فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ اسْمُ أُمِّهِ وَنَسَبُهَا · حديث 944
944 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغَوِيُّ قثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ قثنا عَفِيفُ بْنُ سَالِمٍ الْمَوْصِلِيُّ قثنا الْحَسَنُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ إِلَى الْفَجْرِ فَأَقْبَلَنَّ الْوَزُّ يَصِحْنَ فِي وَجْهِهِ، فَطَرَدُوهُنَّ عَنْهُ، فَقَالَ: ذَرُوهُنَّ، فَإِنَّهُنَّ نَوَائِحُ، فَضَرَبَهُ ابْنُ مُلْجَمٍ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، خَلِّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ مُرَادٍ، فَلَا تَقُومُ لَهُمْ زَاعِبَةٌ أَوْ رَاعِيَةٌ أَبَدًا، قَالَ: لَا، وَلَكِنِ احْبِسُوا الرَّجُلَ، فَإِنْ أَنَا مُتُّ فَاقْتُلُوهُ، وَإِنْ أَعِشْ فَالْجُرُوحُ قِصَاصٌ.
حسن بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں ، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا تھا ، انہوں نے بیان کیا : سیدنا علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز کے لیے جارہے تھے تو بڑی بطخوں نے ان کے سامنے آوازیں نکالنا (چہچہانا ) شروع کیا ، لوگوں نے انہیں بھگانا چاہا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے : انہیں چھوڑ دو ، یہ واویلا کررہی ہیں پس ان پر ابن ملجم نے وار کیا میں نے کہ امیر المومنین ! ہم جانیں اور وہ (ابن ملجم اور اسکا قبیلہ ) جانے ؟ پس نہ کبھی ان کا کوئی لیڈر ہو گا اور نہ رعایا ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! اسے قتل مت کرنا ، البتہ گرفتار کر لو ، اگر میں فوت ہو گیا تو اس کو قتل کر دینا ، اگر میں بچ گیا تو زخموں کا قصاص ہو گا۔ (4)
وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ عَلِيًّا ← أَبِيهِ
Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › His mother's name and genealogy · Hadith 944
