Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 959

959 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: نا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، شُعْبَةُ الشَّاكُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» . فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُ مِثْلَ هَذَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: أَظُنُّهُ قَالَ: فَكَتَمْتُهُ.

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کا میں دوست ہوں ، علی بھی اسکا دوست ہوں علی بھی اسکا دوست ہے ،سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : اسی طرح کی روایت میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سن رکھی ہے ۔ محمد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا : میں نے اس روایت کو چھپانے رکھا ہے ۔ (1)

فَكَتَمْتُهُ. ← مُحَمَّدٌ: أَظُنُّهُ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِثْلِ هَذَا، ← «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ» فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: وَأَنَا قَدْ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِي سَرِيحَةَ، أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، شُعْبَةُ الشَّاكُّ، ← أَبَا الطُّفَيْلِ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 959

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 960

960 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ: «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟ غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي» .

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے عورتوں اور بچوں کی حفاظت کے لیے پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں ، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تمہاری میرے ساتھ نسبت وہی ہے جو (سیدنا ) موسیٰ (علیہ السلام ) کو (سیدنا ) ہارون (علیہ السلام ) کے ساتھ تھی مگر میرے بعد نبی نہیں ہے ۔ (2)

خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَقَالَ: ← سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أبي قثنا محمد بن جعفر ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 960

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 961

961 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: وَاللَّهِ إِنَّ لَمِمَّا عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُبْغِضُنِي إِلَّا مُنَافِقٌ، وَلَا يُحِبُّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ.

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی کریم ﷺ نے خاص راز کی بات مجھ سےیہ فرمائی : آپ سے محبت نہیں کرے گا مگر مومن اور بغض نہیں رکھے گا منافق ۔ (3)

زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ ← ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا الْأَعْمَشُ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 961

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 962

962 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا عَامِرُ بْنُ السِّبْطِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْجَحَّافِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ ثَعْلَبَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَلِيُّ، إِنَّهُ مَنْ فَارَقَنِي فَقَدْ فَارَقَ اللَّهَ، وَمَنْ فَارَقَكَ فَقَدْ فَارَقَنِي» .

سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علی ! مجھ سے الگ ہوا تو یقینا اللہ اس سے الگ ہو ا اور جو تم سے الگ ہواگا تو بلاشبہ وہ مجھ سے الگ ہو گا۔ (4)

اَبِیْ ذَرٍّ ← معاوية بن ثعلبة ← أبو الجحاف ← أَبِي، قثنا ابْنُ نُمَيْرٍ قثنا عَامِرُ بْنُ السِّبْطِ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 962

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 963

963 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ: إِنِّي أَحْبَبْتُ عَلِيًّا حُبًّا لَمْ أُحِبَّهُ شَيْئًا قَطُّ، قَالَ: نِعْمَ مَا رَأَيْتَ، أَحْبَبْتَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أَبْغَضْتُ عُثْمَانَ بُغْضًا لَمْ أَبْغَضْهُ شَيْئًا قَطُّ، قَالَ: بِئْسَ مَا رَأَيْتَ، أَبْغَضْتَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ.

عبداللہ بن ظالم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ ایک شخص نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہا: مجھے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہر چیز سے زیادہ محبت ہے انہوں نےکہا : اچھی بات ہے ، کیونکہ تم جنتی انسان سے محبت کرتے ہو ، ایک دوسرا شخص آیا اس نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا : میں ہر چیز سے زیادہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہوں تو انہوں نے فرمایا: تیرے لیے ہلاکت ہے ، کیا تم ایک جنتی انسان سے بغض رکھتے ہو ؟(1)

بِئْسَ مَا رَأَيْتَ، أَبْغَضْتَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. ← إِنِّي أَبْغَضْتُ عُثْمَانَ بُغْضًا لَمْ أَبْغَضْهُ شَيْئًا قَطُّ، ← نِعْمَ مَا رَأَيْتَ، أَحْبَبْتَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ ← إِنِّي أَحْبَبْتُ عَلِيًّا حُبًّا لَمْ أُحِبَّهُ شَيْئًا قَطُّ، ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ ظَالِمٍ، ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 963

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 964

964 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا وَكِيعٌ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُفْرِطٌ غَالٍّ، وَمُبْغِضٌ قَالٍ.

ابو مریم رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرما رہے تھے : میرے بارے میں دو طرح کے لوگ ہلاک ہو جائیں گے : محبت اور بغض میں غلو سے کام لینے والے ۔ (2)

يَهْلِكُ فِيَّ رَجُلَانِ: مُفْرِطٌ غَالٍّ، وَمُبْغِضٌ ← عَلِيًّا ← أَبِي مَرْيَمَ ← نعيم بن حكيم ← وَكِيعٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 964

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 965

965 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَمْ يَغْزُ لَمْ يُعْطِ سِلَاحَهُ إِلَّا عَلِيًّا، أَوْ أُسَامَةَ.

ابو اسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی غزوہ میں شریک نہ ہوتے تو اپنے ہتھیار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یا سیدنا اُسامہ رضی اللہ عنہ کو ہی عنایت فرماتے ۔(3)

أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 965

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 966

966 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيَنْتَهِيَنَّ بَنُو وَلِيعَةَ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْهِمْ رَجُلًا كَنَفْسِي، يُمْضِي فِيهِمْ أَمْرِي، يَقْتُلُ الْمُقَاتِلَةَ، وَيَسْبِي الذُّرِّيَّةَ» ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَمَا رَاعَنِي إِلَّا بَرْدُ كَفِّ عُمَرَ فِي حُجْزَتِي مِنْ خَلْفِي، فَقَالَ: مَنْ تُرَاهُ يَعْنِي؟ قُلْتُ: مَا يَعْنِيكَ، وَلَكِنْ يَعْنِي خَاصِفَ النَّعْلِ

زید بن یثیع رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بنو ولیعہ ! اگر باز نہیں آتے تو میں ان پر ایسا شخص بھیج دوں گا جو مجھے اپنے نفس جیسا ہے جو میرا حکم ان پر نافذ کرے گا، لڑنے والوں کو قتل کرے گا اور بچوں کو قیدی بنائے گا۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابھی حرکت نہیں کی تھی کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجھے پیچھے سے پکڑکر فرمایا : بھلا یہ آدمی کون ہو سکتا ہے ؟ اس سےمراد آپ رضی اللہ عنہ نہیں ہیں بلکہ اس کے مصداق نبی کریم ﷺ کے نعلین مبارک گانٹھنے والے ہیں۔(4)

زيد بن يثيع ← أَبِي إِسْحَاقَ ← يُونُسَ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 966

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 967

967 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ لَقِيطٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ رِيَاحٍ الْحَارِثِ قَالَ: جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بِالرَّحَبَةِ فَقَالُوا: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مَوْلَانَا، فَقَالَ: كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عُرْبٌ؟ قَالُوا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ» . قَالَ رِيَاحٌ: فَلَمَّا مَضَوَا اتَّبَعْتُهُمْ فَسَأَلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ.

ریاح بن حارث رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہےکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس وسیع میدان میں ایک وفد آیا اور کہا : اے ہمارے سردار السلام علیکم ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم تو عرب لوگ ہو میں تمہارا سردار کیسے ہوا؟ ان لوگوں نے کہا : ہم نے نبی کریم ﷺ سے غدیرخم کے موقع پر سنا تھا ۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے جس کا میں دوست ہوں ، علی بھی اس کا دوست ہے ۔ریاح کہتے ہیں : جب وہ لوگ چلے گئے تو میں ا ن کے پیچھے چل دیا ، میں نے پوچھا :یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا : یہ انصار کا گروہ تھا جن میں سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی تھے ۔ (1)

نَفَرٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ ← رِيَاحٌ: فَلَمَّا مَضَوَا اتَّبَعْتُهُمْ فَسَأَلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ ← يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ: «مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← كَيْفَ أَكُونُ مَوْلَاكُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ ← السلام عليك يا مولانا! ← جَاءَ رَهْطٌ إِلَى عَلِيٍّ بِالرَّحَبَةِ ← رِيَاحٍ الْحَارِثِ ← أَبِي، قثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قثنا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ لَقِيطٍ النَّخَعِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 967

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 968

968 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: لَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، وَهُوَ دَاخِلٌ عَلَى الْمُخْتَارِ أَوْ خَارِجٌ مِنْ عِنْدِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ؟» . قَالَ: نَعَمْ.

علی بن ربیعہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی وہ اس وقت مختار تقفی کےپاس سے ابھی آئے ہی تھے یا اس کے پاس سے جانے والے تھے تو میں نے ان سے کہا : کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں تو انہوں نے فرمایا : جی ہاں !(2)

نَعَمْ ← إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ؟ ← لَقِيتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، وَهُوَ دَاخِلٌ عَلَى الْمُخْتَارِ أَوْ خَارِجٌ مِنْ عِنْدِهِ، فَقُلْتُ لَهُ: ← عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ ← عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ← أَبِي، قثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قثنا إِسْرَائِيلُ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 968

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 969

969 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَقْتُولٌ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَقْتُولٌ السَّاعَةَ، قَالَ: فَقَامَ عَلِيٌّ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَأَخَذْتُ بِوَسَطِهِ تَخَوُّفًا عَلَيْهِ، فَقَالَ: خَلِّ لَا أُمَّ لَكَ، قَالَ: فَأَتَى عَلِيٌّ الدَّارَ، وَقَدْ قُتِلَ الرَّجُلُ، فَأَتَى دَارَهُ فَدَخَلَهَا، وَأَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ، فَأَتَاهُ النَّاسُ فَضَرَبُوا عَلَيْهِ الْبَابَ، فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ قُتِلَ وَلَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ خَلِيفَةٍ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَا مِنْكَ، فَقَالَ لَهُمْ عَلِيٌّ: " لَا تُرِيدُونِي، فَإِنِّي لَكُمْ وَزِيرٌ خَيْرٌ مِنِّي لَكُمْ أَمِيرٌ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ مَا نَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَا مِنْكَ، قَالَ: فَإِنْ أَبَيْتُمْ عَلَيَّ فَإِنَّ بَيْعَتِي لَا تَكُونُ سِرًّا، وَلَكِنْ أَخْرُجُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يُبَايِعَنِي بَايَعَنِي، قَالَ: فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَبَايَعَهُ النَّاسُ.

محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں اپنے باپ (سیدناعلی رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تھا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے۔ ایک شخص نے آ کر کہا: امیرالمومنین کو شہید کیا جائے گا، ایک دوسرے نے آ کر بھی کہا: امیر المونین ! ابھی اس وقت شہید کیے جائیں گے۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ فورا کھڑے ہوئے، میں نے کسی اندیشہ کے پیش نظر ان کو روکا تو فرمانے لگے : مجھے چھوڑ دو تیری ماں نہ رہے۔ جب سید ناعلی رضی اللہ عنہ بھی وہاں پہنچے وہ شخص (سید نا عثمان رضی اللہ عنہ) شہید ہو چکے تھے، یہ حالت دیکھ کر واپس اپنے گھر آئے اور دروازہ بند کردیا۔ پیچھے سے لوگ آئے، دروازے کو دستک دی اور سب اندرآ کر کہنے لگے : وہ تو شہید ہو چکے ہیں ، اب لوگوں کو خلیفہ کی ضرورت ہے اور آپ سے بڑھ کر اس کا کوئی حق دار ہیں ہے تو سید علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم میرا ارادہ نہ کرو، البتہ تمہارے لیے میرا وزیر بنے سے بہتر ہوگا لوگوں نے دو بار کہا: اللہ کی قسم ! آپ سے زیادہ کوئی اس کاحق دارنہیں ہے، اگر تم اس پرصرار کرتے ہو تو میں چھپ کر بیعت نہیں کروں گا بلکہ مسجد جاؤں گا اور جو چاہے آکر مجھ سے بیعت کرلے۔رادی کہتے ہیں : پھر آپ رضی اللہ عنہ مسجد تشریف لائے وہاں سب کے سامنے لوگوں نے ان کی بیعت کی ۔ (3)

خَلِّ لَا أُمَّ لَكَ، ← مُحَمَّدٌ: فَأَخَذْتُ بِوَسَطِهِ تَخَوُّفًا عَلَيْهِ، ← فَقَامَ عَلِيٌّ، ← إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَقْتُولٌ السَّاعَةَ، ← إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَقْتُولٌ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ← فَأَتَاهُ رَجُلٌ ← كُنْتُ مَعَ عَلِيٍّ، وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ، ← مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← أَبِي، قثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، يَعْنِي: ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 969

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ فَضَائِلُ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ · حديث 970

970 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: قُتِلَ عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَمَالَ النَّاسُ إِلَى طَلْحَةَ، قَالَ: فَانْصَرَفَ عَلِيٌّ يُرِيدُ مَنْزِلَهُ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عِنْدَ مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ فَقَالَ: انْظُرُوا إِلَى رَجُلٍ قَتَلَ ابْنَ عَمِّهِ، وَسَلَبَ مُلْكَهُ، قَالَ: فَوَلَّى رَاجِعًا فَرَقَى فِي الْمِنْبَرِ فَقِيلَ: ذَاكَ عَلِيٌّ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَمَالَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَبَايَعُوهُ وَتَرَكُوا طَلْحَةَ.

سیدنا مسور بن مخرمتہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ جب سیدنا عچمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ، اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسجد میں تھے ۔ لوگوں نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے بیعت کرنی چاہی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر جانے کا ارادہ کیا ، ان کو ایک قریشی آدمی جنازہ گاہ کے پاس ملا اور کہا : دیکھو اس شخص کو جس نے اپنے چچاز زاد بھائی کو قتل کر کے اس کی حکومت لوٹ لی ، راوی کہتے ہیں : یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس مسجد آکر منبر پر چڑھے تو کسی نےکہا ، دیکھو یہ علی رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہیں تو سارے لوگوں نے ان کی طرف مائل ہو کر بیعت کرنے لگے اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا ۔ (1)

انْظُرُوا إِلَى رَجُلٍ قَتَلَ ابْنَ عَمِّهِ، وَسَلَبَ مُلْكَهُ، ← فَانْصَرَفَ عَلِيٌّ يُرِيدُ مَنْزِلَهُ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ عِنْدَ مَوْضِعِ الْجَنَائِزِ ← فَمَالَ النَّاسُ إِلَى طَلْحَةَ، ← قُتِلَ عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ فِي الْمَسْجِدِ، ← الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← أَبِي، قثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ← عَبْدُ اللَّهِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › A merit upon me, peace be upon him · Hadith 970

Hassan

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him