Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1637

1637 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ قَالَ: قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟ قَالَ: «عَائِشَةُ» قَالَ: قُلْتُ إِنَّمَا أَقُولُ مِنَ الرِّجَالِ؟، قَالَ: «أَبُوهَا» .

سیدنا قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا عمرو بن العاص کو غزوہ ذات سلاسل کے لیے بھیجا ، انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ، پھر پوچھا : مردوں میں سے کون ہیں ؟ فرمایا : ان کے باپ (سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ)۔ (3)

عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قُلْتُ: ← بَعَثَ النَّبِيُّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ ← قَيْسٍ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1637

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1638

1638 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامًا، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ وَرَجُلٌ يَحْمِلُكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَيَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ ".

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم دو مرتبہ مجھے خواب میں دکھائی گئیں کہ ایک فرشتہ ریشمی کپڑے میں تیری تصویر لاتا رہا اور مجھ سے کہتا رہا : یہ آپ کی بیوی ہے میں نے کہا : اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو ہو کر رہے گا۔ (1)

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← ھِشَامًا ← أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1638

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1639

1639 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، وَابْنُ خَثَيْمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ لِابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَمُوتُ وَعِنْدَهَا ابْنُ أَخِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: هَذَا ابْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكِ وَهُوَ مِنْ خَيْرِ بَنِيكِ، فَقَالَتْ: دَعْنِي مِنَ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمِنْ تَزْكِيَتِهِ، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ فَقِيهٌ فِي دِينِ اللَّهِ، فَأْذَنِي لَهُ لِيُسَلِّمَ عَلَيْكِ، وَلْيُوَدِّعَكِ، قَالَتْ: فَأْذَنْ لَهُ إِنْ شِئْتَ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ فَدَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ سَلَّمَ وَجَلَسَ، فَقَالَ: " أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ يَذْهَبَ عَنْكَ كُلُّ أَذًى وَنَصَبٍ - أَوْ قَالَ: وَصَبٍ - وَتَلْقَى الْأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ، أَوْ قَالَ أَصْحَابَهُ، إِلَّا أَنَّ يُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ "، فَقَالَتْ: وَأَيْضًا، فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ: " كُنْتِ أَحَبَّ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَيُحِبُّ إِلَّا طَيِّبًا، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَوَاتٍ، فَلَيْسَ فِي الْأَرْضِ مَسْجِدٌ إِلَّا هُوَ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَسَقَطَتْ قِلَادَتُكِ لَيْلَةَ الْأَبْوَاءِ فَاحْتَبَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنْزِلِ وَالنَّاسُ مَعَهُ فِي ابْتِغَائِهَا، أَوْ قَالَ: فِي طَلَبِهَا حَتَّى أَصْبَحَ الْقَوْمُ مِنْ غَيْرِ مَاءٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [النساء: 43] الْآيَةَ. فَكَانَ فِي ذَلِكَ رُخْصَةٌ لِلنَّاسِ عَامَّةً فِي سَبَبِكِ، فَوَاللَّهِ إِنَّكَ لَمُبَارَكَةٌ "، فَقَالَتْ: دَعْنِي يَا ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ هَذَا، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ لَوْ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا

ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ ذکوان رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ کی مرض وفات میں بیمار پرسی کے لیے ان سے اجازت طلب کی اس وقت ان کے بھتیجے عبدا للہ بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ تھے ، انہوں نے کہا ( پھوپھی جان ) یہ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ آپ سے اجازت طلب کر رہے ہیں ؟وہ آپ کے اچھے بیٹے ہیں؟ سیدہ عائشہ نے کہا ابن عباس اور ان کے تزکیے سے مجھ کو دور کردو، عبداللہ بن عبد الرحمن رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کہا : (پھوپھی جان ) وہ کتاب اللہ کے قاری اور دین الہی کے فقیہ ہیں ۔ اس لیے آپ اجازت دے دیں تاکہ وہ آپ کو سلام کریں اور الوداع کریں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اگر تم چاہتے ہو تو ان کو اجازت دے دو، انہوں نے کہا : سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کو اجازت دی گئی تو وہ اندر تشریف لائے ، سلام کر کے بیٹھ گئے اور کہا : ام المومنین ! آپ کو بشارت ہو آپ کے اور آپ کی تمام طرح کی تکالیف کے درمیان یا یہ کہا آپ سے بے حد محبت رکھنے والے سیدنا محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام سے ملاقات میں بس اتنا ہی فاصلہ رہ گیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہا کی روح آپ کے جسم سے الگ ہوجائے ۔ پھر کہنے لگے ام المومنین ! آپ ﷺ نبی کریم ﷺ کو سب بیویوں سے بڑھ کر محبوب تھیں ، یہ پیار آپ رضی اللہ عنہا سے آپ کی پاکیزگی کی وجہ سے تھا اور اللہ نے آپ رضی اللہ عنہا کی برات و پاکیزگی ساتوں آسمانوں کے اوپر سے نازل فرمائی اور آج روئے زمین پر کوئی مسجد ایسی نہیں کہ جس میں وہ آیات دن رات بطور تلاوت نہ پڑھی جا رہی ہوں ، مقام ابو اء کی جس رات آپ کا ہار گم ہو گیا تھا تو تلاش کی غرض سے آپ کو خیمے میں رکنا پڑا، یہاں تکہ صبح نماز فجر کا وقت ہو گیا تھا اور پانی نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت نازل فرمائی (فتیممو اصعید ا طیبا الا یۃ )( اگر پانی نہ ہو تو تیمم کرو) یہ آپ ہی کی وجہ سے لوگوں کو تیمم کی رخصت دی گئی ۔ پس اللہ کی قسم ! آپ بہت مبارک ہیں ۔ تو ( یہ سب کچھ سننے کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کہنے لگیں : ابن عباس ! ان باتوں کو چھوڑ دو۔ اللہ کی قسم ! میری تو خواہش ہے کہ کاش بالکل بھلا دی گئی ہوتی ۔ (1)

ذَكْوَانَ، مَوْلَى عَائِشَةَ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← مَعْمَرٌ، وَابْنُ خَثَيْمٍ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1639

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1640

1640 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ «إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، لِتَسْعَدِي وَإِنَّهُ لَاسْمُكَ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي» .

لیث رحمۃ اللہ علیہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ کا نام آپکی ولادت سے پہلے ہی تھا ۔ لیکن پھر بھی نام رکھا گیا تاکہ نیک بختی برقرار رہے ۔ (2)

ابْنُ عَبَّاسٍ «إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، لِتَسْعَدِي وَإِنَّهُ لَاسْمُكَ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي» ← رَجُلٌ: ← لَيْثٌ، ← أَبِي، قثنا سُفْيَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1640

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1641

1641 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجْرِي حِينَ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ» .

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سر مبارک بہ وقت وفات میری گود میں تھا۔ (3)

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ فِي حِجْرِي حِينَ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← أَبِيهِ ← أَبِي، قثنا يَعْقُوبُ قثنا أَبِي، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1641

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1642

1642 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ دُرْجًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ وَنَظَرَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ فَلَمْ يَعْرِفُوا قِيمَتَهُ فَقَالَ: أَتَأْذَنُونَ لِي إِنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ لِحُبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهَا؟ فَقَالُوا: نَعَمْ، فَأَتَى بِهِ عَائِشَةَ فَفَتَحَتْهُ وَقِيلَ لَهَا: هَذَا أَرْسَلَ بِهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَتْ: «مَاذَا فَتْحَ عَلَيَّ ابْنُ الْخَطَّابِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا تُبْقِنِي لِعَطِيَّتِهِ لِقَابِلٍ» .

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا غلا م ذاکوان ان سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ڈبیہ لائی گئی انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اس کی طرف دیکھا مگر اسکی قیمت نہ پہنچان سکے تو انہوں نے کہا : کیا تم مجھے اس کی اجازت دیتے ہو کہ میں اس کو عائشہ کےپاس بھیج دوں کیونکہ انہی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو بہت زیادہ محبت تھی ، انہوں نے کہا جی ہاں ! تو اسکو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لایا گیا پس انہوں نے اسے کھولا اور انہیں بتایا گیا : اسے سیدنا عمر بن خطاب نے بھیجا ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ کے بعد ابن خطاب نے میرے لیے کیا عطیات کھول کے رکھ دیے ہیں ؟ اے اللہ ! مجھے ان کے آئندہ عطیات تک باقی نہ رکھنا۔(4)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1642

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1643

1643 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ» .

سیدنا مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ کو باقی عورتوں پر وہ فضیلت حاصل ہے جوثرید کو باقی تمام کھانوں پر حاصل ہے ۔ (5)

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قثنا سُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1643

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1644

1644 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَلَى عَائِشَةَ قُبَيْلَ مَوْتِهَا وَهِيَ مَغْلُوبَةٌ فَقَالَتْ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُثْنِي عَلَيَّ، فَقِيلَ لَهَا: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ، وَمَنْ وُجُوهِ الْمُسْلِمِينَ قَالَتِ: ائْذَنُوا لَهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ تَجِدِينَكِ يَا أُمَّهْ؟» قَالَتْ: بِخَيْرٍ إِنِ اتَّقَيْتُ قَالَ: «فَإِنَّكَ بِخَيْرٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِنِ اتَّقَيْتِ، زَوْجَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْكِحْ بِكْرًا غَيْرَكَ وَنَزَلَ عُذْرُكِ مِنَ السَّمَاءِ» ، فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ خِلَافَهُ، فَقَالَتْ: دَخَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَثْنَى، وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا.

ابن ابی ملیکہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے قبل از وفات اجازت طلب کی جبکہ بیماری پر غلبہ پا چکی تھی ، انہوں نے کہا مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تعریفیں شروع کر دیں گے تو ان سے کہا گیا : وہ رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد اور سرکردہ مسلمانوں میں سے ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نےکا : اچھا ان کو اجازت دے دو ، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ماں جی ! خود کو کیسا محسوس کر رہی ہیں ؟کہا : اگر پرہیز گار ہوں تو بہتر ہوں ابن عبا س رضی اللہ عنہ نےکہا آپ پرہیز گار ہیں ، ان شاء اللہ بہتر ہی رہیں گی کیونکہ آپ ﷺ کی ایسی زوجہ محترمہ ہیں کہ آپ کے علاوہ آپ ﷺ نے کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی اور آپ کی برات آسمان سے نازل ہوئی ہے ان کے بعد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے تو سیدہ عائشہ نےکہا : ابن عباس آئے تھے اورمیری تعریف کر رہے تھے ۔ حالانکہ میری تو خواہش ہے کہ کاش میں اس وقت لوگوں کی یاد سے بھلا دی گئی ہوتی ۔ (1)

إِنِّي أَخْشَى ← اسْتَأْذَنَ ابْنُ عَبَّاسٍ، عَلَى عَائِشَةَ قُبَيْلَ مَوْتِهَا وَهِيَ مَغْلُوبَةٌ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1644

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1645

1645 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قثنا زَائِدَةُ نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى الطَّعَامِ» .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عائشہ کو باقی عورتوں پر وہ فضیلت حاصل ہے جو ثرید کی باقی تما کھانوں پر حاصل ہے ۔ (2)

أَنَسًا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ، ← أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قثنا زَائِدَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1645

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1646

1646 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ قثنا زَائِدَةُ قَالَ: نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ كَانَ أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ» .

موسیٰ بن طلحہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی فصاحت والا نہیں دیکھا۔ (3)

«مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ كَانَ أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ» ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبِي، قثنا مُعَاوِيَةُ قثنا زَائِدَةُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1646

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1647

1647 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَرِيبِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ: رَأَى عَمَّارٌ يَوْمَ الْجَمَلِ جَمَاعَةً، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: رَجُلٌ يَسُبُّ عَائِشَةَ وَيَقَعُ فِيهَا، قَالَ: فَمَشَى إِلَيْهِ عَمَّارٌ، فَقَالَ: «اسْكُتْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا، أَتَقَعُ فِي حَبِيبَةِ رَسُولِ اللَّهِ إِنَّهَا لَزَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ» .

عریب بن حمید رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے جمل کے دن ایک جماعت کو دیکھا ، پوچھا یہاں کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : ایک آدمی ہے جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہہ رہا ہے تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اسکی طرف بڑھے اور کہا : خاموش ہو جا اے شرمندہ اور دھتکارے ہوئے شخص۔ کیا تم حبیہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف زبان درازی کرتے ہو؟ یہ تو جنت میں بھی رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ہو ں گی ۔ (1)

فَمَشَى إِلَيْهِ عَمَّارٌ، ← رَجُلٌ يَسُبُّ عَائِشَةَ وَيَقَعُ فِيهَا، ← «مَا هَذَا؟» ← رَأَى عَمَّارٌ يَوْمَ الْجَمَلِ جَمَاعَةً، ← عَرِيبِ بْنِ حُمَيْدٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1647

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1648

1648 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ، عَمَّارًا، وَالْحَسَنَ، إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ، فَخَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَمْ إِيَّاهَا» .

ابووائل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عمار اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو کوفہ بھیجا تا کہ وہ لوگوں کا ایک گروہ تیار کریں تو سید نا عمار رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا : میں جانتا ہوں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ کی دنیا و آخرت میں زوجہ محترمہ ہیں لیکن ابھی اللہ تعالیٰ نے تمہیں آزمایا ہے کہ تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ساتھ دیتے ہو یا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا۔ (2)

لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ، عَمَّارًا، وَالْحَسَنَ، إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ، فَخَطَبَ عَمَّارٌ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْحَكَمِ ← أبي قثنا محمد بن جعفر قثنا شعبة ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1648

Sahih

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him