Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1075

1075 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، نا حُسَيْنُ بْنُ حَسَنٍ الْأَشْقَرُ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْسِ مَرْحَبٍ لَعَنَهُ اللَّهُ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس (یہودی سردار) مرحب کا سر لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اللہ اس پر لعنت کرے۔ (2)

أَتَيْتُ النَّبِيَّ بِرَأْسِ مَرْحَبٍ لَعَنَهُ اللَّهُ. ← عَلِيٍّ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، ← حسين بن حسن الأشقر ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1075

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1076

1076 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ قثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ يَقُولُ: لَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ أَنْ لَا شَيْءَ لِي، ثُمَّ ذَكَرْتُ عَائِدَتَهُ وَصِلَتَهُ فَخَطَبْتُهَا، فَقَالَ: «وَهَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ: «فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي كُنْتُ أَعْطَيْتُكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟» قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ: «فَأْتِ بِهَا» ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَنْكَحَنِيهَا، فَلَمَّا أَنْ دَخَلَتْ عَلَيَّ قَالَ: «لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا حَتَّى آتِيَكُمَا» ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا كِسَاءٌ أَوْ قَطِيفَةٌ فَتَحَشْحَشْنَا، فَقَالَ: «مَكَانَكُمَا، عَلَى حَالِكُمَا» ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ عِنْدَ رُءُوسِنَا فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَأُتِيَ بِهِ، فَدَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ رَشَّهُ عَلَيْنَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ هِيَ؟ قَالَ: «هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزَّ عَلَيَّ مِنْهَا» .

ابو نجیح رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا : جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے)پیغام نکاح بھیجنے کا ارادہ کیا ، میں نے عرض کیا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے پھر میں نے آپ کو صلہ رحمی کی یاد دلاکر پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس کیا ہے میں نے عرض کیا : کچھ نہیں ! فرمایا : وہ حطمیہ زرہ کہاں ہے جو میں نے آپ کو فلاں دن دی تھی ؟میں نے عرض کیا : میرے پاس ہے تو فرمایا : اے لاؤ میں لایا تو آپ نے میرا نکاح کر دیا جب ان سے میری رخصتی ہوئی تو فرمایا : میرے آنے تک اس سے کوئی بات نہ کرنا جب آپ نے اجازت طلب کی اس وقت ہم چادر یاکمبل میں تھے ہم نبی کریم ﷺ کو دیکھ کر اٹھنے لگے آپ ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ پر رہو ۔ آپ ﷺ آکر ہمارے پاس بیٹھ گئے اور پانی منگوا کر اس میں کچھ پڑھ کر ہم پر چھڑکا اور برکت کی دعا فرمائی ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! آپ کو مجھ سے زیادہ پیار ہے یا فاطمہ سے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا فاطمہ سے زیادہ پیار ہے مگر تم سے اس سے زیادہ معزز ہو۔(3)

لَمَّا أَرَدْتُ ← عليا على منبر الكوفة ← مَنْ ← أَبِيهِ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ قثنا سُفْيَانُ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1076

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1077

1077 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: طَلَبْتُ عَلِيًّا فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: ذَهَبَ يَأْتِي بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجَاءَا جَمِيعًا فَدَخَلَا، وَدَخَلْتُ مَعَهُمَا، فَأَجْلَسَ عَلِيًّا عَنْ يَسَارِهِ، وَفَاطِمَةَ عَنْ يَمِينِهِ، وَالْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ الْتَفَعَ عَلَيْهِمْ بِثَوْبِهِ قَالَ: " {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] ، اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي، اللَّهُمَّ أَهْلِي أَحَقُّ "، قَالَ وَاثِلَةُ: فَقُلْتُ مِنْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ: وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي» ، قَالَ وَاثِلَةُ: فَذَلِكَ أَرْجَا مَا أَرْجُو مِنْ عَمَلِي.

شد ابو عمار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مجھ سےسیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہنے لگے : میں نے ایک دفعہ سیدہ فاطمہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں ہیں تو وہ کہنے لگی: وہ نبی کریم ﷺ کو لینے گئے ہیں ۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک ساتھ اکٹھے تشریف لائے تو میں بھی ان سے مل کر گھر میں داخل ہواآ پ کے بائیں طرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ دائیں طرف سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو اپنے سامنے بیٹھایا پھر سب کو ایک چادر میں اپنے ساتھ لپٹیا اور یہ آیت تلاوت کی ( انما یدید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت) پھر فرمایا : اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت زیادہ حقدار ہیں ۔سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے گھر کے ایک کونے سے کہا : یار سول اللہ ﷺ میں بھی آپ ﷺ کے اہل سے ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تم بھی میرے اہل سے ہو ۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کہتےہیں : میرا سب سے زیادہ قابل امیدعمل یہی ہے ۔ (1)

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1077

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1078

1078 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ: نا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، نا قَنَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي» .

مصعب بن سعد رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے علی کو تکلیف پہنچائی گویا اس نے مجھےہی تکلیف پہنچائی ۔ (2)

أَبِيهِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← قِنَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1078

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1079

1079 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ، مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ؟» قَالَ سَعِيدٌ: فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَافِهَ بِذَلِكَ سَعْدًا، فَلَقِيتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ مَا ذَكَرَنِي عَامِرٌ، قَالَ: فَوَضَعَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ ثُمَّ قَالَ: اسْتَكَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے یہ چاہا کہ اس روایت کو میں خود سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مل کر سنو تو میں نے ان سےملاقات کی اور جو روایت مجھے عامر نے بیان کی تھی وہ ان سے ذکر کی تو انہوں نے اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں لیں پھر فرمایا : ( یہ دونوں کان ) خاموش (بہرے) ہو جائیں اگر میں نے اس روایت کو نبی کریم ﷺ سے نہ سنا ہو۔ (3)

لِعَلِيٍّ: «أَمَا تَرْضَى ← أَبِيهِ سَعْدٍ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← یُوْسُفُ بْنُ یَعْقُوْبَ الْمَاجِشُوْنُ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1079

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1080

1080 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ قثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنِي طَرِيفُ بْنُ عِيسَى، وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ، فَرَأَى عَلَيَّ ثِيَابًا فَقَالَ: مَا تَصْنَعُ بِهَذِهِ الثِّيَابِ؟ وَرَأَى فِي يَدَيَّ خَاتَمًا فَقَالَ: مَا تَصْنَعُ بِهَذَا الْخَاتَمِ؟ إِنَّمَا الْخَوَاتِيمُ لِلْمُلُوكِ، قَالَ: فَمَا اتَّخَذْتُ بَعْدَهُ خَاتَمًا، قَالَ: فَحَدَّثَنَا ثَوْبَانُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا لِأَهْلِ بَيْتِهِ فَذَكَرَ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَغَيْرَهُمَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَنَا؟ قَالَ: فَسَكَتَ، ثُمَّ قُلْتُ: أَمِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ أَنَا؟ قَالَ: فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «نَعَمْ، مَا لَمْ تَقُمْ عَلَى سُدَّةٍ، أَوْ تَأْتِي أَمِيرًا تَسْأَلُهُ» .

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے (خوبصورت) کپڑوں میں دیکھا تو پوچھنے لگے : ان کپڑوں سے کیا کرنا ہے اور میر ے ہاتھ میں انگوٹھی بھی دیکھی تو پوچھا: اس کا کیا کرنا ہے ؟ یہ انگوٹھیاں تو بادشاہوں کے پاس ہوتی ہیں ۔ یہ سن کر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد کبھی انگوٹھی نہیں پہنی پھر سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ آپ ﷺ نے اہل بیت میں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا فاطمہ رضی اللہ عنہا وغیرہ کےلیے دعا فرمائی میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ کیا میں بھی اہل بیت میں سے ہوں ؟ آپ ﷺ خاموش رہے میں نےپھر پوچھا : کیا میں اہل بیت میں سے ہوں ؟ پھر آپ ﷺ خاموش رہے البتہ تیری بار فرمایا : ہاں ! جب تک تم کسی دروازے پر کھڑے نہیں ہوتے یا کسی بادشاہ سے سوال نہیں کرتے۔ (1)

ثَوْبَانَ، ← فَمَا اتَّخَذْتُ بَعْدَهُ خَاتَمًا ← مَا تَصْنَعُ بِهَذَا الْخَاتَمِ؟ إِنَّمَا الْخَوَاتِيمُ لِلْمُلُوكِ، ← مَا تَصْنَعُ بِهَذِهِ الثِّيَابِ؟ وَرَأَى فِي يَدِي خَاتَمًا، ← لَقِيتُ ثَوْبَانَ فَرَأَى عَلِيَّ ثِيَابًا، ← يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ← طَرِيفُ بْنُ عِيسَى وَهُوَ الْعَنْبَرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ قثنا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1080

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1081

1081 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّومِيُّ قَالَ: نا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ الصُّنَابِحِيّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا دَارُ الْحِكْمَةِ، وَعَلِيٌّ بَابُهَا» .

سیدنا علی ابن طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں حکمت کا گھر ہوں ، علی اسکا دروازہ ہے ۔ (2)

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الصُّنَابِحِیّ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّومِيُّ ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1081

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1082

1082 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: نا كَثِيرٌ النَّوَّاءُ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ نَجَبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُعْطِيَ كُلُّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ رُفَقَاءَ، وَأُعْطِيتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عَشَرَ» ، قِيلَ لِعَلِيٍّ: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: أَنَا، وَابْنَايَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَحَمْزَةُ، وَجَعْفَرٌ، وَعُقَيْلٌ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ، وَسَلْمَانُ، وَعَمَّارٌ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گزشتہ انبیا کو سات رفقا دیے گئے تھے مگر مجھے چودہ رفیق اور ساتھی دیے گئے ہیں کس نے پوچھا وہ کون کون ہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ، میرے دو بیٹے حسن و حسین ، سیدنا حمزہ ، سیدنا جعفر، سیدنا عقیل ، سیدنا ابو بکر ، سیدنا عمر ، سیدنا عثمان ،سیدنا مقدار ، سیدنا سلمان فارسی سیدنا عمار ، سیدنا طلحہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہا ہیں ۔(3)

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← الْمُسَيَّبِ بْنِ نَجَبَةَ ← كَثِيرٍ النَّوَّاءِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ قثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1082

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1083

1083 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ قثنا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ قَالَ: نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلِيٌّ فِي بَيْتِ فَاطِمَةَ، وَانْقَطَعَتْ شِسْعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهَا عَلِيًّا يُصْلِحُهَا، ثُمَّ جَاءَ فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ: «إِنَّ مِنْكُمْ مَنْ يُقَاتِلُ عَلَى تَأْوِيلِ الْقُرْآنِ، كَمَا قَاتَلْتُ عَلَى تَنْزِيلِهِ» ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا» ، قَالَ عُمَرُ: أَنَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «لَا، وَلَكِنَّهُ صَاحِبُ النَّعْلِ» ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ: فَحَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ شَهِدَ، يَعْنِي عَلِيًّا، بِالرَّحَبَةِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَلْ كَانَ مِنْ حَدِيثِ النَّعْلِ شَيْءٌ؟ قَالَ: وَقَدْ بَلَغَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ مِمَّا كَانَ يُخْفِي إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہمار ے پاس آئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھے کہ آپ ﷺ کے جوتوں کا تسمہ ٹوٹ گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا انہوں نے اسے گانٹھ دیا پھر آگے چل کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ایک شخص قرآن کی تاویل پر جہاد کرے گا جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے پر جہاد کیا تھا تو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ﷺ وہ میں ہوں گرمایا : نہیں پھر فرمایا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ میں ہوں فرمایا نہیں بلکہ وہ صاحب النعل ہے ۔ اسماعیل کہتے ہیں کہ میرے باپ نے بیان کیا کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ایک وسیع میدان میں دیکھا کہ ان کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا : امیر المومنین ! کیا حدیث النعل کے بارے میں آپ کے پاس کچھ معلومات ہیں ؟ انہوں نے کہا : کیا تمہیں کوئی خبر ملی ہے ؟ اس نے فرمایا : جی ہاں ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ یہ بات رسول اللہ ﷺ مجھ سے راز رکھتے تھے ۔ (1)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← اِسْمَاعِیْلَ بْنِ رَجَاءٍ، ← الْاَعْمَشِ ← عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1083

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1084

1084 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: أنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، وَالْمِنْهَالِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَلِيٍّ، وَكَانَ يَسْمُرُ مَعَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ أَنْكَرُوا مِنْكَ أَنَّكَ تَخْرُجُ فِي الْبَرْدِ فِي مُلَاءَتَيْنِ، وَفِي الْحَرِّ فِي الْحَشْوِ وَفِي الثَّوْبِ الثَّقِيلِ، فَقَالَ لَهُ: أَوْ لَمْ تَكُنْ مَعَنَا بِخَيْبَرَ؟ فَقَالَ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَيُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ لَهُ، لَيْسَ بِفَرَّارٍ» ، فَأَرْسَلَ إِلَيَّ وَأَنَا أَرْمَدُ، قَالَ: فَتَفَلَ فِي عَيْنِي ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ اكْفِهِ أَذَى الْحَرِّ وَالْبَرْدِ» ، قَالَ: فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا. لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ.

ابن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرے والد گرامی سیدناعلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رات کو قصہ گوئی کرتے تھے میرے والد نے پوچھا : لوگ آپ پر اعتراض کرتے ہیں کہ آپ سردیوں میں ہلکا کپڑا اور گرمیوں میں زائد اور موٹا کپڑا پہنتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا : کیا آپ ہمارے ساتھ خیبر کے موقع پر نہیں تھے تو انہوں نے کہاہ :کیوں نہیں ۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول کو محبوب ہے ۔ اور وہ اللہ اور اسکے رسول سے محبت کرتاہے ۔وہ میدان سے بھاگنے والا نہیں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے میری طرف کسی کو بھیجا مکر میں آشوب چشم میں مبتلا تھا تو آپ ﷺ نے میری اآنکھ میں لعاب دہن ڈالا اور دعا فرمائی ۔ اے اللہ علی سے گرمی اور سردی کو دور فرما ۔ اس دن سے مجھے نہ گرمی محسوس ہوتی ہے اور نہ سردی ، یہ االفاظ عبد اللہ راوی نے بیان کیے ہیں ۔(2)

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ، وَالْمِنْهَالُ، ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← ابْنُ زَنْجُوَيْهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمَا، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1084

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1085

1085 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّارِعُ قثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ: نا يَزِيدُ بْنُ مَعْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَهُ، فَذَكَرَ قِصَّةَ مُؤَاخَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ، يَعْنِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ ذَهَبَتْ رُوحِي، وَانْقَطَعَتْ ظَهْرِي، حِينَ رَأَيْتُكَ فَعَلْتَ بِأَصْحَابِكَ مَا فَعَلْتَ غَيْرِي، فَإِنْ كَانَ هَذَا مِنْ سَخَطٍ عَلَيَّ، فَلَكَ الْعُتْبَى وَالْكَرَامَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، مَا أَخَّرْتُكَ إِلَّا لِنَفْسِي، فَأَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَأَنْتَ أَخِي وَوَارِثِي» ، قَالَ: وَمَا أَرِثُ مِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «مَا وَرَّثَ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلِي» ، قَالَ: وَمَا وَرَّثَ الْأَنْبِيَاءُ قَبْلَكَ؟ قَالَ: " كِتَابَ اللَّهِ، وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ، وَأَنْتَ مَعِي فِي قَصْرٍ فِي الْجَنَّةِ، مَعَ فَاطِمَةَ ابْنَتِي، وَأَنْتَ أَخِي وَرَفِيقِي، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] ، الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ".

سیدنا زید بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ میں مسجد نبوی میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ نے وہ قصہ سنایا جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنایا تھا ۔ اس وقت سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یقینا میری جان چلی گئی اور میری پیٹھ بوجل ہوگی کہ جب میں نے آپ ﷺ کو دیکھا آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے ساتھ وہ سلوک کیا جو کہ میرے ساتھ نہیں کیا اگر تو یہ میرے ساتھ اظہار ناراضگی کی وجہ سے تو ہر طرح کی خوشی اور عزت آپ ﷺ کے لیے ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ہے میں تجھے اپنے لیے چھوڑا ہے حالانکہ تمہاری میرے ساتھ نسبت اسی طرح ہے جیسے سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسی علیہ السلام کے ساتھ تھی ہاں مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور تم میرے بھائی اور وارث ہو۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ سے کای میراث لوں گا؟ آپ ﷺ نے ارشادفرمایا : جو وراثت مجھ سے پہلے نبیوں نے چھوڑی تھی میں نے عرض کیا انہوں نے کیا چھوڑا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کتاب اللہ اور نبی کی سنت تم اور میری بیٹی فاطمہ میرے ساتھ جنت کے ایک محل میں رہو گے تم میرے بھائی اور دوست ہو پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ( اخوانا علی سررمتقابلین ) مسندوں پر آمنے سامنے بھائی بھائی بن کر بیٹھے ہوں گے۔ اللہ کےلیے محبت کرنے والے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ (1)

زيد بن أبى أوفى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← يزيدُ بنُ معنٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الذَّارِعُ قثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَبَّادٍ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1085

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1086

1086 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ السُّلَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: مَا كُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِلَّا بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا.

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے انصار کی جماعت ! ہم منافق کو صرف بغض علی سے پہچانتے تھے ۔ (2)

مَا كُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِلَّا بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ السُّلَمِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1086

Hassan

chevron_left Previous
12345…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him