Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1087

1087 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَا: نا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ، فِيكَ مَثَلٌ مِنْ عِيسَى، أَبْغَضَتْهُ يَهُودُ حَتَّى بَهَتُوا أُمَّهُ، وَأَحَبَّتْهُ النَّصَارَى حَتَّى أَنْزَلُوهُ الْمَنْزِلَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ» وَقَالَ عَلِيٌّ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ يُقَرِّظُنِي بِمَا لَيْسَ فِيَّ، وَمُبْغِضٌ يَحْمِلُهُ شَنَآنِي عَلَى أَنْ يَبْهَتَنِي. لَفْظُ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا علی ! تیری مثال عیسٰی بن مریم علیہ السلام کی سی ہے کہ یہود یوں نے ان سے بغض رکھا یہاں تک کہ ماں پر بہتان لگایا اور انصاری نے ان سے محبت کی ، یہاں تک کہ ان کو وہ مقام دیا جوان کا حق نہیں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے : میرےبارے میں بھی دو طرح کے آدمی ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ کر اور دوسرا بغض رکھنے اور حسد کرنے والا ۔ یہ الفاظ سریج بن یونس نے بیان کیے ہیں ۔ (1)

عَلِيٍّ، ← رَبِيعَةَ بْنِ نَاجِذٍ ← أبي صادق ← الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ، ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1087

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1088

1088 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو الْجَهْمِ الْعَلَاءُ بْنُ مُوسَى الْبَاهِلِيُّ، سَنَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: نا سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ بِسُورَةِ بَرَاءَةَ عَلَى الْمَوْسِمِ وَأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ إِلَى النَّاسِ، فَلَحِقَهُ عَلِيٌّ فِي الطَّرِيقِ، فَأَخَذَ السُّورَةَ وَالْكَلِمَاتِ، فَكَانَ عَلِيٌّ يُبَلِّغُ، وَأَبُو بَكْرٍ عَلَى الْمَوْسِمِ، فَإِذَا قَرَأَ السُّورَةَ نَادَى: أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مَسْلَمَةٌ، وَلَا يَقْرَبُ الْمَسْجِدَ مُشْرِكٌ بَعْدَ عَامِهِ هَذَا، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْدٌ فَأَجَلُهُ مُدَّتُهُ، حَتَّى قَالَ رَجُلٌ: لَوْلَا أَنْ يُقْطَعَ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَ ابْنِ عَمِّكَ مِنَ الْحَلِفِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْلَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ أَمَرَنِي أَلَّا أُحْدِثَ شَيْئًا حَتَّى آتِيَهُ لَقَتَلْتُكَ.

سیدنا ابو سعیدخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سورت برات اور چار مزید احکامات دے کر حج کے لیے روانہ کیا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو راستے میں جا ملے ۔ سورت اور احکامات لے لیے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ امیر الحج اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ مبلغ تھے تو وہ سورۃ پڑھ کر یہ اعلان کرتے :۔ 1۔ مومن کے علاوہ کوئی بھی جنت میں نہیں جائے گا۔ 2۔آئندہ کوئی مشرک مسجد حرام میں نہیں جائے گا۔ 3۔ بیت الہ کا طواف برہنہ حالت میں کوئی نہیں کرے گا۔ 4۔جن لوگوں کا نبی کریم ﷺ سے کوئی معاہدہ ہے تو وہ اس کی مدت پوری کرے گا۔ ایک آدمی نے کہا : اگر ہمارے اور تمہارے چچازاد (یعنی نبی کریم ﷺ) کے درمیان حلف نامہ نہ ٹوٹتا ؟ ( تو ایسا ہوتا ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر رسول اللہ ﷺ نے مجھے کچھ کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔ (2)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، ← أبو الجهم العلاء بن موسى الباهلي ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1088

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1089

1089 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْبَصْرِيُّ بِالْبَصْرَةِ قَالَ: نا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ وَهُوَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ بِمَحْضَرٍ مِنْ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: تَعْرِفُ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ؟ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَا تَذْكُرْ عَلِيًّا إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنَّكَ إِنْ أَبْغَضْتَهُ " آذَيْتَ هَذَا فِي قَبْرِهِ.

عروۃ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک آدمی نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ یہ صاحب قبر کون ہیں ؟ یہ محمد ﷺ بن عبدا للہ بن عبد المطلب اور وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب ہیں تم علی رضی اللہ عنہ کا خیر کے ساتھ تذکرہ کرو اگر تم اس طرح علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بد زبانی کرو گے تو تم اس قبر والے (یعنی نبی کریم ﷺ کو ) تکلیف دو گے۔ (1)

أَبِي الْأَسْوَدِ ← الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْبَصْرِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1089

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1090

1090 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِبَرَاءَةَ مَعَ أَبِي بَكْرٍ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ بَعَثَ إِلَيْهِ فَرَدَّهُ وَقَالَ: «لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي» ، فَبَعَثَ عَلِيًّا.

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورۃ برات (التوبۃ) کے اعلان کے ساتھ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو مکہ بھیجا جب وہ ذوالحلیفہ (جگہ کانام ہے ) پہنچے تو انہیں واپس بلایا اور فرمایا : آپ کے ساتھ میرے اہل بیت میں سے کوئی جائے گا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا ۔ (2)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← الْفَضْلُ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1090

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1091

1091 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، نا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، نا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتَ عَلِيٍّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ» .

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ (3)

أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ← فاطمة بنت علي ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← الْحَسَنُ1 بْنُ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1091

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1092

1092 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: «أَنْتَ سَيِّدٌ فِي الدُّنْيَا، وَسَيِّدٌ فِي الْآخِرَةِ، مَنْ أَحَبَّكَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَحَبِيبُكَ حَبِيبُ اللَّهِ، وَعَدُوُّكَ عَدُوِّي، وَعَدُوِّي عَدُوُّ اللَّهِ، الْوَيْلُ لِمَنْ أَبْغَضَكَ مِنْ بَعْدِي» .

سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ انہیں کہنا ( اے علی !) تم دنیا اور آخرت میں سردارہو جو آپ سے محبت کرے گا وہ مجھ سے کرے گا جس نے تم سے محبت کی اس نے مجھے محبت کی تمہارا دوست اللہ کا دوست اور تمہارا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن اللہ کا دشمن ہے اور ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو میرے بعد آپ سے بغض رکھے گا۔ (4)

بَعَثَنِي النَّبِيُّ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قثنا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1092

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1093

1093 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّقْرِ، سَنَةَ تِسْعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ أَنَّهُ ذُكِرَ عَلِيٌّ عِنْدَ رَجُلٍ وَعِنْدَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَتَذْكُرُ عَلِيًّا، إِنَّ لَهُ مَنَاقِبَ أَرْبَعًا، لِأَنْ تَكُونَ لِي وَاحِدَةٌ مِنْهُنَّ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا. وَذَكَرَ حُمْرَ النَّعَمِ وَقَوْلَهُ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ» ، وَقَوْلَهُ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى "، وَقَوْلَهُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» ، وَنَسِيَ سُفْيَانُ وَاحِدَةً.

ربیعہ جرشی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا سعد بن ابی وقاص کے سامنے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں باتیں کرتے ہو؟ جن کے پاس یہ چار فضائل ہیں جن میں سے ایک فضیلت بھی میرے متعلق ہوتی تو وہ میرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر تھی ۔ 1۔ آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا دیا تھا ۔ 2۔ آپ ﷺ کا فرمان : تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی ۔ 3۔ مزید فرمایا جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے ۔ ان میں سے ایک امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ بھول گئے ہیں ۔ (1)

لَهُ سَعْدٌ: أَتَ ← عَلِيٌّ عِنْدَ رَجُلٍ وَعِنْدَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، ← رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← تِسْعِينَ وَمِائَتَيْنِ، قثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قثنا سُفْيَانُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّقْرِ، سَنَةَ تِسْعٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1093

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1094

1094 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ، فَكَانَ عَمِّي يَرْتَجِزُ وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الرجز] وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا ... فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا؟» قَالُوا: عَامِرٌ، قَالَ: «غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا عَامِرُ» ، وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ خَصَّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ، فَقَالَ عُمَرُ: لَوْ مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ خَرَجَ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الرجز] قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَبَرَزَ لَهُ عَامِرٌ فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُحَاذِرُ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ، وَذَهَبَ عَامِرٌ يُسَفِّلُ لَهُ، فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ، فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ، وَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ، قَتَلَ عَامِرٌ نَفْسَهُ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَالَ هَذَا؟» قَالَ: قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَالَ: «كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ، بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ» ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ، حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ، فَبَرَأَ، ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ، وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ عَلِيٌّ: [البحر الرجز] أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ ... كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمْ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ: فَضَرَبَهُ، فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ، وَكَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْ عَلِيٍّ "

سیدنا ایاس بن سلمہ رضی اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ہم خیبر کی جانب نکلے تو میرے چچا (عامر ) اشعار پڑھ رہے تھے ۔: اگر اللہ کی توفیق نہ ہوتی تو نہ ہدایت پاتے ، نہ نماز پڑھتے نہ صدقہ کرتے ۔ بے شک باغی (کافر ) لوگوں نے ہم ہر ظلم کرنا چاہا تو ہم نے اس کا انکار کیا ۔ اے اللہ ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں جنگ کے وقت ہمارے قدموں کو مضبوط کر اور ہم پر سکینت نازل فرما۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا یہ کون ہے ۔لوگوں نے کہا عامر ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے عامر ! اللہ تعالیٰ تیری مغفرت فرمائے جب یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ کاش آپ ہمیں مزید عامر خوش آواز ی اور شعر و شاعری سے لطف اندوز ہونے دیتے ۔چنانچہ جب ہم خیبر پہنچے تو مر حب اپنی تلوار کو لہراتے ہوئے آیا اور کہنے لگا۔ خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں زرہ پوش اور تجربہ کار جنگجو ہوں ، جب شیر میری طرف دوڑتا ہے تو میں اس کو بھی کبھی نیزہ مارتا ہوں اور کبھی تلوار سے حملہ کرتا ہوں ۔ پھر اس کے مقابلے میں سیدنا عمر رضی اللہ علیہ نکلے : یقینا اہل خیبر مجھے جانتے ہیں کہ میں زر ہ پوش اور سخت جنگجو پہلوان ہوں ۔ چنانچہ دو نوں ضربوں کے درمیان تصادم ہوا ، مرحب نے جب وار کیا تو سیدنا عامر رضی اللہ علیہ نیچے جھکے تو ان کی تلوار واپس انہیں لگ گئی جس سے ان کی رگ کٹ گئی اور شہید ہو گئے ۔ تو کچھ صحابہ کرام نے کہا عامر نے خود کشی کر کے اپنے اعمال کو برباد کر دیا ہے عامر نے خود کشی کر کے اپنے عمال کو برباد کر دیا ہے ۔ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ عامر کا عمل بر باد ہو گیا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کس نے یہ کہاہے ؟ آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو یہ کہتا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے بلکہ عامر کے لیے دوگنااجر ہے پھر آپ نے مجھے قاصد بنا کر سیدنا علی رضی اللہ علیہ کے پاس بھیجا جب میں آیا اس وقت سیدنا علی رضی اللہ علیہ آشوب چشم میں مبتلا تھے میں انکو نبی کریم ﷺ کی حدمت میں حاضر ہوا پس آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا تو وہ تندرست ہو گئے اور ان کو جھنڈا دیا تو مرحب نکل کر کہنے لگا : خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں زرہ پوش ، تجربہ کار پہلوان اور جنگجوں میں آگ بھڑکانے والا ہوں ۔ اس کے جواب میں سیدنا علی رضی اللہ علیہ نے کہا : میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے ۔ اور جنگلی شیروں کی طرح ہیبت ناک ہوں اور وسیع پیما نے پر قتل و خون ریزی پھیلانے والا ہوں۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ علیہ نے اس پر وار کیا تو اسکا سر دوٹکڑے ہو گیا اور مر گیا فتح آپ رضی اللہ علیہ کے ہاتھوں ہوئی ۔ (1)

أَبِيهِ ← إياس بن سلمة الأكوع ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1094

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1095

1095 - حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، نا سُفْيَانُ قثنا الْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ بِالْيَمَنِ بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ وَقَعُوا عَلَى جَارِيَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَوَلَدَتْ وَلَدًا، فَادَّعَوْهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَحَدِهِمْ: تَطِيبُ بِهِ نَفْسًا لِهَذَا؟ قَالَ: لَا، وَقَالَ لِآخَرَ: تَطِيبُ بِهِ نَفْسًا لِهَذَا؟ قَالَ: لَا، وَقَالَ لِلْآخَرِ: تَطِيبُ بِهِ نَفْسًا لِهَذَا؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ: أَرَاكُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ، إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ، فَأَيُّكُمْ أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ أَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيِ الْقِيمَةِ وَأَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا أَجِدُ فِيهَا إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ» .

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا علی رضی اللہ علیہ کے سامنے یمن میں ایک واقعہ پیش آیا کہ تین آدمیوں نے ایک لونڈی سے ایک ہی طہر میں بدکاری کی ، جب بچہ ہوا تو ہر ایک نے دعویٰ کیا ، سیدنا علی نے ان میں سے ایک سے فرمایا تم بخوشی اس بچے کو قبول کرو گے۔ اس نے کہا نہیں پھر دوسرے سے فرمایا تم بخوشی اس بچے کو قبول کرو گے؟ اس نے کہا نہیں ، پھر تیسرے سے فرمایا : تم خوشی اس بچے کو قبول کرو گے۔ اس نے کہا نہیں توفرمایا میرا خیال ہے کہ تم تینوں اس میں شریک ہو میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں جس کا نام نکلا اسے دوتہائی قیمت دینا پڑے گی اور بچہ اسکے حوالے کیا جائے ۔ لوگوں نے یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچائی تو آپ ﷺ نے فرمایا : میرا بھی یہی خیال ہے جو علی نے فیصلہ کیا ہے ۔ (2)

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ ← الشَّعْبِيِّ، ← سُفْيَانُ قثنا الْأَجْلَحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1095

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1096

1096 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُرَاسَانِيُّ قثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا: نا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاضِيًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي شَابٌّ وَتَبْعَثُنِي إِلَى ذَوِي أَسْنَانٍ، فَدَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ. هَذَا لَفْظُ أَبِي الرَّبِيعِ، وَزَادَ دَاوُدُ فِي حَدِيثِهِ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ: «ثَبَّتَكَ اللَّهُ وَسَدَّدَكَ» ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ: فَمَا اخْتَلَفَ عَلَيَّ بَعْدَ ذَلِكَ الْقَضَاءُ.

سیدنا علی رضی اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب رسول ﷺ نے مجھے اہل یمن کی طرف (قاضی بنا کر ) بھیجا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں ایک نوجوان آدمی ہوں ۔ آپ ﷺ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف قاضی بنا کر بھیج رہے ہیں جو عمر میں مجھ سے بڑی ہے (یعنی وہاں ضعیف العمر لوگ ہیں جو کافی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں )پس آپ ﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی یہ الفاظ ابوربیعہ کے ہیں ، البتہ داؤ راوی کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک کو میرے سینے پر رکھ کر فرمایا : اللہ تیرے دل کو مضبوطی اور استقامت سے نوازے گا ۔ ابوریبعہ کی حدیث کے یہ الفاظ ہیں : اس کے بعد مجھے کبھی اپنے کسی فیصلے میں اضطراب نہیں ہوا ۔ (3)

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ قَاضِيًا فَقُلْتُ: ← عَلِيٍّ، ← حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُرَاسَانِيُّ قثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1096

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1097

1097 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي جَدِّي قثنا أَبُو قَطَنٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَفْضَلَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ علیہ نے فرمایا ہم اہل مدینہ میں سب سے افضل سیدنا علی رضی اللہ علیہ کو سمجھتے تھے ۔ (1)

كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَفْضَلَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. ← عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← جَدِّي قثنا أَبُو قَطَنٍ قثنا شُعْبَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1097

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1098

1098 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أُرَاهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: سَلُونِي، إِلَّا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ.

سعید سے روایت ہے کہ صحابہ کرام میں سے سوائے سیدنا علی رضی اللہ علیہ کے کوئی بھی یہ نہیں کہتا تھا کہ مجھ سے پوچھو۔ (یعنی وہ خود بہت بڑے عالم اور فقیہ فی الدین تھے ) (2)

سَلُونِي إلاَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. ← لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← سَعِيدٌ، ← أُرَاهُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1098

Sahih

chevron_left Previous
1…456…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him