فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1547
1547 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ عُمَرَ هَهُنَا: «إِنِّي بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ عَمَّارًا أَمِيرًا، وَبِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مُعَلِّمًا وَوَزِيرًا، وَهُمَا مِنَ النُّجَبَاءِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَاسْمَعُوا لَهُمَا وَأَطِيعُوا، وَآثَرْتُكُمْ بِابْنِ أُمِّ عَبْدٍ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ عَلَى بَيْتِ مَالِكُمْ، وَرِزْقُهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةٌ، وَبَعَثَ حُذَيْفَةَ، وَابْنَ حُنَيْفٍ عَلَى السَّوَادِ، فَجَعَلَ لِعَمَّارٍ شَطْرَهَا وَبَطْنَهَا وَجَعَلَ الشَّطْرَ الْبَاقِي بَيْنَ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ» .
حارثہ بن مضرب ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط ہمیں پڑ ھ کرسنایا گیا۔ جس میں انہوں نے لکھا تھا: میں نے تم پر عمار رضی اللہ عنہ کو امیر اور عبد کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط ہمیں پڑ ھ کرسنایا گیا۔ جس میں انہوں نے لکھا تھا: میں نے تم پر عمار رضی الل اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلم اور وزیر بنا کر بھیجا ہے۔ یہ رسول اللہﷺ کے مخلص صحابی اور اہل بدر میں سے ہیں ۔ پس تم ان دونوں کی بات سنو اور اطاعت کرو، میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اپنے آپ پر ترجیح دی ہے۔ میں نے بیت المال پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نگران مقرر کیا ہے، اُن کا حق روزانہ ایک بکری ہے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابن حنیف رضی اللہ عنہ کو میں نے اہل سواد (عراق) والوں پر بھیجا ہے اور عمار رضی اللہ عنہ کے لیے اس کا درمیان آدھا حصہ ہے، باقی حصہ ان تینوں میں برابر ہے۔(3)
حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ
Hadith 1547
