Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1716

1716 - قَالَ: وَحَدَّثَ أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ حَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ» فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا وَقَعَتِ الْفِتَنُ، فَإِنَّ الْإِيمَانَ بِالشَّامِ» .

ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے خؤاب میں دیکھا کہ گویا کتاب کے ستون کو اٹھائے ہوئے فرشتے شام کی طرف جا رہے ہیں اور جب فتنے آئیں گے تو ایمان شام کی طرف ہی ہو گا۔ (1)

النَّبِيُّ «إِذَا وَقَعَتِ الْفِتَنُ، فَإِنَّ الْإِيمَانَ بِالشَّامِ» ← «رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ حَمَلَتْ عَمُودَ الْكِتَابِ فَعَمَدَتْ بِهِ إِلَى الشَّامِ» ← وَحَدَّثَ أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ

Hadith 1716

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1717

1717 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ رَأَيْتُ عَمُودَ الْكِتَابِ احْتُمِلَ مِنْ تَحْتِ رَأْسِي، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ مَذْهُوبٌ بِهِ، فَأَتْبَعْتُهُ بَصَرِي فَعُمِدَ بِهِ إِلَى الشَّامِ، أَلَا وَإِنَّ الْإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الْفِتَنُ بِالشَّامِ» .

سیدنا ابو الد رداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں سو رہا تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ کتب کی روشنی میرے سر کی نیچے سے اٹھائی گئی ، میں نے گمان کیا وہ چلی گئی ہے ، میں نے اپنی نگا ہوں کو اس کی طرف کیا تو اس کی شام جانے کا ارادہ تھا اور خبردار ایمان اس وقت بھی شام میں ہو گا جب فتنے واقع ہو جائیں گے ۔ (2)

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ← بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1717

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1718

1718 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، فِي تَفْسِيرِ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ} [ق: 41] قَالَ سَعِيدٌ قَالَ قَتَادَةُ: " كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ يُنَادِي مِنْ صَخْرَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: وَهِيَ وَسَطُ الْأَرْضِ ".

قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالی کے اس فرمان ( واستمع یوم یناد المناد من مکان قریب)(سورۃ ق 14) کے بارے میں ہم کہتے ہیں : اس سے مراد بیت المقدس کا وہ پتھر ہے جہاں آواز دی جائے گی اور یہ زمین کا درمیانی حصہ ہے ۔ (3)

وَهِيَ وَسَطُ الْأَرْضِ ← قَتَادَةُ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّهُ يُنَادِي مِنْ صَخْرَةِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ← سَعِيدٌ، ← قَتَادَةَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ} [ق: ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، فِي تَفْسِيرِ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1718

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1719

1719 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَّ كَعْبًا كَانَ يَقُولُ: «هِيَ أَقْرَبُ الْأَرْضِينَ مِنَ السَّمَاءِ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا» .

سیدنا کعب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : یہ آسمان کے قریب زمین ہے جن کے درمیان اٹھارہ میل کا فاصلہ ہے ۔ (4)

«هِيَ أَقْرَبُ الْأَرْضِينَ مِنَ السَّمَاءِ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِيلًا» ← أَنَّ كَعْبًا كَانَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1719

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1720

1720 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ قِرَاءَةً، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: تَزَوَّجَ عَلِيٌّ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَتَفَاخَرَ ابْنَاهَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، فَقَالَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا: أَنَا خَيْرٌ مِنْكَ، وَأَبِي خَيْرٌ مِنْ أَبِيكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَسْمَاءَ: «أَقْضِي بَيْنَهُمَا» ، فَقَالَتْ لِابْنِ جَعْفَرٍ: «أَمَا أَنْتَ، أَيْ بُنَيَّ فَمَا رَأَيْتُ شَابًّا مِنَ الْعَرَبِ كَانَ خَيْرًا مِنْ أَبِيكَ، وَأَمَّا أَنْتَ فَمَا رَأَيْتُ كَهْلًا مِنَ الْعَرَبِ خَيْرًا مِنْ أَبِيكَ» قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ «مَا تَرَكْتِ لَنَا شَيْئًا، وَلَوْ قُلْتِ غَيْرَ هَذَا لَمَقَتُّكِ» قَالَ: فَقَالَتْ: «وَاللَّهِ إِنَّ ثَلَاثَةً أَنْتَ أَخَسُّهُمْ لَخِيَار» .

امام شبعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو انکی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ کا نکاح سیدنا علی المرتضیٰ سے ہوا تو ان (سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ ) کے بیٹے محمد بن ابی بکر اور محمد بن جعفر رحمۃ اللہ علیہ دونوں ایک دوسرے پر فخر کرتے ہوئے کہنے لگے : میں تم سے بہتر ہوں اور میرے باپ تمہارے باپ سے بہتر ہیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ اسما ء رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ان کے درمیان فیصلہ کرو تو سیدنا اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے فرمایا : بیٹا: تم تو میں نے کسی عربی نوجوان کو نہیں دیکھا جو تمہارے باپ سے بہتر ہو اور محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : بیٹا رہے تم تو میں نے کسی عربی عر رسیدہ کو نہیں دیکھا جو تمہارے باپ سے بہتر ہو ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے فرمایا : آپ نے ہمارے لیے کچھ نہیں چھوڑا ، اگر آپ اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ کرتیں تو میں آپ سے نفرت کرتا تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہنے لگیں : یقینا تینوں میں آپ کم بہتر ہیں ۔ (1)

الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي، وَابْنُ أَبِي خَالِدٍ، ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← عَلَى أَبِي هَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1720

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1721

1721 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي، وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، نا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ: أنا مُجَالِدٌ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: «مَا سَأَلْتُ عَلِيًّا شَيْئًا قَطُّ، بِحَقِّ جَعْفَرٍ إِلَّا أَعْطَانِيهِ» .

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سید نا علی رضی اللہ عنہ سے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے حق کا واسطہ ڈال کر جب بھی کوئی چیز مانگی تو انہوں نے مجھے ضرور عنایت کی ۔ (2)ٍ

«مَا سَأَلْتُ عَلِيًّا شَيْئًا قَطُّ، بِحَقِّ جَعْفَرٍ إِلَّا أَعْطَانِيهِ» ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← عَامِرٍ، ← مجالد ← يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ← مِنْهُ ← عَلَى أَبِي، وَقَدْ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1721

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1722

1722 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ. عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ» .

معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اہل شام میں فساد آئے گا تو تم لوگوں میں بھلائی نہیں رہی گی اور میری امت میں ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا ، اگر ان کو بے سہارا بھی چھوڑا جائے گا تب بھی وہ قیامت تک غالب رہے گا ۔ (3)

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1722

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1723

1723 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: نا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ: أنا عِمْرَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ «لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ فَإِنَّهُمُ الْجُنْدُ الْمُقَدَّمُ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اہل شام کو برا بھلا مت کہو وہ سب سے پہلا لشکر ہے ۔ (4)

«لَا تَسُبُّوا أَهْلَ الشَّامِ فَإِنَّهُمُ الْجُنْدُ الْمُقَدَّمُ» ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ، ← عِمْرَانُ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1723

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1724

1724 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: أنا ابْنُ عَوْفٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ فِي شَامِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» ، قَالُوا: وَفِي نَجْدِنَا قَالَ: " هُنَالِكَ الزَّلَازِلُ، وَالْفِتَنُ، وَمِنْهَا أَوْ قَالَ: بِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ".

سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت فرما ، اے اللہ ! ہمارے یمن میں برکت فرما ، کچھ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ہمارے نجد میں ، فرمایا : وہاں سے زلزلے آئیں گے اور فتنے اٹھیں گے اور وہاں سے شیطان کا سینگ اُبھرے گا ۔ (5)

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ عَوْفٍ ← أَبِي، قثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1724

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1725

1725 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ بِالشَّامِ جُنْدٌ، وَبِالْعِرَاقِ جُنْدٌ، وَبِالْيَمَنِ جُنْدٌ» قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: خِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالشَّامِ فَمَنْ أَبَى فَلْيَلْحَقْ بِيَمَنِهِ وَلْيَسْتَقِ بِغُدُرِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ تَوَكَّلَ لِي بِالشَّامِ، وَأَهْلِهِ» .

ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عنقریب ایک لشکر شام میں ہو گا اور ایک عراق میں اور ایک یمن میں ، ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اس وقت کیا کروں ؟ فرمایا شام چلے جانا اور اگر شام نہیں تو یمن چلے جانا اور اپنے تالاب سے پانی پینا ۔ اللہ نےاہل شام کو میرے لیے وکیل بنایا ہے ۔ (1)

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1725

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1726

1726 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، وَقَالَ مَرَّةً: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ يَوْمَ صِفِّينَ: اللَّهُمَّ الْعَنْ أَهْلَ الشَّامِ فَقَالَ: عَلِيٌّ «لَا تَسُبَّ أَهْلَ الشَّامِ جَمًّا غَفِيرًا فَإِنَّ بِهَا الْأَبْدَالَ، فَإِنَّ بِهَا الْأَبْدَالَ، فَإِنَّ بِهَا الْأَبْدَالَ» .

صفوان بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جنگ صفین کے موقع پر ایک شخص نے اہل شام پر لعنت بھیجی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اہل شام کے جم غفیر ( تمام شامیوں کی جماعت ) کو گالیاں مت دو کیونکہ ان میں کچھ ابدال (مقدمہ لوگ ) ہیں ان میں کچھ ابدال ہیں ، ان میں کچھ ابدال ہیں ۔ ( یہ بات تین رتبہ دہرائی )(2)

رَجُلٌ يَوْمَ صِفِّينَ: اللَّهُمَّ الْعَنْ أَهْلَ الشَّامِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُرَّۃُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1726

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ قَوْمٍ شَتَّى مِنْ أَهْلِ الشَّامِ · حديث 1727

1727 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ قثنا صَفْوَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَيْحٌ قَالَ: ذُكِرَ أَهْلُ الشَّامِ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَهُوَ بِالْعِرَاقِ فَقَالُوا: الْعَنْهُمْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: لَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَبْدَالُ يَكُونُونَ بِالشَّامِ وَهُمْ أَرْبَعُونَ رَجُلًا، كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ مَكَانَهُ رَجُلًا، يُسْقَى بِهِمُ الْغَيْثُ، وَيُنْتَصَرُ بِهِمْ عَلَى الْأَعْدَاءِ، وَيُصْرَفُ عَنْ أَهْلِ الشَّامِ بِهِمُ الْعَذَابُ» .

شریح رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس عراق میں اہل شام کا ذکر کیا گیا ، لوگوں نے کہا اے امیر المومنین ! کیا ہم ان (اہل شام ) پر لعنت بھجیں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں ! کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے : ابدال شام میں ہیں ، وہ چالیس بندے ہیں اگر کوئی ایک مرتا ہے تو دسرا اسکی جگہ پیدا ہو جاتا ہے ان ہی کی وجہ سے بارش ہوتی ہے ان ہی کی وجہ سے دشمن پر غلبہ پایا جاتا ہے اور انہی کی وجہ سے اللہ اہل شام کو محفوظ رکھتا ہے ۔ (3)

شُرَيْحٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ قثنا صَفْوَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1727

Daif

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him