Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1147

1147 - حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ قثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، وَجَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ، وَمُبْغِضٌ مُفْتَرِي.

ابو بختری سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے بارے میں دو طرح کے آدمی ہلاک ہو جائیں گے : محبت میں غلو کرنے والا اور بغض رکھنے والا جھوٹا ۔(5)

يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلاَنِ: مُحِبٌّ مُفْرِطٌ, وَمُبْغِضٌ مُفْتَرِي. ← عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحِ بْنِ حَيٍّ، وَجَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ الْأَحْمَرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ قثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، ← هَيْثَمٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1147

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1148

1148 - حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ، قثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قثنا صَالِحٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْمَسْحِ، فَقَالَتِ: ائْتِ عَلِيًّا فَسَلْهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: إِذَا تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ مِنْ أَوَّلِ نَهَارِكَ، أَجْزَأَكَ يَوْمَكَ وَلَيْلَتَكَ تَمْسَحُ

شریح بن ہانی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے مسح کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو وہ کہنے لگیں : جاؤ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھو کیونکہ وہ سفر میں اکثر نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ان کے پاس آکر پوچھا تو وہ کہنے لگے : جب تم صبح کے وقت اچھی طرح وضو کرو کے موزے پہن لو تو وہ تمہارے لیے ایک دن ار ایک رات مسح کے لیے تک کافی ہوں گے۔ (1)

فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ، ← ائْتِ عَلِيًّا فَسَلْهُ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← المسح ← أتيت عائشة فسألتها ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← هَيْثَمٌ، قثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ قثنا صَالِحٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1148

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1149

1149 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْحَنَفِيُّ، نا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ الزُّهْرِيُّ قَالَ: نا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، وَقَدْ جِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَغَضِبَ وَاثِلَةُ وَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَزَالُ أُحِبُّ عَلِيًّا وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا وَفَاطِمَةَ أَبَدًا بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِ أُمِّ سَلَمَةَ يَقُولُ فِيهِمْ مَا قَالَ، قَالَ وَاثِلَةُ: رَأَيْتُنِي ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَجَاءَ الْحَسَنُ فَأَجْلَسَهُ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَّلَهُ، وَجَاءَ الْحُسَيْنُ فَأَجْلَسَهُ عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَقَبَّلَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَجْلَسَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ دَعَا بِعَلِيٍّ فَجَاءَ، ثُمَّ أَغْدَفَ عَلَيْهِمْ كِسَاءً خَيْبَرِيًّا كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ} [الأحزاب: 33] أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا، فَقُلْتُ لِوَاثِلَةَ: مَا الرِّجْسُ؟ قَالَ: الشَّكُّ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

شداد بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا سیدنا واثلہ بن الا سقع رضی اللہ عنہ کہہ رہتے تھے جب سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا سرلایا گیا ، تو ایک شامی آدمی ان سے ملے اور انہوں نے غضبناک ہو کر فرمایا : اللہ کی قسم ! میں ہمیشہ اس وقت سے سیدنا علی ، سیدہ فاطمہ ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم سے محبت کرتا ہوں ، جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن رکھا ہے جب آپ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر بیٹھے فلاں ارشاد فرما رہے تھے ۔ سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک دن آیا ، آپ ﷺ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف فرما تھے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، آپ ﷺ نے انکو دائیں ران پر بیٹھا یا اور بوسہ دیا ،پھر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے انہیں بائیں ران پر بیٹھایا اور بوسہ دیا ، پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں ، انہیں اپنے سامنے بٹھایا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا ، وہ آئے تو نبی کریم ﷺ نے سب پر ایک خیبری چادر کو ڈال دیا جیسا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (انام یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھر کم تطھیرا ) شداد بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : میں نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے پوچھا : الرجس کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا : اللہ عزوجل کے بارے میں شک کرنا ۔ (2)

وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، وَقَدْ جِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، ← شداد بن عبد الله ← يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ← سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ الزُّهْرِيِّ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ الْحَنَفِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1149

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1150

1150 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ قثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ سَالِمٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَابِقٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالشَّاهِدِ مَعَ الْيَمِينِ بِالْحِجَازِ، وَقَضَى بِهِ عَلِيٌّ بِالْكُوفَةِ

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجاز میں ایک گواہ اور مدعی کی قسم کے ساتھ فیصلہ کیا تو وہی فیصلہ کوفہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کیا ۔ (1)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سَابِقٌ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1150

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1151

1151 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَعْدِ قثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، نا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْدَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ مُسَيَّرَةٌ سَدَاهَا حَرِيرٌ، قَالَ: فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: مَاذَا أَصْنَعُ بِهَا أَلْبَسُهَا أَمْ لَا؟ قَالَ: «إِنِّي لَا أَرْضَى لَكَ مَا أَكْرَهُ لِنَفْسِي، وَلَكِنِ اجْعَلْهَا خُمُرًا لِلْفَوَاطِمِ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے رسول اللہ ﷺ کو مسیرہ کپڑوں کا جوڑا دیا جس کو ریشم سے تانا ڈالا گیا تھا تو نبی کریم ﷺ نے وہی جوڑا میرے لیے بھیجا، میں نے آ کر پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ میں کیا کروں پہن لوں یا نہیں ؟ فرمایا ! نہیں ! جو مجھے اپنے لیے پسند نہیں تو آپ کےلیے کیسے پسند کروں ،لیکن اس کے دوپٹے بنا کر فواطم (بچیوں ) کے درمیان تقسیم کر دو ۔ (2)

فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: مَاذَا أَصْنَعُ بِهَا أَلْبَسُهَا أَمْ لَا؟ ← أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ حُلَّةٌ مُسَيَّرَةٌ سَدَاهَا حَرِيرٌ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← جَعْدَةُ بْنُ هُبَيْرَةَ ← أَبِي فَاخِتَةَ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1151

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1152

1152 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ قَالَ: نا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ قثنا الْهَيْثَمُ الْبَكَّاءُ قثنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ أَبُو طَالِبٍ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، أَرْسَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُ رَبَّكَ أَنْ يَشْفِيَنِي، فَإِنَّ رَبَّكَ يُطِيعُكَ، وَابْعَثْ إِلَيَّ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِ الْجَنَّةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَأَنْتَ يَا عَمِّ، إِنْ أَطَعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَطَاعَكَ» .

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابو طالب جب بیمار ہوئے جس میں وہ فوت ہوئے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی طرف پیغام بھیجا : میرے لیے دعا کرو کہ اللہ مجھے شفا دے دے ، بے شک رب تعالیٰ آپکی سنتے ہیں اور جنت کے پھلوں میں سے کوئی پھل بھیج دیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میرے چچا ! اگر تم اللہ کی اطاعت کرتے تو اللہ بھی آپ کی سن لیتا ۔(3)

أَنَسٍ، ← شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ قثنا الْهَيْثَمُ الْبَكَّاءُ قثنا ثَابِتٌ، ← محمد بن يونس القرشي

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1152

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1153

1153 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، نا وَهْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ النَّمَرِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَقَالَ: سَلْ عَنْهَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَهُوَ أَعْلَمُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، جَوَابُكَ فِيهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَوَابِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: بِئْسَ مَا قُلْتَ، وَلُؤْمَ مَا جِئْتَ بِهِ، لَقَدْ كَرِهْتَ رَجُلًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغُرُّهُ الْعِلْمَ غَرًّا، وَلَقَدْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» ، وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أَشْكَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ يَأْخُذُ مِنْهُ، وَلَقَدْ شَهِدْتُ عُمَرَ وَقَدْ أَشْكَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ فَقَالَ: هَا هُنَا عَلِيٌّ، قُمْ لَا أَقَامَ اللَّهُ رِجْلَيْكَ.

ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آکر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ پوچھا : انہوں نے کہا سیدناعلی سے پوچھو ! وہ زیادہ جانتے ہیں ۔اس شخص نے کہا : امیر المومنین ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے جواب سے آپ کا جواب مجھے اچھا لگتا ہے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے بہت برا کہا ، بری بات لائے ہو، تم نے اس شخص کو پسند نہیں کیا جسے رسول اللہ ﷺ علم کی ترغیب دیتے تھے یقینا سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو وہ شخص ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو سیدنا ہارون علیہ السلام کو سیدنا موسی علیہ السلام کے ساتھ تھی ، مگر میرے بعد بنی نہیں ہے ۔ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے جب ان کو کسی مسئلے میں مشکل پیش آتی یا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس کا حل دریافت کرتے اور میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت حاضر تھا تو ان کو کوئی مسئلہ پیش آیا تو وہ فرمانے لگے : کیا یہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ موجود ہیں کھڑے ہو جاؤ اللہ تمہارے پاؤں قائم رکھے ۔ (1)

سَلْ عَنْهَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَهُوَ أَعْلَمُ، ← مَسْأَلَةٍ ← جاء رجل إلى معاوية فسأله ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ النَّمَرِيُّ الْبَصْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1153

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1154

1154 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي كِتَابِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ بِخَطِّ يَدِهِ: نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُنْذِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ يَقُولُ: مَنْ دَمَعَتَا عَيْنَاهُ فِينَا دَمْعَةً، أَوْ قَطَرَتْ عَيْنَاهُ فِينَا قَطْرَةً، أَثْوَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ.

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص ہمارے لیے اپنی آنکھ سے آنسو بہا تا ہے یا ایک قطرہ گراتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اسے جنت عطا کرے گا (2)

كَانَ حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ← أَبِيهِ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قثنا الرَّبِيعُ بْنُ مُنْذِرٍ، ← رَأَيْتُ فِي كِتَابِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ بِخَطِّ يَدِهِ: ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِيلَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1154

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1155

1155 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَيْفِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْمُخَرِّمِيُّ، فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ، قَالَ: نا الْحُسَيْنُ بْنُ شَدَّادٍ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، نا قَيْسٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُولَدُ لَكَ ابْنٌ قَدْ نَحَلْتُهُ اسْمِي وَكُنْيَتِي» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا کہ آپ کا ایک بیٹا ہو گا جس کے لیے میں اپنا نام اور کنیت اختیار کرتا ہوں ۔ (3)

لِي رَسُولُ اللَّهِ «يُولَدُ لَكَ ابْنٌ قَدْ نَحَلْتُهُ اسْمِي وَكُنْيَتِي» ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← ابْنَ الْحَنَفِيَّةِ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ ← لَيْثٌ، ← قَيْسٍ ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ شَدَّادٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ سَيْفِ بْنِ الضَّحَّاكِ الْمُخَرِّمِيُّ، فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَتَيْنِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1155

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1156

1156 - وَفِيمَا كَتَبَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَنَّامٍ الْكُوفِيُّ، يَذْكُرُ أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ وَهْبٍ الْوَاسِطِيَّ حَدَّثَهُمْ قثنا بِشْرُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو عَلِيٍّ الدَّارِسِيُّ قَالَ: نا أَبُو مَسْعُودٍ الْجَبَلِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ صِغَارًا تَنْتَفِعُوا بِهِ كِبَارًا، تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ لِيَصِرْ لِذَاتِ اللَّهِ.

امام شبعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم بچپن میں علم حاصل کرو بڑے ہو کر تمہیں فائدہ ہو گا دوسروں کی بھلائی کے لیے علم حاصل کرو تمہں اس کے بدلے اللہ کی ذات ملے گی ۔ (یعنی اللہ تمہاری ہر مشکل وقت میں مدد کرے گا۔ (4)

الشَّعْبِيِّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَبُو مَسْعُودٍ الْجَبَلِيُّ، ← قثنا بِشْرُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو عَلِيٍّ الدَّارِسِيُّ ← إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَنَّامٍ الْكُوفِيُّ، يَذْكُرُ أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ وَهْبٍ الْوَاسِطِيَّ ← وفيما

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1156

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1157

1157 - وَفِيمَا كَتَبَ إِلَيْنَا، يَذْكُرُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَهُمْ، نا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيِّ قَالَ: اشْتَكَى أَبُو الْأَسْوَدُ الْفَالِجَ، فَنُعِتَ لَهُ ثَعْلَبٌ، فَطَلَبْنَاهَا فِي خَرِبِ الْبَصْرَةِ، فَبَيْنَا أَنَا أَطُوفُ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ يُصَلِّي، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَبُو حَرْبِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، فَقَالَ: أَقْرِيءْ أَبَاكَ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فُلَانٍ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: لَأَذُودَنَّ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ الْقَصِيرَتَيْنِ عَنْ حَوْضِ رَسُولِ اللَّهِ رَايَاتِ الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ، كَمَا تُذَادُ غَرِيبَةُ الْإِبِلِ عَنْ حِيَاضِهَا.

ابو حرب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میرے باپ ابو الا سود کو فالج کا حملہ ہوا ، کس نے ان کے لیے ثعلب گھاس تجویز کی ، ہم نے اُسے بصرہ کی ویران گاہوں میں تلاش کیا ، میں گھوم رہا تھا کہ اچانک ایک شخص نے دوران نماز مجھے اشارہ کیا ، میں اس کے پاس آیا ، پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : ابو حرب بن ابو الاسود ، انہوں نے کہا : اپنے باپ کو میرا سلام کہنا اور انہیں کہنا کہ عبد اللہ بن فلاں تجھے سلام دے کر یہ پیغام دے رہا تھا کہ یں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : میں اپنے دونوں چھوٹے ہاتھوں سے منافقین اور کافروں کے دونوں جھنڈوں کو حوض کوثر سے دور بھاگادوں گا، جس طرح کوئی شخص اپنی چراہ گاہ سے اجنبی اونٹ کو بھگا دیتا ہے۔(1)

حِيَاضِهَا. ← حَوْضِ رَسُولِ اللَّهِ رَايَاتِ الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِينَ، كَمَا تُذَادُ غَرِيبَةُ الْإِبِلِ ← لَأَذُودَنَّ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ الْقَصِيرَتَيْنِ ← عَلِيًّا ← لَكَ: أَشْهَدُ أَنِّي ← أَقْرِيءْ أَبَاكَ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فُلَانٍ يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ ← مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَبُو حَرْبِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، ← بِرَجُلٍ يُصَلِّي، فَأَشَارَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ، ← أَطُوفُ إِذَا ← اشْتَكَى أَبُو الْأَسْوَدُ الْفَالِجَ، فَنُعِتَ لَهُ ثَعْلَبٌ، فَطَلَبْنَاهَا فِي خَرِبِ الْبَصْرَةِ، فَبَيْنَا ← أبي حرب بن أبي الأسود الدؤلي ← عَبْدُ اللَّهِ ← علي بن عابس ← إِلَيْنَا، يَذْكُرُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ يَعْقُوبَ ← وفيما

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1157

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ غَيْرِ عَبْدِ اللَّهِ · حديث 1158

1158 - وَفِيمَا كَتَبَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَنَّامٍ أَيْضًا، يَذْكُرُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَهُمْ قثنا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ خَثْعَمَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَقُولُ كَمَا قَالَ أَخِي مُوسَى: اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي وَزِيرًا مِنْ أَهْلِي، عَلِيًّا أَخِي، اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي، وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي، كَيْ نُسَبِّحَكَ كَثِيرًا، وَنَذْكُرَكَ كَثِيرًا، إِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِيرًا ".

سیدہ اسما ء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے اللہ ! میں بھی وہی کہتا ہوں جو میرے بھائی موسیٰ علیہ السلام نے کہا تھا ۔ پس اے اللہ ! اس میرے بھائی علی رضی اللہ عنہ کو جو میرے اہل میں سے ہے میرا وزیر بنا دے اور اس سے میرا بازو مضبوط کر دے ، ان کو میرے ساتھ اس کام میں شریک کر دے تاکہ ہم تیری بہت زیادہ تسبیح کریں اور ہم تیرا ذکر کثیر کریں کہ بے شک تو ہمیں دیکھ رہا ہے ۔(2)

اللَّهُمَّ أَقُولُ كَمَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَسْمَاءَ بِنْتَ عُمَيْسٍ، تَقُولُ: ← رَجُلًا مِنْ خَثْعَمَ ← الْقَاسِمِ، ← الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ← قثنا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، ← إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَنَّامٍ أَيْضًا، يَذْكُرُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ يَعْقُوبَ ← وفيما

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah · Hadith 1158

Daif

chevron_left Previous
1…91011…18
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him