سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں قسم کھا کر کہتی ہوں کہ سب سے آخر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کچھ خاص گفتگو کی ہم ہر روز صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کی بیمار پرسی کرتے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی بار بار آتے تھے ۔سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرمائی ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی کام بھیجا تھا جب واپس آئے تو ہمیں گمان ہوا کہ انہیں رسول اللہ ﷺ سے کوئی کام ہے تو میں گھر سے نکل کر دروازے کے پاس بیٹھ گئی ، میں سب سے زیادہ دروازے کے قریب تھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف جھکے ، بائیں طرف ہو کر آپ سے سرگوشی کرنے لگے پھر اسی دن آپ ﷺ وفات پا گئے اس لیے وہ سب سے زیادہ نبی کریم ﷺ کے قریبی انسان تھے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1171
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1172
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذات العشیرہ میں ایک ساتھ تھے جب رسول اللہ ﷺ نے وہاں پڑاؤ ڈالا تو ہم نے بنو مدلج قبیلہ والوں کو دیکھا وہ اپنے کھجوروں والے چشمے میں کام کر رہے تھے سیدنا علی نے مجھ سے کہا : اے ابو یقظان ! کیا ہم ان کے پاس جا کر دیکھیں کہ کیسے کام کرتے ہیں ہم ان لوگوں کے پاس گئے کچھ دیر ان کا کام دیکھتے ہیں ۔ پھر ہمیں نیندآ گئی ، چنانچہ میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک درخت کی چھاؤں میں مٹی پر لیٹ گئے ہم سوئے رہے یہاں تک کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ہی آکر ہمیں پاؤں مبارک سے ہلایا ہم اس وقت مٹی سے خاک آلود ہو چکےتھے رسول اللہ ﷺ نے اس دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا اے ابو تراب !( اے مٹی والے) پھر ارشاد فرمایا : کیا میں تم دونوں کے سامنے بدبخت ترین دو آدمیوں کا تذکرہ نہ کروں ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیوں نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا : ایک بدبخت اُحمیر ثمودی تھا جس نے اونٹنی کا پاؤں کاٹ ڈالا تھا ۔ اے علی ! دوسرا وہ ہو گا جو تیر ے سر کی چوٹی پروار کرے گا ، یہاں تک کہ اس سے یہ ڈاڑھی تر ہو جائے گی ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1172
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1173
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوہ ذات العشیرہ میں ایک ساتھ تھے جب ہم بنو مدلج کے چند آدمیوں کے پاس سے گزرے ، جو اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے ۔ پھر آگے باقی وہی حدیث بیان کی ۔ (3)
عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أَبُوكَ يَزِيدُ بْنُ خُثَيْمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← محمد بن يزيد بن خثيم ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1173
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1174
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1174
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1175
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف دو لشکر بھیجے ایک پر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دوسرے پر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ امیر تھے ارشاد فرمایا : جب دونوں ایک ساتھ مل جاؤ تو سب پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ امیر ہوں گے اور اگر الگ ہوجاؤ تو دونوں اپنے اپنے لشکر پر امیر ہوں گے راوی کہتے ہیں جب ہمارا یمن کے قبیلہ بنی زید سے آمنا سامان ہوا اور جنگ ہوئی تو مشرکین کے خلاف مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی تو ہم نے جنگجو کو قتل کیا بچوں کو قیدی بنایا ان میں سے ایک کنیز کو سید نا علی رضی اللہ عنہ ن اپنی ذات کے لیے منتخب کر لیا ۔ سیدنا خالد بن ولید نے اسی وقت نبی کریم ﷺ کو خط لکھا اور مجھے حکم دیا کہ وہ خط میں آپ ﷺ تک پہنچاؤں البتہ میں نے وہ خط آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ ﷺ کے سامنے پڑھا گیا اس پر نبی کریم ﷺ کا چہرہ اقدس غصے سے متغیر ہو گیا۔ میں نے (اپنے دل میں ) کہا یہ مقام تو پناہ طلب کرنے کا ہے اللہ کے نبی ﷺ! آ پ نے مجھے ایک ایسے آدمی کے ساتھ بھیجا جس کی بات کو ماننا مجھ پر لازم تھا ۔ جو اس نے مجھے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے دیا میں نے وہ پہنچا دیا تو رسول اللہ ﷺ فرمایا بریدہ ! علی کی تنقیص مت کرنا ۔بلاشبہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد تمہارا ولی (دوست ) ہے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1175
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1176
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے چار بندوں سے محبت کرنے کاحکم دیا ہے شریک راوی کا خیال ہے کہ آپ نے مزید یہ بھی فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں علی ان میں سے ہیں علی ان میں سے ہیں ۔ مزید ان میں سیدنا ابو ذر ، سیدنا سلمان اور سیدنا مقداد الکندری رضی اللہ عنہم شامل ہیں ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1176
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1177
ابن بریدہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ان کا گزر ایک ایسی مجلس سے ہوا جس میں لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کچھ خار کھاتے تھے انہوں نے کھڑے ہو کر کہا : میرے دل میں سیدنا خالد بن ولید کی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ خلش تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں بھیجا جس میں میں بھی تھا وہاں ہمیں قیدی ملے ، پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مال غنیمت میں سے ایک کنیز کو اپنے لیے چن لیا ۔ سیدنا خالد بن ولید نے ان کو روکا پس جب ہم مدینہ لوٹے تو جو کچھ ہوا میں نے نبی کریم ﷺ کو بتا دیا اور یہ بھی بتایا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں سے ایک کنیز کو منتخب کیا، میں عام طور پر سر نیچے رکھتا ہے سر اٹھایا تو کیا دیکھ رہا ہوں کہ میری شکایت سے آپ ﷺ کا چہرہ انور بدل گیا اور فرمایا : جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1177
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1178
ابن بریدہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نکاح سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر شادی کرنے والے پر ولیمہ ضروری ہے یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ایک مینڈ ھا دوں گا ایک اور شخص نے کہا : میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کومکئی دوں گا۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1178
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1179
سیدنا برید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تا کہ وہ مال خمس تقسیم کریں ، یا مال خمس میں سے اپنا حصہ لے لیں جب صبح ہوئی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سر سے پانی کے قطرات گررہے تھے تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے سیدنا بریدہ سے کہا دیکھو! اس نے کیا کیا ہے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مدینہ واپسی پر میں نے یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کو بتایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم علی سے کچھ خفگی رکھتے ہو؟ میں نے کہا : ہاں تو آپ ﷺ نے فرمایا اس سے ناراضگی مت رکھو کیونکہ ان کو مال خمس سے اس سے بھی زیادہ ملنا چاہیے تھا ۔ 03)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1179
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1180
سیدنا یزید سے روایت ہے کہ میں سید نا علی رضی اللہ عنہ سے سب سے زیاد بغض رکھتا تھا، یہاں تک کہ میں ایک قریشی شخص سے اسی وجہ سے محبت کرتا تھا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ علیہ سے بغض رکھتا تھا ۔ ایک دفعہ نبی کریم نے اس شخص کو ایک لشکر کا امیر مقرر کیا، میں بھی اس کے ساتھ تھا میری اس کے ساتھ رفاقت صرف اسی بنا پر تھی کہ وہ سیدنا علی سے بغض رکھتا تھا پس (ہمیں اس جنگ میں فتح نصیب ہوئی تو )وہاں کچھ قیدی ملے تو ہم نے رسول اللہ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ کوئی ایسا شخص بھیج دیں جو ہم میں مال غنیمت تقسیم کرے ۔ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ آئے مال تقسیم کیا اپنے لیے لونڈی چن لی (جب صبح ہوئی) تو وہ تشریف لائے اس وقت ان کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے (یعنی انہوں نے غسل کر رکھا تھا ہم نے کہا: اے ابو الحسن ! یہ آپ نے کیا کیا ہے؟ فرمانے لگے : کیا تم کو معلوم نہیں کہ وہ کنیز خمس میں آگئی تھی پھر نبی کریم ﷺ کے اہل بیت کے حصے میں آگئی تھی اور پھر بعد میں آل علی کے حصے میں آگئی اس سے میں نے ہمبستری کی ہے ۔ البتہ اس شخص میرے ساتھی نے نبی کریم ﷺ کو ایک خط لکھنا چاہا ۔ میں نے کہا تصدیق کے لیے مجھے ساتھ بھیجیں ، میں نے خط پڑھنا شروع کیا، ساتھ عرض کرتا یہ سچ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے میراہاتھ پکر لیا (یعنی مجھے خاموش کروادیا) پھر ارشاد فرمایا : کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو ؟ میں نے کہا : ہاں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اس سے بغض مت رکھو بلکہ اگر تم ان سے محبت کرتے ہو تو ان کے ساتھ اپنی محبت کو زیادہ کرو اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میں محمد (ﷺ) کی جان ہے علی کی اولاد کے لیے خمس اس کنیز سے افضل ہے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کے بعد اللہ کی قسم ! میں لوگوں میں سب سے زیادہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت رکھتا تھا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1180
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1181
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے مجھے چار بندوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے ، مجھے بتایا کہ میں بھی ان سے محبت کرتا ہوں ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بھی ان سے محبت کروں ، صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ وہ کون ہیں فرمایا بلاشبہ علی ان میں سے ہیں ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1181
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1182
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد کیا ہے کہ لوگ ہر کام کے معاملے میں قبیلہ قریش کے پیروکار ہیں ۔ نیک لوگ ان میں سے نیکوں کے اطاعت گزار ہیں اور برے لوگ ان میں سے بروں کے اطاعت گزار ہیں ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1182