Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1422

1422 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» .

سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والا شخص انصار سے کبھی بھی بغض نہیں رکھتا ۔ (1)

لاَ يُبْغِضُ الأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِر ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← ذَكْوَانَ، ← سُلَیْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1422

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1423

1423 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالسُّرْعَةُ فِي الْيَمَنِ» . [ص:796]

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بادشاہت قریش ، قضاۃ انصار ، اذان حبشیوں اور نیکیوں میں سبقت اہل یمن میں رہے گی ۔ (2)

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو مَرْيَمَ أَنَّهُ ← أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1423

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1424

1424 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا رَجُلٌ، قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ «وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ»

ابوزاہریہ رحمۃ اللہ علیہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں یہ روایت بھی مذکورہ روایت ہی کی مثل ہے مگر اس میں یہ الفاظزیادہ ہیں کہ امانت داری قبیلہ ازد میں ہے ۔ (3)

النَّبِيِّ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ زَادَ «وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ» ← أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ← أَبِي، قثنا رَجُلٌ، قثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1424

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1425

1425 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ قَالَ: فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ: «اهْتِفْ بِالْأَنْصَارِ وَلَا يَأْتِينِي إِلَّا أَنْصَارِيٌّ» ، فَهَتَفْتُ بِهِمْ، فَجَاءُوا فَأَطَافُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرَوْنَ إِلَى أَوْبَاشِ قُرَيْشٍ وَأَتْبَاعِهِمْ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: بِيَدَيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى: احْصُدُوهُمْ حَصْدًا حَتَّى تُوَافُونِي بِالصَّفَا " قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَانْطَلَقْنَا فَمَا يَشَاءُ أَحَدٌ مِنَّا أَنْ يَقْتُلَ مِنْهُمْ مَا شَاءَ، وَمَا أَحَدٌ يُوَجِّهُ إِلَيْنَا مِنْهُمْ شَيْئًا قَالَ: فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ، لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ» قَالَ: فَغَلَقَ النَّاسُ أَبْوَابَهُمْ قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحَجَرِ، فَاسْتَلَمَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ أَتَى الصَّفَا فَعَلَاهُ، حَيْثُ يَنْظُرُ إِلَى الْبَيْتِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يَذْكُرُ اللَّهَ بِمَا شَاءَ أَنْ يَذْكُرَهُ وَيَدْعُوهُ، وَالْأَنْصَارُ تَحْتَهُ قَالَ: يَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكْتُهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ، وَرَأْفَةٌ فِي عَشِيرَتِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَجَاءَ الْوَحْيُ، وَكَانَ إِذَا جَاءَ لَمْ يَخْفَ عَلَيْنَا، فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ حَتَّى يَقْضِيَ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَقُلْتُمْ: أَمَّا الرَّجُلُ فَأَدْرَكْتُهُ رَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ وَرَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ؟ " قَالُوا: قُلْنَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَمَا اسْمِي إِذًا، كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ، فَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ» قَالَ: فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَبْكُونَ، وَيَقُولُونَ: وَاللَّهِ مَا قُلْنَا الَّذِي قُلْنَا إِلَّا الضَّنَّ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيُعْذِرَانِكُمْ» .

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو ارشاد فرمایا : اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! میں نے عرض کیا : حاضر ہوں یا رسول اللہ ﷺ ! ارشاد فرمایا : انصار کو آواز دو ، وہاں میرے اور انصار کے علاوہ اور کوئی نہیں آئے گا۔ جب میں نے آواز دی تو سارے آگئے اور رسول اللہ ﷺ کے اردگرد جمع ہوئے ۔ تو ارشاد فرمایا : کیا تم قریش کے سرداروں اور ان کے پیروکاروں کو دیکھ رہے ہو ؟ پھر اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر اشارہ فرمایا کہ اب ان کو کاٹ دو یہاں تک کہ مجھے صفا پہاڑ پر ملو ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا : ہم چلے گئے جس کو چاہا ہم نے قتل کیا ان میں سے کسی نے ہماری طرف متوجہ ہونے کی جرات نہیں کی ۔ سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! قریش کا بہت برا حصہ کام آ گیا ، آج کے بعد قریش کو وجود مٹ گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے اپنا دروازہ بند کر لیا تو یقینا وہ امن میں رہے گا اور جو ابو سفیان کے گھر پناہ لے وہ بھی امن میں رہے گا تو لوگوں نے دروازے بند کر لیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے حجرا سود کے سامنے آکر اسے استلام (چھونا ) کیا ، راوی نے مزید بیان کیا کہ پھر آپ ﷺ صفا پر تشریف لے گئے ، بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر ہاتھ بلند کیا اور اللہ کا ذکر کیا جتنا ہو سکا اور دعا ئیں مانگیں اور انصار نیچے تھے ، راوی کہتے ہیں : بعض بعض سے کہنے لگے : آپ ( سیدنا محمد مصطفی ﷺ ) کو اپنے شہر کی رغبت اور رشتہ داری نے متاثر کر دیا ہے ،سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو ہم پر مخفی نہ کرتے اور نہ ہم میں کوئی آپ ﷺ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا جب تک وحی پوری نہ ہوتی ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم لوگوں نے کہا ہے کہ آپ ﷺ کو اپنے شہر کی رغبت اور رشتہ داری کی محبت نے گھیر لیا ہے۔؟انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے ایسا کہا ہے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر میرا نا کیا ہو گا ؟ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے ، میں اللہ کا بندہ اور اسکا رسول ہوں ، میں نے تمہاری طرف اللہ کے واسطے ہجرت کی ہے اب تو زندگی اور موت تمہارے ساتھ ہی ہے ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ سارے روتے ہوئے سامنے آکر کہنے لگے : ہم نے یہ باتیں صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی حرص میں کہی تھیں پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ اور اس کے رسول ﷺ تمہیں سچا سمجھتے ہیں اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں ۔(1)

فَنَظَرَ فَرَآنِي فَقَالَ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ ← فَذَكَرَ فَتْحَ مَكَّةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ثَابِتٍ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رِيَاحٍ، ← أَبِي، قثنا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1425

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1426

1426 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: أنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَنَسٍ، يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» .

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! انصار کی ، انصار کے بچوں کی اور ان کے پوتوں کی مغفرت فرما۔(2)

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← ابْنَ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي، قثنا أَبُو دَاوُدَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1426

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1427

1427 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عُثْمَانَ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «إِنَّ رَايَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَكُونُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَرَايَةُ الْأَنْصَارِ مَعَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، وَكَانَ إِذَا اسْتَحَرَّ الْقِتَالُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَكُونُ تَحْتَ رَايَةِ الْأَنْصَارِ» .

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ار انصار کا جھنڈا سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس ہوتا تھا اور جب سخت جنگ چھڑجاتی تو رسول اللہ ﷺ انصار کے جھنڈے تلے آجاتے تھے ۔ (3)

لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← مِقْسَمٍ، ← عثمان الجزري ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1427

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1428

1428 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ: أنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَكُنْتُ مِنَ الْأَنْصَارِ» .

سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا اگر باقی لوگ ایک راستے پر چلتے اور انصار دوسرے راستے پر چلتے تو میں انصار کے ساتھ ہوتا۔(1)

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبِي، قثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1428

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1429

1429 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ إِنَّ. النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: «اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَةِ، وَالْعَنْ عُضَلًا وَالْقَارَةَ هُمْ كَلَّفُونَا نَقْلَ الْحِجَارَةِ» .

امام طاؤس رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خندق کے موقع پر فرمایا : اے اللہ ! زندگی تو صرف آخرت کی ہی ہے پس انصار اور مہاجرین پر رھم فرما اور عضلا اور قارہ (دوقبیلوں کے نام ہیں ) پر لعنت بھیج ، جنہوں نے ہمیں پتھر اٹھانے پر مجبور کیا ۔(2)

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1429

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1430

1430 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، «أَنَّ الْأَنْصَارَ تَلَقَّتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ» .

عروۃ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ پہنچے تو انصار نے آپ ﷺ کا استقبال کیا ۔ (3)

عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، «أَنَّ الْأَنْصَارَ تَلَقَّتْ رَسُولَ اللَّهِ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ» ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1430

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1431

1431 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أنا شُعْبَةُ، وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ فَقَالَ: «أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟» فَقَالُوا: لَا، إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» فَقَالَ: «إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُجِيرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ؟» لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا. قَالَ: حَجَّاجٌ وَسَلَكَتْ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: «وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ» .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو جمع کیا اور دریافت کیا : تمہارے علاوہ کوئی یہاں پر ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : نہیں ! مگر ایک ہمارا بھانجا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بھانجا قوم میں سے ہی ہوتا ہے اور فرمایا : یقینا قریش نے ابھی ابھی زمانہ جالیت اور مصائب سے نجات حاصل کی ہے میرا ارادہ ہے کہ میں ان کو پنا ہ دوں اور ان کے دل میں اسلام کی الفت ڈالوں ۔ کیا تم ا س بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ دنیا لے کر لوٹ رہے ہیں اور تم اپنے گھروں کی طرف رسول اللہ ﷺ کو لے کر آرہے ہو ( راوی کا بیان ہے کہ حجاج راوی " سلکت " اور محمد راوی " سلک " کا لفظ بیان کرتے ہیں ) اگر باقی لوگ ایک راستہ اپنائیں اور انصار واد ی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی ہی میں جاؤں گا۔ (4)

لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ← أَفِيکُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِکُمْ ← جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ الْأَنْصَارَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1431

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1432

1432 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: أنا شُعْبَةُ، وَحَجَّاجٌ قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: قثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ قَالَ: حَجَّاجٌ قَالَ: شُعْبَةُ: إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ، «اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ، فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما رہے تھے : بلا شبہ زندگی تو آخرت ہی کی ہے ۔ حجاج راوی کہتے ہیں کہ شعبہ نے ان الفاظ کو بیان کیا : یقینا بھلائی تو آخرت ہی کی ہے، اے اللہ ! زندگی تو آخرت ہی کی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما ۔ (1)

قثنا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1432

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ · حديث 1433

1433 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرُونَ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ فَقَالَ أَنَسٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ خَدَمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ قَالَ: فَأَجَابُوهُ [البحر الرجز] نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا ... عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا " أَوْ لَا نَفِرُّ أَبَدًا.

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے ، مہاجرین ایک ٹھنڈی صبح خندق کھود رہے تھے ، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت ان کے پاس خادم نہیں تھے ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! بھلائی تو آخرت ہی کی ہے پس مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما ۔ صحابہ کرام نے جواب میں کہا : ہم نے تو سیدنا محمد ﷺ کے دست مبارک پر دم واپسین تک جہاد کی بعیت کی ہے اور نہ ہم میدان سے کبھی بھا گیں گے ۔ (2)

رَسُولُ اللَّهِ اللَّهُمَّ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ ← أَنَسٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ خَدَمٌ ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ وَالْمُهَاجِرُونَ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The Virtues of Ansar, may God be pleased with them · Hadith 1433

Sahih

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him