Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1372

1372 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ سَابِطٍ قَالَ: دَخَلَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْمَسْجِدَ فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى سَيِّدِ شَبَابِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» .

ابن سابطہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا حسین بن علی رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو سید نا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان کو دیکھ کر فرمایا : جو جنتی نوجوانوں کے سردار کو دیکھنا پسند کرتا ہو تو وہ ان کو دیکھ لے ، میں نے اسی طرح رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ۔(1)

جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: «مَنْ أَحَبَّ ← دَخَلَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَسْجِدَ ← ابْنِ سَابِطٍ ← رَبِيعِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا وَكِيعٌ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1372

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1373

1373 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ: " سَمِعْتُ الْجِنَّ يَبْكِينَ عَلَى حُسَيْنٍ قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ الْجِنَّ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ".

سیدّہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے جنوں کو سنا کہ وہ سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ پر رورہے تھے ۔ (2)

الجن تنوح على الحسين ← وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ ← الْجِنَّ يَبْكِينَ عَلَى حُسَيْنٍ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← عَمَّارٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1373

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1374

1374 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا حَسَنٌ هُوَ ابْنُ مُوسَى، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَاءَ رَاهِبَا نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمَا تَسْلَمَا» ، فَقَالَا: قَدْ أَسْلَمْنَا قَبْلَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَبْتُمَا مَنَعَكُمَا مِنَ الْإِسْلَامِ ثَلَاثٌ، سُجُودُكُمَا لِلصَّلِيبِ، وَقَوْلُكُمَا: {اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا} [البقرة: 116] ، وَشُرْبُكُمَا الْخَمْرَ "، فَقَالَا: فَمَا تَقُولُ فِي عِيسَى؟ قَالَ: " فَسَكَتَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ {ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذَّكَرِ الْحَكِيمِ} [آل عمران: 58] إِلَى قَوْلِهِ: {أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ} [آل عمران: 61] قَالَ: فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُلَاعَنَةِ قَالَ: وَجَاءَ بِالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَفَاطِمَةَ أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ " قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ عِنْدَهُ قَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَقْرِرْ بِالْجِزْيَةِ وَلَا تُلَاعِنْهُ قَالَ: فَرَجَعَا، فَقَالَا: نُقِرُّ بِالْجِزْيَةِ وَلَا نُلَاعِنُكَ قَالَ: فَأَقَرَّا بِالْجِزْيَةِ.

سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نجران کے دورراہب پادری نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا : مسلمان ہو جاؤ تمہارے لیے سلامتی ہوگی ۔ انہوں نے کہا : ہم آپ سے پہلے مسلمان ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تم دونوں جھوٹے ہو بلکہ تین چیزوں نے تمہیں اسلام لانے سے روکا ہے :1۔صلیب کو سجدہ کرنے نے ۔2۔تم دونوں کے اس قول نے کہ اللہ نے ( معاذ اللہ ) اپنے لئے بیٹا بنالیا ہے ۔ 3۔ شراب خوری نے ۔ پھر انہوں نے کہا : آپ سیّد نا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟نبی کریم ﷺ خاموش ہو گئے تو قرآن نازل ہوا ۔ ( ذلک نتلوہ علیک من الہ یات والذکرالحکیم ۔۔۔۔سے ۔۔۔ابنا ء ناوابناء کم ،تک ) آل عمران 61۔5پھر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو ملاعنہ ( مباہلہ ) کی دعوت دی ، راوی کہتے ہیں : اور آپ ﷺ سیّد نا حسن ، سیّدنا حسین اورسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا جوآپ کے اہل واولاد ہیں ، کےساتھ آئے ،جب وہ دونوں پادری آپ ﷺ کے پاس سے جانے لگے تو ایک دوسرے سے کہنے لگا ۔ جزیہ مان جاؤ ، مباہلہ نہ کرو پھر وہ واپس پلٹے اور کہا : ہم کو جزیہ قبول ہے اور ہم آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے تو آپ ﷺنے فرمایا :چلو جزیہ کا اقرارکر لو ۔ (3)

فَأَقَرَّا ← نُقِرُّ بِالْجِزْيَةِ وَلَا نُلَاعِنُكَ ← فَرَجَعَا، ← أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: أَقْرِرْ بِالْجِزْيَةِ وَلَا تُلَاعِنْهُ ← فَلَمَّا خَرَجَا مِنْ عِنْدَهُ ← وَجَاءَ بِالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَفَاطِمَةَ أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ ← فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الْمُلَاعَنَةِ ← فَسَكَتَّ النَّبِيُّ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ إِلَى قَوْلِهِ: ← فَمَا تَقُولُ فِي عِيسَى؟ ← قَدْ أَسْلَمْنَا قَبْلَكَ، ← لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ «أَسْلَمَا تَسْلَمَا» ← جَاءَ رَاهِبَا نَجْرَانَ إِلَى النَّبِيِّ ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ هُوَ ابْنُ مُوسَى، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1374

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1375

1375 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَلَقِيَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَ: " أَرِنِي أُقَبِّلُ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ، قَالَ: فَقَالَ: بِقَمِيصِهِ قَالَ: فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ ".

عمیر بن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میری سید نا حسن رضی اللہ عنہ کی ملاقات سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ سے سیّد نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں وہاں سے تمہیں بوسہ دونگا جہاں سے رسول اللہ ﷺ دیا کرتے تھے ۔پس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو ناف پر بوسہ دیا ۔ (1)

فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ ← بِقَمِيصِهِ ← أرني أقبل منك حيث رأيت رسول الله يقبل. ← كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ فَلَقِيَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ← عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1375

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1376

1376 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ: أنا الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ الْوَاسِطِيَّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ حَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ هَذَا عَلَى عَاتِقِهِ، وَهَذَا عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً، وَيَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُحِبُهُمَا، فَقَالَ: «مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي» .

سید نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سےے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیّد نا حسن اور سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر ہمارے پاس تشریف لائے ان میں سے ایک کوایک کندھےت پر اور دوسرے کو دوسرے کندھے پر سوار کیا ہوا تھا اور آپ ﷺ ایک کو بسہ دیتے پھر دوسرے کو بوسہ دیتے یہاں تک کہ آپ ﷺ ہمارے پاس آ کر رک گئے تو ایک آدمی نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو ان سے محبت ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا : جوان دونوں سے محبت کرتا ہے تو وہ مجھے سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے تو وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے ۔ (2)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ، ← جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← الْحَجَّاجُ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ الْوَاسِطِيَّ، ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1376

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1377

1377 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ رَزِينِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَى عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «مَرْحَبًا بِالْحَبِيبِ بْنِ الْحَبِيبِ» .

رزین بن عبید رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس تھا اس وقت علی بن حسین رحمتہ اللہ علیہ تشریف لائے تو سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خوش آمدید اے دوست اور دوست کے بیٹے ! (3)

ابْنُ عَبَّاسٍ: «مَرْحَبًا بِالْحَبِيبِ بْنِ الْحَبِيبِ» ← كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَأَتَى عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ← رَزِينِ بْنِ عُبَيْدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1377

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1378

1378 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ يَقُولُ: إِنِّي لَشَاهِدٌ يَوْمَ مَاتَ الْحَسَنُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَذَكَرَ الْقِصَّةَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي»

ابو حازم رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن موجودتھا ، جب یہ قصہ سیّد نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیا ن کیا گیا تو وہ مجھے سے محبت کرتا ہے اور جوانسے بغض رکھتا ہے تو وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے ۔ (4)

مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي ← رَسُولِ اللَّهِ ← إِنِّي لَشَاهِدٌ يَوْمَ مَاتَ الْحَسَنُ وَذَكَرَ الْقِصَّةَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ← أَبَا حَازِمٍ، ← سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، ← سُفْيَانُ يَعْنِي الثَّوْرِيَّ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1378

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1379

1379 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، نا سَالِمٌ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ يَقُولُ: «حَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ خَيْرٌ مِنِّي، وَلَقَدْ عِلَمَا أَنَّهُ كَانَ يَسْتَخْلِينِي دُونَهُمَا وَأَنَا صَاحِبُ الْبَغْلَةِ الشَّهْبَاءِ» .

منذر رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ابن حنفیہ رحمتہ اللہ علیہ کہا کرتے تھے : سیّد نا حسن اور سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ مجھے سے بہترہیں باوجود اس کے کہ ان دونوں کو پتا ہے کہ وہ ( علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ) ان دونوں کے علاوہ مجھ سے تنہائی میں مشورہ کرتےاور سفید چوغہ گا صاحب میں تھا ۔(1)

صَاحِبُ الْبَغْلَةِ الشَّهْبَاءِ» ← «حَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ خَيْرٌ مِنِّي، وَلَقَدْ عِلَمَا أَنَّهُ كَانَ يَسْتَخْلِينِي دُونَهُمَا ← ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ ← مُنْذِرٍ ← سَالِمٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَفْصَةَ، ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1379

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1380

1380 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ بِنِصْفِ النَّهَارِ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، مَعَهُ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ يَلْتَقِطُهُ، أَوْ يَتَتَبَّعُ فِيهَا شَيْئًا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ لَمْ أَزَلْ أَتَتَبَّعُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ قَالَ عَمَّارٌ: فَحَفِظْنَا ذَلِكَ فَوَجَدْنَاهُ قُتِلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".

سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ن ے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ دن کے وقت پراگندہ بالوں میں ایک بوتل اُٹھائے ہوئے تھے اس میں خون تھا یا س کی مثل کوئی دوسری چیز تھی میں نے عرض کیا : یا رسوال اللہ ﷺ ! یہ کیا ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا : یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے تو میں نے ہمیشہ اس وقت سے اس دن کو یاد رکھا ۔ کہ پھر ہم نے بھی ( ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بتائے ہوئے ) اس دن کو یاد رکھا یہاں تک کہ ہم کو معلوم ہو گیا کہ سّد نا حسین رضی اللہ عنہ کو اسی دن شہید کیا گیا تھا ۔ (2)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارٍ هُوَ ابْنُ أَبِي عَمَّارٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1380

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1381

1381 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ، نا حَمَّادٌ قَالَ: أنا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ، قَائِلًا أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا؟ قَالَ: دَمُ الْحُسَيْنِ وَأَصْحَابِهِ فَلَمْ أَزَلْ أَلْتَقِطُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ، فَأَحْصَيْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ فَوَجَدُوهُ قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".

سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ دن کے وقت پراگندہ بالوں میں ایک بوتل اُٹھائے ہوئے تھے اس میں خون تھا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! میرے مان پاب آپ پر قربان ہوں ، یہ کیا ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا :یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے تو میں ہمیشہ اس وقت سے آج تک اس دن کی تلاش میں رہا ۔ راوی حدیث کہتے ہیں کہ پھر ہم نے بھی ( ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بتائے ہوئے ) اس دن کو آج تک یاد رکھا یہاں تک کہ ہم کو معلوم ہو گیا کہ سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کو اسی دن شہید کیا گیا تھا ۔ (3)

بأبي أنت وأمي ← رَأَيْتُ النَّبِيَّ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ بِنِصْفِ النَّهَارِ، قَائِلًا أَشْعَثَ أَغْبَرَ بِيَدِهِ قَارُورَةٌ فِيهَا دَمٌ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ← حَمَّادٌ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1381

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1382

1382 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، نا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» .

سیّد نا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ، دونوں میں ایک دوسری سے بڑی ہے ، کتاب اللہ جو کہ اللہ کی آسمان سے زمین پر پھیلی ہوئی رسی ہے دوسرے میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں ۔ یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر میں مجھے ملیں گے ۔ (4)

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← أَبُو إِسْرَائِيلَ ← الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1382

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 1383

1383 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَبُو النَّضْرِ، نا مُحَمَّدٌ، يَعْنِي: ابْنَ طَلْحَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبُ وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، كِتَابَ اللَّهِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا بِمَا تَخْلُفُونِي فِيهِمَا» .

سیّد نا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عنقریب مجھے بلاوآجائے گا میں اسے قبول کر لوں گا ، چنانچہ میں تم میں دوچیزوں کو چھوڑ کر جارہا ہوں ، ایک کتاب اللہ اور دوسرے میرے اہل بیت ہیں اور لطیف و خبیر (ذات) نے مجھے اس بات کی خبردی ہے کہ یہ دونوں ہرگز الگ نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں حوض کوثر آئیں گی ، دیکھو کہ تم ان دونوں کے بارے میں میری کیسی جانشینی نبھاتے ہو ۔ (1)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ طَلْحَةَ ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › The virtues of good, and the good, may God be pleased with them. · Hadith 1383

Sahih

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him