سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے اہل یمن کی طرف (قاضی بنا کر) بھیجا ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں جو عمر میں مجھ سے بڑی ہے (یعنی وہاں ضعیف العمر لوگ ہیں جو کافی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں ) میں ایک نوجوان آدمی ہوں ۔ مجھے فیصلہ کرنے کا علم نہیں ہے آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک کو میرے سینے پر رکھا اور فرمایا: اے اللہ ! اس کی زبان کو ثابت قدمی اور اس کے دل کو ہدایت سے نواز دے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے علی ! جب تیرے پاس دو آدمی یا دو فریق جھگڑا لے کر آئیں تو ان دونوں کے درمیان اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک تم پہلے آدمی یا فریق کی بات کی طرح دوسرے آدمی یا فریق سے بھی بات سن نہیں لیتے ۔ جب تم ایسا کرو گے تو تم پر فیصلہ واضح ہو جائے گا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس کے بعد مجھے کبھی فیصلہ کرنے میں مشکل پیش نہین آئی ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1195
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1196
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب یہ آیت نازل ہوئی ( انذر عشیر تک الاقربین ) ترجمہ : آپ اپنے رشتہ داروں کو (جہنم کی آگ سے ) ڈرائیں (سورۃ شعراء آیت نمبر:214)
رسول اللہ ﷺ نے اپنے خاندان کے تیس کے قریب لوگوں کو جمع کیا اور کھایا پیا تو پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا : کون ہے جو میرا قرض اتار دے ؟ تاکہ وہ جنت میں میرے ساتھ رہے گا۔ اور میرے گھر کا محافظ بنے گا۔ ایک آدمی نے عرض نے کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ تو ایک سمندر کی مانند ہیں کون یہ ذمہ داری اٹھائے گا ؟ پھر ایک دوسرے شخص سے فرمایا ، پھر ایک تیسرے شخص سے کہا ، راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے سب (خاندان والوں) سے فرمایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول ﷺ میں ( یہ کروں گا ) ۔۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1196
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1197
جریر بن حیان رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : میں تمہیں اس کام کے لیے بھیجتا ہوں جس کام کے لیے رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا کہ ہر اونچی قبر کو ہموار کیا جائے اور ہر بت کو توڑ دیا جائے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1197
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1198
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کروں تو آپ پر جھوٹ باندھنے سے آسمان سے گرنا مجھے پسند ہے ، جب کسی اور شخص کے حوالے سے بیان کروں تو میں ایک جنگجوہوں اور جنگ دھوکہ کا نام ہے میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے : قیامت کے قریب کچھ نوجوان لوگ پیدا ہوں گے جو عقل کے کمزور ہوں گے رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو پڑھنے والے ہوں گے اس کے باوجود ایمان ان کےحلق سے نہیں اُترے گا یہ لوگ جہاں بھی ملیں انہیں قتل کرو ، قیامت کے دن ان کے قتل کرنے والوں کے لیے بہت بڑا اجرا ہے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1198
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1199
شریح بن ہانی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدہ عائشہ سے مسح کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو وہ کہنے لگیں : جاؤ ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو کیونکہ وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کےپاس آیا ان سے موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھا : تو وہ کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے مقیم ایک رات اور ایک دن تک موزوں پر مسح کرے اور مسافر کے لیے تین دن اور تین رات تک رخصت ہے ۔(4)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1199
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1200
حنش سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دو میڈھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے سوال کیا : یہ کیا ہے ؟ یعنی کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو ایسا کرنے کی وصیت فرمائی ہے ) تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1200
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1201
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے انہیں سورت برات دے کر بھیجا ، انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں لسان دراز اور خطیب نہیں ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا : ضروری ہے کہ تم جاؤ یا میں جاؤں تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اگر ضروری ہے تو میں چلا جاتاہوں آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ ! اللہ تیری زبان کو سیدھا کرے گا اور تیرے دل کو مضبوط کر دے گا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا مبارک ہاتھ میرےمنہ پر رکھا۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1201
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1202
سیدنا علی ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے : اے اللہ ! تیری توفیق سے میں حملہ کرتا ہوں ،تیری توفیق سے اترتا ہوں اور تیری توفیق سے چلتا ہوں ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1202
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1203
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر سورۃ برات (التوبۃ ) کی دس آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے سیدنا ابو بکر کو بلایا اور انکو اہل مکہ کے سامنے ان آیات کو پڑھنے کے لیے بھیجا پھر نبی کریم ﷺ نے مجھے بلایا کہ مکہ کے راستے کی طرف نکلو جہاں بھی تمہاری ملاقات ابو بکر سے ہو جائے تو ان سے کتاب کو لے لینا اور اہل مکہ کے سامنے ان آیات کو جا کر تلاوت کرنا میں ان سے " حجفہ " کے مقام پر جا ملا اور ان سے کتاب لے لی تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے واپس آکر نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا اس کے متعلق کوئی وحی نازل ہوئی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں بلکہ میرے پاس تو جبریل نے آکر کہا تھا : آپ کی ذمہ داری صرف آپ خود یا آپ ( کے اہل بیت ) میں کوئی شخص ادا کرے گا۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1203
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1204
حارث بن سوید سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو باقی لوگوں کے علاوہ کوئی مخصوص چیز عطا کی ہے ؟ کوئی چیز نہیں مگر یہ چیز جو میری نیام میں ہے ۔ وہاں سے انہوں نے ایک صحیفہ نکالا اس میں اونٹوں کی دیت کے کچھ احکامات تھے : یہ بھی تھا کہ "ثور" پہاڑ سے لے کر " عایر " پہاڑ تک مدینہ حرم ہے ۔ جو بھی اس میں خرابی یا بدعت کا مرتکب ہو گا یا کسی بدعتی انسان کو پناہ دے گا ت اس شخص پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی اور روز قیامت اس کی نہ فرضی عبادات قبول ہوں گی اور نہ نفلی ، جو بھی حقیقی مالک کو چھوڑ کر کسی کے غلام کا مالک بنتا ہے تو اس پر بھی اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی ۔روز قیامت اس کی نہ فرضی عبادات قبول ہوں گی اور نہ نفلی ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1204
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1205
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ( کہ قیامت کے قریب کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے) بے شک وہ قوم اسلام سے اس طرح نکل جائے گی جس طرح کہ تیر کمان سے نکل جاتا ہے حالانکہ وہ قرآن کی تلاوت کرنے والے ہوں گے مگر وہ تلاوت ان کے حلق سے نیچے نہیں اتر ے گی ، اس آدمی کے لیے بشارت ہے جو ان کو قتل کرے گا۔ انکی نشانی یہ ہے کہ ان میں سے ایک آدمی نا تمام ہاتھ والا ہو گا۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1205
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1206
سیّدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غریر خم کے دن فرمایا : جس کا میں دوست ہوں ، علی بھی اس کادوست ہے ۔راوی کہتے ہیں کہ بعد میں لوگوں نے ان الفاظ کو زیادہ کر دیا : اے اللہ ! علی کے دوست کو تُو بھی اپنا دوست اور علی کے دشمن کو اپنا دشمن بنا۔(1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1206