سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غذوہ بدر میں (77) مہاجرین آدمی شریک تھے ، پھر باقی حدیث بیان کرنے کے بعد آخر میں فرمایا : غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1159
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1160
حبہ عرنی سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم شریف النسب ہیں ، ہماری نسل انبیا کی نسل ہے ، ہمارا گروہ اللہ کا گروہ ہے اور ہمارا مخالف گروہ شیطان کا گروہ ، جو ہمیں اور ہمارے دشمنوں کو برابر سمجھتا ہے تو وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے ۔ (4)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1160
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1161
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ی شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! علی کے بارے میں مجھ سے شکایت نہ کرو ، یقینا وہ اللہ کی ذات اور اس کی راہ میں بہت محتاط ہے ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1161
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1162
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ س فرمایا : جنت اس شخص کے لیے ہے جو تمہارے ساتھ سچی محبت کرتا ہے اور تمہارے باے مین سچ بولتا ہے ، ہلاکت اس کے لیے ہے جو تمہارے ساتھ بغض رکھتا ہے اور تمہارے بارے میں جھوٹ بولتا ہے ۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1162
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1163
مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیعد بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے کہا : اے ابو عبداللہ ! رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کا اٹھانے والا کون تھا ؟ انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا : تم تو اسودہ ھال ہو ۔ یہ سن کر مجھے بڑا غصہ آیا اور میں نے ان کے قرائے کرام بھائی سے شکایت کرتے ہوئے کہا : تمہیں سعید سے تعجب نہیں ہوتا ، میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کا حامل کون تھا ؟ تو انہوں نے کہا : تم تو آسودہ حال ہو؟ تو ان کے قاری بھائیوں نے کہا : جب تم نے ان سے سوال یا تھا تب وہ حجاج کے خوف سے بیت اللہ میں پنا ہ لیے ہوئے تھا اور رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کے حامل تو واقعی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ (3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1163
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1164
حبہ عرنی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی باطل و آفتہ علی کو ایک دن ہنستے ہوئے دیکھا ، میں نے اس سے زیادہ انکو کبھی اتنا ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ان کے دانت واضح ہو گئے ، انہوں نے سیدانا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میںرسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا پھر باقی حدیث بیان کرنے کے بعد یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی انسان نے مجھ سے پہلے تیری بندگی کااقر ار کیا ہو ،انہوں نے یہ تین مرتبہ کہا پھر فرمایا : میں نے سات سال پہلے نماز پڑھی جس وقت کوئی بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1164
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1165
عبد اللہ بن نجی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے تین سال تک نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے جبکہ ابھی تک کوئی بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا ۔(2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1165
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1166
عبد اللہ بن نجی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے تین سال تک نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے جبکہ ابھی تک کوئی بھی آپ ﷺکے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا ۔(3)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1166
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1167
ابو طفیل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک وسیع میدان میں لوگوں کو جمع کیا ، فرمایا : میں ہر اس مسلمان آدمی سے قسم لے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ جو کچھ آپ ﷺ نے عذیرخم کے مقام پر کھڑے فرما رہے تھے؟ تو تیس آدمی کھڑے ہوئے ۔
ابو نعیم کہتے ہیں : کئی لوگوں نے گواہی دی ، جب لوگوں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہوکہ میں مومنین کو ان کی جان سے زیادہ عزیز ہوں ؟ جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا تھا : جس کا میں دوست ہوں علی بھی اسکا دوست ہے اے اللہ ! علی کے دوست کو تو بھی اپنا دوست بنا اور علی کے دشمن کو اپنا دشمن بنا ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1167
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1168
عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پا س بیٹھا ہوا تھا ، نو آدمیوں کا گروہ (حدیث میں رھط کا لفظ بیان کیا گیا ہے جو تین سے دس آدمیوں کے اس گروہ پر بولا جاتا ہے کہ جس میں کوئی بھی عورت نہ ہو ) آکر کہنے لگے : اے ابن عباس ! یا تو آپ ہمارے ساتھ باہر آجائیں یا پھر ان لوگوں سے الگ ہوجائیں ،( یعنی ہم آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتے ہیں ) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں ہی تمہارے ساتھ باہر جاتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دنوں وہ ابھی تک قوت بصارت سے محروم نہیں ہوئے تھے ۔ (راوی یہ اس لیے وضاحت کر رہے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر کے آخری حصے میں قوت بصارت ختم ہو گئی تھی) پھر انہوں نے اپنی گفتگو کو شروع کیا لیکن ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا گفتگو کی ، کچھ دیر بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں کو جھاڑتے ہوئے لوٹ آئے اور کہہ رہے تھے : ہلاکت ہے ، ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایسے شخص کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں جن کی دس یہ صفات ہیں ۔ ( ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گستاخی کی تھی )
1۔ جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے (خیبر کے موقع پر ) فرمایا تھا : میں اس آدمی کو بھیجوں گا جس کا اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، اس لیے ہر آدمی آگے آگے بڑھ رہا تھا ،آپ ﷺ نے فرمایا علی کہاں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : وہ گندم پیس رہے ہیں ، آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو یہ کام کرتا؟ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی دیکھ نہیں سکتے تھے ، آپ ﷺ نے انکی آنکھ میں پھونک ماری ، تین مرتبہ جھنڈے کو لہرا کر ان کو عطا کر دیا پس وہ فتح کر کے صفیہ بنت حیی کو لائے ۔
2۔ایک دفعہ ایک شخص کو آپ ﷺ نے سورۃ التوبہ کی آیات دے کر بھیجا ، پھر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے بھیجا چنانچہ انہوں نے اس سے اس سورۃ کو واپس لے لیا ، پس آپ ﷺ نے فرمایا : اس سورۃ کو صرف وہی شخص لے کر جائے گا جو مجھ سے اور میں اس سے ہوں ۔
3۔ایک مرتبہ آپ ﷺ نے اپنے چچا کی اولاد سے پوچھا : دنیا آخرت میں تم میں سے کون میرا دوست اور مدگار بنے گا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے عرض کیا میں آپ ﷺ کا دنیا و آخرت میں دوست اور مدد گار بننا چاہتا ہوں۔ تو آپ نے ان کےلیے برکت کی دعا فرمائی ، پھر ہر ایک شخص کے پاس جا کر کہا : دنیا آخرت میں تم میں سے کون میرا دوست اور مددگار بنے گا؟ سب نے انکار کیا ، راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میرے دنیا و آخرت میں دوست ہو۔
4۔وہ سیدنا علی المرتضیٰ پہلے شخص ہیں جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد اسلام لائے۔
5۔ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ سیدنا حسن ،سیدنا حسین ،سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم کو بلایا ، ان کو اپنی چادر لپیٹ کر یہ آیت تلاوت فرمائی (انما یرید اللہ ۔۔۔۔۔۔)(ترجمہ : اللہ تعالی ٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے اہل بیت ! تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔ سورۃ الاحزاب 33)
6۔ انہوں نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) نے ہجرت کی رات اپنی ذات کو نبی کریم ﷺ پر قربان کیا تھا کہ ان کی چار پائی پر سوئے رہے (یہاں تک کہ مشرکین نے ان پر پتھراؤ کیا ) جیسا کہ نبی کریم ﷺ کو پتھر مارتے تھے اس وقت سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت آرام فرما رہے تھے ، انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ خیال کر کے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ﷺ بئر میمون کی طرف گئے ہیں (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے ) وہاں آپ کو ملیں گے وہ ان کے پیچھے یہاں تک دونوں غار میں داخل ہوئے ۔ کفار سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر پتھراؤ کرنے لگے جیسا کہ وہ نبی کریم ﷺ کو پتھر مارتے تھے انہوں نے اپنا سر لحاف میں چھپا ئے رکھا یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ پھر جب سر باہر نکالا تو مشرکین کہنے لگے : تم رسوا ہو جاؤہم تو تمہارے صاحب پر جب پتھراؤ کیا کرتے تھے تو وہ تکلیف کی وجہ سے بے چین نہیں ہوتے تھے اور تم بھی بے چین نہیں ہو رہے ہمیں بھی اسی بات کا خوف لاحق تھا ( کہ یہ چار پائی پر سونے والا سیدنا محمد ﷺ نہیں ہیں ۔)
7۔جب نبی کریم ﷺ لوگوں کے ساتھ غزوہ تبوک کی جانب روانہ ہونے لگے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں تو وہ رونے لگ گئے پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ میرے ساتھ تیری نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ تجھے اپنا نائب بنائے بغیر میرا جانا مناسب نہیں تھا۔ مزید آپ نے فرمایا : تم میرے بعد ہر مومن مرد اور مومن عورت کے سردار ہو ۔
8۔ ایک مرتبہ ان کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا سوائے علی کے مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کر و ۔(سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس گزشتہ بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو اس لیے بند کر دیا گیا کہ ) وہ حالت جنابت میں وہآں سے گزرتے تھے اس کے علاوہ ان کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ۔
9۔ان کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا : جس کا میں مولیٰ (قریبی دوست ) ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ (قریبی دوست ) ہے ۔
10۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا : قرآن میں اللہ تعالی نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ (اللہ ) درخت والوں سے راضی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے راز جانتا تھا لیکن یہ ہمیں نہیں بتایا کہ اس رضا مندی کے بعد ناراض بھی ہوا ہے (یعنی ایک بار راضی ہونے کے بعد پھر اللہ ناراض نہیں ہوا) حالانکہ نبی کریم ﷺ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں حاطب بن ابی بلتعہ کی گردن اڑا دوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا تم ایسا کرنا چاہتے ہو ؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ رب العزت نے اہل بدر کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ آج کے بعد تم جو بھی اعمال کرو تم کو بخش دیا گیا ہے ۔ (1)
عَبْدُ اللَّهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1168
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1169
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم سے مومن بغض نہیں رکھے گا اور منافق تم سے محبت نہیں کرے گا۔ (2)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1169
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1170
شہر بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کو سیدنا حسین کی شہادت کی خبر ملی وہ اہل عراق پر لعنت بھیج رہی تھیں پھر فرمانے لگیں : انہوں نے سیدنا حسین کو شہید کیا اللہ انہیں قتل کرے م انہوں نے سیدناحسین رضی اللہ عنہ کو دھوکہ دیا اور رسوا کیا ان پر اللہ کی لعنت ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا جب سیدہ فاطمہ صبح کے وقت ہانڈی میں حلوہ بنا کر ایک برتن لے کر آئیں اور آپ ﷺ کے سامنے رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : آپ رضی اللہ عنہ کے چچا کا بیٹا کہاں ہے ؟ عرض کیا وہ گھر میں ہیں فرمایا : جاؤ انہیں اور ان کے دونوں بیٹوں کو بھی بلا کر لاؤ۔ سیدہ فاطمہ اپنے بیٹوں کو دائیں بائیں پکڑ کر لا رہی تھیں سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے ان بچوں کو اپنی گود میں بٹھایا۔ سیدنا علی المرتضی دائیں اور سیدہ فاطمہ بائیں طرف بیٹھ گئیں۔سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے خیبری چادر کھینچی جو مدینہ میں ہمارے سونے کے بستر پر تھی رسول اللہ ﷺ نے سب کو لپیٹ لیا اور چادر کے دونوں کناروں کو بائیں ہاتھ سے پکڑا اور دائیں ہاتھ کو اپنے رب کی طرف اٹھایا اور دعا کی اے اللہ: یہ میرے اہل بیت ہیں ، ان سے گندگی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے ۔ یہ بات تین بار دہرائی ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں آپ ﷺ کے اہل میں سے نہیں ہوں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں ! چادر میں آجاؤ۔
سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں : میں بھی داخل ہو گئی اس کے بعد آپ ﷺ کی اپنے چچا زاد اور ان کے بچوں اور اپنی بیٹی فاطمہ کے بارے میں دعا ختم ہوئی ۔ (1)
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1170