Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1547

1547 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ عُمَرَ هَهُنَا: «إِنِّي بُعِثْتُ إِلَيْكُمْ عَمَّارًا أَمِيرًا، وَبِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مُعَلِّمًا وَوَزِيرًا، وَهُمَا مِنَ النُّجَبَاءِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ فَاسْمَعُوا لَهُمَا وَأَطِيعُوا، وَآثَرْتُكُمْ بِابْنِ أُمِّ عَبْدٍ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ عَلَى بَيْتِ مَالِكُمْ، وَرِزْقُهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةٌ، وَبَعَثَ حُذَيْفَةَ، وَابْنَ حُنَيْفٍ عَلَى السَّوَادِ، فَجَعَلَ لِعَمَّارٍ شَطْرَهَا وَبَطْنَهَا وَجَعَلَ الشَّطْرَ الْبَاقِي بَيْنَ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ» .

حارثہ بن مضرب ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط ہمیں پڑ ھ کرسنایا گیا۔ جس میں انہوں نے لکھا تھا: میں نے تم پر عمار رضی اللہ عنہ کو امیر اور عبد کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط ہمیں پڑ ھ کرسنایا گیا۔ جس میں انہوں نے لکھا تھا: میں نے تم پر عمار رضی الل اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلم اور وزیر بنا کر بھیجا ہے۔ یہ رسول اللہﷺ کے مخلص صحابی اور اہل بدر میں سے ہیں ۔ پس تم ان دونوں کی بات سنو اور اطاعت کرو، میں نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اپنے آپ پر ترجیح دی ہے۔ میں نے بیت المال پر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نگران مقرر کیا ہے، اُن کا حق روزانہ ایک بکری ہے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابن حنیف رضی اللہ عنہ کو میں نے اہل سواد (عراق) والوں پر بھیجا ہے اور عمار رضی اللہ عنہ کے لیے اس کا درمیان آدھا حصہ ہے، باقی حصہ ان تینوں میں برابر ہے۔(3)

حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ

Hadith 1547

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1548

1548 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، «لَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ مِنْ أَقْرَبِهِمْ عِنْدَ اللَّهِ وَسِيلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ» .

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اصحاب محمدﷺ سے یہ علم یاد کیا گیاہے کہ روزِ قیامت ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کو سب سے بڑھ کر اللہ کو قرب حاصل ہوگا۔ (4)

شَقِيقٍ، ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1548

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1549

1549 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ: مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ ". قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو لَا أَزَالُ أُحِبُّهُ بَعْدَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِهِ

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان چار بندوں ابن مسعود، اُبی بن کعب، معاذ بن جبل اور ابو حذیفہ کے غلام سالم سے قرآن سیکھو۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس وقت سے مجھے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے محبت ہے۔کیونکہ رسول اللہﷺ نے ان کا نام لیا ہے۔ (1)

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← مَسْرُوقٍ ← شَقِيقٍ، ← أَبِي، قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1549

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1550

1550 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ فَأَقْبَلَ عَبْدُ اللَّهِ فَدَنَا مِنْهُ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ، فَكَلَّمَهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ عُمَرُ: «كُنَيْفٌ مُلِئَ عِلْمًا»

زید بن وہب ؒ سے رواہت ہے کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔ اتنے میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور وہ ان کے قریب بیٹھ کر باتیں کرنے لگے جب باتیں کرکے چلے گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابن مسعود چھوٹے سے جسم والے ہیں مگر علم سے بھرے ہوئے ہیں۔ (2)

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1550

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1551

1551 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، «أَخِلَّائِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ»

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس امت میں سے تیں بندے میرے دوست ہیں: ابوبکر ، عمر اور ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ۔ (3)

أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1551

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1552

1552 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَسَنٌ، قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَجْتَنِي سِوَاكًا مِنَ الْأَرَاكِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتِ الرِّيَاحُ تَكْفَؤُهُ وَكَانَ فِي سَاقَيْهِ دِقَّةٌ قَالَ: فَضَحِكَ الْقَوْمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسِي فِي يَدِهِ، لَهُمَا أَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ أُحُدٍ»

زر بن حبیش ؒ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کیکر کے درخت سے رسول اللہ ﷺ کے لیے مسواک کاٹ رہےتھے، وہ پنڈلیوں کے ہلکے پن کی وجہ سے درخت کی شاخوں سمیت ہل رہے تھے تو صحابہ کرام ہنس پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ ٹانگیں قیامت کےدن ترازو میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی۔ (4)

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← أَبِي، قثنا حَسَنٌ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1552

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1553

1553 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنَّ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ» .

عمرو بن حارث بن مطلق ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ قرآن اس طرح پڑھے جیسے نازل ہوا ہے پس اس چاہیے کہ وہ ابن مسعود کی قراٰت پڑھے۔ (1)

عمرو بن الحارث بن المصطلق ← أَبِيهِ ← عِيسَی بْنِ دِينَارٍ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1553

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 1554

1554 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، بَشَّرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمررضی اللہ عنہ دونوں نے بشارت دی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص چاہتا ہے کہ قرآن اس طرح پڑھے جس طرح نازل ہوا ہے پس اس چاہیے کہ وہ ابن مسعود کی قراٰت پڑھے۔ (2)

عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بَشَّرَاهُ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← أَبِي، قثنا أَبُو بَكْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1554

Hassan

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him