تو نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ عرض کیا یارسول اللہ ﷺ مجھے جب عقبی جانب خطرہ لگتا ہے تو پیچھے ہوجاتا ہوں اور جب اگلی جانب خدشہ لاحق ہوتا ہے تو آگے آجاتا ہوں، جب دونوں غار کے پاس پہنچے تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ رُکیے ! میں پہلے اندر جھاڑ و دے لیتا ہوں۔ نافع رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک آدمی نے ابن ابی ملیکہ کے حوالے سے بیان کیا کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے غار میں ایک سوراخ دیکھا اور اس پر اپنا پاؤں جمایا اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ اگر بالفرض کوئی چیز ڈسے یا کاٹے تو وہ مجھے ہی کاٹے (1)

لَهُ النَّبِيُّ «مَا لَكَ؟» ← فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يَمْشِي خَلْفَهُ وَيَمْشِي أَمَامَهُ، ← لَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ خَرَجَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَا طَرِيقَ ثَوْرٍ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، ← وَكِيعٌ، ← عَلَى أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 22

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23

23 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا هَمَّامٌ قَالَ: أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَهُ قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْغَارِ - وَقَالَ مَرَّةً: وَنَحْنُ فِي الْغَارِ -: لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ، قَالَ: فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا؟» .

سیدنا انس سے روایت ہے کہ انہیں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو حالت غار میں عرض کیا اور ایک مرتبہ یوں بیان کیا کہ ہم غار میں تھے (میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی) اگر ان لوگوں میں سے کسی ایک نے اپنے قدموں کی جانب دیکھ لیا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا، رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابو بکر ! آپ کا ان دو کے بارے میں کیاخیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ سبحابہ و تعالیٰ ہو(2)

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ قثنا هَمَّامٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 23

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24

24 - نا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - عَنْ عُرْوَةَ، أَوْ عَمْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نَفَعَنَا مَالُ أَحَدٍ مَا نَفَعَنَا مَالُ أَبِي بَكْرٍ»

عروہ یا عمرہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابو بکر صدیق کے مال جتنا نفع ہمیں کسی اور کے مال سے نہیں ہوا ۔ (3)

عُرْوَةَ، أَوْ عَمْرَةَ، ← الزُّهْرِيِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Door · Hadith 24

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him