Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1497

1497 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قثنا يَزِيدُ بْنُ أُسَامَةَ اللَّيْثِيُّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ يُدْفَنُ «لَهَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ شُدِّدَ عَلَيْهِ ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ» .

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن بوقت تدفین رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس نیک بندے (سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ) کی وفات پر اللہ تعالی کا عرش بھی جھوم اٹھا اور آسمانوں کے دروازے کھل گئے ان پر تھوڑی سختی ہوئی پھر دور ہو گئی ۔ (3)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قثنا يَزِيدُ بْنُ أُسَامَةَ اللَّيْثِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1497

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1498

1498 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَنَسٍ أَهْدَى أُكَيْدِرُ دُومَةً لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْ حُسْنِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ أَوْ أَحْسَنُ مِنْهَا» .

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دومتہ الجندل کے بادشاہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک ریشمی جبہ بطور ہدیہ بھیجا ، لوگوں نے اس کی خوبصورتی سے بڑا تعجب کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سعد کے تو رومال ہی جنت میں اس سے کئی گناہ بہتر ہیں ۔ (1)

أَنَسٍ أَهْدَى أُكَيْدِرُ دُومَةً لِلنَّبِيِّ حُلَّةً فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْ حُسْنِهَا، ← ابْنِ جُدْعَانَ، ← أَبِي، قثنا سُفْيَانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1498

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1499

1499 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: لَمَّا قَضَى سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ رَجَعَ فَانْفَجَرَتْ يَدُهُ دَمًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقْبَلَ فِي نَفَرٍ مَعَهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ رَأْسَهُ فِي حِجْرِهِ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّ سَعْدًا قَدْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِكَ، وَصَدَّقَ رُسُلَكَ وَقَضَى الَّذِي عَلَيْهِ، فَاقْبَلْ رُوحَهُ بِخَيْرٍ مَا تَقَبَّلْتَ بِهِ الْأَرْوَاحَ» .

اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ ایک انصاری آدمی سے روایت ہے کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جب بنو قریظہ پر حکم صادر فرما کر واپس آئے اس وقت ان کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا جب یہ بات آپ نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ ایک لشکر کے ساتھ ان کے پاس آئے اور انکا سر اپنی گود میں رکھا اور فرمایا : اے اللہ ! سعد نے تیرے راستے میں جہاد کیا ہے تیرے رسول کی تصدیق کی ہے اور اچھا فیصلہ کیا ہے پس انکی روح کو خیر سے قبول فرما لے جس طرح کہ نیک روحوں کو قبول کیا جاتا ہے ۔ (2)

رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1499

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1500

1500 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ قَالَ: أنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا يَرْقَأُ دَمْعُكِ وَيَذْهَبُ حُزْنُكِ بِأَنَّ ابْنَكَ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ لَهُ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ» .

اسماء بنت یزید بن سکن سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی موت پر ان کی ماں بہت روئی تو نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا : تم آپنے آنسوؤں کو کب روکو گی اور تمہارا غم کب ختم ہو گا ۔ حالانکہ آپ کا بیٹا وہ پہلا شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دیکھ کر مسکرایا اور اس کا عرش بھی جھوم اٹھا ۔ (3)

لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ صَاحَتْ أُمُّهُ، ← امْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ ← إسحاق بن راشد ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1500

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1501

1501 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ قثنا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً، وَلَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجِيًا مِنْهَا، نَجَا مِنْهَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ» .

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا یقینا قبر کا ایک ایسا جھٹکا ہے اگر کوئی اس سے بچ سکتا تو سعد اس سے بچتے ۔(4)

النَّبِيِّ ← عَائِشَةَ ← نَافِعٍ ← شُعْبَةَ قثنا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1501

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1502

1502 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: لَمَّا انْفَرَجَ جُرْحُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلْتِ الدِّمَاءُ تَسِيلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: وَاكَسْرَ ظَهْرِيَاهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ يَا أَبَا بَكْرٍ» ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ.

عمر وبن شرحبیل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا زخم پھٹا اور خون بہنے لگا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے چمٹ گئے اور انکا خون رسول اللہ ﷺ پر بہہ رہا تھا سیدان ابو بکر رضی اللہ علیہ آئے وہ کہنے لگے ہائے پیٹھ کی رگ پھٹنے سے یہ بہہ رہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابو بکر ایسا مت کہو پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے : انا اللہ وانا الیہ راجعون ۔ (1)

إليه راجعون ← لِلَّهِ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «مَهْ يَا أَبَا بَكْرٍ» ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ ← وَاكَسْرَ ظَهْرِيَاهُ، ← جَعَلْتِ الدِّمَاءُ تَسِيلُ عَلَى النَّبِيِّ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ← لَمَّا انْفَرَجَ جُرْحُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ ← عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1502

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1503

1503 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ «سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ كَانَ حَامِلَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ وَغَيْرِهَا» .

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بدر اور دوسرے غزوات میں انصار کا جھنڈا اٹھا رکھا تھا۔ (2)

أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1503

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1504

1504 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا بَهْزٌ قَالَ نا حَمَّادٌ قَالَ: أنا سِمَاكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ قَالَ: فَدَعَا لَهُ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدَهُ مَرَّتْ بِهِ رِيحٌ طَيِّبَةٌ قَالَ: فَقَالَ: «هَذَا رُوحُ سَعْدٍ قَدْ مُرَّ بِهِ» قَالَ: فَلَمَّا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَعْدًا كَانَ رَجُلًا بَادِنًا وَإِنَّا وَجَدْنَاهُ خَفِيفًا قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَحَسِبْتُمْ أَنَّكُمْ حَمَلْتُمُوهُ وَحْدَكُمْ، أَعَانَتْكُمْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ» .

عبداللہ بن شداد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ آپ ﷺ سیدنا سعد رضی اللہ علیہ کی بیمار پرستی کےلیے تشریف لائے اور ان کے لیے دعا فرمائی جب آپ ﷺ ان کے پاس آٹھ کر چلے گئے تو خوشبو دار ہوا چل پڑی نبی کریم ﷺ نے فرمایا : یہ ہوا سعد کی روح کے پاس سے گزر کر آئی ہے جب سیدنا سعد رضی اللہ علیہ کو قبر میں اتار ا گیا تو صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ سعد تو بھاری جسم والے تھے لیکن ہمیں بہت ہلکے محسوس ہوئے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارا گمان ہے کہ صرف تنہا تم ان کوکندھوں پر اٹھا رکھا تھا ؟ حالانکہ تمہارے ساتھ فرشتے بھی معاونت کر رہے تھے ۔ (3)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← سِمَاكٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبِي، قثنا بَهْزٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1504

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1505

1505 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ قَالَ: أنا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ جَدَّتِهِ رُمَيْثَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَشَاءُ أَنْ أُقَبِّلَ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِنْ قُرْبَى مِنْهُ لَفَعَلْتُ يَقُولُ «اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ يُرِيدُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ يَوْمَ تُوُفِّيَ» .

رمیثہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اور اگر میں آپ ﷺ کے شانوں کے درمیان موجود مہرنبوت کو چومنا چاہتی تو قرابت داری کے لحاظ سے ایسا کر لیتی ۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے ۔ سعد بن معاذ کی موت سے رب رحمن کا عرش بھی جھوم اٹھا ۔(4)

«اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ يُرِيدُ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ يَوْمَ تُوُفِّيَ» ← جَدَّتِهِ رُمَيْثَةَ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← أَبِي ← يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، ← أَبِي، قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1505

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ رَحِمَهُ اللَّهُ · حديث 1506

1506 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: مَرَّ عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَرَجُلٍ مِنْ قَيْسٍ قَالَ: فَجَعَلَ الْأَسَدِيُّ يَتَفَلَّتُ مِنْهُ، وَلَا يَدَعُهُ الْآخَرُ قَالَ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُعَرِّفَكَ قَوْمَكَ وَتَعْرِفُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ لَهُ عَامِرٌ: دَعِ الرَّجُلَ، قَالَ: لَا حَتَّى أَعْرِفَهُ قَوْمَهُ وَنَفْسَهُ قَالَ: دَعْهُ فَلَعَمْرِي إِنَّهُ لَيَجِدُ مَفْخَرًا لَوْ كَانَ يَعْلَمُ قَالَ: فَأَبَى قَالَ: فَاجْلِسَا وَجَلَسَ مَعَهُمَا الشَّعْبِيُّ فَقَالَ: يَا أَخَا قَيْسٍ «أَكَانَتْ فِيكُمْ أَوَّلُ رَايَةٍ عُقِدَتْ فِي الْإِسْلَامِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ فِي بَنِي أَسَدٍ قَالَ: «فَهَلْ كَانَ فِيكُمْ سُبُعُ الْمُهَاجِرِينَ يَوْمَ بَدْرٍ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ فِي بَنِي أَسَدٍ قَالَ: «فَهَلْ كَانَ فِيكُمْ أَوَّلُ غَنِيمَةٍ كَانَتْ فِي الْإِسْلَامِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: فَإِنَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَتْ فِي بَنِي أَسَدٍ قَالَ: «فَهَلْ كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ بَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ فِي بَنِي أَسَدٍ قَالَ: «فَهَلْ كَانَتْ فِيكُمُ امْرَأَةٌ زَوَّجَهَا اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ، كَانَ الْخَاطِبُ رَسُولُ اللَّهِ، وَالسَّفِيرُ جِبْرِيلُ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ فِي بَنِي أَسَدٍ، خَلِّ عَنِ الرَّجُلِ، فَلَعَمْرِي أَنَّهُ لَيَجِدُ مَفْخَرًا لَوْ كَانَ يَعْلَمُ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ وَتَرَكَهُ، «عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ الَّذِي بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ رَايَةٍ، وَعُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الَّذِي بَشَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ» .

معمر رحمۃ اللہ علیہ ایک شخص سے بیان کرتے ہیں کہ امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ ایک دفعہ بنو ا سد اور بنو قیس کے دو آدمیوں کے پاس سے گزررہے تھے ، اسدی جان چھڑا رہا تا مگر قیسی نہ چھوڑنے کی قسم کھائے بیٹھا تھا کہ پہلے اپنا اور اپنی قوم کا تعارف کرواؤ ۔قیسی آدمی سے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : اس کو چھوڑ دو ، مجھے عمر کی قسم ! یقینا اس کی قوم قابل فخر ہے کاش یہ اس ( کے کارناموں) کو جانتا ، مگر قیسی نے چھوڑننے سے انکار کیا پس ام شبعی رحمۃ اللہ علیہ ان دونوں کے ہم مجلس بنے تو انہوں نے قیسی سے پوچھا : کیا تم بنو قیس میں سے کسی نے اسلام کا جھنڈا تھاما ہے ؟ قیسی نے کہا : نہیں ! انہوں نے کہا یہ کام بھی بنو اسد مین ہوا ہے ، پھر پوچھا : کیا تم میں سے سات مہاجرین بدر کے مو قع پر شریک تھے ؟ قیسی نے کہا : نہیں انہوں نے کہا : بنو اسد میں تھے پھر پوچھا کیا تم کو اسلام میں پہلا مال غنیمت ملا تھا اس نے کہانہیں انہوں نے کہا یہ کام بھی بنو اسد میں ہوا تھا :پھر پو چھا : کیا تم میں سے کسی شخص کو جنت کی خوشخبری ملی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ؛ یہ خوشخبری بنو اسد کو ملی ہے ، پھر پوچھا : تم میں سے کسی عورت کا نکاح اسمان سے ( یعنی بحکم الہی) ہوا ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نکاح کرنے والے ہوں ۔اور سیدنا جبرائیل سفیر ہوں ، کہا نہیں یہ کام بنو اسد میں ہوا ہے :پھر کہا اب اس شخص کو چھوڑ دو میری عمر کی قسم ! واقع ہی یہ رقوم بڑی فخر والی ہے کاش یہ ان کارموناں کو جانتا ، قیسی اس کو چھوڑ کر چلا گیا ، پس سیدنا عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ اسدی کو نبی کریم ﷺ نے سب پہلے اسلام کا جھنڈا تھما کر بھیجا تھا اور سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ (اسدی ) کو نبی کریم ﷺ نے جنت کی بشارت دی تھی ۔ (1)

دَعْهُ فَلَعَمْرِي ← لَا حَتَّى أَعْرِفَهُ قَوْمَهُ وَنَفْسَهُ ← لَهُ عَامِرٌ: دَعِ الرَّجُلَ، ← لَا وَاللَّهِ حَتَّى أُعَرِّفَكَ قَوْمَكَ وَتَعْرِفُ مِمَّنْ أَنْتَ؟ ← فَجَعَلَ الْأَسَدِيُّ يَتَفَلَّتُ مِنْهُ، وَلَا يَدَعُهُ الْآخَرُ ← مَرَّ عَامِرٌ الشَّعْبِيُّ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَرَجُلٍ مِنْ قَيْسٍ ← رَجُلٌ: ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him · Hadith 1506

Daif

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him