فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1243
1243 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَبُو النَّضْرِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ سَلْمَى قَالَتِ: اشْتَكَتْ فَاطِمَةُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَاهَا الَّتِي قُبِضَتْ فِيهِ، فَكُنْتُ أُمَرِّضُهَا فَأَصْبَحَتْ يَوْمًا كَأَمْثَلِ مَا رَأَيْتُهَا فِي شَكْوَاهَا ذَلِكَ قَالَتْ: وَخَرَجَ عَلِيٌّ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَتْ: «يَا أُمَّةُ اسْكُبِي لِي غُسْلًا» ، فَسَكَبْتُ لَهَا غُسْلًا فَاغْتَسَلَتْ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهَا تَغْتَسِلُ، ثُمَّ قَالَتْ: «يَا أُمَّةُ أَعْطِينِي ثِيَابِي الْجُدُدَ» ، فَأَعْطَيْتُهَا، فَلَبِسَتْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: «يَا أُمَّةُ قَدِّمِي لِي فِرَاشِي وَسَطَ الْبَيْتِ» ، فَفَعَلْتُ وَاضْطَجَعَتْ فَاسْتَقْبَلَتِ الْقِبْلَةَ وَجَعَلَتْ يَدَهَا تَحْتَ خَدِّهَا ثُمَّ قَالَتْ: «يَا أُمَّةُ إِنِّي مَقْبُوضَةٌ الْآنَ، وَقَدْ تَطَهَّرَتْ فَلَا يَكْشِفُنِي أَحَدٌ» ، فَقُبِضَتْ مَكَانَهَا قَالَتْ: فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَخْبَرْتُهُ ".
سلمی نامی عورت سے روایت ہے کہ سیّد ہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺایک مرض میں مبتلا تھیں جس میں وہ وفات پا گیئں ،میں ان کی تمار داری کرتی تھی ،ایک دن وہ شدتِ مرض میں مبتلا تھی اس سے پہلے میں نے اتنی سختی نہیں دیکھی ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کسی کام سے باہر گئے تو سیّد نا فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا :میرے غسل کرنے کے لیے پانی رکھ دو ۔میں نے پانی رکھ دیا ۔میری رائے کے مطابق آپ رضی اللہ عنہا نے اچھی طرح غسل کیا ،پھر کہا :مجھے نئے کپڑے لا دو میں نے لا دئے تو انہوں نے پہن لیے اور کہا ،مجھے اس بستر پر لے جاؤجو گھر کے صحن میں ہے میں لے گئی آپ قبلہ رُخ ہو کر لیٹ گئیں اور ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھ لیا پھر کہنے لگیں اماں :میری وفات کا وقت آچکا ہے ،اس لیے میں نے غسل بھی کر لیا ہے اب کسی شخص کو مجھے عریاں کرنے کی اجازت نہ دینا تو اسی جگہ وہ وفات پا گیئں ۔جب سیّد نا علی رضی اللہ عنہ آئے میں نے اس بات کی خبر انہیں دے دی ۔(1)
أمه سلمى ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو النَّضْرِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1243
