ایک شخص سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ قصاب سے کہہ رہے تھے جب اس سے ایک لونڈی نے گوشت خریدا اور کچھ اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا تو فرمایا: اسے زیادہ دو اس سے خرید وفروخت میں برکت آتی ہے ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1063
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1064
زاذان رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ہاتھ میں جوتے کا تسمہ لیے بازار میں گھوم رہے تھے جس کا تسمہ ہوتا ، اسے دے دیتے ، کسی گمشدہ آدمی کو راستہ دکھا دیتے تھے کس کا بوجھ اٹھا کر سواری میں لادتے تھے ، ساتھ یہ آیت تلاوت کرتے تھے (تلک الدار الآخر ۃ نجعلھا للذین لا یریدون علوا فی الارض ولا فساد ا والعاقبۃ للمتقین) اور مزید یہ بھی کہتے تھے : یہ آیت باد شاہوں اور صاحب طاقت لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (3)
زَاذَانَ ← أَبُو هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ، ← عَبْدِ الْغَفُورِ، ← صالح بن مالك ← أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1064
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1065
سیدنا جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک قریشی انسان میں دو آدمیوں کے برابر قوت و طاقت ہوتی ہے ۔ امام ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ قوت سے مراد دانشمندی ہے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1065
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1066
عبداللہ بن حنطب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےجمعہ کے دن خطبہ میں ارشاد فرمایا ! اے لوگوں قریش سے آگے مت ہونا بلکہ ان کو آگے کرو اور قریش سے سیکھو ان کو مت سکھاؤ۔ ایک قریشی شخص کی قوت دو آدمیوں کے برابر ہے اور ایک قریشی کی امانت دو آدمیوں کی امانت کے برابر ہے لوگو ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ میرے چچا زاد بھائی علی بن ابی طالب کے ساتھ محبت کرو۔ کیونکہ ان سے محبت مومن کرتا ہے اور بغض منافق رکھتا ہے ۔ جس نے ان سے محبت کی تو اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے بغض رکھا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا تو اللہ عزوجل اس کو عذاب دے گا۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1066
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1067
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : السلام علیکم اے ابو ریحانتین ! ( یعنی دو پھولوں سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کے باپ ) بہت کم مدت میں تیرے دونوں رکن ختم ہوں گے اور اللہ تمہارا محافظ ہو جب آپ ﷺ فوت ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ پہلا رکن تھا اور جب سیدہ فاطمۃ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں تو فرمانے لگے : یہ دوسرا رکن تھیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1067
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1068
سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے شکایت کی کہ مجھ سے لوگ کیوں حسد کرتے ہیں؟ تو نبی کریم ﷺنے فرمایا: کیا میں خوشی نہیں ہوگی کہ چاروں میں سے چوتھے ہو،سب سے پہلے جنت میں میں، آپ ،حسن وحسین ہماری بیویاں دائیں بائیں ، اولا د بیویوں کے پیچھے اور ہمارا گروہ ہمارے پیچھے ہو گا۔ (1)
شَمَائِلِنَا، وَذَرَارِيُّنَا خَلْفَ أَزْوَاجِنَا، وَشِيعَتُنَا مِنْ وَرَائِنَا ← أَيْمَانِنَا، ← وأنت والحسنُ، والحسينُ، وأزواجنا ← (أَمَا تَرْضَى أَنْ تكون رابعَ أربعَة؟ أول من يدخلُ الجنةَ ← شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ حَسَدَ النَّاسِ إِيَّايَ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← زيد بن علي بن حسين ← عُمَرِ بْنِ مُوسَى ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَائِشَةَ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1068
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1069
محمد بن علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ ( ابو جعفر الباقر ) روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کو پیغام نکاح بھیجا اور کہا: ان کا نکاح مجھ سے کیجیے، سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اسے اپنے بھائی جعفر کے بیٹے کے لیے رکھا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: الله کی قسم! اس کا مجھ سے نکاح کرائیے ! کوئی آ دمی مجھ سے بڑھ کر ان کی دیکھ بھال نہیں کرے گا؟ تو سید ناعلی رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کروادیا، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مہاجرین کے پاس آ کر فرمانے لگے: اے مہاجرین !تم مجھے مبارکباد کیوں نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا: امیرالمومنین !کس بات کی؟ میں نے ام کلثوم بنت علی وبنت فاطمہ بنت رسول اللہ سے نکاح کیا ہے اور میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ کا فرمارہے تھے :سواے میرے رشتے اورنسب کے ہر رشتہ اور نسب قیامت کے دن ختم ہوجائے گا، میں ( عمر ) نے بھی چاہا تھا کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی رشتہ اورنسب ہو۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1069
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1070
مستظل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کے لیے پیغام بھیجا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چھوٹی ہونے کا عذر پیش کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وظیفہ زوجیت کا متمنی نہیں ، بلکہ میں نے تو سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : میرے رشتے کے علاوہ قیامت کے دن تمام رشتے ٹوٹ جائیں گے اور ماسوائے اولاد فاطمہ کے ہر بیٹا باپ کا عصبہ ہوتا ہے کیونکہ اس کی اولاد میری عصبہ ہے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1070
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1071
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پیدل جا رہے تھے کہ راستے میں آپ ﷺ کے جوتوں کاتسمہ ٹوٹ گیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے گانٹھ دیا پھر آگے چل کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ایک شخص قرآن کی تاویل پر جہاد کرے گا جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے پر جہاد کیا تھا ۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے خوشی سے جا کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بشارت دی کہ جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا تو انہوں نے ذرا بھی اظہار خوشی نہ کیا تو مجھے لگا کہ یہ بات انہوں نے پہلے کبھی سن رکھی تھی ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1071
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1072
ابو لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صدیقین تین لوگ ہیں : حبیب بن موسیٰ النجار مومن آل یاسین ، خرتیل مومن آل فرعون اور تیسرے علی ابن ابی طالب جو کہ ان سب سے بہتر ہیں ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1072
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1073
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا : میں نے زمین کا مشرق اور مغرب دیکھا ہے مگر کسی باپ کے بیٹے کو بنو ہاشم سے بہتر نہیں پایا۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1073
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1074
سلمیٰ نامی عورت سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت رسول ﷺ بیمار ہوئیں میں تیمارداری کے لیے ان کے پاس رہی ۔ ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میرے غسل کرنے کے لیے پانی لائیں میں پانی لائی ۔ میرے رائے کے مطابق آپ رضی اللہ عنہانے اچھی طرح غسل کیا ، پھر کہا :مجھے نئے کپڑے لا دو ، میں نے لا دیے تو انہیں پہن کر اپنے گھر ( کے صحن ) کی طرف آئیں جس میں رہ رہیں تھی تو مجھے گھر کے (صحن کے ) درمیان میں بستر بچھانے کو کہا: میں نے بچھا دیا تو آپ رضی اللہ عنہ قبلہ رخ ہو کر لیٹ گئیں ، پھر وہ کہنے لگیں ،اے اماں! میری وفات کا وقت آپہنچا ہے ۔ اس لیے میں نے غسل بھی کر لیا ہے آئندہ کسی شخص کو مجھے عریاں کرنے کی اجازت مت دینا تو اسی وقت فوت ہو گئیں ۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انکو میں نے ساری بات بتا دی تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! فاطمہ نے ٹھیک کہا ہے ۔ اس کو عریاں کیے بغیر دفنا یا جائے گا وہ غسل کافی ہو گا جو انہوں نے خود کیا ہے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1074