Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1019

1019 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ أَصْحَابِهِ، فَبَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ، فَآخَى بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، وَقَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ أَخِي، وَأَنَا أَخُوكَ» .

سعید بن مسیب ؒسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ کرام کے درمیان بھائی چارہ قائم کیاتو رسول اللہﷺ ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ باقی بچ گئے تو آپﷺ نے سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان اخوت قائم کردی اور سید نا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے بھائی اور میں تمھارا بھائی ہوں۔(2)

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← أَبِي، قثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1019

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1020

1020 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ، فَقَالَ رَفِيقِي أَبُو مَهْلٍ: كَمْ لَكِ؟ قَالَتْ: سِتٌّ وَثَمَانُونَ سَنَةً، قَالَ: مَا سَمِعْتِ مِنْ أَبِيكِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ بَعْدِي نَبِيُّ»

موسیٰ جہنی ؒ سے روایت ہے کہ میں سدہ فاطمہ بنت علی رضی اللہ عنہما کے پاس آیاتو میرے دوست ابومہل نے ان سے کہا:آپ کی کتنی عمر ہے توکہا:86 سال تو انہوں نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے والدگرامی کےبارے میں کچھ سنا؟تو وہ فرمانے لگیں: مجھے سیدہ اسماہ بنت عمیس رضی اللہ عنہما نےبیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو (سیدنا) ہارون ؑ کو سیدنا موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی مگر میرے بعدکوئی نبی نہیں۔(3)

حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ ← مِنْ أَبِيكِ شَيْئًا؟ ← مَا ← سِتٌّ وَثَمَانُونَ سَنَةً ← دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ عَلِيٍّ، فَقَالَ رَفِيقِي أَبُو مَهْلٍ: كَمْ لَكِ؟ ← مُوسَى الْجُهَنِيَّ، ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1020

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1021

1021 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ: نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ، فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» .

سعید بن وہب ؒ سے روایت ہے کہ میں نے لوگوں سے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں) گواہی لینا چاہی تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام میں سے پانچ یا چھ صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے گواہی دی کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں ، علی بھی اس کا دوست ہے۔(4)

نَشَدَ عَلِيٌّ النَّاسَ فَقَامَ خَمْسَةٌ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فَشَهِدُوا ← سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1021

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1022

1022 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا ذَا مُرٍّ، وَزَادَ فِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ، وَأَحِبَّ مَنْ أَحَبَّهُ» ، قَالَ شُعْبَةُ: أَوْ قَالَ: «أَبْغَضْ مَنْ أَبْغَضَهُ» .

عمر ذومر ؒنے اپنی روایت یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ: علی کے دوستوں سے دوستی کر، ان کے دشمنوں سے دشمنی کر، جو ان کی مدد کرے اس کی مدد کر اور جو اس سے محبت کرے اُس سے محبت کر۔ شعبہ ؒ کہتےہیں یا یہ کہا: اس سے بغض رکھ جو ان سے بغض رکھے۔ (1)

عَمْرًا ذَا مُرٍّ وَزَادَ فِيهِ: ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1022

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1023

1023 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ السَّلُولِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَلِيٌّ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، لَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ» . قَالَ شَرِيكٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: أَيْنَ سَمِعْتَ مِنْهُ؟ قَالَ: مَوْضِعَ كَذَا، لَا أَحْفَظُهُ.

حبشی بن جنادہ سلولی ؒ سے روایت ہے کہ میں نے سنا رسول اللہ ﷺ فرمارہے تھے : علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں: میری ذمہ داری میرے اورعلی کے علاوہ کوئی نہیں اداکرے گا۔ شریک ؒکہتے ہیں کہ میں نے ابو اسحاق ؒ سےپوچھا : یہ حدیث آپ نے ان (حبشی بن جنادہ سلولیؒ) سے کس جگہ سنی ہے، انہوں نے کہا : کسی جگہ میں نے سنی ضرور ہے لیکن میں اس بھول گیا ہوں۔(2)

مَوْضِعَ كَذَا، لَا أَحْفَظُهُ. ← مِنْهُ ← شَرِيكٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: أَيْنَ ← أَوْ عَلِيٌّ ← «عَلِيٌّ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، لَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا ← رَسُولِ اللَّهِ ← حُبْشِيُّ بْنُ جُنَادَةَ السَّلُولِيُّ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1023

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1024

1024 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ نا شَرِيكٌ، عَنْ عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ وَفْدُ لِيشَرَحَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا يَقْتُلُ الْمُقَاتِلَةَ، وَيَسْبِي الذُّرِّيَّةَ» ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ أَنَا، أَوْ هَذَا» ، وَانْتَشَلَ بِيَدِ عَلِيٍّ.

عبد اللہ بن شداد بن ہادؒ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ کے پاس اہل ےیمن میں سے ایک وفد(اپنے کسی مسئلے کی) وضاحت کی عرض کی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:تم لازمی نماز کی پابندی کرو، ورنہ میں تمہاری طرف ایک ایسے شخص کو بھیج دوں گا جو تمہارے مردوں سے جنگ کرے گا اور تمہاری اولاد کو قیدی بنائے گا۔ پھر فرمایا: اے اللہ میں تمہاری طرف ایک ایسے شخص کو بھیج دوں گا جو تمہارے مردوں سے جنگ کرے گا اور تمہاری اولاد کو ق! میں یا یہ۔ اس وقت آپﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ نچلے حصے سے پکڑرکھا تھا۔(3)

ثُمَّ ← رَسُولُ اللَّهِ «لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا يَقْتُلُ الْمُقَاتِلَةَ، وَيَسْبِي الذُّرِّيَّةَ» ← قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ وَفْدُ لِيشَرَحَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، ← عَيَّاشٍ الْعَامِرِيِّ ← شَرِيکٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1024

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1025

1025 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَأَظُنُّنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، نا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عُثْمَانَ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَثَلِي فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَثَلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، أَحَبَّتْهُ طَائِفَةٌ، وَأَفْرَطَتْ فِي حُبِّهِ فَهَلَكَتْ، وَأَبْغَضَتْهُ طَائِفَةٌ، وَأَفْرَطَتْ فِي بُغْضِهِ فَهَلَكَتْ، وَأَحَبَّتْهُ طَائِفَةٌ فَاقْتَصَدَتْ فِي حُبِّهِ فَنَجَتْ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری مثال اس امت میں سیدنا عیسئ ابن مریم ؑ جیسی ہے جن کے بارے میں ایک گروہ زیادہ محبت کرنے والے کی وجہ سے ہلاک ہوا اور ایک گروہ زیادہ بغض کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوا اور ایک گروہ نے میانہ روی اختیار کی تو وہ نجات پاگیا۔(4)

عَلِيٍّ، ← زَاذَانَ ← عُثْمَانَ أَبِي الْيَقْظَانِ ← شَرِيکٍ ← وَكِيعٌ، ← مِنْهُ ← وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَأَظُنُّنِي قَدْ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1025

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1026

1026 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ: خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَعْدَ وَفَاةِ عَلِيٍّ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ فَقَالَ: لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ لَمْ يَسْبِقْهُ الْأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ، وَلَا يُدْرِكُهُ الْآخَرُونَ.

ابورزین سے روایت ہےکہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ہمیں خطبہ دیا اور انہوں نے اس وقت سیاہ رنگ کا عمامہ پہنا ہوا تھا تو فرمایا: تم میں سے کل وہ شخص جدا ہوگیا جس سے علم میں اولون (قدیم علمائے کرام علم میں) آگے نہیں تھے اور نہ ہی بعد میں آنے والے ان کا مقام پائیں گے۔(1)

خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَعْدَ وَفَاةِ عَلِيٍّ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ ← اَبِیْ رَزَینٍ ← عَاصِمٍ، ← شَرِيکٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1026

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1027

1027 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا بَهْزٌ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا، ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمُلْكُ» . قَالَ سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ سَنَتَيْنِ، وَخِلَافَةَ عُمَرَ عَشْرَ سِنِينَ، وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَنَةً، وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ سِتَّ سِنِينَ.

سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا ، رسول اللہﷺ فرما رہے تھے: مدت خلافت 30 سال ہوگی اس کے بعد بادشاہت ہوگی، سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ نے (اپنے شاگرس سے) فرمایا: شمار کرلو، 2 سال سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت، 10 سال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت، 12 سال سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور 6 سال سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت ہوئی۔(2)

الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمُلْكُ ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَفِينَةَ: ← أَبِي، قثنا بَهْزٌ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قثنا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1027

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1028

1028 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي طُفَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا عَلِيٌّ، إِنَّ لَكَ كَنْزًا فِي الْجَنَّةِ، وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا، فَلَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ؛ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ» .

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا: اے علی! تمہارے لیے جنت میں خزانے ہیں ، تم دو سینگوں والے ہو، تم مسلسل نظر دوڑاؤ، یقیناً پہلی آپکی اور البتہ دوسری نہیں ہے۔(3)

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← سَلَمَةَ بْنِ أَبِي طُفَيْلٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1028

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1029

1029 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: أنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِفَاطِمَةَ: «ائْتِينِي بِزَوْجِكِ وَابْنَيْكِ» ، فَجَاءَتْ بِهِمْ، فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ كِسَاءً فَدَكِيًّا، قَالَتْ: ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّ هَؤُلَاءِ آلُ مُحَمَّدٍ، فَاجْعَلْ صَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: فَرَفَعْتُ الْكِسَاءَ لِأَدْخُلَ مَعَهُمْ، فَجَذَبَهُ مِنْ يَدِي وَقَالَ: «إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ» .

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اپنے شوہر اور بچوں کو میرے پاس لاؤ ، وہ ان کو بلا کر لائیں ےتو ان پر چادر کو اوڑھ دیا اور پھر اس پر اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر دعا فرمائی: اے اللہ ! یہ محمد (ﷺ) کے اہل بیت ہیں ، تو محمد (ﷺ) اور ان کے اہل بیت پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرما، بے شک تو بزرگی والا اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: میں نے چادر کو اُٹھایا تاکہ میں بھی داخل ہوجاؤں تو رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاتھ سے چادر کو کھینچا اور فرمایا: تم تو بہتری پر ہو۔(4)

أُمِّ سَلَمَةَ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1029

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1030

1030 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ، نا وُهَيْبٌ قثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ» ، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ قَبْلَ يَوْمَئِذٍ، فَتَطَاوَلْتُ لَهَا وَاسْتَشْرَفْتُ رَجَاءَ أَنْ يَدْفَعَهَا إِلَيَّ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِيًّا فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ فَقَالَ: «قَاتِلْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتَّى يُفْتَحَ عَلَيْكَ» ، فَسَارَ قَرِيبًا ثُمَّ نَادَى: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَامَ أُقَاتِلُ؟ قَالَ: «حَتَّى يَشْهَدُوا أَلَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ» . [ص:603]

سیدہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا: کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس دن کے علاوہ کبھی امارت کی تمنا نہیں کی، میں اس نیت سے جھانکتا رہا کہ شائد مجھے عنایت کیا جائے، چناچہ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر جھنڈا دیا اور فرمایا: جاؤ لڑو ادھر ادھر التفات نہ کرنا یہاں تک کہ اللہ تمہیں فتح عطا فرمائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھوڑا سا دور جا کر ٹھر گئے پھر آواز دی یا رسول اللہﷺ میں کس بنیاد پرجنگ کروں گا؟ تو فرمایا: اس وقت تک جنگ کرنا جب تک کہ وہ گواہی دے دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور بلا شبہ محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ ایسا کریں تو پھر انہوں نے اپنی جانوں اورمالوں کو محفوظ کرلیا اور یہ کہ ان پر کسی کا حق ہو ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔(1)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← وُهَيْبٌ قثنا سُهَيْلٌ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 1030

Sahih

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him