Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1159

1159 - وَفِيمَا كَتَبَ إِلَيْنَا، يَذْكُرُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ قثنا أَبُو مَالِكٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَوْمَ بَدْرٍ سَبْعَةً وَسَبْعِينَ رَجُلًا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: وَكَانَ صَاحِبَ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غذوہ بدر میں (77) مہاجرین آدمی شریک تھے ، پھر باقی حدیث بیان کرنے کے بعد آخر میں فرمایا : غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کا جھنڈا سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا۔(3)

الْحَدِيثَ. ← كَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَوْمَ بَدْرٍ سَبْعَةً وَسَبْعِينَ رَجُلًا، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← حجاج، ← قثنا أَبُو مَالِكٍ، ← إِلَيْنَا، يَذْكُرُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدٍ ← وفيما

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1159

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1160

1160 - وَفِيمَا كَتَبَ إِلَيْنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، يَذْكُرُ أَنَّ مُوسَى بْنَ زِيَادٍ حَدَّثَهُمْ قثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ بَسَّامٍ الصَّيْرَفِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ رِشْدِينَ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ حَبَّةَ، وَهُوَ الْعُرَنِيُّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَحْنُ النُّجَبَاءُ، وَأَفْرَاطُنَا أَفْرَاطُ الْأَنْبِيَاءِ، وَحِزْبُنَا حِزْبُ اللَّهِ، وَحِزْبُ الْفِئَةِ الْبَاغِيَةِ حِزْبُ الشَّيْطَانِ، وَمَنْ سَوَّى بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَدُوِّنَا فَلَيْسَ مِنَّا.

حبہ عرنی سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم شریف النسب ہیں ، ہماری نسل انبیا کی نسل ہے ، ہمارا گروہ اللہ کا گروہ ہے اور ہمارا مخالف گروہ شیطان کا گروہ ، جو ہمیں اور ہمارے دشمنوں کو برابر سمجھتا ہے تو وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے ۔ (4)

عَلِيٍّ، ← حَبَّةَ، وَهُوَ الْعُرَنِيُّ، ← رِشْدِينَ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، ← الحسن بن عمرو الفقيمي ← قثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ بَسَّامٍ الصَّيْرَفِيُّ، ← إِلَيْنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، يَذْكُرُ أَنَّ مُوسَى بْنَ زِيَادٍ ← وفيما

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1160

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1161

1161 - قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ أَبُو طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، وَابْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: شَكَى عَلِيٌّ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، النَّاسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فِينَا خَطِيبًا فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَشْكُوا عَلِيًّا، فَوَاللَّهِ لَهُوَ أَخَيْشِنُ فِي ذَاتِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ»

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ ی شکایت کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! علی کے بارے میں مجھ سے شکایت نہ کرو ، یقینا وہ اللہ کی ذات اور اس کی راہ میں بہت محتاط ہے ۔ (1)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← زَيْنَبَ، وَابْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ أَبُو طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيُّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← قثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا أَبِي،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1161

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1162

1162 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَزَوَّرَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَرْيَمَ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: «يَا عَلِيُّ، طُوبَى لِمَنْ أَحَبَّكَ، وَصَدَقَ فِيكَ، وَوَيْلٌ لِمَنْ أَبْغَضَكَ، وَكَذَبَ فِيكَ» .

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ س فرمایا : جنت اس شخص کے لیے ہے جو تمہارے ساتھ سچی محبت کرتا ہے اور تمہارے باے مین سچ بولتا ہے ، ہلاکت اس کے لیے ہے جو تمہارے ساتھ بغض رکھتا ہے اور تمہارے بارے میں جھوٹ بولتا ہے ۔ (2)

رَسُولِ اللَّهِ ← عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← أبا مريم الثقفي ← عَلِيُّ بْنُ حَزُورٍ، ← أَبِي، قثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1162

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1163

1163 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا سَيَّارٌ، يَعْنِي: ابْنَ حَاتِمٍ، قَالَ: نا جَعْفَرٌ، يَعْنِي: ابْنَ سُلَيْمَانَ، قَالَ: نا مَالِكٌ، يَعْنِي: ابْنَ دِينَارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَنْ كَانَ حَامِلَ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيَّ وَقَالَ: كَأَنَّكَ رَخِيُّ الْبَالِ، فَغَضِبْتُ وَشَكَوْتُهُ إِلَى إِخْوَانِهِ مِنَ الْقُرَّاءِ قُلْتُ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ سَعِيدٍ؟ إِنِّي سَأَلْتُهُ: مَنْ كَانَ حَامِلَ رَايَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَقَالَ: إِنَّكَ لَرَخِيُّ الْبَالِ، قَالُوا: أَرَأَيْتَ حِينَ تَسْأَلُهُ وَهُوَ خَائِفٌ مِنَ الْحَجَّاجِ قَدْ لَاذَ بِالْبَيْتِ، كَانَ حَامِلَهَا عَلِيٌّ.

مالک بن دینار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیعد بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے کہا : اے ابو عبداللہ ! رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کا اٹھانے والا کون تھا ؟ انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا : تم تو اسودہ ھال ہو ۔ یہ سن کر مجھے بڑا غصہ آیا اور میں نے ان کے قرائے کرام بھائی سے شکایت کرتے ہوئے کہا : تمہیں سعید سے تعجب نہیں ہوتا ، میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کا حامل کون تھا ؟ تو انہوں نے کہا : تم تو آسودہ حال ہو؟ تو ان کے قاری بھائیوں نے کہا : جب تم نے ان سے سوال یا تھا تب وہ حجاج کے خوف سے بیت اللہ میں پنا ہ لیے ہوئے تھا اور رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کے حامل تو واقعی سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ۔ (3)

مَالِكٍ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، ← جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ← أَبِي، قثنا سَيَّارٌ، يَعْنِي: ابْنَ حَاتِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1163

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1164

1164 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، وَدَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَا: نا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبَّةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا ضَحِكَ يَوْمًا ضَحِكًا لَمْ أَرَهُ ضَحِكَ أَكْثَرَ مِنْهُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا أَعْتَرِفُ أَنَّ عَبْدًا لَكَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ عَبَدَكَ قَبْلِي غَيْرَ نَبِيِّكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ ذَلِكَ مِرَارًا، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدٌ سَبْعًا "

حبہ عرنی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی باطل و آفتہ علی کو ایک دن ہنستے ہوئے دیکھا ، میں نے اس سے زیادہ انکو کبھی اتنا ہنستے ہوئے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ان کے دانت واضح ہو گئے ، انہوں نے سیدانا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میںرسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا پھر باقی حدیث بیان کرنے کے بعد یہ دعا فرمائی : اے اللہ ! میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ کے علاوہ کسی انسان نے مجھ سے پہلے تیری بندگی کااقر ار کیا ہو ،انہوں نے یہ تین مرتبہ کہا پھر فرمایا : میں نے سات سال پہلے نماز پڑھی جس وقت کوئی بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا ۔ (1)

حبة ← أَبِيهِ ← حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْجَهْمِ الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، وَدَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1164

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1165

1165 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، نا أَبِي، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَهُ أَحَدٌ.

عبد اللہ بن نجی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے تین سال تک نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے جبکہ ابھی تک کوئی بھی آپ ﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا ۔(2)

صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ثَلَاثَ سِنِينَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَهُ أَحَدٌ. ← عَلِيٍّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← جَابِرٍ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبِي ← سُفْيَانُ بْنُ وَکِيعٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1165

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1166

1166 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي قثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ.

عبد اللہ بن نجی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :میں نے تین سال تک نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے جبکہ ابھی تک کوئی بھی آپ ﷺکے ساتھ نماز نہیں پڑھتا تھا ۔(3)

عَلِيًّا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← أَبِي قثنا أَبُو حَمْزَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1166

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1167

1167 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: نا فِطْرٌ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ: جَمَعَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا سَمِعَ إِلَّا قَامَ، فَقَامَ ثَلَاثُونَ مِنَ النَّاسِ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ: فَقَامَ أُنَاسٌ كَثِيرٌ فَشَهِدُوا حِينَ قَالَ لِلنَّاسِ: «أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» .

ابو طفیل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک وسیع میدان میں لوگوں کو جمع کیا ، فرمایا : میں ہر اس مسلمان آدمی سے قسم لے کر پوچھتا ہوں کہ جس نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا کہ جو کچھ آپ ﷺ نے عذیرخم کے مقام پر کھڑے فرما رہے تھے؟ تو تیس آدمی کھڑے ہوئے ۔ ابو نعیم کہتے ہیں : کئی لوگوں نے گواہی دی ، جب لوگوں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہوکہ میں مومنین کو ان کی جان سے زیادہ عزیز ہوں ؟ جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا تھا : جس کا میں دوست ہوں علی بھی اسکا دوست ہے اے اللہ ! علی کے دوست کو تو بھی اپنا دوست بنا اور علی کے دشمن کو اپنا دشمن بنا ۔ (1)

نَعَمْ ← لِلنَّاسِ: «أَتَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» ← أَبُو نُعَيْمٍ: فَقَامَ أُنَاسٌ كَثِيرٌ فَشَهِدُوا حِينَ ← إِلَّا قَامَ، فَقَامَ ثَلَاثُونَ مِنَ النَّاسِ، ← يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ مَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَنْشُدُ بِاللَّهِ كُلَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ ← جَمَعَ عَلِيٌّ النَّاسَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← فِطْرٍ ← أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو نُعَيْمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1167

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1168

1168 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قثنا أَبُو عَوَانَةَ، قثنا [ص:683] أَبُو بَلْجٍ قثنا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، إِذْ أَتَاهُ تِسْعَةُ رَهْطٍ قَالُوا: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، إِمَّا أَنْ تَقُومَ مَعَنَا، وَإِمَّا أَنْ تَخْلُوَ بِنَا عَنْ هَؤُلَاءِ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَلْ أَنَا أَقُومُ مَعَكُمْ، قَالَ: وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَحِيحٌ قَبْلَ أَنْ يَعْمَى، قَالَ: فَابْتَدَءُوا فَتَحَدَّثُوا فَلَا نَدْرِي مَا قَالُوا، قَالَ: فَجَاءَ يَنْفُضُ ثَوْبَهُ وَيَقُولُ: أُفْ وَتُفْ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ لَهُ عَشْرٌ، وَقَعُوا فِي رَجُلٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا لَا يُخْزِيهِ اللَّهُ أَبَدًا، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ، قَالَ: فَاسْتَشْرَفَ لَهَا مَنِ اسْتَشْرَفَ، قَالَ: «أَيْنَ عَلِيٌّ؟» قَالُوا: هُوَ فِي الرَّحَى يَطْحَنُ، قَالَ: «وَمَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَطْحَنُ؟» قَالَ: فَجَاءَ وَهُوَ أَرْمَدُ لَا يَكَادُ أَنْ يُبْصِرَ، قَالَ: فَنَفَثَ فِي عَيْنِهِ ثُمَّ هَزَّ الرَّايَةَ ثَلَاثًا، فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ، فَجَاءَ بِصَفِيَّةَ [ص:684] بِنْتِ حُيَيٍّ، قَالَ: ثُمَّ بَعَثَ فُلَانًا بِسُورَةِ التَّوْبَةِ فَبَعَثَ عَلِيًّا خَلْفَهُ فَأَخَذَهَا مِنْهُ، وَقَالَ: «لَا يَذْهَبُ بِهَا إِلَّا رَجُلٌ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ» ، قَالَ: وَقَالَ لِبَنِي عَمِّهِ: «أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟» قَالَ: وَعَلِيٌّ جَالِسٌ مَعَهُمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أُوَالِيكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، قَالَ: فَبَرَّكَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى رَجُلٍ رَجُلٍ مِنْهُمْ فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُوَالِينِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟» فَأَبَوْا، قَالَ: فَقَالَ: «أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ، قَالَ: وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ آمَنَ مِنَ النَّاسِ بَعْدَ خَدِيجَةَ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَوَضَعَهُ عَلَى عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ وَحَسَنٍ وَحُسَيْنٍ فَقَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] ، قَالَ: وَشَرَى عَلِيٌّ بِنَفْسِهِ لَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ، قَالَ: وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، وَعَلِيٌّ نَائِمٌ، قَالَ: وَأَبُو بَكْرٍ يَحْسَبُ أَنَّهُ نَبِيُّ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ قَدِ انْطَلَقَ نَحْوَ بِئْرِ مَيْمُونٍ فَأَدْرِكْهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ فَدَخَلَ مَعَهُ الْغَارَ، قَالَ: وَجُعِلَ عَلِيٌّ يُرْمَى بِالْحِجَارَةِ كَمَا كَانَ يُرْمَى نَبِيُّ اللَّهِ، وَهُوَ يَتَضَوَّرُ قَدْ لَفَّ رَأْسَهُ فِي الثَّوْبِ لَا يُخْرِجُهُ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ كَشَفَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالُوا: إِنَّكَ لَلَئِيمٌ، كَانَ صَاحِبُكَ نَرْمِيهِ فَلَا يَتَضَوَّرُ، وَأَنْتَ تَضَوَّرُ، وَقَدِ اسْتَنْكَرْنَا ذَلِكَ، قَالَ: وَخَرَجَ بِالنَّاسِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: أَخْرُجُ مَعَكَ؟ قَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا» ، فَبَكَى عَلِيٌّ، فَقَالَ لَهُ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّكَ لَسْتَ بِنَبِيٍّ، إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ أَذْهَبَ إِلَّا وَأَنْتَ خَلِيفَتِي» ، قَالَ: وَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي وَمُؤْمِنَةٍ» ، قَالَ: وَسَّدَ أَبْوَابَ الْمَسْجِدِ غَيْرَ بَابِ [ص:685] عَلِيٍّ، قَالَ: فَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ جُنُبًا وَهُوَ طَرِيقُهُ لَيْسَ لَهُ طَرِيقٌ غَيْرَهُ، قَالَ: وَقَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ مَوْلَاهُ عَلِيٌّ» ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ أَنَّهُ قَدْ رَضِيَ عَنْهُمْ، عَنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ، هَلْ حَدَّثَنَا أَنَّهُ سَخِطَ عَلَيْهِمْ بَعْدُ؟ قَالَ: وَقَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ حِينَ قَالَ: ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، قَالَ: " وَكُنْتَ فَاعِلًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ".

عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پا س بیٹھا ہوا تھا ، نو آدمیوں کا گروہ (حدیث میں رھط کا لفظ بیان کیا گیا ہے جو تین سے دس آدمیوں کے اس گروہ پر بولا جاتا ہے کہ جس میں کوئی بھی عورت نہ ہو ) آکر کہنے لگے : اے ابن عباس ! یا تو آپ ہمارے ساتھ باہر آجائیں یا پھر ان لوگوں سے الگ ہوجائیں ،( یعنی ہم آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتے ہیں ) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں ہی تمہارے ساتھ باہر جاتا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ان دنوں وہ ابھی تک قوت بصارت سے محروم نہیں ہوئے تھے ۔ (راوی یہ اس لیے وضاحت کر رہے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی عمر کے آخری حصے میں قوت بصارت ختم ہو گئی تھی) پھر انہوں نے اپنی گفتگو کو شروع کیا لیکن ہم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا گفتگو کی ، کچھ دیر بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں کو جھاڑتے ہوئے لوٹ آئے اور کہہ رہے تھے : ہلاکت ہے ، ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایسے شخص کے بارے میں زبان درازی کرتے ہیں جن کی دس یہ صفات ہیں ۔ ( ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گستاخی کی تھی ) 1۔ جن کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے (خیبر کے موقع پر ) فرمایا تھا : میں اس آدمی کو بھیجوں گا جس کا اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، اس لیے ہر آدمی آگے آگے بڑھ رہا تھا ،آپ ﷺ نے فرمایا علی کہاں ہیں ؟ لوگوں نے عرض کیا : وہ گندم پیس رہے ہیں ، آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو یہ کام کرتا؟ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی دیکھ نہیں سکتے تھے ، آپ ﷺ نے انکی آنکھ میں پھونک ماری ، تین مرتبہ جھنڈے کو لہرا کر ان کو عطا کر دیا پس وہ فتح کر کے صفیہ بنت حیی کو لائے ۔ 2۔ایک دفعہ ایک شخص کو آپ ﷺ نے سورۃ التوبہ کی آیات دے کر بھیجا ، پھر سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو ان کے پیچھے بھیجا چنانچہ انہوں نے اس سے اس سورۃ کو واپس لے لیا ، پس آپ ﷺ نے فرمایا : اس سورۃ کو صرف وہی شخص لے کر جائے گا جو مجھ سے اور میں اس سے ہوں ۔ 3۔ایک مرتبہ آپ ﷺ نے اپنے چچا کی اولاد سے پوچھا : دنیا آخرت میں تم میں سے کون میرا دوست اور مدگار بنے گا؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے عرض کیا میں آپ ﷺ کا دنیا و آخرت میں دوست اور مدد گار بننا چاہتا ہوں۔ تو آپ نے ان کےلیے برکت کی دعا فرمائی ، پھر ہر ایک شخص کے پاس جا کر کہا : دنیا آخرت میں تم میں سے کون میرا دوست اور مددگار بنے گا؟ سب نے انکار کیا ، راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : تم میرے دنیا و آخرت میں دوست ہو۔ 4۔وہ سیدنا علی المرتضیٰ پہلے شخص ہیں جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد اسلام لائے۔ 5۔ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ سیدنا حسن ،سیدنا حسین ،سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم کو بلایا ، ان کو اپنی چادر لپیٹ کر یہ آیت تلاوت فرمائی (انما یرید اللہ ۔۔۔۔۔۔)(ترجمہ : اللہ تعالی ٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے اہل بیت ! تم سے گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔ سورۃ الاحزاب 33) 6۔ انہوں نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ ) نے ہجرت کی رات اپنی ذات کو نبی کریم ﷺ پر قربان کیا تھا کہ ان کی چار پائی پر سوئے رہے (یہاں تک کہ مشرکین نے ان پر پتھراؤ کیا ) جیسا کہ نبی کریم ﷺ کو پتھر مارتے تھے اس وقت سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت آرام فرما رہے تھے ، انہوں نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ خیال کر کے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ ﷺ بئر میمون کی طرف گئے ہیں (سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے ) وہاں آپ کو ملیں گے وہ ان کے پیچھے یہاں تک دونوں غار میں داخل ہوئے ۔ کفار سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر پتھراؤ کرنے لگے جیسا کہ وہ نبی کریم ﷺ کو پتھر مارتے تھے انہوں نے اپنا سر لحاف میں چھپا ئے رکھا یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ پھر جب سر باہر نکالا تو مشرکین کہنے لگے : تم رسوا ہو جاؤہم تو تمہارے صاحب پر جب پتھراؤ کیا کرتے تھے تو وہ تکلیف کی وجہ سے بے چین نہیں ہوتے تھے اور تم بھی بے چین نہیں ہو رہے ہمیں بھی اسی بات کا خوف لاحق تھا ( کہ یہ چار پائی پر سونے والا سیدنا محمد ﷺ نہیں ہیں ۔) 7۔جب نبی کریم ﷺ لوگوں کے ساتھ غزوہ تبوک کی جانب روانہ ہونے لگے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں تو وہ رونے لگ گئے پس نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ میرے ساتھ تیری نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ تجھے اپنا نائب بنائے بغیر میرا جانا مناسب نہیں تھا۔ مزید آپ نے فرمایا : تم میرے بعد ہر مومن مرد اور مومن عورت کے سردار ہو ۔ 8۔ ایک مرتبہ ان کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا سوائے علی کے مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو بند کر و ۔(سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس گزشتہ بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازوں کو اس لیے بند کر دیا گیا کہ ) وہ حالت جنابت میں وہآں سے گزرتے تھے اس کے علاوہ ان کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا ۔ 9۔ان کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا : جس کا میں مولیٰ (قریبی دوست ) ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ (قریبی دوست ) ہے ۔ 10۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا : قرآن میں اللہ تعالی نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ (اللہ ) درخت والوں سے راضی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے راز جانتا تھا لیکن یہ ہمیں نہیں بتایا کہ اس رضا مندی کے بعد ناراض بھی ہوا ہے (یعنی ایک بار راضی ہونے کے بعد پھر اللہ ناراض نہیں ہوا) حالانکہ نبی کریم ﷺ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں حاطب بن ابی بلتعہ کی گردن اڑا دوں تو آپ ﷺ نے فرمایا تھا تم ایسا کرنا چاہتے ہو ؟ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ رب العزت نے اہل بدر کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ آج کے بعد تم جو بھی اعمال کرو تم کو بخش دیا گیا ہے ۔ (1)

عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1168

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1169

1169 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُسَاوِرٌ الْحِمْيَرِيُّ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَلِيٍّ: «لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ» .

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم سے مومن بغض نہیں رکھے گا اور منافق تم سے محبت نہیں کرے گا۔ (2)

لِعَلِيٍّ لَا يُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ وَلَا يُحِبُّكَ مُنَافِقٌ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمَّ سَلَمَةَ، تَقُولُ: ← أُمِّهِ2، ← مساور الحميري ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي نَصْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← مِنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَسَمِعْتُهُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1169

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1170

1170 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ نَعْيُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ لَعَنَتْ أَهْلَ الْعِرَاقِ فَقَالَتْ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، غَرُّوهُ وَذَلُّوهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ غُدَيَّةً بِبُرْمَةٍ قَدْ صَنَعَتْ لَهُ فِيهَا عَصِيدَةً، تَحْمِلُهَا فِي طَبَقٍ لَهَا حَتَّى وَضَعَتْهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: «أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ؟» قَالَتْ: هُوَ فِي الْبَيْتِ، قَالَ: «اذْهَبِي فَادْعِيهِ، وَائْتِينِي بِابْنَيْهِ» ، قَالَتْ: فَجَاءَتْ تَقُودُ ابْنَيْهَا كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدٍ، وَعَلِيٌّ يَمْشِي فِي أَثَرِهِمَا، حَتَّى دَخَلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجْلَسَهُمَا فِي حِجْرِهِ، وَجَلَسَ عَلِيٌّ عَلَى يَمِينِهِ، وَجَلَسَتْ فَاطِمَةُ عَلَى يَسَارِهِ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَاجْتَبَذَ كِسَاءً خَيْبَرِيًّا كَانَ بِسَاطًا لَنَا عَلَى الْمَنَامَةِ فِي الْمَدِينَةِ، فَلَفَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا، فَأَخَذَ بِشِمَالِهِ طَرَفَيِ الْكِسَاءِ، وَأَلْوَى بِيَدِهِ الْيُمْنَى إِلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا، اللَّهُمَّ أَهْلِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا، اللَّهُمَّ أَهْلُ بَيْتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِكَ؟ قَالَ: «بَلَى، فَادْخُلِي فِي الْكِسَاءِ» ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ فِي الْكِسَاءِ بَعْدَمَا قَضَى دُعَاءَهُ لِابْنِ عَمِّهِ عَلِيٍّ وَابْنَيْهِ وَابْنَتِهِ فَاطِمَةَ

شہر بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا جب ان کو سیدنا حسین کی شہادت کی خبر ملی وہ اہل عراق پر لعنت بھیج رہی تھیں پھر فرمانے لگیں : انہوں نے سیدنا حسین کو شہید کیا اللہ انہیں قتل کرے م انہوں نے سیدناحسین رضی اللہ عنہ کو دھوکہ دیا اور رسوا کیا ان پر اللہ کی لعنت ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا جب سیدہ فاطمہ صبح کے وقت ہانڈی میں حلوہ بنا کر ایک برتن لے کر آئیں اور آپ ﷺ کے سامنے رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : آپ رضی اللہ عنہ کے چچا کا بیٹا کہاں ہے ؟ عرض کیا وہ گھر میں ہیں فرمایا : جاؤ انہیں اور ان کے دونوں بیٹوں کو بھی بلا کر لاؤ۔ سیدہ فاطمہ اپنے بیٹوں کو دائیں بائیں پکڑ کر لا رہی تھیں سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے تھے جب وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ ﷺ نے ان بچوں کو اپنی گود میں بٹھایا۔ سیدنا علی المرتضی دائیں اور سیدہ فاطمہ بائیں طرف بیٹھ گئیں۔سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے خیبری چادر کھینچی جو مدینہ میں ہمارے سونے کے بستر پر تھی رسول اللہ ﷺ نے سب کو لپیٹ لیا اور چادر کے دونوں کناروں کو بائیں ہاتھ سے پکڑا اور دائیں ہاتھ کو اپنے رب کی طرف اٹھایا اور دعا کی اے اللہ: یہ میرے اہل بیت ہیں ، ان سے گندگی دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے ۔ یہ بات تین بار دہرائی ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں آپ ﷺ کے اہل میں سے نہیں ہوں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں ! چادر میں آجاؤ۔ سیدہ ام سلمہ فرماتی ہیں : میں بھی داخل ہو گئی اس کے بعد آپ ﷺ کی اپنے چچا زاد اور ان کے بچوں اور اپنی بیٹی فاطمہ کے بارے میں دعا ختم ہوئی ۔ (1)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1170

Hassan

chevron_left Previous
1…101112…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him