Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1207

1207 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ قثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، نا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ، عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: يَا ابْنَ أَعْبُدَ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ؟ قَالَ: تَقُولُ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا، قَالَ: وَمَا تَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَمَا شُكْرُهُ؟ قَالَ: تَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ؟ كَانَتِ ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ أَكْرَمِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَكَانَتْ زَوْجَتِي، فَجَرَتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَ الرَّحَى بِيَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتِ الْقِرْبَةُ بِنَحْرِهَا، وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، وَأَوْقَدَتْ تَحْتَ الْقِدْرِ حَتَّى دَنِسَتْ ثِيَابُهَا، فَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ ضُرٌّ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ أَوْ خَدَمٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْأَلِيهِ خَادِمًا يَقِيكِ حَرَّ مَا أَنْتِ فِيهِ، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ خَدَمًا أَوْ خُدَّامًا، فَرَجَعَتْ وَلَمْ تَسْأَلْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: «أَلَا أَدُلُّكِ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْ خَادِمٍ؟ إِذَا أَوَيْتِ إِلَى فِرَاشِكِ فَسَبِّحِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْ رَأْسَهَا فَقَالَتْ: رَضِيتُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، مَرَّتَيْنِ. فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، أَوْ نَحْوَهُ.

ابن اعبدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کہ مجھ سے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ابن اعبد ! تجھے پتہ ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا ابن ابی طالب ! آپ ہی بتا دیجیے کیا حق ہے؟تو انہوں نے فرمایا : بسم اللہ پڑھو اور یہ دعا پڑھو :اے اللہ ! ہمارے اس رزق میں مزید برکت فرما ، پھر مجھ سے کہا :جب کھانے سے فارغ ہو جاؤ تو اس کا شکر کیسا ہو تا ہے ؟ میں نے کہا :کس طرح ہوتا ہے شکر ؟ تو فرمایا : اے اللہ حمد ہے تیرے لیے تُو نے ہمیں کھلا یا اور پلا یا ۔ پھر انہوں نے مجھ سے کہا : میں تمہیں اپنے اور سیّد ہ فاطمہ رضی اللہ عنہاکے بارے میں نہ بتاؤ ں جو آپ ﷺ کو سب زیادہ محبوب صاحبزادی تھیں ، میری بیوی سیّد ہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھو ں سے آٹا پیسا کرتی تھیں جس سے ان کے ہاتھ زخمی ہو گئے ، مشکیزوں میں پانی لانے سے کندھے پر نشانات بن گئے ، گھر کی صفائی سے کپڑے میلے ہو جا تے ، ان کو کا فی تکلیف تھی تو ان دنوں رسول اللہ ﷺ کے پاس قیدی اور خادم آئے تو میں نے ان سے کہا : آپ رسول اللہ ﷺ کے پاس جائیں اور ایک خادم کا سوال کریں تاکہ آپ کو جن پر یشانیوں کا سامنا ہے ، ان سے چٹکارا مل جائے ، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، ان کے پاس ایک یا کئی خادم موجود تھے ، سیّدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کوئی سوال کئے بغیر واپس چلی آئیں ، باقی حدیث بیان کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں اس (خادم) سے اچھا وظیفہ نہ بتا دوں ؟ وہ یہ کہ جب تم بستر پر سونے جاتی ہو 33مرتبہ سبحان اللہ 33مرتبہ الحمداللہ 33مرتبہ اللہ اکبر پڑھو ، یہ سن کر سیّد ہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سرنکال کر کہا:میں اللہ اور اس کے رسول ﷺسے راضی ہوں دو مرتبہ انہو ں نے یہ کہا ۔ (2)

ابْنِ أَعْبُدَ، ← أَبِي الْوَرْدِ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ قثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1207

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1208

1208 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: أَتَى عَلِيًّا رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي عَجَزْتُ عَنْ مُكَاتَبَتِي فَأَعِنِّي، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ عَلَّمَنِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صَبِرٍ دَنَانِيرَ لَأَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: قُلِ: اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ، وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ.

ابو وائل رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی آکر کہنے لگا : امیر المومنین !میں مکا تبت کا معاوضہ ادا کرنے سے عاجز ہوں آپ میری مدد فرمائیں سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں کچھ ایسے کلمات سکھاؤں گا جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے سکھائے تھے ، اگر صبر پہاڑ کے برابر تم پر دینا روں کاقرض بھی ہوا تو اللہ پاک اتار دے گا ، میں نے کہا : جی کیوں نہیں ! انہوں نے کہا : یہ وظیفہ پڑھو :اے اللہ !تو میرے لیے کافی ہے مجھے حلال رزق سے غنی کردے نہ کہ حرام سے اور اپنے فضل سے غنی کردے اپنے سواہر کسی سے۔(1)

أَبِي وَائِلٍ ← سيار أبي الحكم ← عبد الرحمن بن إسحاق القرشي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1208

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1209

1209 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَفَّانُ، نا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَذَهَبُوا بِهَا لِيَرْجُمُوهَا فَلَقِيَهُمْ عَلِيٌّ فَقَالَ: مَا لِهَذِهِ؟ فَقَالُوا: زَنَتْ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا، فَانْتَزَعَهَا عَلِيٌّ مِنْ أَيْدِيهِمْ وَرَدَّهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: مَا رَدَّكُمْ؟ قَالُوا: رَدَّنَا يَعْنِي عَلِيٌّ، قَالَ: مَا فَعَلَ هَذَا عَلِيٌّ إِلَّا لِشَيْءٍ قَدْ عَلِمَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ: فَجَاءَ وَهُوَ شِبْهُ الْمُغْضَبِ، فَقَالَ: مَا لَكَ رَدَدْتَ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ، وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ "؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ عَلِيٌّ: هَذِهِ مُبْتَلَاةُ بَنِي فُلَانٍ، فَلَعَلَّهُ أَتَاهَا وَهُوَ بِهَا، فَقَالَ عُمَرُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: وَأَنَا لَا أَدْرِي، فَلَمْ يَرْجُمْهَا.

ابو ظبیان رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کو لایا گیا ، جس نے زنا کیا تھا ، آپ رضی اللہ عنہ نے زنا کے جرم میں رجم کرنے کا حکم دیا ، جب لوگ اسے رجم کرنے کے لیے لے جا رہے تھے تو سیّد نا علیرضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہو گئی ، انہو ں نے پوچھا : اسے کیا ہوا ؟ لوگوں نے بتایا : اس نے زنا کیا ہے ، اس لیے سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا ہے تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ سے اُس عورت کو چھڑایا ، سب لوگوں کو واپس بھیج دیا جب وہ سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئے تو سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا :تمہیں کس نے واپس بھیجا ہے ؟ لوگو ں نے کہا : سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یہ کام انہوں نے ایسے ہی نہیں کیا ہو گا بلکہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات ہوں گی ، تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کو بلابھیجا ، جب وہ آئے ، سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ بڑے غصے میں تھے ، دریافت کیا :کیوں آپ نے واپس بھیجا ہے ؟ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے کہ تین طرح کے بندے سزاؤں کے مستحق نہیں ہے: 1۔ جو سورہا ہو یہاں تک کہ بیدار ہو جائے ۔ 2۔ نا بالغ بچہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے 3۔ جو پاگل ہو یہاں تک کہ صاحب عقل ہو جائے ۔ سیّد نا عمررضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں (یعنی یہ مسئلہ ایسے ہی ہے )تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے کہا :یہ فلاں قبیلے کی پاگل عورت ہے جس کے ساتھ کسی نے بدکاری کی ہے ۔ پھر سیّدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا :میں نہیں جانتا تو سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں بھی نہیں جانتا ، چنانچہ اس کو رجم نہیں کیا گیا ۔ (1)

أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1209

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1210

1210 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مُوسَى، فَأَتَانَا عَلِيٌّ فَقَامَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَأَمَرَهُ بِأَمْرٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلِ: اللَّهُمَّ اهْدِنِي، وَسَدِّدْنِي، وَاذْكُرْ بِالْهُدَى هِدَايَتَكَ الطَّرِيقَ، وَاذْكُرْ بِالسَّدَادِ تَسْدِيدَ السَّهْمِ "، وَنَهَانِي أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ، وَأَهْوَى أَبُو بُرْدَةَ إِلَى السَّبَّابَةِ أَوِ الْوُسْطَى، قَالَ عَاصِمٌ: أَنَا الَّذِي اشْتَبَهَ عَلَيَّ أَيَّتَهُمَا عَنَى، وَنَهَانِي عَنِ الْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيَّةِ، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا الْمِيثَرَةُ، وَمَا الْقَسِّيَّةُ؟ قَالَ: الْمِيثَرَةُ فَشَيْءٌ كَانَتْ تَصْنَعُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ، لِيَجْعَلُوهُ عَلَى رِحَالِهِمْ، وَأَمَّا الْقَسِّيُّ فَثِيَابٌ كَانَتْ تَأْتِينَا مِنَ الشَّامِ أَوِ الْيَمَنِ، شَكَّ عَاصِمٌ، فِيهَا حَرِيرٌ، فِيهَا أَمْثَالُ الْأُتْرُجِّ. قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ السَّبَنِيَّ عَرَفْتُ أَنَّهَا هِيَ.

ابو بردہ بن ابی مو سیٰ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیّدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ہمارے پاس سیّد نا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو سیّد نا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ان کے احترام کے لیے کھڑے ہو ئے اور لوگو ں کو بھی اس کا حکم دیا سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا :یہ دعا پڑھو ، اے اللہ ! مجھے ہدایت دے اور مجھے سیدھا کر دے ، ہدایت سے مراد سیدھا راستہ ہے ، تسدید سے مراد تیر کی مثل برابر سیدھا ہونا ہے ، مجھے اس انگلی میں انگھوٹی پہننے سے منع کیا ، راوی ابو بردہ نے تشہد والی اور درمیان والی انگلی کا ذکر کیا ۔ عاصم کہتے ہیں :مجھ پر یہ بات مشتبہ ہو گئی کہ کونسی انگلی تھی ؟ مجھے مثیر ہ سے اور قسیہ کپڑوں سے منع کیا ہے ۔ ابو بردہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا :امیر المومنین !یہ مثیرہ اور قسیہ کیا ہے ؟تو انہوں نے فرمایا !مثیرہ ایک مخصوص کپڑا ہوتا تھا جو عورتیں اپنے خاوندوں کے لیے بناتی تھیں تاکہ وہ اس کو سواری کے وقت استعمال کریں اور ہاقسیہ تو یہ بھی مخصوص قسم کے کپڑے ہیں جو شام یا یمن سے منگوائے جاتے تھے ۔ راوی حدیث عاصم کو شک ہوا ہے کہ اس میں ریشم ہوتا تھا جو کہ مالٹے رنگ کی مانند ہوتا تھا ۔ ابو بردہ کہتے ہیں کہ جب میں نے سبنی لباس کو دیکھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ قسبی لباس یہی ہے۔(2)

أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1210

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1211

1211 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبُعٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِيٌّ فَقَالَ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ، قَالَ: قَالَ النَّاسُ: فَأَعْلِمْنَا مَنْ هُوَ، فَوَاللَّهِ لَنُبِيرَنَّهُ أَوْ لَنُبِيرَنَّ عِتْرَتَهُ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَنْ يُقْتَلَ بِي غَيْرُ قَاتِلِي، قَالُوا: إِنْ كُنْتَ قَدْ عَلِمْتَ ذَلِكَ اسْتَخْلِفْ إِذًا، قَالَ: لَا، وَلَكِنْ أَكِلُكُمْ إِلَى مَا وَكَلَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن سبع رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا :اس ذات کی قسم !جس نے دانے کو پھاڑا اور جاندار وں کو پیدا فرمایا ، تم لوگ اس (میری داڑھی)کو اس (میرے) خون سے آلودہ کرو گے ، لوگوں نے کہا :ہمیں بتائیں ایسا کرنے والا شخص کون ہو گا ؟ہم اس کو اس کے اہل وعیال کو تباہ کر دیں گے ، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں میرے قاتل کے علاوہ کسی کو مت قتل کرنا پھر لوگوں نے کہا :اگر آپ جانتے ہیں تو ہمیں بتلا دیجیے ، فرمایا : نہیں !بلکہ میں تمہیں اس چیز پر چھوڑتا ہوں جس پر تمہیں رسول اللہ ﷺ نے چھوڑا تھا ۔(1)

لَا وَلَكِنْ أَكِلُكُمْ إِلَى مَا وَكَلَكُمْ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ ← إِنْ كُنْتَ قَدْ عَلِمْتَ ذَلِكَ اسْتَخْلِفْ إِذًا ← أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَنْ يُقْتَلَ بِي غَيْرُ قَاتِلِي، ← النَّاسُ: فَأَعْلِمْنَا مَنْ هُوَ، فَوَاللَّهِ لَنُبِيرَنَّهُ أَوْ لَنُبِيرَنَّ عِتْرَتَهُ، ← خَطَبَنَا عَلِيٌّ فَقَالَ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ لَتُخْضَبَنَّ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْعٍ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو بَکْرٍ هُوَ ابْنُ عَيَّاشٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1211

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1212

1212 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ: إِنَّكَ بَعَثْتَنِي إِلَى قَوْمٍ وَهُمْ أَسَنُّ مِنِّي، لِأَقْضِيَ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ: «اذْهَبْ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ» .

سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مجھے یمن کی طرف بھیجا ، میں نے عرض کیا:یا رسول اللہﷺ !آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف قاضی بنا کر بھیج رہے ہیں جو عمر میں مجھ سے بڑی ہے (یعنی وہاں ضعیف العمر لوگ ہیں جو کافی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا :بلا شبہ اللہ غزوجل تیرے دل کی رہنمائی کرے گا اور تیری زبان کو ثابت قدمی عطا فرمائے گا۔(2)

عَلِيٍّ، ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1212

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1213

1213 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا هَاشِمٌ، يَعْنِي: ابْنَ الْيَزِيدِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيِّ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي عَلِيٌّ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي حَتَّى جَلَسْنَا عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ إِلَّا قَدْ سَبَقَ لَهَا مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَقَاءٌ أَوْ سَعَادَةٌ» ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ إِذَنْ نَعْمَلُ؟ قَالَ: «اعْمَلُوا فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ» ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى} [الليل: 6] .

ابو عبدالرحمٰن سلمی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ عنہ میرا ہاتھ پکڑ تے ہوئے باہر تشریف لائے ، یہاں تک کہ ہم چلتے چلتے دریائے فرات کے کنارے آکر بیٹھ گئے ،سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ؛ یقیناً ہر ذی روح کے خوش بخت اور بد بخت ہونے کے بارے میں اس کی پیدائش سے پہلے ہی لکھا جا چکا ہے ، ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا :یا رسول اللہ ﷺپھر ہم عمل کیوں کریں ؟آپ ﷺنے فرمایا :عمل کرو ہر ایک کےلیے وہ کام اسان ہے جس کے لیے وہ لکھا گیا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ؛۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترجمہ:تو جس نے (راہ خدا میں)مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے)پرہیز کیا ،اور بھلائی کو سچ مانا اس کوہم آسان راستے کے سہولت دیں اور جس نے بخل کیااور (اپنےخدا سے)بے نیازی برقی اوربھلائی کو جھٹلایا اس کو ہم سخت راستے کےلیے سہولت دیں گے۔(3)

أَخَذَ بِيَدِي عَلِيٌّ فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي حَتَّى جَلَسْنَا عَلَى شَطِّ الْفُرَاتِ فَقَالَ عَلِيٌّ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ← مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ← إِسْمَاعِيلَ الْحَنَفِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا هَاشِمٌ، يَعْنِي: ابْنَ الْيَزِيدِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1213

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1214

1214 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: نا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، نا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَطَرٍ الْبَصْرِيُّ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا، أَنَّ عَلِيًّا اشْتَرَى ثَوْبًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ، فَلَمَّا لَبِسَهُ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ.

ابو مطر بصری رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے ،انہیں سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کا شرف حاصل ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے تین درہم کے کپڑ ے خریدے جب انہیں پہنا تو یہ دعا پڑھی ، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے مجھےکپڑے پہنائے ،لوگوں میں اپنے اپ کو خوبصورت بناتا ہوں اور جس سے میں شرم گاہ چھپاتا ہوں پھر انہوں نے کہا کہ میں ایسے ہی رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہو ئے سنا ہے۔(1)

أَبُو مَطَرٍ الْبَصْرِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا ← الْمُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ، ← مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ← سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1214

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1215

1215 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ، عَنْ أَبِي مَطَرٍ، أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا أَتَى غُلَامًا حَدَثًا فَاشْتَرَى مِنْهُ قَمِيصًا بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ وَلَبِسَهُ مَا بَيْنَ الرُّصْغَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، يَقُولُ وَلَبِسَهُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنِي مِنَ الرِّيَاشِ مَا أَتَجَمَّلُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَأُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي» ، فَقِيلَ: هَذَا شَيْءٌ تَرْوِيهِ عَنْ نَفْسِكَ، أَوْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: هَذَا شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ عِنْدَ الْكِسْوَةِ.

ابو مطربصری رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ ایک نوجوان غلام کے پاس آئے اس سے تین درہم کی قمیص خریدی ، اسے کلائیوں سے لے کر ٹخنوں تک پہننے کے بعد یہ دعا پڑھی ۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے مجھےکپڑے پہنائے ،لوگوں میں اپنے اپ کو خوبصورت بناتا ہوں اور جس سے میں شرم گاہ چھپاتا ہوں پھر انہوں نے کہا کہ میں ایسے ہی رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہو ئے سنا ہے۔ (2)

أَبِي مَطَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ قثنا مُخْتَارُ بْنُ نَافِعٍ التَّمَّارُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1215

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1216

1216 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ إِذَا قُلْتَهُنَّ غُفِرَ لَكَ عَلَى أَنَّهُ مَغْفُورٌ لَكَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ".

سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : علی کیا میں تمہیں ایسی دعا نہ سکھلاؤں کہ جب تم دعا کرو ، اللہ تعالیٰ تم کو بخش دے ، حالانکہ تمہاری بخشش ہو چکی ہے تو آپ ﷺ نے ان کو یہ دعا سکھلائی :ترجمہ : اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو بردباد اور عزت والا ہے ۔ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو اونچا اور بڑا ہے۔ پاک ہے ، اللہ جو سات آسمانوں اور عرش کریم کامالک ہے تمام تعریفیں اللہ رب العزت کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ۔(3)

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← أَبِي، قثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قثنا إِسْرَائِيلُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1216

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1217

1217 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نا حَجَّاجٌ، نا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَأَرْبُطُ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنَ الْجُوعِ، وَإِنَّ صَدَقَتِي الْيَوْمَ لَأَرْبَعُونَ أَلْفًا.

محمد بن کعب قرظی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا ، سیّد نا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں غربت میں نبی کریم ﷺکے ساتھ شدت بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا ، مگر آج (خوش حالی کا یہ عالم ہے کہ )میں یومیہ چالیس ہزار درہم صدقہ دیتا ہوں۔(4)

مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ أَنَّ عَلِيًّا ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شَرِيکٍ ← حجاج، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1217

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1218

1218 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَسْوَدُ، نا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ.

محمدبن کعب قر ظی رحمۃاللہ علیہ نے سیّد نا علی رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت کر تے ہیں لیکن اس روایت میں یہ الفاظ ہیں: مگر آج میرے مال کا صدقہ چالیس ہزار دینار کو پہنچ چکا ہے ۔(1)

عَلِيٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَإِنَّ صَدَقَةَ مَالِي لَتَبْلُغُ أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1218

Daif

chevron_left Previous
1…1415161718
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him