ابو وضی سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گیا جہاں انہوں نے اہل نہروان کو قتل کیا تھا تو انہوں نے فرمایا :تم قتل گاہ میں باقص ہاتھ والے کو تلاش کرو ،لوگوں نے عرض کیا :ہمیں وہ مل سکا ۔پھر سیّد نا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ؛جاؤ!دوبارہ تلاش کرو ،اللہ کی قسم !نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ میں نے جھوٹ بولا تھا ۔وہ لوگ پھر تلاش کرنے گئے تو اس کی لاش کو تمام مقتو لین کے نیچے ایک گڑھے میں پایا گیا پھر اس کو نکال کر لایا گیا ۔ابو الوضی کہتے ہیں کہ گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں ،وہ دو پستان نوں (کی مثل ہاتھ)والا حبشی تھا ،اس کا ایک پستان حبشی عور توں کے پستان کی مانند تھا جس پر یر بوع (جنگلی چوہے)کی دم کی مثل کچھ بال تھے ۔(1)
ليس نجده ← «الْتَمِسُوا لِيَ الْمُخْدَجَ» فَطَلَبُوهُ فِي الْقَتْلَى، ← شهدت عليا حيث قتل أهل النهروان ← أَبِي الْوَضِيءِ ← جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1231
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1232
سیّد نا حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (دور خلافت میں)ایک پاگل عورت کو رجم کرنے کا ارادہ فرمایا تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا :کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہﷺفرمارہے تھے :تین عورتیں طرح کے لوگوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے:
1۔ جو سو رہا ہو یہاں تک کہ بیدار ہو جائے ۔
2۔ نا بالغ بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے ۔
3۔ جو پاگل ہویہاں تک کہ صاحبِ عقل ہو جائے ۔
سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ اس سے رک گئے۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1232
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1233
امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ شراحہ ہمدانیہ نامی عورت سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی ؛میں نے زناکیا ہے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کسی اور کے پاس جاؤ ہو سکتا ہے کہ تجھے خواب آیا ہو یا ہو سکتاہے تمہارے ساتھ جبر اً کسی نے زنا کیا ہو مگر عورت نے کہا :نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا پس سیّدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو جمعرات کے دن کوڑے لگائے ،جمعہ کے دن رجم کیا اور کیا اور فرمایا :کوڑے قرآن کے مطابق لگائے ہیں اور رجم سنت کے رسول اللہﷺکے مطابق کی گیا ہے۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1233
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1234
ابو وضی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جارہے تھے جب ہم دو یا تین راتوں کی مسافت پر حروراء پہنچنے والے تھے تو کچھ لوگ ہم سے الگ ہو گئے اس کا ذکر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے فرمایا :تم ان کی پروہ نہ کرو ، وہ عنقریب پلٹ کر آئیں گے پھر راوی نے ایک طویل روایت بیا ن کی ۔پھر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد ثناہ بیا ن کی اور فرمایا :میں نے اپنے دوست رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ ان لوگوں کا قائد ناقص ہاتھ والا انسان ہو گا ۔اس کے پستان نمایا ہاتھ پر بال ہوں گے ۔اُسکا سر ِپستان گویا کہ یر بو ع (جنگلی چوہے)کی دم ہے ،لوگوں نے مقتولین میں تلاش کیا مگر وہ شخص نہ ملا ،لو گوں نے عرض کیا :ہم کو نہیں ملا ۔سیّد نا علی رضی اللہ عنہ خود تشریف لائے اور فرمانے لگے:یہ پلٹو ں ،اس کو پلٹو (یعنی مردوں کو آگے پیچھے کر کے تلاش کرو )یہاں تک کہ کوفہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا وہ یہ ہے (یعنی اس کو مل گیا )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا پھر فرمایا :کوئی بتا سکتا ہے کہ اس کا باپ کون ہے ؟پس لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ مالک ہے ،مگر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے :کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس کا بیٹا ہے ؟(1)
يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← حجاج بن يوسف الشاعر ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1234
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1235
نعیم بن دجاجہ اسدی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ،اس وقت ابو مسعود تشریف لائے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے سیّد نا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا :اے فروخ!(کمزور جسم والا )تم کہتے ہو کہ لوگوں پر 100سال نہیں گزریں گے ، زمین پر کوئی آنکھ ایسی نہ بچے گی ،جس کی پلکیں جھپکتیں ہوں (یعنی سب لوگ مر جائیں گے )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا :آپ غلطی کر گئے ہیں ،نبی کریم ﷺنے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ یہ ہے : آج جو لوگ زندہ ہیں سو سال گزرنے پر ان میں سے کسی کی آنکھ ایسی نہ ہو گی (یعنی اس سے مراد قیامت نہیں ہے )اللہ کی قسم !اس سے امت کے لیے سو سال بعد سہولیات اور خوش حالی مراد ہے ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1235
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1236
(3) سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺایک صبح سے دوسرے صبح تک وصال (لگاتار روزہ رکھنا)کرتے تھے ۔
عَلِيٍّ، ← محمد بن علي ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1236
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1237
محمد بن علی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے والیوں (زکوٰۃ وصول کر نے والا عملہ )کی شکائت کی تو مجھے میرے باپ (سیّد نا علی رضی اللہ عنہ)نے کہا :یہ خط لے کر سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ ،ان سے کہو :لوگ آپ بھی اسی طرح اپنےعمال کو حکم دو کہ ا سکے مطابق لوگوں سے زکوٰۃ وصول کریں ۔راوی (محمد بن علی )کہتے ہیں :جب میں نے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آکر اس بات کو ذکر کیا ،اگر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوتے تو وہ اس موقع پر ضرور ان کو کچھ کہہ دیتے ۔(1)
محمد بن علي ← مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1237
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1238
ابوالواضی سے روایت ہے کہ ہم سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کوفہ جارہے تھے ،پھر آگے حدیث مخدوم کو بیا ن کیا ،پھر سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اللہ کی قسم !نہ میں جھوٹا ہوں اور نہ میں نے جھوٹ بولا ہے ،تین مرتبہ کہا، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نےکہا :یہ تین بھائی جنوں میں سے ہیں ،یہ ان میں سے سب بڑا بھا ئی ہے ،دوسرے نمبر والا کافی طاقطور ہے اور تیسرا کمزور ہے۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1238
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1239
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے قاضی بنا کر یمن بھیجا ،ہم ایسے لوگوں کے پاس پہنچے کہ انہوں نے شیر کو پکڑنے کے لیے ایک گڑھا بنا رکھا تھا ۔ان لوگوں میں سے ایک شیر کے گڑھے میں گرنے لگا تو اس نے دوسرے شخص کو پکڑا ،دوسرے نے تیسرے کو پکڑا یہاں تک کہ چار آدمی اس میں گر گئے شیر نے ان سب کو زخمی کر دیا تو ایک شخص نے اپنے نیزے سے شیر کو قتل کیا اور وہ چاروں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گئے ،تو پہلے شخص کے ورثا نے دوسرے شخص پر دعوٰی قتل کیا ۔یہاں تک کہ فریقین جنگ کے لیے مسلح ہو گئے تو اس وقت سیّد نا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہا :کیا تم آپس میں لڑنا چاہتے ہو؟حلانکہ رسول اللہﷺابھی زندہ ہیں ؟ میں تمہارے درمیا ن فیصلہ کرتا ہوں ،اگر تم بخوشی قبول کرو تو یہی فیصلہ رہے گا ،اگر ایسا نہ ہو تو تم ایک دوسرے سے پیچھے ہٹ جاؤ اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ ،آپ ﷺہی تمہاے درمیا ن فیصلہ کریں گے اس کے بعد جس نے حد سے تجاوز کیا ،وہ حق سے محروم ہو جائے گا تم ان تمام قبائل کے لوگوں سے جنہوں نے اس گڑھے کو کھودا تھا ربع دیت ،ثلث ،تیسرے کو نصف دیت ملےاور کامل دیت وصول کرو ۔ پہلے شخص کو ربع دیت کیو نکہ وہ اوپر سے گرا ہے دوسرے کو ثلث تیسرے کو نصف دیت ملے گی ،یہ فیصلہ ان لوگوں کو ناپسند تھا تو وہ رسول اللہ ﷺکے پاس آئے آپﷺمقام ابراھیم کے پاس کھڑے تھے انہوں نے واقعہ سنایا تو رسول اللہﷺنے فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا تو کسی نے کہا :اس سے پہلے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ فیصلہ کر چکے ہیں ،یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو بر قرار رکھا۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1239
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1240
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1240
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1241
عبد اللہ بن زریر رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ،راوی حسن کہتے ہیں:عبد الاضحیٰ کے دن انہوں نے میرے سامنے خزیرہ پیش کیا تو میں نے کہا :امیر المومنین !اللہ آپ کے حالات درست فرمائے ،اگر بطخ کا گوشت پیش کرتے تو اچھا ہوتا ،کیو نکہ اللہ نے کشادگی فرمائی ہے ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ابن زیر !میں نے رسول اللہﷺسے سنا تھا کہ کسی خلیفہ کے لیے جائز نہیں کہ وہ بیت المال سے دو طرح کے پیالوں کے علاوہ خرچ کرے ،ایک وہ پیالہ جس سے خود اور اپنے اہل وعیال کو کھلائے دوسرا وہ جو لو گو ں کے سامنے پیش کرے۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1241
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1242
سیّد ناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ان سے فرمایا :علی!ہر حال میں وضو اچھی طرح کرنا اگر چہ تمہیں تکلیف ہو ،صدقہ کے ،مال سے نہ کھانا ،گدھے کو گھوڑی پر نہ چھوڑنا اور نجومیوں کے ساتھ تعلقات نہ بنانا ۔(4)
عَلِيٍّ، ← أَبِيهِ ← محمد بن علي ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← هارون بن مسلم، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1242