سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس (یہودی سردار) مرحب کا سر لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اللہ اس پر لعنت کرے۔ (2)
أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِرَأْسِ مَرْحَبٍ لَعَنَهُ اللَّهُ. ← عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، ← حسين بن حسن الأشقر ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1075
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1076
ابو نجیح رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا : جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے)پیغام نکاح بھیجنے کا ارادہ کیا ، میں نے عرض کیا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے پھر میں نے آپ کو صلہ رحمی کی یاد دلاکر پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس کیا ہے میں نے عرض کیا : کچھ نہیں ! فرمایا : وہ حطمیہ زرہ کہاں ہے جو میں نے آپ کو فلاں دن دی تھی ؟میں نے عرض کیا : میرے پاس ہے تو فرمایا : اے لاؤ میں لایا تو آپ نے میرا نکاح کر دیا جب ان سے میری رخصتی ہوئی تو فرمایا : میرے آنے تک اس سے کوئی بات نہ کرنا جب آپ نے اجازت طلب کی اس وقت ہم چادر یاکمبل میں تھے ہم نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر اٹھنے لگے آپ ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ پر رہو ۔ آپ ﷺ آکر ہمارے پاس بیٹھ گئے اور پانی منگوا کر اس میں کچھ پڑھ کر ہم پر چھڑکا اور برکت کی دعا فرمائی ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! آپ کو مجھ سے زیادہ پیار ہے یا فاطمہ سے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا فاطمہ سے زیادہ پیار ہے مگر تم سے اس سے زیادہ معزز ہو۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1076
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1077
شد ابو عمار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مجھ سےسیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہنے لگے : میں نے ایک دفعہ سیدہ فاطمہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہیں تو وہ کہنے لگی: وہ نبی کریم ﷺ کو لینے گئے ہیں ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک ساتھ اکٹھے تشریف لائے تو میں بھی ان سے مل کر گھر میں داخل ہواآ پ کے بائیں طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ دائیں طرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو اپنے سامنے بیٹھایا پھر سب کو ایک چادر میں اپنے ساتھ لپٹیا اور یہ آیت تلاوت کی ( انما یدید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت) پھر فرمایا : اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے گھر کے ایک کونے سے کہا : یار سول اللہ ﷺ میں بھی آپ ﷺ کے اہل سے ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تم بھی میرے اہل سے ہو ۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتےہیں : میرا سب سے زیادہ قابل امیدعمل یہی ہے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1077
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1078
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1078
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1079
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے یہ چاہا کہ اس روایت کو میں خود سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مل کر سنو تو میں نے ان سےملاقات کی اور جو روایت مجھے عامر نے بیان کی تھی وہ ان سے ذکر کی تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں لیں پھر فرمایا : ( یہ دونوں کان ) خاموش (بہرے) ہو جائیں اگر میں نے اس روایت کو نبی کریم ﷺ سے نہ سنا ہو۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1079
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1080
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے (خوبصورت) کپڑوں میں دیکھا تو پوچھنے لگے : ان کپڑوں سے کیا کرنا ہے اور میر ے ہاتھ میں انگوٹھی بھی دیکھی تو پوچھا: اس کا کیا کرنا ہے ؟ یہ انگوٹھیاں تو بادشاہوں کے پاس ہوتی ہیں ۔ یہ سن کر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد کبھی انگوٹھی نہیں پہنی پھر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ آپ ﷺ نے اہل بیت میں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا وغیرہ کےلیے دعا فرمائی میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ کیا میں بھی اہل بیت میں سے ہوں ؟ آپ ﷺ خاموش رہے میں نےپھر پوچھا : کیا میں اہل بیت میں سے ہوں ؟ پھر آپ ﷺ خاموش رہے البتہ تیری بار فرمایا : ہاں ! جب تک تم کسی دروازے پر کھڑے نہیں ہوتے یا کسی بادشاہ سے سوال نہیں کرتے۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1080
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1081
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1081
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1082
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گزشتہ انبیا کو سات رفقا دیے گئے تھے مگر مجھے چودہ رفیق اور ساتھی دیے گئے ہیں کس نے پوچھا وہ کون کون ہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ، میرے دو بیٹے حسن و حسین ، سیدنا حمزہ ، سیدنا جعفر، سیدنا عقیل ، سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان ،سیدنا مقدار ، سیدنا سلمان فارسی سیدنا عمار ، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہا ہیں ۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1082
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1083
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمار ے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے کہ آپ ﷺ کے جوتوں کا تسمہ ٹوٹ گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا انہوں نے اسے گانٹھ دیا پھر آگے چل کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ایک شخص قرآن کی تاویل پر جہاد کرے گا جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے پر جہاد کیا تھا تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ﷺ وہ میں ہوں گرمایا : نہیں پھر فرمایا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ میں ہوں فرمایا نہیں بلکہ وہ صاحب النعل ہے ۔ اسماعیل کہتے ہیں کہ میرے باپ نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک وسیع میدان میں دیکھا کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا : امیر المومنین ! کیا حدیث النعل کے بارے میں آپ کے پاس کچھ معلومات ہیں ؟ انہوں نے کہا : کیا تمہیں کوئی خبر ملی ہے ؟ اس نے فرمایا : جی ہاں ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ یہ بات رسول اللہ ﷺ مجھ سے راز رکھتے تھے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1083
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1084
ابن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرے والد گرامی سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کو قصہ گوئی کرتے تھے میرے والد نے پوچھا : لوگ آپ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ سردیوں میں ہلکا کپڑا اور گرمیوں میں زائد اور موٹا کپڑا پہنتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : کیا آپ ہمارے ساتھ خیبر کے موقع پر نہیں تھے تو انہوں نے کہاہ :کیوں نہیں ۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول کو محبوب ہے ۔ اور وہ اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتاہے ۔وہ میدان سے بھاگنے والا نہیں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف کسی کو بھیجا مکر میں آشوب چشم میں مبتلا تھا تو آپ ﷺ نے میری اآنکھ میں لعاب دہن ڈالا اور دعا فرمائی ۔ اے اللہ علی سے گرمی اور سردی کو دور فرما ۔ اس دن سے مجھے نہ گرمی محسوس ہوتی ہے اور نہ سردی ، یہ االفاظ عبد اللہ راوی نے بیان کیے ہیں ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1084
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1085
سیدنا زید بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں مسجد نبوی میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے وہ قصہ سنایا جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنایا تھا ۔ اس وقت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یقینا میری جان چلی گئی اور میری پیٹھ بوجل ہوگی کہ جب میں نے آپ ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ وہ سلوک کیا جو کہ میرے ساتھ نہیں کیا اگر تو یہ میرے ساتھ اظہار ناراضگی کی وجہ سے تو ہر طرح کی خوشی اور عزت آپ ﷺ کے لیے ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے میں تجھے اپنے لیے چھوڑا ہے حالانکہ تمہاری میرے ساتھ نسبت اسی طرح ہے جیسے سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسی علیہ السلام کے ساتھ تھی ہاں مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور تم میرے بھائی اور وارث ہو۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے کای میراث لوں گا؟ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا : جو وراثت مجھ سے پہلے نبیوں نے چھوڑی تھی میں نے عرض کیا انہوں نے کیا چھوڑا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کتاب اللہ اور نبی کی سنت تم اور میری بیٹی فاطمہ میرے ساتھ جنت کے ایک محل میں رہو گے تم میرے بھائی اور دوست ہو پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ( اخوانا علی سررمتقابلین ) مسندوں پر آمنے سامنے بھائی بھائی بن کر بیٹھے ہوں گے۔ اللہ کےلیے محبت کرنے والے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1085
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1086
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1086