سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میرا بیٹا حسن پیدا ہوا میں نے اس کا نام حمزہ رکھا اور جب دوسرا بیٹا حسین پیدا ہوا تو میں نے اس کے چچا (سیّد نا جعفر طیار رضی اللہ عنہ )کے نام پر رکھا تو رسول ﷺنے مجھ سے فرمایا :مجھے ان کے نام تبدیل کرنے کا حکم ہوا ہے ۔ میں نے عرض کیا :اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں پس آپ ﷺنے ان کا حسن حسین رکھا ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1219
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1220
ربیعہ بن ناجذ رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا :امیر المومنین !آپ اپنے چچاؤں کی بجائے اپنے چچازاد (نبی کریمﷺ)کے وارث کیسے بنے؟تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :رسول اللہﷺنے بنوعبدالمطلب کو جمع کیا (یا راوی نے الفاظ بیان کئے کہ)یا بنوعبدالمطلب کی اولاد کو بلایاپس ان کےلیے آپﷺنےایک مدطعام کا کھاناتیار کیا ۔ سب نے پیٹ بھر کھایا مگر کھانا اس وقت تک اتنا ہی موجود تھا جتناپکایاگیا تھا جیسا کہ اسکو کسی نے چھوا تک نہیں ، پھر آپﷺنے پانی کا ایک پیالہ منگوایا سب نے سیر ہو کر پیاتو پانی بھی اسی طرح بچ گیا جیسا کہ اس کو کسی نے ہاتھ تک نہیں لگا یا پھر آپ ﷺنے ارشاد فرمایا :اے بنی عبدالمطلب !میں خاص طور پر تمہاری طرف اور عام طور پر باقی لوگوں کی طرف معبوث کیاگیا ہوں البتہ تم نے جو میرے (کھانے اور پانی کے حوالے سے اس)معجزے کو دیکھنا تھا وہ تم دیکھ چکے ہو پھر پوچھا:تم میں سے کون اس بات پر میرے بیعت کرنا چاہتا ہے کہ جو میرا بھائی ، میرا دوست ،میرا وارث اور میرانائب ہوں ۔ خاندان کے لوگوں میں سے کوئی بھی آپﷺکے لیے کھڑا نہ ہوا تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا:یا رسول اللہ ﷺمیں (یہ کروں گا)۔ حالانکہ میں ان لوگوں میں سب سے چھوٹا تھا ۔تو نبی کریمﷺنے فرمایا :علی !بیٹھ جاؤ، آپ ﷺنے تین مرتبہ یہ کلمات دہرائے میں ہر بار آپ ﷺکی دعوت پر کھڑا ہوتا رہا اس پر آپﷺمجھے فرماتے رہے کہ بیٹھ جاؤجب تیسری مرتبہ ایسا ہواتو نبی کریمﷺنے میرے ہاتھ ڈال لیے۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1220
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1221
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے مجھ سے فرمایا تھا :تیری مثال عیسیٰ بن مریم (علیہما اسلام)کی سی ہے کہ یہودیو ں نے ان سے بعض رکھا یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان لگایا اور نصاری ٰ نے ان سے محبت کی ، یہاں تک کہ ان کو و ہ مقام دیا جو ان کا حق نہیں تھا ۔ فرمایا:اسی طرح میرے بارے میں بھی دو طرح کےآدمی ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ کر اور دوسرا میرے بارے بغض رکھنے والا ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1221
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1222
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے مجھے بلاکر فرمایا : تیری مثال عیسیٰ بن مریم (علیہما اسلام)کی سی ہے کہ یہودیو ں نے ان سے بعض رکھا یہاں تک کہ ان کی ماں پر بہتان لگایا اور نصاری ٰ نے ان سے محبت کی ، یہاں تک کہ ان کو و ہ مقام دیا جو ان کا حق نہیں تھا ۔ فرمایا:اسی طرح میرے بارے میں بھی دو طرح کےآدمی ہلاک ہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ کر اور دوسرا میرے بارے بغض رکھنے اور مجھ پر الزام تراشی کی پاداش میں ہلاک کا شکار ہو گا ۔ مگر میں نبی نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ پر وحی آتی ہے لیکن میں حسب طاقت کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق عمل کرنے کی کو شش کرتا ہوں ، اگر میں تم کو اطاعت الہی کا حکم دو تو تم پر اس کی اطاعت واجب ہے خواہ تم کو پسند ہو یا نہ گوار گزرے۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1222
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1223
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺکے گھر گیا تو وہا ں آپ ﷺکےساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علا وہ کو ئی نہ تھا ۔ آپﷺنے مجھ سے فرمایا :ابن ابی طالب !اس دن تیری کیا کیفیت ہو گی کہ جب لوگوں کی حالت ایسی ایسی ہو گی (جن سے تیرا واسطہ پڑھے گا )میں نے عرض کیا :اللہ اور اس کے رسول بہتر جا نتے ہیں ،پھر آپﷺنے فرمایا :تمہاری مخالفت میں مشرق کی جانب سے ایک قوم نکلے گی وہ قرآن پڑھنے والے ہو ں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۔وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ان میں ایک شخص ناقص ہاتھو ں والا ہوگا اس کے ہاتھ حبشی عورتوں کے پستان کی مانند ہو ں گے۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1223
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1224
طارق بن زیاد رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ (لشکر کے ساتھ)نہروان کی طرف بڑھے ،خوارج کو خوب قتل کیا اور فرمایا :تلاش کرو !کیو نکہ میں نے رسول اللہﷺسے سنا ہے کہ عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو حق کےدعویدار ہو ں گے،مگر کلمہ حق ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا وہ دین اسلام سے اس طرح نکلے ہوں گے جس طرح تیر شکا ر سے نکل جاتا ہے ان کی پہنچان یہ ہو گی کہ ان میں ایک ناقص ہاتھ والا ایک کالا شخص ہو گا ،اس کے ہاتھ میں کچھ کالے بال ہوں گے اگر ان مقتولین میں سے وہ شخص ہوا تو سمجھ جاؤ تم نے بد ترین گروہ کو قتل کیا ہےاگر ان مقتولین میں سے وہ شخص ہوا نہ ملا تو سمجھ جاؤ تم نے بہترین لوگوںکو قتل کیا ہے (ہم باطل پر ہیں )تلاش کرتے کرتے وہ شخص ہمیں مل گیا اس کو دیکھ کر ہم نے بھی سجدہ شکر ادا کیا اور سیّد نا علی رضی اللہ عنہ بھی ہمارے ساتھ سجدہ ریز ہو گئے ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1224
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1225
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :مجھ سے پہلے انبیا کو سات رفقا بطور مشیر اور وزیر دیے گئے اور میرے چودہ ہیں ،حمزہ ،جعفر،علی،حسن،حسین ، پھر آگے باقی حدیث کو بیا ن کیا ۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1225
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1226
عاصم بن ضمرہ رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیّد نا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا :لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کو قیامت سے پہلے دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے گا تو سیّد ناحسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا :کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں اگر ایسا ہو تا تو ہم ان کی شادیاں نہ کراتے اور نہ ان کامال بطور وراثت تقسیم کرتے۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1226
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1227
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺنے مجھے اہل یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا ،میں نے عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ!آپ مجھے ایک قوم کی طرف بھیج رہے ہیں حلا ں کہ میں ایک نو جوان آدمی ہوں ،مجھے فیصلہ کرنے کا بھی اتنا علم نہیں ہے آپ ﷺنے اپنا ہاتھ مبارک میرے سینے پر رکھ کر فرمایا:اللہ تجھے ثا بت قدم اور سیدھا رکھے ۔ البتہ جب تیرے پاس دو (آدمی یا دو فریق )جھگڑا لے کر آئیں تو ان دونوں کے درمیا ن اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک کہ تم پہلے آدمی کی بات کے بعد دوسرے آدمی سے بھی بات سن نہیں لیتے ، جب تم ایسا کرو گے تو تم پر واضح ہو جائے گا ۔سیّد نا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :اس کےبعد میں مسلسل عہدہ قضاۃ پر فائز رہا ، یہ الفاظ داؤد بن عمر و کی روایت کے ہیں ، ان راویوں میں بعض نے ایک دوسرے سے مکمل الفاظ بیان کیے ہیں ۔(2)
بعثني النبي إلى اليمن قاضياً، فقلت: تبعثني إلى قوم ← عَلِيٍّ، ← حنش ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← عبد الله بن عامر بن زرارة الحضرمي ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرَکَانِيُّ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1227
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1228
نعمان بن سعد رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ ہم سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی :ترجمہ :(وہ دن آنے والا ہے کہ جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رب رحمٰن کے حضو ر پیش کریں گے )آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :نہیں !اللہ کی قسم !پیدل نہیں جمع کئے جائیں گے ،بلکہ ایسی سو نے کے کجاوں والی اونٹنیوں پر ہو گے ،جنہیں مخلوق نے کبھی نہیں دیکھا ہو گا ،پس وہ ان پر سوار ہو کر جنت کے دروازوں کو دستک دیں گے ۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1228
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1229
مجاہد رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ایک دفعہ مجھے سخت بھوک لگی تھی میں کام کی غرض سےمد ینہ میں گھوم رہا تھا ،اچانک میں نے ایک عورت کو دیکھا کہ اس نے بہت سی مٹی کو جمع کیا تھا وہ اسے تر کر نا چاہتی تھی میں نے اس کے ساتھ کام کو اس طرح طے کیا کہ ہر ایک پانی کا ڈول نکالنے پر ایک دانہ کھجور مجھے دے گی ۔میں نے سولہ ڈول پانی نکالا یہا ں تک کہ میرے ہاتھ چُور چُور ہو گئے ۔جب کام پورا ہوا تو اس نے مجھے سولہ کھجور کے دانے دئیے ۔میں وہ لے کر نبی کریمﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺنے میرے ساتھ کھجوریں تناول فرمائیں ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1229
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1230
سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے ،آپﷺنے فرمایا:کون ہے جو مدینے کی تمام اونچی قبروں کو مسمار کرے اور تصویروں کو مٹا دے اور بتوں کو توڑ دے ؟ایک شخص نےکہا :میں ہوں پھر وہ اہل مدینہ سے گھبرا گیا اور بیٹھ گیا پس میں (علی) گیا ۔پھر واپس آکر عرض کیا ؛یا رسول للہﷺمیں نے مدینہ کی تمام قبور کو برابر کر دیا ہے ۔تصویروں کو مٹا دیا ہے اور بتوں کو توڑ دیا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا :آئندہ جو شخص ان مزکورہ چیزوں کا مر تکب ہوا۔ یقیناً اس نے محمد ﷺپر نازل کردہ چیزوں کا انکار کیا ہے پھر فرمایا:علی !تم لوگوں کو فتنے میں ڈالنے والا نہ بننا اور نہ ہی تاجر بنو مگر بننا تو اچھا تاجر بننا کیو نکہ ایسے ہی لوگ عمل میں سبقت لے جانے والے ہیں ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1230