Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 971

971 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ارْقُبُوا مُحَمَّدًا فِي أَهْلِ بَيْتِهِ.

سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگوں ! سیدنا محمد کریم ﷺ ( کی قربت) کو ان کے اہل بیت میں ڈھونڈو۔(2)

يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْقُبُوا مُحَمَّدًا فِي أَهْلِ بَيْتِهِ. ← أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبَاهُ ← وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ ← عَبْدُ اللَّهِ، قثنا أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قثنا شُعْبَةُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 971

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 972

972 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يَقُولُ: لَا تَسُبُّوا عَلِيًّا، وَلَا أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ، إِنَّ جَارًا لَنَا مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ قَدِمَ مِنَ الْكُوفَةِ فَقَالَ: أَلَمْ تَرَوْا هَذَا الْفَاسِقَ ابْنَ الْفَاسِقِ؟ إِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُ، يَعْنِي الْحُسَيْنَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: فَرَمَاهُ اللَّهُ بِكَوْكَبَيْنِ فِي عَيْنِهِ، فَطَمَسَ اللَّهُ بَصَرَهُ.

ابور جاء عطاردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : تم سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور انکے اہل بیعت پر لعن طعن مت کرو۔ بنو ہجیم سے تعلق رکھنے والا ہمارا ایک پڑوسی جو کہ کوفہ سے آیا تھا ، اس نے کہا دیکھو ! اس فاسق ابن فاسق کو یعنی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے اس کو ہلاک کر دیا ۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت اس شخص کو دونوں آنکھوں میں دو آسمانی انگارے مارے جس سے اس کی بینائی ختم ہو گئی ۔ (3)

أَبَا رَجَاءٍ، ← قُرَّۃَ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 972

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 973

973 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا شَرِيكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، أَنَّهُمْ ذَكَرُوا عِنْدَهُ عَلِيًّا، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مُبْغِضِيهِ أَشَدَّ لَهُ بُغْضًا، وَلَا مُحِبِّيهِ أَشَدَّ لَهُ حُبًّا، وَلَمْ أَرَهُمْ يَجِدُونَ عَلَيْهِ فِي حُكْمِهِ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا} [البقرة: 269] .

ربیع بن خیثم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوا تو فرمانے لگے : میں نے ان سے بغض رکھنے والوں کو بغض میں بہت شدید پایا ،ان سے محبت کرنے والوں کو اس میں غلو کرتے پایا ، لیکن میں نے ان کے فیصلوں میں کسی کو اختلاف کرتے ہوئے نہیں پایا ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جن کو حکمت دی گئی یقینا اسے خیر کثیر عطا کیا گیا ۔ (4)

الرَّبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، أَنَّهُمْ ذَكَرُوا عِنْدَهُ عَلِيًّا، ← مُنْذِرٍ ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← شَرِيکٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 973

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 974

974 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ أَكْيَلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: لَقِيتُ عَلْقَمَةَ، فَقَالَ: أَتَدْرِي مَا مَثَلُ عَلِيٍّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَمَا مَثَلُهُ؟ قَالَ: مَثَلُ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، أَحَبَّهُ قَوْمٌ حَتَّى هَلَكُوا فِي حُبِّهِ، وَأَبْغَضَهُ قَوْمٌ حَتَّى هَلَكُوا فِي بُغْضِهِ.

امام شبعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ میری علقمہ رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا : اس امت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مثال کیا ہے ؟ میں نے کہا : (ہاں بتایئے) اس امت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مثال کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مثال سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام جیسی ہے ۔ جن کے بارے میں کچھ لوگ افراط محبت میں ہلاک ہوئے اور کچھ لوگ افراط بغض کے سبب ہلاکت کا شکار ہوئے ۔ (1)

قُلْتُ: وَمَا مَثَلُهُ؟ ← أَتَدْرِي مَا مَثَلُ عَلِيٍّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ؟ ← لَقِيتُ عَلْقَمَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أُكَيْلٍ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 974

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 975

975 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: نا وَكِيعٌ قَالَ نا عَلِيُّ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَخْبِرْنَا عَنْ هَذَا الرَّجُلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: إِنَّ لَنَا أَخْطَارًا وَأَحْسَابًا، وَنَحْنُ نَكْرَهُ أَنْ نَقُولَ فِيهِ مَا يَقُولُ بَنُو عَمِّنَا، قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَجُلًا تِلْعَابَةً، يَعْنِي مَزَّاحًا، قَالَ: وَكَانَ إِذَا فُزِعَ، فُزِعَ إِلَى ضَرِسٍ حَدِيدٍ، قَالَ: قُلْتُ: مَا ضَرِسٌ حَدِيدٌ؟ قَالَ: قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ، وَفِقْهٌ فِي الدِّينِ، وَشَجَاعَةٌ، وَسَمَاحَةٌ.

سعید بن عمر و قریشی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ میں نے عبد اللہ بن عیاش زرقی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا : سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شخصیت کے بارے میں مجھے بتائیے تو کہنے لگے : ہم لوگ بڑے شرافت اور بڑے نسب والے ہیں ۔ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں وہ نہیں کہیں گے جو ہمارے چچا زاد کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو بڑی خوش طبعی کرنے والے تھے ، جب ان کو ڈر لگتا تھا تو وہ لوہے کی دانتوں کا سہارا لیتے تھے ۔ میں نے پوچھا : لوہے کے دانت کیا ہیں ؟ تو فرمایا : تلاوت قرآن ، تفقہ فی الدین اور شجاعت و فیاضی ۔ (2)

قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ، وَفِقْهٌ فِي الدِّينِ، وَشَجَاعَةٌ، وَسَمَاحَةٌ. ← قُلْتُ: مَا ضَرِسٌ حَدِيدٌ؟ ← وَكَانَ إِذَا فُزِعَ، فُزِعَ إِلَى ضَرِسٍ حَدِيدٍ، ← كَانَ عَلِيٌّ رَجُلًا تِلْعَابَةً، يَعْنِي مَزَّاحًا، ← بَنُو عَمِّنَا، ← إِنَّ لَنَا أَخْطَارًا وَأَحْسَابًا، وَنَحْنُ نَكْرَهُ أَنْ نَقُولَ فِيهِ مَا ← هَذَا الرَّجُلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← قُلْتُ لَهُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 975

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 976

976 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: نا مُحَمَّدٌ، يَعْنِي: ابْنَ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفٌ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ الْحَسَنِ، فَذَكَرُوا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ جَوْشَنٍ الْغَطَفَانِيُّ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّمَا أَزْرِي بِأَبِي مُوسَى اتِّبَاعَهُ عَلِيًّا، قَالَ: فَغَضِبَ الْحَسَنُ حَتَّى تَبَيَّنَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ قَالَ: فَمَنْ يُتَّبَعُ؟ قُتِلَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانُ مَظْلُومًا، فَعَمَدَ النَّاسُ إِلَى خَيْرِهِمْ فَبَايَعُوهُ، فَمَنْ يُتَّبَعُ، حَتَّى رَدَّهَا مِرَارًا.

عوف رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، ان کے سامنے صحابہ کرام کا تذکرہ ہوا تو ابن جوشن غطفانی نےکہا : ابو سعید ! میں تو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی تنقیص کرتا ہوں ، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیرو کار ہیں یہ سن کر سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اس قدر شت غضب میں آئے کہ غصہ ان کے چہرے پر نمودار ہونے لگا تو فرمایا : کسی کی پیروی کی جائے ؟جب امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو مظلوم شہید کیا گیا تب لوگوں نے سب سے بہتر شخص کے انتخاب کا ارادہ کیا تو ان کی بیعت کی تو پھر کس کی پیروی کی جائے؟ یہ بات کئی مرتبہ دہرائی ۔ (3)

فَغَضِبَ الْحَسَنُ حَتَّى تَبَيَّنَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ← ابْنُ جَوْشَنٍ الْغَطَفَانِيُّ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّمَا أَزْرِي بِأَبِي مُوسَى اتِّبَاعَهُ عَلِيًّا، ← كُنْتُ عِنْدَ الْحَسَنِ، فَذَكَرُوا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ ← أَبِي، قثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 976

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 977

977 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: أنا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَوْ قَالَ: يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: «يَطْلُعُ، أَوْ يَدْخُلُ - شَكَّ يَزِيدُ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ، ثُمَّ قَالَ: «يَطْلُعُ، أَوْ يَدْخُلُ، عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا، اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ عَلِيًّا» ، فَجَاءَ عَلِيٌّ.

سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا : ابھی ایک جنتی آدمی تم پر نمودار ہو گا یا یہ فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ علیہ تشریف لائے پھر فرمایا : ابھی تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے پھر فرمایا : تمہارے پاس ایک جنتی شخص آئے گا ( ساتھ ہی فرمایا) اے اللہ ! یہ علی ہو ، اے اللہ ! یہ علی ہو، اے اللہ ! یہ علی ہو ۔ پس سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہی تشریف لائے ۔ (1)

فَجَاءَ عُمَرُ ثُمَّ ← «يَطْلُعُ، أَوْ يَدْخُلُ شَكَّ يَزِيدُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ← يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ ← يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَوْ ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← شَرِيکٍ ← أَبِي، قثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 977

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 978

978 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ الْقَرْقَسَانِيُّ، قثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ وَعِنْدَهُ قَوْمٌ، فَذَكَرُوا عَلِيًّا فَشَتَمُوهُ، فَشَتَمْتُهُ مَعَهُمْ، فَلَمَّا قَامُوا قَالَ لِي: لِمَ شَتَمْتَ هَذَا الرَّجُلَ؟ قُلْتُ: رَأَيْتُ الْقَوْمَ شَتَمُوهُ فَشَتَمْتُهُ مَعَهُمْ، فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكَ بِمَا رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: أَتَيْتُ فَاطِمَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ عَلِيٍّ، فَقَالَتْ: تَوَجَّهَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ عَلِيٌّ، وَحَسَنٌ وَحُسَيْنٌ، آخِذًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِهِ، حَتَّى دَخَلَ فَأَدْنَى عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ، فَأَجْلَسَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَأَجْلَسَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ، أَوْ قَالَ: كِسَاءً، ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ} [الأحزاب: 33] ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، وَأَهْلُ بَيْتِي أَحَقُّ» .

شداد ابو عمار رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سب و شتم کا نشانہ بنارہے تھے تو میں نے بھی ان کے ساتھ مل کر (برا بھلا کہنا شروع ) کیا جب وہ لوگ وہاں سے چلے گئے تو سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا : تم نے کیوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبان درازی کی ؟ میں نے کہا : وہ لوگ کر رہے تھے تو میں بھی شریک ہو گیا تو سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبان درازی کی ؟ میں نے کہا : وہ لوگ کر رہے تھے تو میں بھی شریک ہو گیا تو سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تمہیں بتاؤں میں نے جس طرح رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا میں نے کہا : ہاں بتائیں تو وہ کہنے لگے میں نے ایک دفعہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا ( کہ وہ کہاں ہیں ) تو وہ کہنے لگیں : وہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے ہیں ۔ میں نے وہاں انتظار کیا یہاں تکہ رسول اللہ ﷺ کو سامنے بیٹھا یا اور سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو اپنی رانوں پر بٹھایا ۔ پھر سب کو ایک چادر میں اپنے ساتھ لپیٹا اور یہ آیت تلاوت کی ( انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت) پھر فرمایا : اے اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت اس بشارت کے زیادہ حقدار ہیں ۔ (2)

شَدَّادِ أَبِي عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ الْقَرْقَسَانِيُّ، قثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 978

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 979

979 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: إِنَّمَا كُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِي الْأَنْصَارِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا.

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم انصار کے منافقین کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض کی وجہ سے پہچانتے تھے ۔ (3)

إِنَّمَا كُنَّا نَعْرِفُ مُنَافِقِي الْأَنْصَارِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيًّا. ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 979

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 980

980 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: مَا رَمِدَتْ عَيْنِي مُنْذُ تَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنِي.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سے رسول اللہ ﷺ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا ہے تب سے میں نے اپنی آنکھوں میں کوئی تکلیف محسوس نہیں کی ۔ (1)

مَا رَمِدَتْ عَيْنِي مُنْذُ تَفَلَ النَّبِيُّ فِي عَيْنِي. ← عَلِيٍّ، ← أُمِّ مُوسَى، ← مُغِيرَةَ، ← أَبِيهِ ← أَبِي، قثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 980

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 981

981 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَعْقُوبُ، نا أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَلِيٍّ إِلَى الْيَمَنِ، فَجَفَانِي فِي سَفَرِي ذَلِكَ، حَتَّى وَجَدْتُ عَلَيْهِ فِي نَفْسِي، فَلَمَّا قَدِمْتُ أَظْهَرْتُ شِكَايَةً فِي الْمَسْجِدِ، حَتَّى بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا رَآنِي أَحَدَّنِي عَيْنَيْهِ، يَقُولُ: حَدَّدَ إِلَيَّ النَّظَرَ، حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ قَالَ: «يَا عَمْرُو، أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ آذَيْتَنِي» ، قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أُؤْذِيَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «بَلَى، مَنْ آذَى عَلِيًّا فَقَدْ آذَانِي» .

اہل حدیبیہ والوں میں سے ایک صحابی سیدنا عمر وبن شاس اسلمی رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی طرف نکلا ، انہوں نے میرے ساتھ دوران سفر اچھا سلوک نہیں کیا ۔ یہاں تک کہ میں نے اس بات کو اپنے نفس میں محسوس کیا ، واپس پر میں نے مسجد میں انکے بارے میں کچھ شکوہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کو اسکی خبر مل گئی چنانچہ جب میں صبح مسجد میں آیا تو رسول اللہ ﷺ اس وقت اپنے صحابہ کرام میں تشریف فرما رہےتھے آپ ﷺ نے غصہ بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے فرمایا : میری طرف دیکھو ! جب میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا تو فرمایا : عمرو ! اللہ کی قسم ! تو نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے ، میں نے عرض کیا یار سول اللہ ﷺ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ، کیا میں آپ کو اذیت پہنچاؤں گا تو فرمایا : کیوں نہیں ! جس نے علی کو تکلیف پہنچائی گویا اس نے مجھے ہی تکلیف پہنچائی ۔ (2)

وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَيْبِيَةِ ← عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِيِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ، ← الْفَضْلِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ سِنَانٍ، ← أَبَانُ بْنُ صَالِحٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 981

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 982

982 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ: أنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَهُ قَوْلُ النَّاسِ فِي عَلِيٍّ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قَدْ جَالَسْنَاهُ، وَحَادَثْنَاهُ، وَوَاكَلْنَاهُ، وَشَارَبْنَاهُ، وَقُمْنَا لَهُ عَلَى الْأَعْمَالِ، فَمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ شَيْئًا مِمَّا تَقُولُونَ، أَوَلَا يَكْفِيهِمْ أَنْ يَقُولُوا: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَتَنُهُ، وَشَهِدَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ، وَشَهِدَ بَدْرًا

عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کسی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں لوگوں کی بات کا تذکرہ کیا تو عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ نے کہا : ہم ان کے ساتھ بیٹھتے ، باتیں کرتے ، ساتھ کھاتے پیتے اور ان کے ساتھ بعض اوقات کاموں میں بھی شریک ہوتے تھے ۔ میں نے تو ان سے کوئی ایسی بات نہیں سنی جو تم کہتے ہو کیا ان لوگوں کے لیے یہی کافی نہیں ہے ؟ کہ وہ یہ بات کریں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے ، نیز بیعت رضوان اور غزوہ بدر میں شریک تھے ۔ (3)

عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قَدْ جَالَسْنَاهُ، وَحَادَثْنَاهُ، وَوَاكَلْنَاهُ، وَشَارَبْنَاهُ، وَقُمْنَا لَهُ عَلَى الْأَعْمَالِ، فَمَا ← عِنْدَهُ قَوْلُ النَّاسِ فِي عَلِيٍّ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 982

Sahih

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him