فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1346
1346 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرَاطِيسِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، نا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، نا جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُمْ بِنَا يَا بُرَيْدَةُ نَعُودُ فَاطِمَةَ» قَالَ: فَلَمَّا أَنْ دَخَلْنَا عَلَيْهَا أَبْصَرَتْ أَبَاهَا وَدَمِعَتْ عَيْنَاهَا قَالَ: «مَا يُبْكِيكِ يَا بُنَيَّةُ؟» قَالَتْ: قِلَّةُ الطَّعْمِ وَكَثْرَةُ الْهَمِّ، وَشِدَّةُ السَّقَمِ. قَالَ: «أَمَا وَاللَّهِ لَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِمَّا تَرْغَبِينَ إِلَيْهِ يَا فَاطِمَةُ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنِّي زَوَّجْتُكِ أَقْدَمَهُمْ سِلْمًا، وَأَكْثَرَهُمْ عِلْمًا وَأَفْضَلَهُمْ حِلْمًا، وَاللَّهِ إِنَّ ابْنَيْكِ لَمِنْ شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ» .
سیّد نا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا :بریدہ ! اٹھوفاطمہ کی عیادت کرتے ہیں جب ہم ان کے پاس آئے ، اپنے والد محترم کو دیکھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے ، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا :بیٹی کیوں رور ہی ہو؟کہنے لگی :کھانا کم ہے ، غم زیادہ ہیں اور بیماری شدت اختیار کر گئی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے پاس وہ بہتر چیزین ہیں جو آپ چاہتی ہیں ، فاطمہ ! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہارا خاوند پہلا مسلمان ، زیادہ علم والا ، بردباری میں افضل اور اللہ کی قسم ! آپ کے دونوں بیٹے جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (1)
قِلَّةُ الطَّعْمِ وَكَثْرَةُ الْهَمِّ، وَشِدَّةُ السَّقَمِ. ← «مَا يُبْكِيكِ يَا بُنَيَّةُ؟» ← فَلَمَّا أَنْ دَخَلْنَا عَلَيْهَا أَبْصَرَتْ أَبَاهَا وَدَمِعَتْ عَيْنَاهَا ← لِي رَسُولُ اللَّهِ «قُمْ بِنَا يَا بُرَيْدَةُ نَعُودُ فَاطِمَةَ» ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرَاطِيسِيُّ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1346
