Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1231

1231 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا جَمِيلُ بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ قَالَ: شَهِدْتُ عَلِيًّا حَيْثُ قَتَلَ أَهْلَ النَّهْرَوَانِ قَالَ: «الْتَمِسُوا لِيَ الْمُخْدَجَ» ، فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى، فَقَالُوا: لَيْسَ نَجِدُهُ، فَقَالَ: «ارْجِعُوا فَالْتَمِسُوهُ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ» ، فَرَجَعُوا فَالْتَمَسُوهُ فَرَدَّ ذَلِكَ مِرَارًا كُلُّ ذَلِكَ يَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ، فَانْطَلَقُوا فَوَجَدُوهُ تَحْتَ الْقَتْلَى، فِي طِينٍ فَاسْتَخْرَجُوهُ فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: أَبُو الْوَضِيءِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ حَبَشِيًّا عَلَيْهِ ثَدْيَانِ إِحْدَى ثَدْيَيْهِ، مِثْلُ ثَدْيِ الْمَرْأَةِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ مِثْلُ شَعَرَاتٍ تَكُونُ عَلَى ذَنَبِ الْيَرْبُوعِ.

ابو وضی سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا جہاں انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تھا تو انہوں نے فرمایا :تم قتل گاہ میں باقص ہاتھ والے کو تلاش کرو ،لوگوں نے عرض کیا :ہمیں وہ مل سکا ۔پھر سیّد نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ؛جاؤ!دوبارہ تلاش کرو ،اللہ کی قسم !نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ میں نے جھوٹ بولا تھا ۔وہ لوگ پھر تلاش کرنے گئے تو اس کی لاش کو تمام مقتو لین کے نیچے ایک گڑھے میں پایا گیا پھر اس کو نکال کر لایا گیا ۔ابو الوضی کہتے ہیں کہ گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں ،وہ دو پستان نوں (کی مثل ہاتھ)والا حبشی تھا ،اس کا ایک پستان حبشی عور توں کے پستان کی مانند تھا جس پر یر بوع (جنگلی چوہے)کی دم کی مثل کچھ بال تھے ۔(1)

ليس نجده ← «الْتَمِسُوا لِيَ الْمُخْدَجَ» فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى، ← شهدت عليا حيث قتل أهل النهروان ← أَبِي الْوَضِيءِ ← جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1231

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1232

1232 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ إِنْ يُرْجُمَ مَجْنُونَةً فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا لَكَ ذَلِكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الطِّفْلِ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ، أَوْ يَعْقِلَ. فَدَرَأَ عَنْهَا عُمَرُ ".

سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (دور خلافت میں)ایک پاگل عورت کو رجم کرنے کا ارادہ فرمایا تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا :کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہﷺفرمارہے تھے :تین عورتیں طرح کے لوگوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے: 1۔ جو سو رہا ہو یہاں تک کہ بیدار ہو جائے ۔ 2۔ نا بالغ بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے ۔ 3۔ جو پاگل ہویہاں تک کہ صاحبِ عقل ہو جائے ۔ سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ اس سے رک گئے۔(2)

الْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرَأَ، أَوْ يَعْقِلَ. فَدَرَأَ عَنْهَا عُمَرُ ← الطِّفْلِ حَتَّى يَحْتَلِمَ ← النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ. ← ثَلَاثَةٍ ← رُفِعَ الْقَلَمُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُ عَلِيٌّ مَا لَكَ ذَلِكَ ← الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرَادَ أَنْ يَرْجُمَ مَجْنُونَةً ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1232

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1233

1233 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، إِنَّ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ، أَتَتْ عَلِيًّا، فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ، فَقَالَ: لَعَلَّكِ غَيْرَى، لَعَلَّكِ رَأَيْتِ فِي مَنَامِكِ، لَعَلَّكِ اسْتُكْرِهْتِ فَكُلُّ ذَلِكَ تَقُولُ: لَا، فَجَلَدَهَا يَوْمَ الْخَمِيسِ، وَرَجَمَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَالَ: «جَلَدْتُهَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهَا بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» .

امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ شراحہ ہمدانیہ نامی عورت سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی ؛میں نے زناکیا ہے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کسی اور کے پاس جاؤ ہو سکتا ہے کہ تجھے خواب آیا ہو یا ہو سکتاہے تمہارے ساتھ جبر اً کسی نے زنا کیا ہو مگر عورت نے کہا :نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا پس سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جمعرات کے دن کوڑے لگائے ،جمعہ کے دن رجم کیا اور کیا اور فرمایا :کوڑے قرآن کے مطابق لگائے ہیں اور رجم سنت کے رسول اللہﷺکے مطابق کی گیا ہے۔(3)

إِنِّي زَنَيْتُ. ← الشَّعْبِيِّ أَنْ شَرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةَ أَتَتْ عَلِيًّا، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1233

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1234

1234 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ الشَّاعِرُ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، أَنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ قَالَ: كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَلَمَّا بَلَغَنَا مَسِيرَةَ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ مِنْ حَرُورَاءَ، شَذَّ مِنَّا نَاسٌ كَثِيرٌ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِعَلِيٍّ، فَقَالَ: لَا يَهُولَنَّكُمْ أَمْرُهُمْ فَإِنَّهُمْ سَيَرْجِعُونَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي أَنَّ قَائِدَ هَؤُلَاءِ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ عَلَى ثَدْيِهِ شَعَرَاتٌ، حَلَمَةُ ثَدْيِهِ شَعَرَاتٌ، كَأَنَّهُنَّ ذَنَبُ الْيَرْبُوعِ " فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: إِنَّا لَمْ نَجِدْهُ، فَجَاءَ عَلِيٌّ بِنَفْسِهِ، فَجَعَلَ يَقُولُ: اقْلِبُوا ذَا، اقْلِبُوا ذَا، حَتَّى جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْكُوفَةِ، فَقَالَ: هُوَ ذَا، قَالَ عَلِيٌّ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَا يَأْتِيَكُمْ أَحَدٌ يُخْبِرَكُمْ مَنْ أَبُوهُ؟، قَالَ: فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ: هَذَا مَالِكٌ، هَذَا مَالِكٌ يَقُولُ عَلِيٌّ ابْنُ مَنْ؟ .

ابو وضی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جارہے تھے جب ہم دو یا تین راتوں کی مسافت پر حروراء پہنچنے والے تھے تو کچھ لوگ ہم سے الگ ہو گئے اس کا ذکر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :تم ان کی پروہ نہ کرو ، وہ عنقریب پلٹ کر آئیں گے پھر راوی نے ایک طویل روایت بیا ن کی ۔پھر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد ثناہ بیا ن کی اور فرمایا :میں نے اپنے دوست رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ ان لوگوں کا قائد ناقص ہاتھ والا انسان ہو گا ۔اس کے پستان نمایا ہاتھ پر بال ہوں گے ۔اُسکا سر ِپستان گویا کہ یر بو ع (جنگلی چوہے)کی دم ہے ،لوگوں نے مقتولین میں تلاش کیا مگر وہ شخص نہ ملا ،لو گوں نے عرض کیا :ہم کو نہیں ملا ۔سیّد نا علی رضی اللہ عنہ خود تشریف لائے اور فرمانے لگے:یہ پلٹو ں ،اس کو پلٹو (یعنی مردوں کو آگے پیچھے کر کے تلاش کرو )یہاں تک کہ کوفہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا وہ یہ ہے (یعنی اس کو مل گیا )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا پھر فرمایا :کوئی بتا سکتا ہے کہ اس کا باپ کون ہے ؟پس لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ مالک ہے ،مگر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے :کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس کا بیٹا ہے ؟(1)

يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← حجاج بن يوسف الشاعر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1234

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1235

1235 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَا: نا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ دَجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ فَقَالَ لَهُ يَا فَرُّوخُ: أَنْتَ الْقَائِلُ: لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةٌ سَنَةٍ وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ، أَخْطَأَتِ اسْتُكَ الْحُفْرَةَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَأْتِي عَلَى النَّاسِ مِائَةٌ سَنَةٍ، وَعَلَى الْأَرْضِ عَيْنٌ تَطْرِفُ مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ حَيٌّ، وَإِنَّمَا رَخَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَفَرَجُهَا بَعْدَ الْمِائَةِ»

نعیم بن دجاجہ اسدی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ،اس وقت ابو مسعود تشریف لائے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے سیّد نا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا :اے فروخ!(کمزور جسم والا )تم کہتے ہو کہ لوگوں پر 100سال نہیں گزریں گے ، زمین پر کوئی آنکھ ایسی نہ بچے گی ،جس کی پلکیں جھپکتیں ہوں (یعنی سب لوگ مر جائیں گے )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا :آپ غلطی کر گئے ہیں ،نبی کریم ﷺنے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ یہ ہے : آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ ہو گی (یعنی اس سے مراد قیامت نہیں ہے )اللہ کی قسم !اس سے امت کے لیے سو سال بعد سہولیات اور خوش حالی مراد ہے ۔(2)

كُنْتُ عِنْدَ عَلِيٍّ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ ← نُعَيْمِ بْنِ دجَاجَةَ الْأَسَدِيِّ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعِ بْنِ الْجَرَّاحِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1235

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1236

1236 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوَاصِلُ مِنَ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ» .

(3) سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک صبح سے دوسرے صبح تک وصال (لگاتار روزہ رکھنا)کرتے تھے ۔

عَلِيٍّ، ← محمد بن علي ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1236

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1237

1237 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: جَاءَ إِلَى عَلِيٍّ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ فَشَكَوْا سُعَاةَ عُثْمَانَ قَالَ: فَقَالَ لِي أَبِي: " اذْهَبْ بِهَذَا الْكِتَابِ إِلَى عُثْمَانَ فَقُلْ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَكَوْا سُعَاتَكَ وَهَذَا أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّدَقَةِ فَمُرْهُمْ فَلْيَأْخُذُوا بِهِ " قَالَ: فَأَتَيْتُ عُثْمَانَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَلَوْ كَانَ ذَاكِرًا عُثْمَانَ بِشَيْءٍ لَذَكَرَهُ يَوْمَئِذٍ - يَعْنِي بِسُوءٍ

محمد بن علی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے والیوں (زکوٰۃ وصول کر نے والا عملہ )کی شکائت کی تو مجھے میرے باپ (سیّد نا علی رضی اللہ عنہ)نے کہا :یہ خط لے کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ،ان سے کہو :لوگ آپ بھی اسی طرح اپنےعمال کو حکم دو کہ ا سکے مطابق لوگوں سے زکوٰۃ وصول کریں ۔راوی (محمد بن علی )کہتے ہیں :جب میں نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آکر اس بات کو ذکر کیا ،اگر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوتے تو وہ اس موقع پر ضرور ان کو کچھ کہہ دیتے ۔(1)

محمد بن علي ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1237

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1238

1238 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، إِنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا حَدَّثَهُ إِنَّهُ قَالَ: كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمُخْدَجِ. قَالَ عَلِيٌّ: فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا، فَقَالَ عَلِيٌّ أَمَا «إِنَّ خَلِيلِي أَخْبَرَنِي أَنَّ ثَلَاثَةَ إِخْوَةٍ مِنَ الْجِنِّ هَذَا أَكْبَرُهُمْ، وَالثَّانِي لَهُ جَمْعٌ كَثِيرٌ، وَالثَّالِثُ فِيهِ ضَعْفٌ» .

ابوالواضی سے روایت ہے کہ ہم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جارہے تھے ،پھر آگے حدیث مخدوم کو بیا ن کیا ،پھر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ کی قسم !نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ میں نے جھوٹ بولا ہے ،تین مرتبہ کہا، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نےکہا :یہ تین بھائی جنوں میں سے ہیں ،یہ ان میں سے سب بڑا بھا ئی ہے ،دوسرے نمبر والا کافی طاقطور ہے اور تیسرا کمزور ہے۔(2)

عَلِيٌّ أَمَا إِنَّ خَلِيلِي ← عَلِيٌّ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ ثَلَاثًا ← حَدِيثَ الْمُخْدَجِ ← كُنَّا عَامِدِينَ إِلَى الْكُوفَةِ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← أَنَّهُ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، إِنَّ أَبَا الْوَضِيءِ عَبَّادًا ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1238

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1239

1239 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ قثنا سِمَاكٌ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَانْتَهَيْنَا إِلَى قَوْمٍ قَدْ بَنَوْا زُبْيَةً لِلْأَسَدِ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ يَتَدَافَعُونَ إِذْ سَقَطَ رَجُلٌ فَتَعَلَّقَ بِآخَرَ، ثُمَّ تَعَلَّقَ رَجُلٌ بِآخَرَ، حَتَّى صَارُوا فِيهَا أَرْبَعَةً فَجَرَحَهُمُ الْأَسَدُ، فَانْتَدَبَ لَهُ رَجُلٌ بِحَرْبَةٍ فَقَتَلَهُ، وَمَاتُوا مِنْ جِرَاحَتِهِمْ كُلُّهُمْ، فَقَامَ أَوْلِيَاءُ الْأَوَّلِ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْآخَرِ، فَأَخْرَجُوا السِّلَاحَ لِيَقْتَتِلُوا، فَأَتَاهُمْ عَلِيٌّ عَلَى تَفِيئَةِ ذَلِكَ، فَقَالَ: تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ إِنِّي أَقْضِي بَيْنَكُمْ قَضَاءً إِنْ رَضِيتُمْ فَهُوَ الْقَضَاءُ وَإِلَّا حَجَزَ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ، حَتَّى تَأْتُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَكُونُ هُوَ الَّذِي يَقْضِي بَيْنَكُمْ، فَمَنْ عَدَا بَعْدَ ذَلِكَ فَلَا حَقَّ لَهُ، «اجْمَعُوا مِنْ قَبَائِلِ الَّذِينَ حَفَرُوا الْبِئْرَ رُبُعَ الدِّيَةِ، وَثُلُثَ الدِّيَةِ، وَنِصْفَ الدِّيَةِ، وَالدِّيَةَ كَامِلَةً، فَلِلْأَوَّلِ الرُّبُعُ لِأَنَّهُ أَهْلَكَ مَنْ فَوْقَهُ، وَلِلثَّانِي ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَلِلثَّالِثِ نِصْفُ الدِّيَةِ» ، فَأَبَوْا أَنْ يَرْضَوْا فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَقَصُّوا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ: أَنَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ وَاحْتَبَى فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ عَلِيًّا قَضَى فِينَا فَقَصُّوا عَلَيْهِ فَأَجَازَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے قاضی بنا کر یمن بھیجا ،ہم ایسے لوگوں کے پاس پہنچے کہ انہوں نے شیر کو پکڑنے کے لیے ایک گڑھا بنا رکھا تھا ۔ان لوگوں میں سے ایک شیر کے گڑھے میں گرنے لگا تو اس نے دوسرے شخص کو پکڑا ،دوسرے نے تیسرے کو پکڑا یہاں تک کہ چار آدمی اس میں گر گئے شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا تو ایک شخص نے اپنے نیزے سے شیر کو قتل کیا اور وہ چاروں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گئے ،تو پہلے شخص کے ورثا نے دوسرے شخص پر دعوٰی قتل کیا ۔یہاں تک کہ فریقین جنگ کے لیے مسلح ہو گئے تو اس وقت سیّد نا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا :کیا تم آپس میں لڑنا چاہتے ہو؟حلانکہ رسول اللہﷺابھی زندہ ہیں ؟ میں تمہارے درمیا ن فیصلہ کرتا ہوں ،اگر تم بخوشی قبول کرو تو یہی فیصلہ رہے گا ،اگر ایسا نہ ہو تو تم ایک دوسرے سے پیچھے ہٹ جاؤ اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ ،آپ ﷺہی تمہاے درمیا ن فیصلہ کریں گے اس کے بعد جس نے حد سے تجاوز کیا ،وہ حق سے محروم ہو جائے گا تم ان تمام قبائل کے لوگوں سے جنہوں نے اس گڑھے کو کھودا تھا ربع دیت ،ثلث ،تیسرے کو نصف دیت ملےاور کامل دیت وصول کرو ۔ پہلے شخص کو ربع دیت کیو نکہ وہ اوپر سے گرا ہے دوسرے کو ثلث تیسرے کو نصف دیت ملے گی ،یہ فیصلہ ان لوگوں کو ناپسند تھا تو وہ رسول اللہ ﷺکے پاس آئے آپﷺمقام ابراھیم کے پاس کھڑے تھے انہوں نے واقعہ سنایا تو رسول اللہﷺنے فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا تو کسی نے کہا :اس سے پہلے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ فیصلہ کر چکے ہیں ،یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو بر قرار رکھا۔(1)

عَلِيٍّ، ← حنش ← أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ قثنا سِمَاكٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1239

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1240

1240 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حَمَّادٌ قَالَ: أنا سِمَاكٌ، عَنْ حَنَشٍ إِنَّ عَلِيًّا قَالَ: «وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ كَامِلَةً»

حبش رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے چوتھے شخص کے لیے پوری دیت دینے کا حکم دیا ۔(2)

وَلِلرَّابِعِ الدِّيَةُ كَامِلَةً ← حَنَشٍ أَنَّ عَلِيًّا ← سِمَاكٍ، ← أَبِي، قثنا حَمَّادٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1240

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1241

1241 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْأَشْيَبُ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَا: نا ابْنُ لَهِيعَةَ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ حَسَنٌ يَوْمَ الْأَضْحَى فَقَرَّبَ إِلَيْنَا خَزِيرَةً فَقُلْتُ: أَصْلَحَكَ اللَّهُ لَوْ قَرَّبْتَ إِلَيْنَا هَذَا الْبَطَّ يَعْنِي الْوَزَّ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَكْثَرَ الْخَيْرَ، فَقَالَ: يَا ابْنَ زُرَيْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ مَالِ اللَّهِ، إِلَّا قَصْعَتَانِ، قَصْعَةٌ يَأْكُلُهَا هُوَ وَأَهْلُهُ، وَقَصْعَةٌ يَضَعُهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّاسِ» .

عبد اللہ بن زریر رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ،راوی حسن کہتے ہیں:عبد الاضحیٰ کے دن انہوں نے میرے سامنے خزیرہ پیش کیا تو میں نے کہا :امیر المومنین !اللہ آپ کے حالات درست فرمائے ،اگر بطخ کا گوشت پیش کرتے تو اچھا ہوتا ،کیو نکہ اللہ نے کشادگی فرمائی ہے ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ابن زیر !میں نے رسول اللہﷺسے سنا تھا کہ کسی خلیفہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ بیت المال سے دو طرح کے پیالوں کے علاوہ خرچ کرے ،ایک وہ پیالہ جس سے خود اور اپنے اہل وعیال کو کھلائے دوسرا وہ جو لو گو ں کے سامنے پیش کرے۔(3)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ، ← حَسَنٌ الْأَشْيَبُ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1241

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1242

1242 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، نا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ وَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ، وَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ، وَلَا تُنْزِ الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ، وَلَا تُجَالِسْ أَصْحَابَ النُّجُومِ» .

سیّد ناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ان سے فرمایا :علی!ہر حال میں وضو اچھی طرح کرنا اگر چہ تمہیں تکلیف ہو ،صدقہ کے ،مال سے نہ کھانا ،گدھے کو گھوڑی پر نہ چھوڑنا اور نجومیوں کے ساتھ تعلقات نہ بنانا ۔(4)

عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← محمد بن علي ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← هارون بن مسلم، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1242

Daif

chevron_left Previous
1…15161718
Next chevron_right

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him