Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1031

1031 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا حَسَنٌ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ» فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قَامَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ لِلْعَزْمَةِ، فَقَالَ: عَلَامَ أُقَاتِلُ؟

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: کل میں جھنڈا اس کو دوں گا پھر آگے اسی کی مثل الفاظ ہیں مگر اس روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ثابت قدمی رکھنے والوں کے لیے اادھر ادھر التفات نہ کرنا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ میں کس بنیاد پر جنگ کروں گا؟(2)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنٌ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1031

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1032

1032 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، نا شَرِيكٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ ".

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں دو چیزوں کو چھوڑ کر جارہا ہوں، ایک تو کتاب اللہ ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی رسی جو آسمان اور زمین کے درمیان لٹکی ہوئی ہے یا (یہ فرمایا) جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے (یعنی قرآن) دوسرے میرے اہل بیت ہیں، یہ دونوں چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں، یہاں تک کہ یہ ہ فرمایا) جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے (یعنی قرآن) دوسرے دونوں حوض کوثر میں مجھے ملیں گے۔(3)

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، ← الرُّکَيْنَ ← شَرِيکٍ ← أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1032

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1033

1033 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَفْضَلَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ.

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اہل مدینہ میں سب سے افضل سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سمجھتے ہیں۔(1)

كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّ أَفْضَلَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1033

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1034

1034 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا رَوْحٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: نا عَوْفٌ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ رَوْحٌ الْكُرْدِيُّ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَ بِحَضْرَةِ أَهْلِ خَيْبَرَ قَالَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا، وَهُوَ أَرْمَدُ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ، وَأَعْطَاهُ اللِّوَاءَ، وَنَهَضَ مَعَهُ النَّاسُ فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبَرَ، فَإِذَا مَرْحَبٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ يَرْتَجِزُ، وَإِذَا هُوَ يَقُولُ: [البحر الرجز] قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحَ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ ... أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِبُ فَاخْتَلَفَ هُوَ وَعَلِيٌّ ضَرْبَتَيْنِ، فَضَرَبَهُ عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى عَضَّ السَّيْفُ بِأَضْرَاسِهِ، وَسَمِعَ أَهْلُ الْعَسْكَرِ صَوْتَ ضَرْبَتِهِ، قَالَ: فَمَا تَتَامَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى فُتِحَ لِأَوَّلِهِمْ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: آخِرُ النَّاسِ مَعَ عَلِيٍّ فَفُتِحَ لَهُ وَلَهُمْ "

سیدنا بریرہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر پہنچ کر پڑاؤ ڈالا تو فرمایا: کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اس سے محبت کرتےہیں، جب اگلی صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضیاللہ عنہ کو بلایا، اس وقت وہ آشوبِ چشم میں مبتلا تھے۔ نبی کریمﷺ نے ان کو آنکھ میں اپنا لعاب ِدہن ڈالا اور ان کو جھنڈا دیا اور لوگ ان کی معیت میں قتال کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے چناچہ آپﷺ کا سامنا اہل خیبر کے ساتھ ہوا اور اچانک مرحب نئ آپﷺ کے سامنے آکر یہ رجزیہ اشعار پڑھے: اہل خیبر مجھے جانتے تھے کہ میں ایک ہتھیار والا اور تجربہ کار جنگجو ہوں۔ جب شیر میری طرف دوڑتا ہے تو میں اس کو کبھی نیزہ مارتا ہوں اور کبھی تلوار سے حملہ کرتا ہوں۔ پھر دونوں کی ضربوں کے درمیان ےتصادم ہواپس کیا ہوا کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے اس کے سرپروار کیا یہاں تک کہ تلوار اس کےسر کو چیرتی ہوئی، اس کے دانتوں تک آپہنچی اور تمام لشکر نے اس کےضرب کی آواز سنی۔ ابھی لشکر کا پچھلا حصہ نہیں پہنچا تھا کہ اگلے ہی کو فتح مل گئی۔ ابن جعفر کہتے ہیں : لشکر کا آخری حصہ سید علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا یہاں تک کہ اللہ نے ان سب کو فتح عطا فرمائی۔(2)

أَبِيهِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← رَوْحٌ الْكُرْدِيِّ، ← مَيْمُونَ أَبِي عَبْدِ اللهِ ← عَوْفٌ، ← أَبِي، قثنا رَوْحٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1034

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1035

1035 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَعَفَّانُ الْمَعْنِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَا: نا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ الرِّشْكُ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَأَحْدَثَ شَيْئًا فِي سَفَرِهِ، فَتَعَاهَدَ، قَالَ عَفَّانُ: فَتَعَاقَدَ أَرْبَعَةٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَذْكُرُوا أَمْرَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عِمْرَانُ: وَكُنَّا إِذَا قَدِمْنَا مِنْ سَفَرٍ بَدَأْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الثَّالِثُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ قَامَ الرَّابِعُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلِيًّا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّابِعِ وَقَدْ تَغَيَّرَ وَجْهُهُ فَقَالَ: «دَعُوا عَلِيًّا، دَعُوا عَلِيًّا، إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَلِيُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي» .

سیدنا عمران بن حصیص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر سیدنا علی رضیاللہ عنہ کی قیادت میں بھیجا۔ انہوں نے کچھ ایسا کام کیا جس پر چار صحابہ نے اتفاق کیا اور اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے ضرور کریں گے۔ سیدنا عمران بن حصیص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب ہم سفر سے لوٹتے توہمارا معمول یہ ہوتا تھا کہ ہم سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کرتے۔ جب وہ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ایک شخص نے کھڑے ہوکر کہا: یا رسول اللہ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایسے ایسے کام کیا ہے۔ آپﷺ نے بھی منہ پھیر لیا۔پھر تیسرے شخص نے کھڑے ہوکر کہا: یا رسول اللہ ﷺ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فلاں فلاں کام کیا ہے، پھر چوتھے شخص نے کھڑے ہوکر کہا: یا رسول اللہ ﷺ : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یوں یوں کام کیا ہے، آپ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے، آپﷺ کا چہرہ متغیر تھا اور فرمایا: علی کو بلاؤ! علی کو بلاؤ! (دو مرتبہ فرمایا) پھر فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور میرے بعد ہر نبی کا دوست ہے۔(1)

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← يَزِيدُ الرِّشْكُ ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1035

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1036

1036 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو النَّضْرِ قَالَ: نا عِكْرِمَةُ بْنُ [ص:606] عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: بَارَزَ عَمِّي يَوْمَ خَيْبَرَ مَرْحَبًا الْيَهُودِيَّ، فَقَالَ مَرْحَبٌ: [البحر الرجز] قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَمِّي عَامِرٌ: [البحر الرجز] قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ، فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ، وَذَهَبَ يُسَفِّلُ لَهُ، فَرَجَعَ السَّيْفُ عَلَى سَاقِهِ، فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ، فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ: فَلَقِيتُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ؟ قَالَ: «مَنْ قَالَ ذَلِكَ؟» قُلْتُ: نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ، بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ» ، إِنَّهُ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ جَعَلَ يَرْتَجِزُ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسُوقُ الرِّكَابَ، وَهُوَ يَقُولُ: تَالَلَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا ... وَمَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا إِنَّ الَّذِينَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا ... إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا ... فَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا؟» قَالَ: عَامِرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ» ، قَالَ: وَمَا اسْتَغْفَرَ لِإِنْسَانٍ قَطُّ يَخُصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ، فَاسْتُشْهِدَ " قَالَ سَلَمَةُ: ثُمَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِي إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، أَوْ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» ، قَالَ: فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ أَرْمَدَ، فَبَصَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَخَرَجَ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَيَقُولُ: قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ ... شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: [البحر الرجز] أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ ... كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمْ بِالصَّاعِ كَسَيْلِ السَّنْدَرَهْ فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ بِالسَّيْفِ، وَكَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْهِ

سیدنا ایاس بن سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ میرے چچا (عامر) کا مقابلہ یہودی سردار مرحب سے ہوا تو مرحب کہنے لگا: خیبر مجھے جانتا ہے کہ میں زر پوش اور تجربہ کار جنگجو ہوں ۔ جب شیر میری طرف دوڑتا ہے تو میں اس کو بھی نیزہ مارتاہوں اور کبھی تلوار سے حملہ کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں میرے چچا عامر نے کہا: یقیناً اہل خیبر جانتے ہیں کہ میں زرہ پوش اور سخت جنگجو پہلوان ہوں۔ پھر دونوں کی ضربوں کے درمیان تصادم ہوا، مرحب نے جب وار کیا تا اس کی تلوار سیدنا عامر رضہ اللہ عنہ کی ڈھال میں پڑگئی۔ جس نے سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کی رگ کٹ گئی اور کمزور ہوگئے تو سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میری ملاقات کچھ صحابہ کرام سے ہوئی انہوں نے کہا: عامر نے خودکشی کرکے اپنے اعمال کو بربادکیا۔سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے رسول اللہﷺ کو یہ بات بتائی کہ لوگ کہہ رہے ہیں: عامر نے خودکشی کی ہے تع نبی کریمﷺ نے فرمایا: کس نے یہ کہا؟ میں نے کہا: آپ کے اصحاب یہ بات کررہے ہیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمیایا: جو یہ کہتا ہے وہ خلاف واقعہ بات کرتا ہے،عامر کے لیے تو دو گنا اجر ہے۔ پھر جب وہ مدینے سے خیبر آرہے تھے تو رجزیہ اشعار بھی پڑھ رہے تھے اور نبی کریم ﷺ ان کے ساتھ موجودتھے۔ وہ انٹنیوں کو ہانک رہےتھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے: اگر اللہ کی توفیق نہ ہوتی توہدایت نہ پاتے، نہ نماز پڑھتے اور نہ صدقہ کرتے۔ بےشک باغی (کافر) لوگوں نے ہم پر ظلم کرنا چاہا تو ہم نے انکا ر کردیا، اے اللہ! ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں، جنگ کے وقت ہمارے قدموں کو مضبوط کر اور ہم پر سکینت ضرور نازل فرما۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کیا: یا رسول اللہﷺ میں عامر ہوں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ نے تمہیں بخش دیا ہے۔ آپﷺ جب خاص طور پر کسی انسان کے لیے مغفرت مانگتے تو وہ ضرور شہید ہوجاتا۔ جب یہ بات سیدنا عامررضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے عرض کیا: یا رسولﷺ کاش آپﷺ ہمیں عامر کے ذریعے مزید لطف اندوز کرتے۔ پس وہ شہید ہوگئے۔سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر آپﷺ نے مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلانے کے لیے بھیجا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: آج میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور رسول کو محبوب ہے، یا فرمایا: اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، (یہ راوی کا شک ہے) پھر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کولے کر آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا،اس وقت وہ آشوبِ چشم میں مبتلا تھے پس نبی کریم ﷺ نے اپنا لعبِ دہن انکی آنکھوں میں ڈالا اور ان کو جھنڈا دیا تو مرحب اپنی تلوار نکالتے ہوئے نکلا اور کہنے لگا:خیبر مجھے جانتا ہے کہ زرہ پوش اور تجربہ کار پہلوان ہوں اور جنگوں میں آگ بھڑکانے والا ہوں۔اس کے جواب میں سیدنا علی رضہ اللہ عنہ نے کہا:میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے اور جنگلی شیروں کی طرح ہیبت ناک ہوں اور وسیع پیمانے پر قتل اور خون ریزی پھیلانے والا ہوں۔پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک ہی ضرب سے مرحب کے سر کو پھاڑ دیا ورفتح آپررضی اللہ عنہ کے ہاتھوں ہوئی۔(1)

أَبِي ← إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبِي، قثنا أَبُو النَّضْرِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1036

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1037

1037 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ، يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ» ، قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطِي، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا، فَقَالَ: «أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ؟» فَقَالَ: هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ، قَالَ: «فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ» ، فَأُتِيَ بِهِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ، حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا؟ قَالَ: «انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ»

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے خیبر والے دن تھا: کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا ، جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گا، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے اس سے محبت کرتے ہیں: صحابہ کرام نے اضطراب کی کیفیت میں رات گزاری کہ آپ ﷺ کس کو جھنڈا عطا کریں گے، جب صبح ہوئی ، صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے اور ہر شخص امید کیے ہوئے تھا کہ آپﷺ اسی کو جھنڈا عطا فرمائیں گے ، آپﷺ نے فرمایا: علی کہاں ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ ان کی آنکھوں کو تکلیف ہے۔ آپﷺ نے فرمایا ان کو بلاؤ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے ان کو آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا تو ان کی آنکھیں ٹھیک ہوگئیں گویا کہ کوئی تکلیف تھی ہی نہیں، پھر آپﷺ نے انہیں جھنڈا دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:یا رسول اللہ ﷺ! میں ان سے اس وقت تک جہاد کرتا رہوں گا۔ جب تک وہ ہماری طرح نہ ہوجائیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: نرمی سے روانہ ہوجانا جب تم ان کے پاس میدان جنگ میں پہنچ جاؤ تو ان کواسلام کی دعوت دینا اور انکو بتانا کہ اللہ کے ان پر کیا حقوق واجب ہیں ، بخدا! اگر تمہاری وجہ سے ایک شخص بھی ہدایت پاجاتا ہے تو تمہارے لیے سرخ انٹوں سے بہتر ہے۔(1)

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← أَبِي، قثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1037

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1038

1038 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَبُو أَحْمَدَ، وَهُوَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرٍ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْخِلُ رَأْسَهُ تَحْتَ الْوَدِيِّ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهُ عَلِيًّا» ، فَدَخَلَ عَلِيٌّ، فَهَنَّيْنَاهُ.

سید جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک انصاری عورت کے گھر میں تھے، اس نے آپﷺ کے لیے کھانا تیار کیا تھا تو پھر آگے باقی حدیث کو بیان کیا، اس کےآخر میں فرمایا: ابھی تمہارے پاس ایک جنتی آدمی آئے گا، میں نے اس وقت نبی کریم ﷺ کو دیکھا آپ کھجور کے چھوٹے چھوٹے درختوں کی نچلی جانب دیکھ رہے تھے اور ساتھ فرما رہے تھے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو وہ علی ہی ہو، چناچہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی تشریف لا ئے، ہم نے انہیں مبارک باد پیش کی۔(2)

الْحَدِيثَ. ← كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ عِنْدَ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ صَنَعَتْ لَهُ طَعَامًا، ← جَابِرٍ، هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي، قثنا أَبُو أَحْمَدَ، وَهُوَ الزُّبَيْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1038

Hassan

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him