Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1007

1007 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ عَلِيًّا، خَرَجَ بُرَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ مَعَهُ، فَعَتَبَ عَلَى عَلِيٍّ فِي بَعْضِ الشَّيْءِ، فَشَكَاهُ بُرَيْدَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ» .

امام طاؤس اپنےباپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ْﷺ نے سیدناعلیؓ کو یمن بھیجا تو ان کے ساتھ سیدنا بریدہ اسلمی ؓ بھی گئے ۔ انکو کسی معاملے میں سیدنا علیؓ پر غصہ آیا (واپسی پر) سیدنا بریدہ ؓ نے آپ ﷺ کو سیدنا علیؓ کی شکایت لگائی تو نبی کریمﷺ نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں، بلاشبہ علی بھی اس کا دوست ہے۔(3)

أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1007

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1008

1008 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَفْدِ ثَقِيفٍ حِينَ جَاءُوهُ: " وَاللَّهِ لَتُسْلِمُنَّ أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا مِنِّي، أَوْ قَالَ: مِثْلَ نَفْسِي، فَلَيَضْرِبَنَّ أَعْنَاقَكُمْ، وَلَيَسْبِيَنَّ ذَرَارِيَّكُمْ، وَلَيَأْخُذَنَّ أَمْوَالَكُمْ "، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا اشْتَهَيْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، جَعَلْتُ أَنْصِبُ صَدْرِي لَهُ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ: هَذَا، فَالْتَفَتَ إِلَى عَلِيٍّ فَأَخَذَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: «هُوَ هَذَا، هُوَ هَذَا» مَرَّتَيْنِ

مطلب بن عبداللہ بن حنطب ؒ سے روایت ہے کہ رسولاللہﷺ کے پاس بنی ثقیت کا وفد آیا تو ان سے فرمایا: اللہ کی قسم! تم لوگ مسلمان ہوجاؤ، ورنہ میں تمہاری طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا جو مجھے میرے نفس کی مانند ہے، جو تمہاری گردن مارے گا، تمہارے بچوں کو قیدی بناۓ گا، تم سے مال کو حاصل کرلے گا، سیدنا عمرؓ فرماتے ہیں: مجھے کبھی امارت کی خواہش نہیں ہوئی، صرف اسی دن میں نے اپنے سینے کو اس اُمید سے ابھارا کہ شاید نبی کریمﷺ مجھے کہیں گے لیکن آپ ﷺ سیدنا علیؓ کی طرف متوجہ ہوۓ اور ان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ ہے وہ، یہ ہے وہ۔ دو مرتبہ فرمایا۔(4)

الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ حَنْطَبِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1008

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1009

1009 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: حَاصَرْنَا خَيْبَرَ، فَأَخَذَ اللِّوَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَانْصَرَفَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهُ مِنَ الْغَدِ عُمَرُ فَخَرَجَ فَرَجَعَ وَلَمْ يُفْتَحْ لَهُ، وَأَصَابَ النَّاسَ يَوْمَئِذٍ شِدَّةٌ وَجَهْدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي دَافِعٌ اللِّوَاءَ غَدًا إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، أَوْ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، لَا يَرْجِعُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ» ، وَبِتْنَا طَيِّبَةً أَنْفُسُنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدٌ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ قَامَ قَائِمًا فَدَعَا بِاللِّوَاءِ وَالنَّاسُ عَلَى مَصَافِّهِمْ، فَدَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَفَعَ إِلَيْهِ اللِّوَاءَ وَفُتِحَ لَهُ، قَالَ بُرَيْدَةُ: وَأَنَا فِيمَنْ تَطَاوَلَ لَهَا.

سیدنا بریدہ ؓ سے روایت ہےکہ ہم نے خیبر کا محاصرہ کیا تو سیدنا ابوبکرؓ جھنڈا تھام کر میدان میں اُترے، لیکن وہ اسے فتح نہ کرسکے پھر اگلے سن صبح سیدنا عمر فاروقؓ جھنڈا پکڑ کر نکلے، لیکن بغیر فتح حاصل کیے واپس لوٹ آۓ، لوگوں کو اس دن بڑی سختی اور جدوجہد کا سامنا کرنا پڑا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس رسول ﷺ کو محبوب ہے اور وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے، وہ فتح حاصل کیے بغیر واپس نہیں پلٹے گا ۔ ہم نے پرسکون رات بسرکی کہ کل ضرور فتح نصیب ہوگی، پس جب رسول اللہﷺ صبح نماز فجر ادا کرنے کے بعد کھڑے ہوۓ۔ جھنڈا پکڑا، لوگ اس وقت صفوں میں تھے۔آپ ﷺ نے سیدناعلیؓ کوبلایا۔ وہ اس وقت آشوبِ چشم میں مبتلا تھے۔ آپﷺ نے ان کو آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا اور جھنڈا اُنہیں عطا فرمایا۔ اللہ نے ان کےہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی۔ راوی سیدنا بریرہ ؓ کہتے ہیں: میں بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو اس (جھنڈے) کے امیدوار تھے۔ (1)

أَبِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1009

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1010

1010 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، وَابْنُ آدَمَ، يَعْنِي يَحْيَى، قَالَا: نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ ابْنُ آدَمَ: السَّلُولِيُّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلِيٌّ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَلَا يَقْضِي عَنِّي دَيْنِي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ» ، قَالَ ابْنُ آدَمَ: «وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ» .

ابن آدم سلولیؒ سے روایت ہے کہ وہ حجۃالوداع کے موقع پرموجوس تھے، رسولاللہﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔ میرا قرض میرے یا علی کے علاوہ کوئی نہیں اُتارے گا۔ ابن آدم نے کہا: یا نبی کریمﷺ نے یہ فرمایا: میرا قرض میرے یا علی کتے علاوہ کوئی نہیں ادا کرے گا۔ (یعنی ’یقضی‘ لفظ کی بجاۓ ’یودیئ‘ لفظ بیان کیا ہے۔ دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے)۔(2)

ابْنُ آدَمَ: السَّلُولِيُّ وَكَانَ قَدْ شَهِدَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ ← حُبْشِي بْنِ جُنَادَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، وَابْنُ آدَمَ، يَعْنِي يَحْيَى، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1010

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1011

1011 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ لِي: أَيُسَبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيكُمْ؟ قُلْتُ: مَعَاذَ اللَّهِ، أَوْ سُبْحَانَ اللَّهِ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي» .

ابوعبداللہ جدلیؒ سے روایت ہے کہ میں سیدہ ام سلمہؓ کے پاس گیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا: تم لوگ رسول اللہﷺ کو گالیا دیتے ہو؟ میں نے کہا: معاذ اللہ! یایہ کہا:سبحان اللہ! یا پھر اسی طرح کا کوئی کلمہ کہا تو وہ کہنے لگیں: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ جس نے علی کو برا بھلا کہا، بے شک اس نے مجھے بر ابھلا کہا۔(3)

دَخَلْتُ عَلَی أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِي عبد الله الجدلي، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1011

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1012

1012 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: نا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عِرَارٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ، فَقَالَ: أَمَّا عَلِيٌّ، فَهَذَا بَيْتُهُ، لَا أُحَدِّثُكَ عَنْهُ بِغَيْرِهِ، وَأَمَّا عُثْمَانُ، فَإِنَّهُ أَذْنَبَ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذَنْبًا عَظِيمًا فَغَفَرَهُ لَهُ، وَأَذْنَبَ فِيمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ ذَنْبًا صَغِيرًا فَقَتَلْتُمُوهُ.

علاءبن عرارؒسے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: سیدنا علیؓ کو تو یہ گھر ہے، ان کی غیر موجودگی میں میں ان کے متعلق بات نہیں کرتا، رہے سیدناعثمانؓ تو ان سے بڑا گناہ ہوا تھا جو اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان تھا، اللہ تعالیٰ نے تو ان کو بخش دیا تھا مگرتمہارے اور ان کے درمیان ایک چھوٹی سی کوتاہی ہوئی تو تم لوگوں نے ان کو قتل کردیا۔(1)

عَلِيٍّ وَعُثْمَانَ ← سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ ← الْعَلاَءِ بْنِ عِرَارٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1012

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1013

1013 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حَبَشِيٍّ قَالَ: خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَعْدَ قَتْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: لَقَدْ فَارَقَكُمْ رَجُلٌ أَمْسُ مَا سَبَقَهُ الْأَوَّلُونَ بِعِلْمٍ، وَلَا أَدْرَكَهُ الْآخَرُونَ، إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَبْعَثُهُ وَيُعْطِيهِ الرَّايَةَ فَلَا يَنْصَرِفُ حَتَّى يُفْتَحَ لَهُ، مَا تَرَكَ مِنْ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ، إِلَّا سَبْعَمِائَةِ دِرْهَمٍ مِنْ عَطَائِهِ، كَانَ يَرْصُدُهَا لِخَادِمٍ لِأَهْلِهِ. [ص:596]

عمروبن حبشیؒ سے روایت ہے کہ سیدناحسنؓ نے سیدناعلیؓ کی شہادت کےبعد ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا۔ یقیناً رتم سے کل وہ شخص جداہوگیا جس سے علم میں اولون(قدیم علمائے کرام)آگے نہیں تھے اور نہ ہی بعد میں آنے والے ان کا مقام پائیں گے۔یقیناًرسول اللہﷺ ان کو جھنڈا دیتے اور جہاد کے لیے روانہ کرتے وہ تب لوٹتے جب ان کو فتح ملتی اور انہوں نے اپنے اہل وعیال کے لیے سات سو (۷۰۰) درہم کے علاوہ کچھ بھی نہیں چھوڑا تاکہ ان کے اہل وعیال اس (سات سودرہم) سے خادم کا بندوبست کرلیں۔(2)

خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَعْدَ قَتْلِ عَلِيٍّ ← عمرو بن حبشي ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبِي، قثنا وَكِيعٌ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1013

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1014

1014 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ونا إِسْحَاقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ قَالَ: خَطَبَنَا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ لَيْسَ فِيهِ: مَا تَرَكَ

ہبیرہ ؒے روایت ہے کہ سیدنا حسن بن علی نے ہمیں خطبہ دیا ، پھر سابقہ روایت کی مثل روایت بیان کی، مگر اس روایت میں وہ الفاظ نہیں تھے جو سیدنا حسنؓ نے چھوڑے تھے ۔(3)

خَطَبَنَا، فَذَكَرَ نَحْوَهُ لَيْسَ فِيهِ: مَا تَرَكَ ← هُبَيْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← أَبِي، ونا إِسْحَاقُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1014

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1015

1015 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي عَلِيٌّ إِلَى طَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ يَوْمَ الْجَمَلِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُمَا: إِنَّ أَخَاكُمَا يُقْرِئُكُمَا السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكُمَا: هَلْ وَجَدْتُمَا عَلَيَّ فِي حَيْفٍ فِي حُكْمٍ، أَوْ فِي اسْتِئْثَارٍ فِيَّ أَوْ فِي كَذَا، قَالَ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَلَا فِي وَاحِدَةٍ مِنْهَا، وَلَكِنْ مَعَ الْخَوْفِ شِدَّةُ الْمَطَامِعِ.

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ جمل کے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مجھے سیدنا طلحہ اور سیدنازبیر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا،میں نےان سے کہا کہ: آپ دونوں کا بھائی آپ کو سلام دے رہا ہے اور آپ سے کہا ہے کہ :کیا تم لوگوں نے مجھے کسی حکم میں ظام یا خود کو مال فے میں ترجیح دینے والا یا کسی دوسری چیز میں ظالم پایاہے؟ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے کچھ بھی نہیں دیکھا لیکن شدت خوف کے ساتھ خواہشاات بڑھتی ہیں۔(4)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1015

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1016

1016 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَفَّانُ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا بِغَدِيرِ خُمٍّ، فَنُودِيَ فِينَا: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ، وَكُسِحَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ شَجَرَتَيْنِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ وَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ، قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ، أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.

سیدنا براعہ بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے۔ غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ ڈالا، ہم میں سے کسی نے نماز کا اعلان کیا۔ نبی کریمﷺ کے لیے دو درختوں کے نیچے جگہ صاف کی گئی۔ آپﷺ نےنماز ظہر پڑھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کاہاتھ تھاما اور فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مومنین کے لیے ان کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہوں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! پھر فرمایا: کیاتم جانتے ہو کہ میں مومنین کے لیے ان کا جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہوں؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ! فرمایا: پھر آپﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا کر فرمایا: اے اللہ! جس کا میں دوست ہوں، علی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ! علی کے دوست کوتو بھی اپنا دوست بنا اور علی کے دشمن کو تو بھی دوشمن بنا۔ اس کے بعد جب بھی سیدنا عمر رضہ اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات کرتے تو کہتے: ابن ابی طالب! تمہیں مبارک ہو، رم صبح اور شام اس حال میں کرتے ہو کہ ہر مومن اور مومنہ محبوب ہوتے ہیں۔(1)

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← عَفَّانُ قثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1016

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1017

1017 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَفَّانُ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ، وَأَنَا أَسْمَعُ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادٍ يُقَالُ لَهُ: وَادِي خُمٍّ، فَأَمَرَ بِالصَّلَاةِ، فَصَلَّاهَا بِهَجِيرٍ، قَالَ: فَخَطَبَنَا وَظُلِّلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَوْبٍ عَلَى شَجَرَةِ سَمُرَةٍ مِنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ: «أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ، أَوَ لَسْتُمْ تَشْهَدُونَ، أَنِّي أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَإِنَّ عَلِيًّا مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَوَالِ مَنْ وَالِاهُ» .

سیدنا زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ ست روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک وادی میں پڑاؤڈالاجس کو وادیَ "خم" کہا جاتا تھا پس آپﷺ نے نماز کا حکم دیا اور سخت گرمی میں جماعت کروائی پھر خطبہ ارشاد فرمایا اس حال میں کہ نبی کریم ﷺ کو سورج کی گرمی سے بچانے کے لیے درخت پر کپڑا لٹکاکرسایا کیا گیا تھا تو فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ میں ہر مومن کے لیے ان کو جان سے بھی زیادہ عزیز ہوں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں! پھر فرمایا: جس کا میں دوست ہوں علی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ ! علی کے دشمن کو تو بھی اپنا دشمن بنا اور علی کے دوست کو بھی اپنا دوست بنا۔(2)

مَيْمُونَ أَبِي عَبْدِ اللهِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← الْمُغِيرَةِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبِي، قثنا عَفَّانُ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1017

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 1018

1018 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: فِينَا وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: 47] .

امام حسن بصری ؒ سے روایت ہے کہ سیدناعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہمارے بارے میں ہے (ونز عنامافی صدورھم من غل اخوانا علی سررمتقابلین) اور ہم وہ ساری کدوت باہر کھینچ لیں گے جو (دنیا میں) ان کے سینوں میں (مغالطہ کے باعث ایک دوسرے سے) تھی، وہ (جنت میں) بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں۔(1)

عَلِيٍّ، ← الْحَسَنِ، ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 1018

Daif

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him