Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 983

983 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ عَلِيًّا يَمْدَحُهُ، وَقَدْ كَانَ يَقَعُ فِيهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا أَنَا كَمَا تَقُولُ، وَإِنِّي لَخَيْرٌ مِمَّا فِي نَفْسِكَ.

ابو بختری رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں انکی تعریف کی تو انہوں نے کہا : میں اس طرح نہیں جس طرح تم کہتے ہوبلکہ میں اس سے بھی بہتر ہوں جو تیرے دل میں میری قدر کا اندازہ ہے ۔ (1)

كَمَا تَقُولُ، وَإِنِّي لَخَيْرٌ مِمَّا فِي نَفْسِكَ. ← أَتَى رَجُلٌ عَلِيًّا يَمْدَحُهُ، وَقَدْ كَانَ يَقَعُ فِيهِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا الْأَعْمَشُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 983

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 984

984 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا شَابٌّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَبْعَثُنِي إِلَى قَوْمٍ أَقْضِي بَيْنَهُمْ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: «ادْنُ» ، فَدَنَوْتُ، فَضَرَبَ يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ: «اللَّهُمَّ اهْدِ قَلْبَهُ، وَثَبِّتْ لِسَانَهُ» ، قَالَ: فَمَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے اہل یمن کی طرف (قاضی بنا کر ) بھیجا ، اس وقت میں ایک نوجوان آدمی تھا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے ایک قوم کی طرف فیصلہ کرنے والا بنا کر بھیج رہے ہیں حالانکہ مجھے فیصلہ کرنے کا علم نہیں ہے ۔آپ ﷺ نے فرمایا : قریب ہو جاؤ جب میں قریب ہوا تو اپنے ہاتھ مبارک کو میرے سینے پر رکھا اور فرمایا : اے اللہ اس کے دل کو ہدایت سے نواز دے اور اس کی زبان کو ثابت قدمی عطا فرما۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس کے بعد مجھے کبھی فیصلہ کرنے میں مشکل پیش نہیں آئی ۔ (2)

بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ إِلَى الْيَمَنِ وَأَنَا شَابٌّ فَقُلْتُ: ← عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 984

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 985

985 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا عَوْفٌ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ يَوْمًا: «سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ» ، قَالَ: فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ أُنَاسٌ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنِّي أُمِرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ، فَقَالَ فِيهِ قَائِلُكُمْ، وَإِنِّي مَا سَدَدْتُ شَيْئًا وَلَا فَتَحْتُهُ، وَلَكِنِّي أُمِرْتُ بِشَيْءٍ فَاتَّبَعْتُهُ» .

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا : علی کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے ان تمام دروازوں کو بند کر دو، بعض لوگوں نے اس کے متعلق کچھ باتیں کی ( جب رسول اللہ ﷺ کو خبر ہوئی تو ) آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا :البتہ میں نے حکم دیا تھا کہ علی کے علاوہ مسجد کی طرف کھلنے والے ان تمام دروازوں کو بند کر دو ، اس پر کچھ نے اعتراض کیا ہے مگر میں نے نہ ان کے دروازے بند کروایا ہے اور نہ کھلوایا ہے ۔ مگر میں نے تو صرف اس بات کی پیروی کی ہے جس کا مجھے حکم دیا گیا تھا ۔ (3)

أَمَّا بَعْدُ: فَإِنِّي أُمِرْتُ بِسَدِّ هَذِهِ الْأَبْوَابِ غَيْرَ بَابِ عَلِيٍّ، ← فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ← فَتَكَلَّمَ فِي ذَلِكَ أُنَاسٌ، ← يَوْمًا: «سُدُّوا هَذِهِ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ» ← كَانَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ أَبْوَابٌ شَارِعَةٌ فِي الْمَسْجِدِ ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← مَيْمُونَ أَبِي عَبْدِ اللهِ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 985

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 986

986 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي الْمُعَدِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي يَوْمًا، إِذْ قَالَتِ الْخَادِمُ: إِنَّ عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ بِالسُّدَّةِ، قَالَتْ: فَقَالَ لِي: «قَوْمِي فَتَنَحَّيْ لِي عَنْ أَهْلِ بَيْتِي» ، قَالَتْ: فَقُمْتُ فَتَنَحَّيْتُ فِي الْبَيْتِ قَرِيبًا، فَدَخَلَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ، وَالْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، وَهُمَا صَبِيَّانِ صَغِيرَانِ، قَالَتْ: فَأَخَذَ الصَّبِيَّيْنِ فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ فَقَبَّلَهُمَا، وَاعْتَنَقَ عَلِيًّا بِإِحْدَى يَدَيْهِ وَفَاطِمَةَ بِالْيَدِ الْأُخْرَى، فَقَبَّلَ فَاطِمَةَ فَأَغْدَفَ عَلَيْهِمْ خَمِيصَةً سَوْدَاءَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِلَيْكَ لَا إِلَى النَّارِ، أَنَا وَأَهْلُ بَيْتِي» ، قَالَ: قُلْتُ: وَأَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «وَأَنْتِ» .

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف فرما تھے ، نوکرانی نے کہا: سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دروازے پر آئے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم جاؤ ! میرے اہل بیت کو آنے دو ۔ میں وہاں سے اُ ٹھ کر گھر کے کونے میں ہو گئی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا ،حسن رضی اللہ عنہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اندر آئے وہ دونوں اس وقت چھوٹے بچے تھے ۔ آپ ﷺ نے ان کو پکڑکر اپنی گود میں بٹھایا اور پیار کیا ، ایک ہاتھ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اور دوسرے ہاتھ سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑا پھر سب پر ایک کالی چادر ڈال دی اور فرمایا : اے اللہ ! مجھے میرے اہل بیت کو اپنی امان کی طرف لے جا اور آگ سے محفوظ فرما۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے بھی تو یاد رکھیے ۔فرمایا آپ کو بھی ۔ (1)

أَبِيهِ ← أَبِي الْمُعَدِّلِ عَطِيَّةَ الطُّفَاوِيِّ ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا عَوْفٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 986

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 987

987 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا فَقَالَ: «مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا؟» فَقَالَ فُلَانٌ: أَنَا، فَقَالَ: «أَمِطْ» ، ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: «أَمِطْ» ، ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَأُعْطِيَنَّهَا رَجُلًا لَا يَفِرُّ، هَاكَ يَا عَلِيُّ» ، فَانْطَلَقَ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَيْبَرَ وَجَاءَ بِعَجْوَتِهَا وَقَدِيدِهَا.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے موقع پر جھنڈے کو لہراتے ہوئے فرمایا : کون ہے جو اسے پکڑ کر اس کا پورا حق ادا کرے ؟ ایک شخص نے کہا میں ، آپ نے فرمایا پیچھے ہو جاؤ ،دوسرا شخص آیا اس سے بھی فرمایا : پیچھے ہو جاؤ ، پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کے چہرے کو رونق بخشی ہے یہ جھنڈا میں اس شخص کو دوں گا جو بھاگنے والا نہیں ہے ۔ پھر فرمایا علی! اس کو لے کر جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر کی فتح عطا فرمائی تو وہ بہت سارا مال غنیمت لے کر جس میں کھجوریں اور ہانڈیاں شامل تھیں ، واپس آئے ۔ (2)

«أَمِطْ» ثُمَّ ← «أَمِطْ» ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ آخَرُ ← فُلَانٌ ← «مَنْ يَأْخُذُهَا بِحَقِّهَا؟» ← أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ الرَّايَةَ فَهَزَّهَا ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ، ← أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 987

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 988

988 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: «لَأَدْفَعَنَّ الرَّايَةَ إِلَى رَجُلٍ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، أَوْ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ» ، فَدَعَا عَلِيًّا وَإِنَّهُ لَأَرْمَدُ مَا يُبْصِرُ مَوْضِعَ قَدَمِهِ، فَتَفَلَ فِي عَيْنِهِ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَيْهِ، فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ.

سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر کے دن فرمایا : کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا کہ جس سے اللہ اور اسکا رسول محبت کرتے ہیں ، وہ اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے ۔ آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا ۔ وہ اس وقت آشوب چشم میں مبتلا تھے ۔ آپ ﷺ نے انکی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا پھر جھنڈا ان کو عطا فرمایا ۔ اللہ نے ان کے ہاتھ پر ( مسلمانو ں کو) فتح عطا فرمائی ۔ (3)

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 988

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 989

989 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ: عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ عَلِيًّا فَتَنَقَّصْتُهُ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ، فَقَالَ: «يَا بُرَيْدَةُ، أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» .

سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن میں ایک غزوے پر گئے وہاں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا میرے ساتھ سلوک اچھا نہیں تھا یمن سے واپسی پر میں نے آپ ﷺ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی اور کچھ خلاف شان باتیں کیں تو نبی کریم ﷺ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور فرمایا: بریدہ ! کیا میں مسلمانوں کو ان کی جان سے عزیز نہیں ہوں ؟ میں نے کہا : جی یارسول اللہ ﷺ! تو فرمایا جس کا میں دوست ہوں ، علی بھی اسکا دوست ہے ۔ (1)

بُرَيْدَةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَكَمِ ← ابن أبي غنية ← أَبِي، قثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 989

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 990

990 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي: الثَّقَلَيْنِ، وَاحِدٌ مِنْهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابَ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي، أَلَا وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ ". قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ: «انْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا» .

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں اپنے بعد تم پر دو بھاری چیزوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں ،۔ جب تک تم ان کو تھامے رکھو گے ، کبھی گمراہ نہ ہو گے ۔ ایک دوسری سے بڑی ہے جو کہ کتاب اللہ ہے وہ اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے لٹکائی گئی ہے ۔(یعنی قرآن ) دوسرے میرے اہل بیت ہیں ، یہ دونوں چیزیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر میں مجھے ملیں گے۔ ابن نمیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ہمارے بعض ساتھیوں نے امام اعمش رحمۃ اللہ علیہ سے یہ بھی نقل فرمایا ہے ۔( کہ نبی کریم ﷺ نے مزید یہ بھی فرمایا ) دیکھنا تم میرے بعد ان سے کیسا سلو ک کرتے ہو۔ (2)

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 990

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 991

991 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا فِي الرَّحَبَةِ وَهُوَ يُنْشِدُ النَّاسَ: مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ وَهُوَ يَقُولُ مَا قَالَ؟ فَقَامَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» .

زاذان رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک وسیع میدان میں سنا ، وہ لوگوں کو قسم دے کر کہہ رہے تھے : کس نے رسول اللہ ﷺ کو غدیر خم میں دیکھا تھا ؟ جب آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہےتھے تو تیرہ (13) بندوں نے کھڑے ہو کر گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا : جس کا میں دوست ہوں علی بھی اسکا دوست ہے ، اے اللہ ! علی کے دوست کو تو بھی اپنا دوست بنا اور علی کے دشمن کو اپنا دشمن بنا ۔(3)

زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ الْكِنْدِيِّ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 991

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 992

992 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ خَتَنًا لِي حَدَّثَنِي عَنْكَ بِحَدِيثٍ فِي شَأْنِ عَلِيٍّ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْكَ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ مَعْشَرَ أَهْلِ الْعِرَاقِ فِيكُمْ مَا فِيكُمْ، فَقُلْتُ لَهُ: لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ، قَالَ: نَعَمْ كُنَّا بِالْجُحْفَةِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا ظُهْرًا وَهُوَ آخِذٌ بِعَضُدِ عَلِيٍّ فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟» قَالُوا: بَلَى، قَالَ: «فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» . قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ قَالَ: «اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ» ؟ قَالَ: إِنَّمَا أُخْبِرُكَ كَمَا سَمِعْتُ.

عطیہ عوفی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا : میرے ایک عزیز نے مجھے آپ سے ایک حدیث بیان کی ہے اس لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو غدیر خم والی حدیث ہے ۔ وہ بیان کیجئے ، میں چاہتا ہوں کہ از خود آپ سے وہ سماعت کروں تو سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اہل عراق کی جماعت ! تم میں وہ کچھ ہے جو تم میں ہے میں نے کہا : میری طرف سے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ۔ انہوں نے کہا : ٹھیک ہے ( یعنی میں حدیث بیان کرتا ہوں) ہم مقام حجفہ میں تھے کہ رسول اللہ ﷺ نماز ظہر کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بازو پکڑے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا : اے لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میں تمام مومنین کو ان کی جانوں سے زیادہ پیارا ہوں ، لوگوں نے کہا : کیوں نہیں !( تو فرمایا ) تو پھر جس کا میں دوست ہوں ، علی بھی اسکا دوست ہے ، پھر میں نے کہا : کیا آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا ! اے اللہ ! جو علی کا دوست ہے ، اس کو تو بھی اپنا دوست بنا جو علی کا دشمن ہے اسکو تو بھی اپنا دشمن بنا تو انہوں نے کہا : میں تمہیں صرف وہی کچھ بتا رہا ہوں جو میں نے سنا ہے ۔ (1)

أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ فَقُلْتُ لَهُ: ← عَطِّيَةَ الْعَوْفِيِّ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 992

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 993

993 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أَحْمَدَ، هُوَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَا: نا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ لَا يَقُولُهَا بَعْدُ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: بَعْدِي إِلَّا كَاذِبٌ مُفْتَرِي، وَلَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: وَلَقَدْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ.

عباد بن عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے : میں اللہ کا بندہ اسکے رسول کا بھائی ہوں ، میں ہی بڑا سچا ہوں ، میرے بعد کوئی یہ دعویٰ نہیں کرے گا، ابو احمد نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : میرے بعد کوئی جھوٹا ہی اس بات کی تکذیب کرے گا ۔یقینا میں نے لوگوں سے سات سال پہلے نماز پڑھی ہے ۔ ابو احمد نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں ۔ یقینا میں لوگوں سے سات سال پہلے اسلام لا چکا تھا ۔ (2)

أَبُو أَحْمَدَ: وَلَقَدْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ. ← أَبُو أَحْمَدَ: بَعْدِي إِلَّا كَاذِبٌ مُفْتَرِي، وَلَقَدْ صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ سَبْعَ سِنِينَ، ← ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: وَأَنَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ لَا يَقُولُهَا بَعْدُ، ← عَبْدُ اللَّهِ وَأَخُو رَسُولِهِ، ← عَلِيًّا ← عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ← العلاء بن صالح ← أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أَحْمَدَ، هُوَ الزُّبَيْرِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 993

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 994

994 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أنا ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ تَذْكُرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا فَأَتَتْهُ فَاطِمَةُ بِبُرْمَةٍ فِيهَا حَرِيرَةٌ، فَدَخَلَتْ بِهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: «ادْعِي لِي زَوْجَكِ وَابْنَيْكِ» ، قَالَتْ: فَجَاءَ عَلِيٌّ وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَجَلَسُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تِلْكَ الْحَرِيرَةِ، وَهُوَ عَلَى مَنَامَةٍ لَهُ عَلَى دُكَّانٍ، تَحْتَهُ كِسَاءٌ خَيْبَرِيُّ، قَالَتْ: وَأَنَا فِي الْحُجْرَةِ أُصَلِّي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: 33] . قَالَتْ: فَأَخَذَ فَضْلَ الْكِسَاءِ فَغَشَّاهُمْ بِهِ، ثُمَّ أَخْرَجَ يَدَهُ فَأَلْوَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَحَامَّتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا، اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَحَامَّتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا» ، قَالَتْ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي الْبَيْتَ قُلْتُ: وَأَنَا مَعَكُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ، إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ»

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں تھے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہانڈی میں حلوہ بنا کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے شوہر اور بچوں کو بھی میرے پاس لاؤ۔ اتنے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ، سیدنا حسین رضی اللہ عنہ بھی آگئے پس وہ سب آکر کھانے پر بیٹھ گئے ۔ اس وقت آپ ﷺ خیبری چادر اوڑھے اونچی جگہ لیٹے ہوئے تھے ،سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں اس وقت حجرہ میں نماز پڑھ رہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ( انما یرید اللہ الیذھب عنکم الرجس اھل و بطھر کم تطھیرا) آپ ﷺ نے چادر اٹھائی سب کو ڈھانپا اور اپنے ہاتھوں کو نکالا اور آسمان کی طرف اٹھا کر یہ دعا فرمائی اے اللہ ! یہ میرے اہل بیت اور عزیز ہیں ، ان سے نجاست دور فرما اور انہیں خوب پاک کر دے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے بھی اپنا سر اس (چادر ) میں داخل کیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم تو بہتری پر ہو ، تم تو بہتری پر ہو (یعنی تجھے تو پہلے ہی میرا بہترین اہل بیت ہونے کا مقام حاصل ہے ۔ (1)

أُمَّ سَلَمَةَ تَذْكُرُ ← مَنْ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 994

Daif

chevron_left Previous
12345…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him