فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَغَيْرِ ذَلِكَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ · حديث 1625
1625 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ. أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي عَائِشَةَ وَعَابَهَا، فَقَالَ: لَهُ عَمَّارٌ «وَيْحَكَ مَا تُرِيدُ مِنْ حَبِيبَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا تُرِيدُ مِنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا أَشْهَدُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ» ، بَيْنَ يَدَيْ عَلِيٍّ وَعَلِيٌّ سَاكِتٌ
ابو اسحاق ؒ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما پر لعن طعن شروع کیا تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اس کو کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو تو حبیب رسولﷺسے کیا چاہتا ہے؟ اور تم ام المومنین(سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما) سے کیا چاہتے ہو؟ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنت میں بھی نبی کریم ﷺ کی بیوی ہوں گی، یہ سب کچھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ہوا اور وہ خاموش رہے۔ (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خاموشی بتا رہی تھی کی عمار نے بلکل درست فرمایا ہے، یہ وضاحت ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ ناصبی اسے پڑھ کر یہ نتیجہ اخذ نہ کرلے کہ نعوذباللہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں سیدہ عائشہ کو برا بھلا کہا جار ہا تھا وہ خاموش رہے)۔ (1)
أَبِي إِسْحَاقَ. أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي عَائِشَةَ وَعَابَهَا، ← أَبِي، قثنا الْمُطَّلِبُ بْنُ زِيَادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen · Hadith 1625
