سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا علی ! تیری مثال عیسٰی بن مریم علیہ السلام کی سی ہے کہ یہود یوں نے ان سے بغض رکھا یہاں تک کہ ماں پر بہتان لگایا اور انصاری نے ان سے محبت کی ، یہاں تک کہ ان کو وہ مقام دیا جوان کا حق نہیں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : میرےبارے میں بھی دو طرح کے آدمی ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ کر اور دوسرا بغض رکھنے اور حسد کرنے والا ۔ یہ الفاظ سریج بن یونس نے بیان کیے ہیں ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1087
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1088
سیدنا ابو سعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سورت برات اور چار مزید احکامات دے کر حج کے لیے روانہ کیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو راستے میں جا ملے ۔ سورت اور احکامات لے لیے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ امیر الحج اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ مبلغ تھے تو وہ سورۃ پڑھ کر یہ اعلان کرتے :۔
1۔ مومن کے علاوہ کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا۔
2۔آئندہ کوئی مشرک مسجد حرام میں نہیں جائے گا۔
3۔ بیت الہ کا طواف برہنہ حالت میں کوئی نہیں کرے گا۔
4۔جن لوگوں کا نبی کریم ﷺ سے کوئی معاہدہ ہے تو وہ اس کی مدت پوری کرے گا۔
ایک آدمی نے کہا : اگر ہمارے اور تمہارے چچازاد (یعنی نبی کریم ﷺ) کے درمیان حلف نامہ نہ ٹوٹتا ؟ ( تو ایسا ہوتا ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر رسول اللہ ﷺ نے مجھے کچھ کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ (2)
أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، ← أبو الجهم العلاء بن موسى الباهلي ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1088
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1089
عروۃ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک آدمی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ یہ صاحب قبر کون ہیں ؟ یہ محمد ﷺ بن عبدا للہ بن عبد المطلب اور وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب ہیں تم علی رضی اللہ عنہ کا خیر کے ساتھ تذکرہ کرو اگر تم اس طرح علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بد زبانی کرو گے تو تم اس قبر والے (یعنی نبی کریم ﷺ کو ) تکلیف دو گے۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1089
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1090
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورۃ برات (التوبۃ) کے اعلان کے ساتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا جب وہ ذوالحلیفہ (جگہ کانام ہے ) پہنچے تو انہیں واپس بلایا اور فرمایا : آپ کے ساتھ میرے اہل بیت میں سے کوئی جائے گا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1090
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1091
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1091
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1092
سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ انہیں کہنا ( اے علی !) تم دنیا اور آخرت میں سردارہو جو آپ سے محبت کرے گا وہ مجھ سے کرے گا جس نے تم سے محبت کی اس نے مجھے محبت کی تمہارا دوست اللہ کا دوست اور تمہارا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن اللہ کا دشمن ہے اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو میرے بعد آپ سے بغض رکھے گا۔ (4)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1092
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1093
ربیعہ جرشی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا سعد بن ابی وقاص کے سامنے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں باتیں کرتے ہو؟ جن کے پاس یہ چار فضائل ہیں جن میں سے ایک فضیلت بھی میرے متعلق ہوتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر تھی ۔
1۔ آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا دیا تھا ۔
2۔ آپ ﷺ کا فرمان : تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ۔
3۔ مزید فرمایا جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے ۔
ان میں سے ایک امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ بھول گئے ہیں ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1093
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1094
سیدنا ایاس بن سلمہ رضی اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ہم خیبر کی جانب نکلے تو میرے چچا (عامر ) اشعار پڑھ رہے تھے ۔:
اگر اللہ کی توفیق نہ ہوتی تو نہ ہدایت پاتے ، نہ نماز پڑھتے نہ صدقہ کرتے ۔ بے شک باغی (کافر ) لوگوں نے ہم ہر ظلم کرنا چاہا تو ہم نے اس کا انکار کیا ۔ اے اللہ ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں جنگ کے وقت ہمارے قدموں کو مضبوط کر اور ہم پر سکینت نازل فرما۔
رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا یہ کون ہے ۔لوگوں نے کہا عامر ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے عامر ! اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرمائے جب یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ کاش آپ ہمیں مزید عامر خوش آواز ی اور شعر و شاعری سے لطف اندوز ہونے دیتے ۔چنانچہ جب ہم خیبر پہنچے تو مر حب اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے آیا اور کہنے لگا۔ خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں زرہ پوش اور تجربہ کار جنگجو ہوں ، جب شیر میری طرف دوڑتا ہے تو میں اس کو بھی کبھی نیزہ مارتا ہوں اور کبھی تلوار سے حملہ کرتا ہوں ۔ پھر اس کے مقابلے میں سیدنا عمر رضی اللہ علیہ نکلے :
یقینا اہل خیبر مجھے جانتے ہیں کہ میں زر ہ پوش اور سخت جنگجو پہلوان ہوں ۔
چنانچہ دو نوں ضربوں کے درمیان تصادم ہوا ، مرحب نے جب وار کیا تو سیدنا عامر رضی اللہ علیہ نیچے جھکے تو ان کی تلوار واپس انہیں لگ گئی جس سے ان کی رگ کٹ گئی اور شہید ہو گئے ۔ تو کچھ صحابہ کرام نے کہا عامر نے خود کشی کر کے اپنے اعمال کو برباد کر دیا ہے عامر نے خود کشی کر کے اپنے عمال کو برباد کر دیا ہے ۔
میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ عامر کا عمل بر باد ہو گیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کس نے یہ کہاہے ؟ آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو یہ کہتا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے بلکہ عامر کے لیے دوگنااجر ہے پھر آپ نے مجھے قاصد بنا کر سیدنا علی رضی اللہ علیہ کے پاس بھیجا جب میں آیا اس وقت سیدنا علی رضی اللہ علیہ آشوب چشم میں مبتلا تھے میں انکو نبی کریم ﷺ کی حدمت میں حاضر ہوا پس آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا تو وہ تندرست ہو گئے اور ان کو جھنڈا دیا تو مرحب نکل کر کہنے لگا :
خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں زرہ پوش ، تجربہ کار پہلوان اور جنگجوں میں آگ بھڑکانے والا ہوں ۔
اس کے جواب میں سیدنا علی رضی اللہ علیہ نے کہا :
میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے ۔ اور جنگلی شیروں کی طرح ہیبت ناک ہوں اور وسیع پیما نے پر قتل و خون ریزی پھیلانے والا ہوں۔
پھر سیدنا علی رضی اللہ علیہ نے اس پر وار کیا تو اسکا سر دوٹکڑے ہو گیا اور مر گیا فتح آپ رضی اللہ علیہ کے ہاتھوں ہوئی ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1094
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1095
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا علی رضی اللہ علیہ کے سامنے یمن میں ایک واقعہ پیش آیا کہ تین آدمیوں نے ایک لونڈی سے ایک ہی طہر میں بدکاری کی ، جب بچہ ہوا تو ہر ایک نے دعویٰ کیا ، سیدنا علی نے ان میں سے ایک سے فرمایا تم بخوشی اس بچے کو قبول کرو گے۔ اس نے کہا نہیں پھر دوسرے سے فرمایا تم بخوشی اس بچے کو قبول کرو گے؟ اس نے کہا نہیں ، پھر تیسرے سے فرمایا : تم خوشی اس بچے کو قبول کرو گے۔ اس نے کہا نہیں توفرمایا میرا خیال ہے کہ تم تینوں اس میں شریک ہو میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں جس کا نام نکلا اسے دوتہائی قیمت دینا پڑے گی اور بچہ اسکے حوالے کیا جائے ۔ لوگوں نے یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچائی تو آپ ﷺ نے فرمایا : میرا بھی یہی خیال ہے جو علی نے فیصلہ کیا ہے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1095
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1096
سیدنا علی رضی اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب رسول ﷺ نے مجھے اہل یمن کی طرف (قاضی بنا کر ) بھیجا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں ایک نوجوان آدمی ہوں ۔ آپ ﷺ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف قاضی بنا کر بھیج رہے ہیں جو عمر میں مجھ سے بڑی ہے (یعنی وہاں ضعیف العمر لوگ ہیں جو کافی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں )پس آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی یہ الفاظ ابوربیعہ کے ہیں ، البتہ داؤ راوی کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک کو میرے سینے پر رکھ کر فرمایا : اللہ تیرے دل کو مضبوطی اور استقامت سے نوازے گا ۔ ابوریبعہ کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں : اس کے بعد مجھے کبھی اپنے کسی فیصلے میں اضطراب نہیں ہوا ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1096
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1097
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1097
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1098
سعید سے روایت ہے کہ صحابہ کرام میں سے سوائے سیدنا علی رضی اللہ علیہ کے کوئی بھی یہ نہیں کہتا تھا کہ مجھ سے پوچھو۔ (یعنی وہ خود بہت بڑے عالم اور فقیہ فی الدین تھے ) (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1098