Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1334

1334 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ إِنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلَامُ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَوَعَدَ بِالنِّكَاحِ فَأَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ، وَإِنَّ عَلِيًّا قَدْ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: " إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي، وَإِنِّي أَكْرَهُ إِنْ يَفْتِنُوهَا، وَذَكَرَ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَأَكْثَرَ الثَّنَاءَ وَقَالَ: لَا يَجْمَعُ اللَّهُ بَيْنَ ابْنَةِ نَبِيِّ اللَّهِ، وَبِنْتِ عَدُوِّ اللَّهِ " فَرَفَضَ عَلِيٌّ ذَلِكَ.

سیّد نا مسوربن مخرمہ رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا ، انہوں نے نکاح کا وعدہ بھی کر لیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر کہنے لگیں : آپ کی قوم آپ کے بارے میں باتیں کرتی ہے کہ آپ اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں کرتے ہیں ، یقیناً علی نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام نکاح بھیجا ہے ۔آپ ﷺ کھڑے ہوئے ،اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا : بلاشبہ فاطمہ تو میرے جگر کا ٹکڑا ہے ، مجھے ہ پسند نہیں کہ وہ فتنے میں پڑ جائے پھر ابوالعاص بن ربیع کا تذکرہ کیا اور ان کے سسرالی رشتے کی بہت تعریف کی ، مزید فرمایا : اللہ تعالیٰ رسول اللہ (ﷺ) اور عدواللہ کی بیٹی کو جمع نہیں کرے گا ، اس پر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے پیغام نکاح کو چھوڑ دیا ۔(1)

الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← النُّعْمَانِ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1334

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1335

1335 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَعْقُوبُ، يَعْنِي: ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، نا أَبِي، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدُّؤَلِيُّ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ إِنَّ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَا، قَالَ لَهُ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ، وَأَيْمُ اللَّهِ لَئِنْ أَعْطَيْتَهُ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي. إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ: " إِنَّ فَاطِمَةَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَخَافُ إِنْ تُفْتَنَ فِي دِينِهَا، وَقَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ: حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَوَفَّى، وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا، وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ، وَابْنَةُ عَدُوِّ اللَّهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا ".

ابن شہاب زہری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ علی بن حسین رحمتہ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ جب وہ یزیدبن معاویہ کے پاس سے سیّد نا حسین رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد واپس مدینہ آئےتو ان کی ملاقات سیّد نا مسوربن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے کہا : کوئی ضرورت ہوتو مجھے حکم فرمانا ؟ میں نے ان سے کہا :نہیں !انہوں نے کہا : کیا تم مجھے رسول اللہ ﷺ کی تلوار دو گے ؟ کیونکہ اللہ کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ یہ قوم اس تلوار کے لیے آپ پر غالب آئے گی ، اللہ کی قسم ! اگر آپ نے ان کے حوالے کی تو کبھی بھی اس تک نہیں پہنچوگے ، یہاں تک کہ میری جان پہنچے گی ۔ یقیناً جب سیّد نا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمۃ الزہر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں ابوجہل کی بیٹی کو پیغام نکاح بھیجا تو میں نے رسول اللہﷺ سے دوران خطبہ اپنے منبر پر لوگوں کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، اس وقت میں بالغ تھا ، یقیناً فاطمہ میرا جگر گوشہ ہے ، مجھے خدشہ ہے کہ وہ اپنے دین میں فتنے کا شکار ہو جائے گی ۔ راوی امام زہری رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے بنو عبدشمس کے ساتھ اپنے سسرالی رشتہ کا تذکرہ فرمایا ، اپنے اس سسرالی رشتے میں ان کی بہت اچھی تعریف کی تو فرمایا : انہوں نے جب بھی مجھ سے بات کی تو سچ کہی اور وعدہ کیا تو پورا کیا اور میں حلال کی حرام اور حرام کو حلال نہیں کرتا ، لیکن اللہ کی قسم ! رسول اللہﷺ کی بیٹی اور عدواللہ کی بیٹی کبھی بھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں ۔ (2)

محمد بن عمرو بن حلحلة الدؤلي ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1335

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1336

1336 - قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، بِخَطِّ يَدِهِ، نا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: نا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ قَالَ: فَقَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُبَشِّرُكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَيِّدَاتُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْبَعٌ: «مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ» . وَقَالَ يَعْقُوبُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ

صالح رحمتہ اللہ علیہ سے سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ سے فرمایا : خبردار : میں تم کو یہ خوشخبری دیتی ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرما رہے تھے : جنت کی سردار چار عورتیں ہیں : مریم ،بنت عمران ، خدیجہ بنت خویلد ، فاطمہ بنت محمد ﷺ اور فرعون کی بیوی آسیہ ۔ یعقوب بن ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں : سیدہ آسیہ رضی اللہ عنہا مزاحم کی بیٹی تھیں ۔ (1)

يَعْقُوبُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ ← خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ» ← فاطمة بنت رسول الله ← سَيِّدَاتُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَرْبَعٌ: «مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، ← عَائِشَةُ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ أَلَا أُبَشِّرُكَ، أَنِّي ← صَالِحٍ، ← أَبِي ← سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← جَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، بِخَطِّ يَدِهِ، ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1336

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1337

1337 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ، مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ» .

سید نا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تجھے جہان کی عورتوں میں سے چار عورتیں ( مقام و مرتبہ کے لحاظ سے ) کافی ہیں ۔ مریم بنت عمران ، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد اور آسیہ فرعون کی بیوی ۔(2)

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1337

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1338

1338 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ» فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.

سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تجھے جہان کی عورتوں میں سے چار عورتیں ( مقام و مرتبہ کے لحاظ سے ) کافی ہیں ۔ پھر آگے باقی روایت کو بیان کیا ۔ (3)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1338

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1339

1339 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أنا يُونُسُ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ عِلْبَاءَ هُوَ ابْنُ أَحْمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ فَقَالَ: أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ وَذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ

سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے زمین پر چار لکیریں کھینچ کر فرمایا :کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا :اللہ تعالیٰ اور رسول بہتر جانتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : اہل جنت کی بہترین عورتیں یہ ہیں : خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ﷺ ۔ پھر آگے باقی روایت کو بیان کیا ۔ (4)

بَاقِيَ الْحَدِيثِ ← رَسُولُ اللَّهِ أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ ← اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← أتدرون ما هذا ← خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ، فِي الأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عِلْبَاءَ هُوَ ابْنُ أَحْمَرَ، ← دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ الْفُرَاتِ ← يُونُسَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1339

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1340

1340 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِبَابِ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ وَيَقُولُ: " الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] "

سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ فجر کی نماز کے لیے نکلتے وقت روزانہ تقریباً چھ (6) مہینے فاطمہ کے دروازے پر جاتے رہے اور فرماتے : نماز، نماز پھر یہ آیت تلاوت فرماتے :اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے اہل بیت ! تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے ۔(5)

أَنَسٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1340

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1341

1341 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، نا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي بَيْتَ فَاطِمَةَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ إِذَا خَرَجَ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَقُولُ: " يَا أَهْلَ الْبَيْتِ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] "

سیّد نا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز کے لیے نکلتے وقت روزانہ تقریبا ً چھ(6)مہینے سیّد ہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے دروازے پر جا کر فرماتے رہے :نماز ، نماز پھر یہ آیت تلاوت فرماتے : اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی ﷺ کے اہل بیت ! تم سے گنگی کو دور کردے اور تمہیں خوب پاک کر دے ۔(1)

أَنَسٍ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1341

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1342

1342 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: كُنْتُ فِي زِفَافِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ فَقَالَ: «يَا أُمَّ أَيْمَنَ ادْعِي لِي أَخِي» ، فَقَالَتْ: هُوَ أَخُوكَ وَتُنْكِحُهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ يَا أُمَّ أَيْمَنَ» قَالَتْ: فَجَاءَ عَلِيٌّ فَنَضَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ وَدَعَا لَهُ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُوا لِي فَاطِمَةَ» قَالَتْ: فَجَاءَتْ تَعْثُرُ مِنَ الْحَيَاءِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْكُتِي فَقَدْ أَنْكَحْتُكِ أَحَبَّ أَهْلِ بَيْتِي إِلَيَّ» قَالَتْ: وَنَضَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ وَدَعَا لَهَا قَالَتْ: ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى سَوَادًا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا؟» فَقُلْتُ: أَنَا، قَالَ: «أَسْمَاءُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «جِئْتِ فِي زِفَافِ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ تَكْرُمَةً لَهُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَدَعَا لِي "

سیّد نا اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شب زفاف ان کے ہاں تھیں ، جب صبح ہوئی ، رسول اللہ ق دروازے تک آئے اور فرمایا : میرے بھائی کو بلاؤ ، انہوں نے عرض کیا :وہ آپ کا بھائی ہے ؟ حالانکہ آپ ﷺ نے ان کو (بیٹی کا )رشتہ دیا ہے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :ہاں اے اُمّ امین ! انتے میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ آئے نبی کریم ﷺ نے پانی منگوا کراسے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ پر چھڑ کا اور دعا کی ، پھر فرمایا : فاطمہ کو بلاؤ وہ بڑی ہی شرم سے آئیں ، فرمایا : حوصلہ رکھو ، میں نے تمہارا نکاح اپنے خاندان کے اس شخص سے کیا ہے جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ، پھر ان پر بھی پانی چھڑ کا اور دعا کی ، بعد ازاں رسول اللہ ﷺ واپس چلے گئے تو اپنے سامنے کچھ سیاہی سی دیکھی (کیونکہ نماز فجر سے پہلے اندھیرے کا وقت تھا ) تو فرمایا : میں نے عرض کیا : میں، فرمایا:کیا اسماء:میں نے عرض کیا : جی ہاں !فرمایا:کیا اسما ءبنت عمیس ؟عرض کیا :جی ہاں ! تو نبی کریم ﷺنے فرمایا : کیا تم رسول اللہﷺ کے احترام میں ان کی بیٹی کے زفاف میں ہو ؟ عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ! پھرآپﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی ۔(2)

أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ← أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ ← أَيُّوبَ، ← أَبِي ← صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1342

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1343

1343 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اجْتَمَعَ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ تُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ تَمْشِي مَا تُخْطِئُ مِشْيَتَهَا مِشْيَةَ أَبِيهَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِابْنَتِي» ، فَأَقْعَدَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ، فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ فَبَكَتْ، ثُمَّ سَارَّهَا بِشَيْءٍ فَضَحِكَتْ. فَقُلْتُ لَهَا: خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنَنَا بِالسِّرَارِ فَتَبْكِينَ؟ فَلَمَّا قَامَ، قُلْتُ لَهَا: أَخْبِرِينِي بِمَا سَارَّكِ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ سَرَّهُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهَا: أَسْأَلُكِ بِمَا لِي عَلَيْكَ مِنْ حَقٍّ لَمَّا أَخْبَرْتِينِي، فَقَالَتْ: أَمَّا الْآنَ فَنِعْمَ، قَالَتْ: سَارَّنِي، فَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يُعَارِضُنِي بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً، وَأَنَّهُ عَارَضَنِي الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلَا أَرَى ذَلِكَ إِلَّا عِنْدَ اقْتِرَابِ الْأَجَلِ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي، فَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ» ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ سَارَّنِي فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ» أَوْ قَالَ: «نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ؟» .

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم سب (ازواج مطہرات )رسول اللہﷺ کی خدمت میں موجود تھیں ، کوئی بھی غیر حاضر نہ تھی ، انتے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پیدل چلتی ہوئی آئیں ،اللہ کی قسم ! ان کے چلنے کا انداز بالکل ان کی باپ جیساتھا ، یہاں تک کہ وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :میری بیٹی کو خوش آمدید ہو اور انہیں اپنے دائیں یا بائیں طرف بٹھا یا ، پھر ان سے کوئی سر گوشی کی تو وہ رونے لگیں ، دوبارہ کوئی سر گوشی کی تو وہ مسکرانے لگ گئیں ۔ میں نے ان سے کہا : رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ہمارے درمیان راز کی بات کرنے کے لیے منتخب کیا ہے اور آپ رور ہی ہو؟مجھے بتاؤ، رسول اللہ ﷺ نے آپ سے کیا فرمایا تھا ؟ ، کہنے لگیں : میں رسول اللہ ﷺ کا یہ راز فاش نہیں کر سکتی ، جب رسول اللہ ﷺ دنیا سے رخصت ہو گئے تو میں نے ان سے دوبارہ کہا : میں آپ کو اس حق کا واسطہ دے کر پوچھتی ہوں ، جو میرا آپ پر ہے ، (یعنی میں آپ کی سوتیلی ماں ہوں )کہ رسول اللہ ﷺنے آپ کے ساتھ کیا سرگوشی فرمائی ؟وہ کہنے لگیں :ہاں اب بتلاتی ہوں ، پہلی مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے سرگوشی کرتے ہوئے فرمایا تھا:میں ہر سال جبرائیل کے ساتھ ایک دفعہ قرآن کا دَور کیا کرتا تھا ، مگر اس سال دو مرتبہ دَور کیا ہے ، یوں لگتا ہے کہ میرا مقررہ وقت قریب آپہنچا ہے ، پس تقویٰ پر قائم رہنا اور صبر کرنا ، میں تمہارے لیے اچھا پیشواہوں تو میں رونے لگ گئی ، پھر مجھے سے سر گوشی کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :کیا تو اس بات پر خوش نہیں ہے کہ یا تم مومنین کی عورتوں یا اس امت کی تمام عورتوں کی سردار ہو۔(1)

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← عَامِرٍ، ← فِرَاسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1343

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1344

1344 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَحْرٍ الْكُوفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قِيلَ: «يَا أَهْلَ الْجَمْعِ غُضُّوا أَبْصَارَكُمْ حَتَّى تَمُرَّ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ فَتَمُرُّ وَعَلَيْهَا رِيطَتَانِ خَضْرَاوَانِ» . قَالَ: أَبُو مُسْلِمٍ قَالَ لِي أَبُو قِلَابَةَ وَكَانَ مَعَنَا عِنْدَ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَنَّهُ قَالَ: حَمْرَاوَانِ

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :قیامت کے دن میدان حشر والوں سے کہا جائے گا کہ تم اپنی نگاہیں نیچے کرو کیونکہ فامطہ بنت رسول اللہ ﷺ یہاں سے گزرنے والی ہیں پس وہ وہاں سے دوسبز چادریں زیب تن کیے ہوئے گزریں گی ۔(2)

عَلِيٍّ، ← أَبِي جُحَيْفَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← بَيَانٍ ← خَالِدٌ، ← عبد الحميد بن بحر الكوفي ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1344

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 1345

1345 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، نا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، نا هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِفَاطِمَةَ «أَنْتِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي» .

سیّدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : میرے اہل و عیال میں تم سب سے پہلے مجھے (روز قیامت ) ملو گی ۔ (3)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← هِلَالُ بْنُ خَبَّابٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 1345

Sahih

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him