Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1171

1171 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ قثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً بَعْدَ غَدَاةٍ، يَقُولُ: «جَاءَ عَلِيٌّ؟» مِرَارًا، قَالَتْ فَاطِمَةُ: كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ، قَالَتْ: فَجَاءَ بَعْدُ، قَالَتْ: فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ إِلَيْهِ حَاجَةً، فَخَرَجْنَا مِنَ الْبَيْتِ فَقَعَدْنَا عِنْدَ الْبَابِ وَكُنْتُ مِنْ أَدْنَاهُمْ إِلَى الْبَابِ، فَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ فَجَعَلَ يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ، فَكَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ سب سے آخر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ خاص گفتگو کی ہم ہر روز صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کی بیمار پرسی کرتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی بار بار آتے تھے ۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرمائی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی کام بھیجا تھا جب واپس آئے تو ہمیں گمان ہوا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ سے کوئی کام ہے تو میں گھر سے نکل کر دروازے کے پاس بیٹھ گئی ، میں سب سے زیادہ دروازے کے قریب تھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف جھکے ، بائیں طرف ہو کر آپ سے سرگوشی کرنے لگے پھر اسی دن آپ ﷺ وفات پا گئے اس لیے وہ سب سے زیادہ نبی کریم ﷺ کے قریبی انسان تھے ۔ (1)

فَجَاءَ بَعْدُ، ← فَاطِمَةُ: كَانَ بَعَثَهُ فِي حَاجَةٍ، ← جَاءَ عَلِيٌّ مِرَارًا ← عُدْنَا رَسُولَ اللَّهِ غَدَاةً بَعْدَ غَدَاةٍ ← وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ إِنْ كَانَ عَلِيٌّ لَأَقْرَبَ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← أُمِّ مُوسَى، ← مُغِيرَةَ، ← مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ قثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1171

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1172

1172 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ [ص:687] قثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذِي الْعَشِيرَةِ، فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقَامَ بِهَا رَأَيْنَا نَاسًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ فِي نَخْلٍ، فَقَالَ لِي عَلِيٌّ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَتَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ؟ فَجِئْنَاهُمْ، فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً، ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا، فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ، وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ، فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: «يَا أَبَا تُرَابٍ» لِمَا يَرَى عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ، قَالَ: «أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ؟» فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ، وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ - يَعْنِي قَرْنَهُ - حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ» يَعْنِي لِحْيَتَهُ. [ص:688]

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذات العشیرہ میں ایک ساتھ تھے جب رسول اللہ ﷺ نے وہاں پڑاؤ ڈالا تو ہم نے بنو مدلج قبیلہ والوں کو دیکھا وہ اپنے کھجوروں والے چشمے میں کام کر رہے تھے سیدنا علی نے مجھ سے کہا : اے ابو یقظان ! کیا ہم ان کے پاس جا کر دیکھیں کہ کیسے کام کرتے ہیں ہم ان لوگوں کے پاس گئے کچھ دیر ان کا کام دیکھتے ہیں ۔ پھر ہمیں نیندآ گئی ، چنانچہ میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک درخت کی چھاؤں میں مٹی پر لیٹ گئے ہم سوئے رہے یہاں تک کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ہی آکر ہمیں پاؤں مبارک سے ہلایا ہم اس وقت مٹی سے خاک آلود ہو چکےتھے رسول اللہ ﷺ نے اس دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا اے ابو تراب !( اے مٹی والے) پھر ارشاد فرمایا : کیا میں تم دونوں کے سامنے بدبخت ترین دو آدمیوں کا تذکرہ نہ کروں ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیوں نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا : ایک بدبخت اُحمیر ثمودی تھا جس نے اونٹنی کا پاؤں کاٹ ڈالا تھا ۔ اے علی ! دوسرا وہ ہو گا جو تیر ے سر کی چوٹی پروار کرے گا ، یہاں تک کہ اس سے یہ ڈاڑھی تر ہو جائے گی ۔ (2)

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ أَبِي يَزِيدَ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْمُحَارِبِيُّ، ← أَبِي، قثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1172

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1173

1173 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُوكَ يَزِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ الْعَشِيرَةِ، فَمَرَرْنَا بِرِجَالٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي نَخْلٍ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ.

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذات العشیرہ میں ایک ساتھ تھے جب ہم بنو مدلج کے چند آدمیوں کے پاس سے گزرے ، جو اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے ۔ پھر آگے باقی وہی حدیث بیان کی ۔ (3)

عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبُوكَ يَزِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← محمد بن يزيد بن خثيم ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1173

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1174

1174 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ الرَّايَةَ إِلَى عَلِيٍّ يَوْمَ خَيْبَرَ.

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن جھنڈا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔(1)

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1174

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1175

1175 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثَيْنِ إِلَى الْيَمَنِ، عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ: «إِذَا لَقِيتُمْ فَعَلِيٌّ عَلَى النَّاسِ، وَإِنِ افْتَرَقْتُمَا فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا عَلَى جُنْدِهِ» ، قَالَ: فَلَقِينَا بَنِي زَيْدٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَاقْتَتَلْنَا، فَظَهَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ، فَقَتَلْنَا الْمُقَاتِلَةَ، وَسَبَيْنَا الذُّرِّيَّةَ، فَاصْطَفَى عَلِيٌّ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ لِنَفْسِهِ، قَالَ بُرَيْدَةُ: فَكَتَبَ، يَعْنِي خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعْتُ الْكِتَابَ، فَقُرِيءَ عَلَيْهِ، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا مَكَانُ الْعَائِذِ، بَعَثْتَنِي مَعَ رَجُلٍ وَأَمَرْتَنِي أَنْ أُطِيعَهُ، قَدْ بَلَّغْتُ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقَعْ فِي عَلِيٍّ، فَإِنَّهُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّكُمْ بَعْدِي» .

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف دو لشکر بھیجے ایک پر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دوسرے پر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ امیر تھے ارشاد فرمایا : جب دونوں ایک ساتھ مل جاؤ تو سب پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے اور اگر الگ ہوجاؤ تو دونوں اپنے اپنے لشکر پر امیر ہوں گے راوی کہتے ہیں جب ہمارا یمن کے قبیلہ بنی زید سے آمنا سامان ہوا اور جنگ ہوئی تو مشرکین کے خلاف مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی تو ہم نے جنگجو کو قتل کیا بچوں کو قیدی بنایا ان میں سے ایک کنیز کو سید نا علی رضی اللہ عنہ ن اپنی ذات کے لیے منتخب کر لیا ۔ سیدنا خالد بن ولید نے اسی وقت نبی کریم ﷺ کو خط لکھا اور مجھے حکم دیا کہ وہ خط میں آپ ﷺ تک پہنچاؤں البتہ میں نے وہ خط آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ ﷺ کے سامنے پڑھا گیا اس پر نبی کریم ﷺ کا چہرہ اقدس غصے سے متغیر ہو گیا۔ میں نے (اپنے دل میں ) کہا یہ مقام تو پناہ طلب کرنے کا ہے اللہ کے نبی ﷺ! آ پ نے مجھے ایک ایسے آدمی کے ساتھ بھیجا جس کی بات کو ماننا مجھ پر لازم تھا ۔ جو اس نے مجھے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے دیا میں نے وہ پہنچا دیا تو رسول اللہ ﷺ فرمایا بریدہ ! علی کی تنقیص مت کرنا ۔بلاشبہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد تمہارا ولی (دوست ) ہے ۔ (2)

أَبِيهِ بُرَيْدَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← أَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1175

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1176

1176 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: أنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَمَرَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ مِنْ أَصْحَابِي» ، أُرَى شَرِيكٌ قَالَ: «وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ، عَلِيٌّ مِنْهُمْ، عَلِيٌّ مِنْهُمْ، وَأَبُو ذَرٍّ، وَسَلْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ» .

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے چار بندوں سے محبت کرنے کاحکم دیا ہے شریک راوی کا خیال ہے کہ آپ نے مزید یہ بھی فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں علی ان میں سے ہیں علی ان میں سے ہیں ۔ مزید ان میں سیدنا ابو ذر ، سیدنا سلمان اور سیدنا مقداد الکندری رضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔ (3)

«وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ، عَلِيٌّ مِنْهُمْ، عَلِيٌّ مِنْهُمْ، وَأَبُو ذَرٍّ، وَسَلْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ» ← «أَمَرَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ مِنْ أَصْحَابِي» أُرَى شَرِيكٌ ← النَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← أبي ربيعة ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1176

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1177

1177 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، نا وَكِيعٌ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ وَهُمْ يَتَنَاوَلُونَ مِنْ عَلِيٍّ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي نَفْسِي عَلَى عَلِيٍّ شَيْءٌ، وَكَانَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ كَذَلِكَ، فَبَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي فِي سَرِيَّةٍ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا، قَالَ: فَأَخَذَ عَلِيٌّ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ لِنَفْسِهِ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: دُونَكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلْتُ أُحَدِّثَهُ بِمَا كَانَ، ثُمَّ قُلْتُ: إِنَّ عَلِيًّا أَخَذَ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ، قَالَ: وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبَابًا، قَالَ: فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَغَيَّرَ، فَقَالَ: «مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ» .

ابن بریدہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ان کا گزر ایک ایسی مجلس سے ہوا جس میں لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کچھ خار کھاتے تھے انہوں نے کھڑے ہو کر کہا : میرے دل میں سیدنا خالد بن ولید کی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ خلش تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھیجا جس میں میں بھی تھا وہاں ہمیں قیدی ملے ، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت میں سے ایک کنیز کو اپنے لیے چن لیا ۔ سیدنا خالد بن ولید نے ان کو روکا پس جب ہم مدینہ لوٹے تو جو کچھ ہوا میں نے نبی کریم ﷺ کو بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں سے ایک کنیز کو منتخب کیا، میں عام طور پر سر نیچے رکھتا ہے سر اٹھایا تو کیا دیکھ رہا ہوں کہ میری شکایت سے آپ ﷺ کا چہرہ انور بدل گیا اور فرمایا : جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے ۔ (1)

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1177

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1178

1178 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، نا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، نا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ سَلِيطٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا خَطَبَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلْعُرْسِ مِنْ وَلِيمَةٍ» ، قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: عَلَيَّ كَبْشٌ، وَقَالَ فُلَانٌ: عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ ذُرَةٍ.

ابن بریدہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نکاح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر شادی کرنے والے پر ولیمہ ضروری ہے یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک مینڈ ھا دوں گا ایک اور شخص نے کہا : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کومکئی دوں گا۔ (2)

لَمَّا خَطَبَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ ← أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← عَبْدِ الْکَرِیمِ بْنِ سُلَیْطٍ ← أَبِي ← حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1178

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1179

1179 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، نا أَبِي، نا رَوْحٌ، نا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ لِيَقْسِمَ الْخُمُسَ - وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: لِيَقْبِضَ بَعْضَ الْخُمُسِ - قَالَ: فَأَصْبَحَ عَلِيٌّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ خَالِدٌ لِبُرَيْدَةَ: أَلَا تَرَى مَا يَصْنَعُ هَذَا، أَوْ مَا صَنَعَ هَذَا؟ قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، قَالَ: وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا، قَالَ: فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ، أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «لَا تُبْغِضْهُ» - قَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: فَأَحِبَّهُ - فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ ".

سیدنا برید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تا کہ وہ مال خمس تقسیم کریں ، یا مال خمس میں سے اپنا حصہ لے لیں جب صبح ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سر سے پانی کے قطرات گررہے تھے تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سیدنا بریدہ سے کہا دیکھو! اس نے کیا کیا ہے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ واپسی پر میں نے یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم علی سے کچھ خفگی رکھتے ہو؟ میں نے کہا : ہاں تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے ناراضگی مت رکھو کیونکہ ان کو مال خمس سے اس سے بھی زیادہ ملنا چاہیے تھا ۔ 03)

«لَا تُبْغِضْهُ» ← قُلْتُ: نَعَمْ، ← يَا بُرَيْدَةُ أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ← وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا ← فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ أَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ، ← خَالِدٌ لِبُرَيْدَةَ: أَلَا تَرَى مَا يَصْنَعُ هَذَا، أَوْ مَا صَنَعَ هَذَا؟ ← فَأَصْبَحَ عَلِيٌّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ← رَوْحٌ مَرَّةً: لِيَقْبِضَ بَعْضَ الْخُمُسِ ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ عَلِيًّا إِلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ لِيَقْسِمَ الْخُمُسَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← عَلِيِّ بْنِ سُوَيْد بْنِ مَنْجُوفٍ ← رَوْحٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1179

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1180

1180 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قثنا عَبْدُ الْجَلِيلِ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى حَلْقَةٍ فِيهَا أَبُو مِجْلَزٍ وَابْنَا بُرَيْدَةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ: حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةُ قَالَ: أَبْغَضْتُ عَلِيًّا بُغْضًا لَمْ أَبْغَضْهُ أَحَدًا قَطُّ، قَالَ: وَأَحْبَبْتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبَّهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا، قَالَ: فَبَعَثَ حِيَالَ الرَّجُلِ عَلَى خَيْلٍ، فَصَحِبْتُهُ مَا أَصْحَبُهُ إِلَّا عَلَى بُغْضِهِ عَلِيًّا، فَأَصَبْنَا سَبْيًا، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْنَا عَلِيًّا، وَفِي السَّبْيِ وَصِيفَةٌ هِيَ مِنْ أَفْضَلِ السَّبْيِ، فَخَمَّسَ وَقَسَمَ، فَخَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقُلْنَا يَا أَبَا الْحَسَنِ، مَا هَذَا؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبْيِ، فَإِنِّي قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ، فَصَارَتْ فِي الْخُمُسِ، ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ، فَوَقَعْتُ بِهَا، قَالَ: وَكَتَبَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ، فَقُلْتُ: ابْعَثْنِي مُصَدِّقًا، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَابَ وَأَقُولُ: صَدَقَ، قَالَ: فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَابَ قَالَ: «أَتُبْغِضُ عَلِيًّا؟» قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَلَا تُبْغِضْهُ، وَإِنْ كُنْتَ تُحِبُّهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبًّا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَنَصِيبُ آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ» ، قَالَ: فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ.

سیدنا یزید سے روایت ہے کہ میں سید نا علی رضی اللہ عنہ سے سب سے زیاد بغض رکھتا تھا، یہاں تک کہ میں ایک قریشی شخص سے اسی وجہ سے محبت کرتا تھا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ علیہ سے بغض رکھتا تھا ۔ ایک دفعہ نبی کریم نے اس شخص کو ایک لشکر کا امیر مقرر کیا، میں بھی اس کے ساتھ تھا میری اس کے ساتھ رفاقت صرف اسی بنا پر تھی کہ وہ سیدنا علی سے بغض رکھتا تھا پس (ہمیں اس جنگ میں فتح نصیب ہوئی تو )وہاں کچھ قیدی ملے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ کوئی ایسا شخص بھیج دیں جو ہم میں مال غنیمت تقسیم کرے ۔ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ آئے مال تقسیم کیا اپنے لیے لونڈی چن لی (جب صبح ہوئی) تو وہ تشریف لائے اس وقت ان کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے (یعنی انہوں نے غسل کر رکھا تھا ہم نے کہا: اے ابو الحسن ! یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ فرمانے لگے : کیا تم کو معلوم نہیں کہ وہ کنیز خمس میں آگئی تھی پھر نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کے حصے میں آگئی تھی اور پھر بعد میں آل علی کے حصے میں آگئی اس سے میں نے ہمبستری کی ہے ۔ البتہ اس شخص میرے ساتھی نے نبی کریم ﷺ کو ایک خط لکھنا چاہا ۔ میں نے کہا تصدیق کے لیے مجھے ساتھ بھیجیں ، میں نے خط پڑھنا شروع کیا، ساتھ عرض کرتا یہ سچ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے میراہاتھ پکر لیا (یعنی مجھے خاموش کروادیا) پھر ارشاد فرمایا : کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو ؟ میں نے کہا : ہاں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اس سے بغض مت رکھو بلکہ اگر تم ان سے محبت کرتے ہو تو ان کے ساتھ اپنی محبت کو زیادہ کرو اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میں محمد (ﷺ) کی جان ہے علی کی اولاد کے لیے خمس اس کنیز سے افضل ہے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کے بعد اللہ کی قسم ! میں لوگوں میں سب سے زیادہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا تھا ۔ (1)

يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قثنا عَبْدُ الْجَلِيلِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1180

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1181

1181 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ شَرِيكٍ قثنا أَبُو رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ مِنْ أَصْحَابِي أَرْبَعَةً، أَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُحِبَّهُمْ» ، قَالُوا: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنَّ عَلِيًّا مِنْهُمْ»

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے مجھے چار بندوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ، مجھے بتایا کہ میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بھی ان سے محبت کروں ، صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ وہ کون ہیں فرمایا بلاشبہ علی ان میں سے ہیں ۔ (2)

أَبِيهِ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← شَرِيكٍ قثنا أَبُو رَبِيعَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1181

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1182

1182 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ، صَالِحُهُمْ تَبَعٌ لِصَالِحِهِمْ، شِرَارُهُمْ تَبَعٌ لِشِرَارِهِمْ» .

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد کیا ہے کہ لوگ ہر کام کے معاملے میں قبیلہ قریش کے پیروکار ہیں ۔ نیک لوگ ان میں سے نیکوں کے اطاعت گزار ہیں اور برے لوگ ان میں سے بروں کے اطاعت گزار ہیں ۔ (1)

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1182

Daif

chevron_left Previous
1…111213…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him