Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 902

902 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا أَبُو عَامِرٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَخِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا إِذَا جِيءَ بِالْأَمْوَالِ وَضَعَهَا فِي الرَّحَبَةِ يَقُولُ: [البحر الرجز] هَذَا جَنَايَ وَخِيَارُهُ فِيهِ ... إِذْ كُلُّ جَانٍ يَدُهُ إِلَى فِيهِ

زید اپنے بھائی سے روائت کر تے ہیں کہ ایک دن سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بہت زیادہ مال آیا تو انہوں نے اس کو ایک وسیع میدان میں رکھوایا اور یہ شعر پڑھا : '' یہ میرا جمع شدہ مال ہے ، اس میں عمدہ چیزیں موجود ہیں جب کہ ہر صاحب مال کا ہاتھ منہ پر ہوتا ہے ۔''(2)

[البحر الرجز] هَذَا جَنَايَ وَخِيَارُهُ فِيهِ إِذْ كُلُّ جَانٍ يَدُهُ إِلَى فِيهِ ← عَلِيًّا إِذَا جِيءَ بِالْأَمْوَالِ وَضَعَهَا فِي الرَّحَبَةِ ← أَخِيهِ ← زُبَيْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا أَبُو عَامِرٍ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 902

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 903

903 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ: أَتَى عَلِيٌّ دَارَ فُرَاتٍ فَقَالَ لِخَيَّاطٍ: أَتَبِيعُ الْقَمِيصَ، أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، فَأَتَى آخَرَ فَقَالَ: أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: لَا، قَالَ: بِعْنِي قَمِيصَ كَرَابِيسَ، قَالَ: فَبَاعَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: مُدَّ يَدَ الْقَمِيصِ، فَلَمَّا بَلَغَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ قَالَ: اقْطَعْ مَا فَوْقَ ذَلِكَ وَكَفَّهُ وَلَبِسَهُ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أَتَوَارَى بِهِ وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي خَلْقِهِ.

ابو عبدالرحمٰن ہمدانی رحمۃاللہ علیہ اپنی دادی سے وہ اپنے باپ سے بیان کرتی ہیں کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرات کے گھر آئے ، درذی سے کہا : یہ قمیص بیچو گے ؟ اور کیا تم مجھے جانتے ہو ؟ درذی نے کہا ہاں !، فرما یا : پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، پھر دوسرے کے پاس آکر کہا : کیا تم مجھےجانتے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ،فرمایا :یہ کرابیسی قمیص مجھے فروخت کر دو ؟ اس نے بیچ دی تو سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : اس کے بازو لمبے کرو ، جب وہ ان کی انگلیوں تک پہنچ گئی تو فرمایا :ہاتھ سے اضافی قمیص کاٹ کر باقی سلائی کر دو پھر پہن کر یہ دعا پڑھی : تمام تعریفیں اللہ کے لیےجس نے مجھے کپڑے پہنائے جس سے میں ستر پوشی کرتا ہو ں اور لوگوں میں اپنے آپ کو خوبصورت بناتا ہوں۔ (3)

اقْطَعْ مَا فَوْقَ ذَلِكَ وَكَفَّهُ وَلَبِسَهُ ← لَهُ: مُدَّ يَدَ الْقَمِيصِ، فَلَمَّا بَلَغَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ← فَبَاعَهُ، ثُمَّ ← بِعْنِي قَمِيصَ كَرَابِيسَ، ← لَا۔ ← أَتَعْرِفُنِي؟ ← لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، فَأَتَى آخَرَ ← نَعَمْ ← لِخَيَّاطٍ: أَتَبِيعُ الْقَمِيصَ، أَتَعْرِفُنِي؟ ← أَتَى عَلِيٌّ دَارَ فُرَاتٍ ← أَبِيهَا ← جَدَّتِہٖ ← عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْهَمْدَانِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ قثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 903

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 904

904 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ عُبَادَةُ بْنُ زِيَادِ بْنِ مُوسَى قثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ الْعَطَّارُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: صَحِبْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ سَنَةً، ثُمَّ صَحِبْتُ عَلِيًّا، فَكَانَ فَضْلُ عَلِيٍّ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فِي الْعِلْمِ، كَفَضْلِ الْمُهَاجِرِ عَلَى الْأَعْرَابِيِّ

عبیدہ سلمانی رحمۃ اللہ علیہ سے روائت ہے کہ میں ایک سال سیّد نا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحبت میں رہا پھر سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رہا تو میں نے سیّد نا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو علمی اعتبارسے اس قدر صا حب فضیلت پایا جتنا کوئی مہاجر صحابی کسی دیہاتی شخص پر فضیلت رکھتا ہے۔(1)

Hadith 904

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 905

905 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: قثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ، يَعْنِي: الْهَمْدَانِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ: كَانَ إِذَا أَتَى بَيْتَ الْمَالِ قَالَ، يَعْنِي عَلِيًّا، قَالَ: غُرِّي غَيْرِي، فَيَقْسِمُهُ حَتَّى لَا يَبْقَى مِنْهُ شَيْءٌ، ثُمَّ يَكْنِسُهُ وَيُصَلِّي فِيهِ رَكْعَتَيْنِ.

ابو عبدالر حمٰن رحمۃاللہ علیہ اپنے نانا سے روائت کر تے ہیں کہ جب سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیت المال آتے تو سیّد نا علی فرماتے : میرے علاوہ کسی اور کو دھوکہ دینا ، چنانچہ تمام چیزوں کو لوگوں پر تقسیم کر تے پھر جھاڑ و لگواکر دور کعت نماز ادا کرتے ۔(2)

يَعْنِي عَلِيًّا، ← كَانَ إِذَا أَتَى بَيْتَ الْمَالِ ← أَبِيهَا ← جَدَّتِہٖ ← عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ، يَعْنِي: الْهَمْدَانِيُّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← قثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 905

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 906

906 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ، فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَاكْظِمُوا عَلَيْهِ، وَلَا تَخْلِطُوهُ بِضَحِكٍ فَتَمُجَّهُ الْقُلُوبُ. قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ: إِنَّ جَرِيرًا حَدَّثَنَا بِهِ عَنْكَ، فَمِمَّنْ سَمِعْتُهُ أَنْتَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِيهِ حَسَنُ بْنُ حَيٍّ.

سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : لوگوں علم حاصل کرو اور حاصل کرو تو اسے نگل جاؤ (یعنی اپنے دل میں جذب کرلو ) اور اس ساتھ ہنسی مذاق کی امیز ش مت کرو تاکہ دل اسے باہر نہ پھینکے ۔ابو معمر رحمۃاللہ علیہ کہتے : میں نے امام سفیان بن عیینہ رحمۃاللہ علیہ سے پوچھا : بلا شبہ جریر رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیں آپ کے حوالے سے بیان کیا ہے ، البتہ آپ نے کس سے سنا ہے انہوں نے کہا : مجھے حسن بن حی نے بیان کیا ہے ۔(3)

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← جَرِيرٌ ← إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 906

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 907

907 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ قثنا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ بِهَرَاةَ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَمْشِي إِلَى الْعِيدِ.

ابو سنان شیبانی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ مجھے ہر ات میں ایک آدمی نے کہا : میں نے سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تھا ۔(4)

رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَمْشِي إِلَى الْعِيدِ. ← رَجُلٌ بِهَرَاةَ ← أَبِي سِنَانٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ قثنا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 907

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 908

908 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَدِمَ عَلِيٌّ عَلَى وَفْدٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنْهُمْ رَجُلٌ مِنْ رُءُوسِ الْخَوَارِجِ يُقَالُ لَهُ الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَةَ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: يَا عَلِيُّ، اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَقَدْ عَلِمْتَ سَبِيلَ الْمُحْسِنِ، يَعْنِي بِالْمُحْسِنِ عُمَرَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّكَ مَيِّتٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، بَلْ مَقْتُولٌ قَتْلًا ضَرْبَةً عَلَى هَذَا يُخَضَّبُ، هَذِهِ قَضَاءٌ مَقْضِيٌّ، وَعَهْدٌ مَعْهُودٌ، وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى، ثُمَّ عَاتَبَهُ فِي لَبُوسِهِ فَقَالَ: مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَلْبَسَ؟ قَالَ: مَا لَكَ وَلِلَبُوسِي، إِنَّ لَبُوسِي هَذَا أَبْعَدُ مِنَ الْكِبْرِ وَأَجْدَرُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِهِ الْمُسْلِمُ.

زید بن وہب رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہل بصرہ کے خارجیوں کے ایک وفد کے پاس آئے،جن کاسردار جعد بن بعجہ تھا ، اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا : علی ! اللہ سے ڈرو ، بے شک تم مرنے والے ہواور تم محسن (یعنی سیّد نا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کا رستہ جانتے ہو ، یقیناً تم مرنے والے ہو، تو سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : نہیں !اللہ کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں شمشیر لگنے سے شہید کیا جاؤ ں گا جس سے یہ (سراور ڈاڑھی ) خون الود ہو گی ، یہ ایک فیصلہ ہے جو ہو چکا ہے ،ایک مقررہ وعدہ ہے جو پورا ہونے والا ہے یقیناً جھوٹ باندھنے والا خسارے میں ہے ، پھر اس شخص نے لباس کے متلق اعتراض کیا اور کہا : تم لباس پورا کیوں نہیں پہنتے ؟ تو سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میرے لباس سے آپ کا کیا تعلق ؟ کیونکہ یہ میرا لباس تکبر سے دوری کی علامت ہے ، چاہیے کہ ہر مسلمان اس کی پیروی کرے ۔(1)

زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبِي الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ← أَبِي، قثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا شَرِيكٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 908

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 909

909 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ قَالَ: أنا شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ زَيْدٍ قَالَ: قَدِمَ عَلِيٌّ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ مِنَ الْخَوَارِجِ فِيهِمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَةَ، فَقَالَ لَهُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَلِيُّ؛ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: بَلْ مَقْتُولٌ قَتْلًا ضَرْبَةً عَلَى هَذَا، تُخَضِّبُ هَذِهِ، يَعْنِي لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ، عَهْدٌ مَعْهُودٌ، وَقَضَاءٌ مَقْضِيٌّ، وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى، وَعَاتَبَهُ فِي لِبَاسِهِ فَقَالَ: مَا لَكُمْ وَلِلِبَاسِي؟ هُوَ أَبْعَدُ مِنَ الْكِبْرِ، وَأَجْدَرُ أَنْ يَقْتَدِيَ بِيَ الْمُسْلِمُ.

زید بن وہب رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد ناعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہل بصرہ کے خارجیوں کے ایک وفد کہ پاس آئےاس میں ایک شخص تھا جسے جعد بن بعجہ کہا جاتا تھا ، اس شخص نے کہا : علی اللہ سے ڈرو ، بے شک تم مرنے والے ہو تو سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرما یا نہیں ! بلکہ میں شمشیر لگنے سے شہید کیا جاؤ ں گا ، جس سے سراور داڑھی خون الود ہو گی ، یہ ایک مقررہ وعدہ ہے جو پورا ہو نے والا ہے ، ایک فیصلہ ہے جو ہو چکا ہے ، یقیناً جھوٹ باندھنے والا نا مراد ہے پھر اس شخص نے لباس کے متعلق اعتراض کیا تو سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےفر مایا : میرے لباس سے آپ کا کیا تعلق ؟ کیو نکہ یہ میرا لباس تو تکبر سے دوری کی علامت ہے ، چاہیے کہ ہر مسلمان اس کی پیروی کرے۔(2)

زيد1 ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 909

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 910

910 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قثنا أَبُو غَسَّانَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ الْمَكْفُوفِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ حَبَّةَ، وَهُوَ الْعُرَنِيُّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ أُتِيَ بِفَالُوذَجَ فَوُضِعَ قُدَّامَهُ، فَقَالَ: إِنَّكَ لَطَيِّبُ الرِّيحِ، حَسَنُ اللَّوْنِ، طَيِّبُ الطَّعْمِ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُعَوِّدَ نَفْسِي مَا لَمْ تَعْتَدْ.

حبہ عرنی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے فالودہ (1) لایا گیا تو سیّد نا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تمہاری خوشبو اور رنگت بہت اچھی ہے ، ذائقہ بھی مزیدار ہے لیکن میں اپنے نفس کو اس طرح کی چیزوں کا عادی نہیں بنانا چاہتا جس کی اسے عادت نہ ہو ۔1 ۔ اس کے اجزائے ترکیبی آٹا ،گھی ، اور چینی ہیں ، جسے عام طور " چُوری " کانام دیا جاتا ہے ، نہ کہ اس سے مراد وہ فالودہ جو ہمارے ہا ں مشہور ہے،(3)

عَلِيٍّ، أَنَّهُ أُتِيَ بِفَالُوذَجَ فَوُضِعَ قُدَّامَهُ، ← حَبَّةَ، وَهُوَ الْعُرَنِيُّ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ شَرِيكٍ ← أَبِي دَاوُدَ الْمَكْفُوفِ، ← سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ قثنا أَبُو غَسَّانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 910

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 911

911 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ قثنا الْوَلِيدُ بْنُ الْقَاسِمِ قثنا مَطِيرُ بْنُ ثَعْلَبَةَ التَّمِيمِيُّ قثنا أَبُو النَّوَّارِ بَيَّاعُ الْكَرَابِيسِ قَالَ: أَتَانِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ، فَاشْتَرَى مِنِّي قَمِيصُ كَرَابِيسَ، قَالَ لِغُلَامِهِ: اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا، وَأَخَذَ عَلِيٌّ الْآخَرَ فَلَبِسَهُ، ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ فَقَالَ: اقْطَعِ الَّذِي يَفْضُلُ مِنْ قَدْرِ يَدِي، فَقَطَعَهُ وَكَفَّهُ، فَلَبِسَهُ وَذَهَبَ.

ابو النوار ؒ سے راویت کرتے ہیں کہ وہ کرابیسی کپڑا بیچتے تھے ، میرے پاس سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ان کے ساتھ انکا غلام بھی تھا انہوں نے مجھ سے کرابیسی قمیص خریدی اپنے غلام کو کہا ان دونوں میں سے کوئی ایک پسند کر لے تو اس نے ان میں سے ایک لے لی تو دوسری سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لے کر پہنی ، پھر اپنے بازو کو لمبا کیا تو فرمایا : ہاتھ سے اضافی کپڑا کاٹ دو ، چنانچہ اس نے کاٹ کر باقی کو سیلائی کر دیا تو آپ رضی اللہ عنہ پہن کر چلے گئے ۔ (1)

عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 911

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 912

912 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعِ بْنِ رَاشِدٍ قثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْأَزْدِيِّ، وَكَانَ إِمَامًا مِنْ أَئِمَّةِ الْأَزْدِ، قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا أَتَى السُّوقَ فَقَالَ: مَنْ عِنْدَهُ قَمِيصٌ صَالِحٌ بِثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ؟ فَقَالَ رَجُلٌ: عِنْدِي، فَجَاءَ بِهِ فَأَعْجَبَهُ، قَالَ: فَلَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْ ذَاكَ، قَالَ: لَا ذَاكَ ثَمَنُهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُ عَلِيًّا يَقْرِضُ رِبَاطَ الدَّرَاهِمِ مِنْ ثَوْبِهِ، فَأَعْطَاهُ، فَلَبِسَهُ فَإِذَا هُوَ يَفْضُلُ عَلَى أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ، فَأَمَرَ فَقَطَعَ مَا فَضَلَ عَنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ.

ازدی امام ابو سعد از دی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ علیہ کو بازار آتے دیکھا ،انہوں نے کہا کسی کے پاس تین درہم قیمت کی اچھی قمیص ہے ؟ ایک شخص نے کہا : میرے پاس ۔ وہ لے کر آیا تو انہیں پسند آگئی ، لگتا ہے کہ اس سے وہ قمیص بہتر ہے اس نے کہا : وہ مہنگی ہے ، رازوی کہتے ہیں میں نے دیکھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے کپڑوں سے درہم رکھنے کی جگہ کاٹ رہے تھے تو درہم دے کر قمیض لے کر پہن لی ، جب دیکھا تو وہ انگلیوں سے زیادہ لمبی تھی پھر انہوں نے انگلیوں سے زائد کٹوا دی ۔ (2)

أَبِي سَعْدٍ الْأَزْدِيِّ، وَكَانَ إِمَامًا مِنْ أَئِمَّةِ الْأَزْدِ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعِ بْنِ رَاشِدٍ قثنا هُشَيْمٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 912

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ أَخْبَارُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَزُهْدِهِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ · حديث 913

913 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيًّا قَسَمَ مَا فِي بَيْتِ الْمَالِ عَلَى سَبْعَةِ أَسْبَاعٍ، ثُمَّ وَجَدَ رَغِيفًا فَكَسَرَهُ سَبْعَ كِسَرٍ، ثُمَّ دَعَا أُمَرَاءَ الْأَجْنَادِ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ.

عاصم بن کلیب ؒ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیت المال سات حصوں میں تقسیم کر دیا تو ایک روتی بچی تھی تو اس کو بھی سات حصوں میں کاٹ کر لشکروں کے امیروں میں بہ ذریعہ قرعہ اندازی بانٹ دیا ۔ (3)

عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Hadith 913

Sahih

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him30. The virtues of the Arabs31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them34. Virtues of Khadija and others35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him36. Virtues 0 People of Yemen37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them42. The virtues of a people of the Levant43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him