Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 833

833 - حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ قَالَ: نا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَدَائِنِيُّ قثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ، عَنْ مَطَرٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ ذَكَرَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَى الْهُدَى» ، قَالَ: فَلَحِقْتُهُ فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَمَيَّلْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هَذَا» ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ.

سیّد نا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکی خدمت میں آپ کے ہمراہ بیٹھےہوئے تھے ،اچانک آپ ﷺ نے جلدی آنے والے فتنے کا تذکرہ کیا تو وہاں سے ایک شخص چادر اوڑھے ہوئے گزررہاتھا ،آپ ﷺ نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :یہ اور اس کے ساتھی اس وقت حق پر ہوں گے ،میں تیزی سے ان کے پاس گیا ،ان کی کلائی پکڑکر عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ!یہ ہے وہ شخص ؟یہی ،سودہ سیّد نا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔(1)

فَلَحِقْتُهُ فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْهِ فَمَيَّلْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ فَقُلْتُ: هَذَا ← رَسُولُ اللَّهِ «هَذَا يَوْمَئِذٍ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَى الْهُدَى» ← فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ، ← بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ، إِذْ ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← مَطَرٍ، ← الْمُغِيرَةِ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَدَائِنِيُّ قثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 833

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 834

834 - حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ قَالَ: نا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَغَوِيُّ قَالَ: نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَفِي يَدِهَا مُشْطٌ، فَقَالَتْ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا رَجَّلْتُ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ تَجِدِينَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟» قُلْتُ: كَخَيْرِ الرِّجَالِ، قَالَ: «أَكْرِمِيهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ أَشْبَهِ أَصْحَابِي بِي خُلُقًا» .

سیّدنا ابوہریرہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا عثمان کی زوجہ محترمہ اور نبی کریم ﷺ کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ان کو کنگھی کی ہے ۔انہوں نے مجھ سے فرمایا :تم نے ابوعبداللہ!(عثمان)کو کیساپایا ہے؟میں نے کہا :وہ بہتریں انسان ہیں تو فرمایا :ان کی خوب عزت کر،وہ میرے صحابہ میں سے اخلاق کے لحاظ سے مجھ جیسے ہیں۔(2)

«كَيْفَ تَجِدِينَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟» قُلْتُ: كَخَيْرِ الرِّجَالِ، ← خَرَجَ مِنْ عِنْدِي رَسُولُ اللهِ آنِفًا رَجَّلْتُ رَأْسَهُ ← دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ امْرَأَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ وَفِي يَدِهَا مُشْطٌ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُطَّلِبِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، ← الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَغَوِيُّ، ← الْهَيْثَمُ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 834

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 835

835 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ قثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، هُوَ الْوَاسِطِيُّ، قثنا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: هَلْ عَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ؟ فَقَالَتْ: مَعَاذَ اللَّهِ، غَيْرَ أَنِّي سَأُحَدِّثُكَ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَى حَفْصَةَ فَقَالَتْ: يَا حَفْصَةُ، نَشَدْتُكِ اللَّهَ أَنْ تُكَذِّبِينِي بِحَقٍّ أَوْ تُصَدِّقِينِي بِبَاطِلٍ، قَالَتْ: أَفْعَلُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: هَلْ تَعْلَمِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: أُفْرِغُ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي، فَأَفَاقَ فَقَالَ: «افْتَحُوا عَنْهُ» ، فَقُلْتُ: أَبِي؟ فَسَكَتَ، فَقُلْتِ أَنْتِ: أَبِي؟ فَسَكَتَ، فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ ثَلَاثًا، أَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقُلْتِ: أَتَعْلَمِينَ أَنَّ عَلَى الْبَابِ لَرَجُلًا مَا هُوَ بِأَبِي وَلَا بِأَبِيكِ، فَانْظُرِي مَنْ هُوَ؟ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَدَخَلَ فَقَالَ: «ادْنُهْ» ثَلَاثًا، حَتَّى اتَّكَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَجَعَلَهَا مِنْ وَرَاءِ عُنُقِهِ ثُمَّ سَارَّهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «فَهِمْتَ؟» قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَوَعَى قَلْبِي، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ حَفْصَةُ: نَعَمْ.

سیّد نا ابوبکر عدوہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا:کیا رسول اللہ نے وفات سے پہلے کسی صحابی سے کو ئی وعدد لیا تھا ؟سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا :معازاللہ !ہاں مگر میں تجھے بتاؤں گی،پھر وہ سیّد حفصہ سے کہنے لگی :حفصہ !تجھے اللہ کی قسم ! اگرمیں جھوٹ بولوں تو تم حق بات بیان کرنا اور با طل میں میری تا ئید نہ کرنا تو سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا حضور ﷺ ہوش میں آئے ہیں ؟ تم نے کہا :مجھے نہیں پتہ ،چونچہ جب آپﷺ ہوش میں آئے تو فرمایا :دروازہ کھولو !میں نے کہا :میرے باپ (سیّد نا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لیے)؟تو آپ ﷺ خاموش رہے تو تم نے کہا :میرے والد (سیّد نا عمر رضی اللہ عنہ کے لیے ) ؟تو آپ ﷺ چپ رہے ،اسی دوران آپ ﷺ پر غشی طاری ہو گئی، میں آپ ﷺ سے یہی بات کہہ رہی تھی کہ تم نے کہا : کیا تم جانتی ہو کہ دروازے پر کوئی بند ہ آیا ہے جو نہ میرا باپ ہے اور نہ تیر ے والد دیکھو کون ہے ؟جب دیکھا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے پس وہ داخل ہوئے نبی کریم نے انہیں تین مرتبہ قریب آنے کا کہا ، یہاں تک کہ آپ ہاتھ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اسے ان کی گردن کے پیچھے لے گئے پھر ان کے ساتھ سرگوشی فرمایئ جب فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا سمجھ گئے ہو ؟ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ! میرے کانوں نے سن لیا اور میرے دل نے محفوظ کر لیا یہاں تک کہ یہ باتیں تین مرتبہ د ہرائیں ، اس کے بعد نبی کریم ﷺ دنیا سے رخصٹ ہو گئے تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے بطور تصدیق کہا : ہاں !(1)

أَبِي بَكْرٍ الْعَدَوِيِّ ← الْجُرَيْرِيِّ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 835

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 836

836 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي حَبِيبَةَ، وَهُوَ جَدُّ مُوسَى أَبُو أُمِّهِ، قَالَ: بَعَثَنِي الزُّبَيْرُ إِلَى عُثْمَانَ، وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ، وَهُوَ عَلَى فُرُشِ ذِي ظَهْرٍ، وَعِنْدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ مَرَاكِنُ مَاءٍ مَمْلُوءَةٌ، وَرِيَاطٌ مُطْرَحَةٌ، فَقُلْتُ: بَعَثَنِي إِلَيْكَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ: إِنِّي عَلَى طَاعَتِكَ لَمْ أُبَدِّلْ وَلَمْ أَنْكُثْ، فَإِنْ شِئْتَ دَخَلْتُ الدَّارَ مَعَكَ، فَكُنْتُ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ، وَإِنْ شِئْتَ أَقَمْتُ، وَإِنَّ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَعَدُونِي أَنْ يُصْبِحُوا عَلَى بَابِي، ثُمَّ يَمْضُوا لِمَا آمُرُهُمْ بِهِ، فَلَمَّا سَمِعَ الرِّسَالَةَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَصَمَ أَخِي، أَقْرِئْهُ السَّلَامَ وَقُلْ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الدَّارَ لَا يَكُونُ إِلَّا رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ، فَمَكَانُكَ أَحَبُّ إِلَيَّ، وَعَسَى أَنْ يَدْفَعَ اللَّهُ بِكَ عَنِّي، فَلَمَّا سَمِعَ الرِّسَالَةَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَامَ فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا سَمِعَتْ أُذُنَايَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «تَكُونُ بَعْدِي فِتَنٌ وَأُمُورٌ وَأَحْدَاثٌ» ، قُلْنَا: فَأَيْنَ الْمَنْجَا مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «إِلَى الْأَمِينِ وَحِزْبِهِ» وَأَشَارَ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَامَ النَّاسُ فَقَالُوا: قَدْ أَمْكَتْنَا الْبَصَائِرُ، فَائْذَنْ لَنَا فِي الْجِهَادِ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَزَمْتُ عَلَى مَنْ كَانَتْ لِي عَلَيْهِ طَاعَةٌ أَلَّا يُقَاتِلَ، قَالَ: فَبَادَرَ الَّذِينَ قَتَلُوا عُثْمَانَ مِيعَادَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَقَتَلُوهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

سیّدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے نا نا کہتے تھے سیّد نا زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھے محا صر ے کے دنوں میں سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پیغام دے کر پھیجا،تو میں سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گرمیوں کے ایام میں گیا ،وہ اپنے بستر پر تھے ،ان کے پاس سیّد نا ابوہریرۃ ،سیّد نا عبداللہ بن عمر ،سیّد نا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے بڑے برتن میں پانی تھا ،ایک رسی پڑی ہوئی تھی ،میں نے کہا :مجھے سیّد نا زبیر رضی اللہ عنہ نے آپ کی طرف بھیجا ہے ،وہ آ پ کو سلام دے رہے تھے،نیز پیغام دیا ہے کہ میں آپ کی اطاعت پر ہوں ،نہ میں بولا ہوں اور نہ میں نےبد عہدی کی ہے ، اگر آ پ چاہیں تو میں آ پ کے ساتھ گھر میں ایک آدمی کی صورت میں رہوں گا ،آپ چاہیں تو میں کھڑا رہوں گا ،بنی عمر و بن عوف نے میرے ساتھ وعدد کیا ہے کہ وہ کل میرے دروازے پر آہیں گے اور میں ان کو جوحکم دوں گا وہ کریں گے ،جب سیّدنا عثمان رضی اللہ ُعنہ نے یہ پیغام سنا تو فرمایا :اللہ اکبر ! تعریف اللہ کی ہے کس نے میرے بھائی کو بچا لیا ہے ،انہیں میرا سلام دینا اور ان سے کہنا :وہ میرے گھر میں صرف قوم کے ایک فرد کی حیثیت سے آہیں گے ،آپ کی موجودگی مجھے پسند ہے ،شاہد آپ کی وجہ سے اللہ میری آزمائش کو ٹال دے ،جب سیّد نا ابو ہریرہ رضی اللہ ُعنہ نے یہ پیغام سنا تو کھڑے ہو کر کہنے لگے :میں آپ کو وہ حدیث نہ سناؤں جسے میرے کانو ں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ،لوگوں نے کہا :جی سنا یئے !تو کہنے لگے :میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے سنا ہے ،آپﷺفرمارہے تھے :میرے بعد طرح طرح کے فتنے ہوں گے ،ہم نے عرض کی :یارسول اللہ ﷺ!پھر ان سے کیسے بچاجائے گا ؟توفرمایا :تم امین اور کی جماعت کے ساتھ رہو ۔آپ ﷺکا اشارہ سیّد نا عثمان بن عفان رضی اللہ ُعنہ کی طرف تھا ،یہ سن کرلوگ ہوئے اور کہنے لگے :اب حقائق سے پردہ اُٹھ چکا ہے اس لئے ان لوگوں کے ساتھ ہمیں جہاد کرنے کا حکم دیں توسیّد نا عثمان رضی اللہ ُعنہ نے فرمایا :میں اپنے اطاعت گزاروں کو لڑنے کا حکم نہیں دیتا ،پھر قاتلین سیّد نا عثمان رضی اللہ ُعنہ نے بنی عمر وبن عوف کے وقت مقررہ سے عہد شکنی کی اور سیّد نا عثمان رضی اللہ ُعنہ کو شہیدکردیا ۔(1)

أَبِي حَبِيبَةَ، وَهُوَ جَدُّ مُوسَى أَبُو أُمِّهِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← أَبِي ← أَحْمَدُ قثنا مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 836

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 837

837 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قثنا الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ الْكُوفِيُّ قثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ عِمْرَانَ الْحَنَفِيِّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أُزَوِّجَ كَرِيمَتَيَّ عُثْمَانَ» .

سیّد نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اپنی دختر نیک اختر کا نکاح عثمان سے کراؤں(2)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُمَيْرُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَنَفِيُّ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 837

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 838

838 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، نا عَبَّادٌ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْحَمُ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا أَبُو بَكْرٍ» ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «وَإِنَّ أَشَدَّ هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْدَ نَبِيِّهَا حَيَاءً عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ» .

سیدّنا ابو اُمامہ رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :نبی کے بعد اس پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے ابوبکر ہیں ۔پھر باقی حدیث بیان کرنے کے بعد آخرمیں فرمایا :اور اس امت میں نبی کے بعد سب سے زیادہ حیا کرنے والے عثمان بن عفان ہیں(3)

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عَبَّادٌ الْمُهَلَّبِيُّ، ← أَحْمَدُ قثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 838

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 839

839 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ قثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَمَاعَةَ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ، قَالُوا: نا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ قثنا ابْنُ شَوْذَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ، يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ، بِدَنَانِيرَ فَصَبَّهَا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا بِيَدِهِ وَيَقُولُ: «مَا عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا» .

سیّد ناعبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے (کہ جیش عسرہ کی تیاری کے موقع پر جب نبی کریم ﷺنے آپﷺ ان کو اپنے سامنے رکھ کر مبارک ہاتھوں سے الٹ پلٹ کرتے ہوئے فرما رہے تھے :آج کے بعد عثمان بن عفان اگر کوئی عمل نہ کرے تو کچھ نقصان نہ ہوگا۔(4)

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ← كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْقَاسِمِ ← ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ قثنا ابْنُ شَوْذَبٍ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ الرَّمْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَمَاعَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ قثنا أَبُو عُمَيْرِ بْنُ النَّحَّاسِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 839

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 840

840 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَرَّانِيُّ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا مُشْطٌ، فَقَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِي آنِفًا فَرَجَّلْتُ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «كَيْفَ تَجِدِينَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي عُثْمَانَ؟» قَالَتْ: قُلْتُ: كَخَيْرِ الرِّجَالِ، قَالَ: «أَكْرِمِيهِ؛ فَإِنَّهُ مِنْ أَشْبَهِ أَصْحَابِي بِي خُلُقًا»

سیّد نا ابوہریرہ رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بیٹی سیدہ رقیہ رضی اللہ ُعنہا کے پاس آیا ،ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی ،وہ فرمانے لگیں:ابھی ابھی میرے پاس سے رسول اللہ ﷺ گئے ہیں،میں نے ان کے بالوں کو کنگھی کی ہے ۔انہوں نے نے مجھے فرمایا تم نے ابوعبداللہ (عثمان )کو کیسا پایا ہے ؟میں نے کہا :وہ بہترین انسانوں جیسے ہیں ،توفرمایا :ان کی عزت کرو،وہ میرے صحابہ میں سے سے اخلاق کےلحاظ سے مجھ جیسے ہیں۔(1)

قُلْتُ: كَخَيْرِ الرِّجَالِ، ← «كَيْفَ تَجِدِينَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي عُثْمَانَ؟» ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ عِنْدِي آنِفًا، فَرَجَّلْتُ رَأْسَهُ ← دَخَلْتُ عَلَى رُقَيَّةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ وَفِي يَدِهَا مُشْطٌ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمُطَّلِبِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 840

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 841

841 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، نا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ قَالَ نا شَيْخٌ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي الْجَنَّةِ» .

سیّدنا طلحہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :ہر نبی کا جنت میں کو ئی رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرارفیق عثمان بن عفان ہے۔(2)

طَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللہِ ← الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شيخ من بني زهرة ← يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ قثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 841

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 842

842 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْكُوفِيُّ، نا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْقُرَشِيُّ قثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَلَسْتُ أَنَا وَجَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ الْقَاضِي إِلَى فُلَانِ بْنِ سَعِيدٍ، أَوْ سَعِيدِ بْنِ فُلَانٍ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْهُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرِنَا رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «النَّبِيُّ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِي آخِرِهِ «وَعُثْمَانُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» .

سیّد نا سعد بن زید رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت رسول اللہﷺ کے پاس آئی اور انہوں نے عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ!ہمیں کو ئی جنتی آدمی دکھایئے ،آ پ ﷺ نے فرمایا :(تمھارے ) بنی جنتی ہیں؟راوی نے پوری حدیت بیان کرنے کے بعد آخریہ الفاظ بھی بیان کیے کہ آپ ﷺ نے ارشا د فرمایا :عثمان جنتی ہیں(3)

أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَتَوْهُ ← سَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ الْقَاضِي إِلَى فُلَانِ بْنِ سَعِيدٍ، أَوْ سَعِيدِ بْنِ فُلَانٍ، ← وَجَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، ← جَلَسْتُ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ الْقُرَشِيُّ قثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ، ← محمد بن جعفر الكوفي

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 842

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 843

843 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّقْرِ السُّكَّرِيُّ قثنا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ قثنا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ فِي الْجَنَّةِ، وَرَفِيقِي فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ» .

سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :ہر نبی کا جنت میں کو ئی رفیق ہوتا ہے اور میراجنتی رفیق عثمان ہے (4)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 843

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 844

844 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو مَرْوَانَ قثنا أَبِي، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ عُثْمَانَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ: «يَا عُثْمَانُ، هَذَا جِبْرِيلُ يُخْبِرُنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ زَوَّجَكَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِمِثْلِ صَدَاقِ رُقَيَّةَ، وَعَلَى مِثْلِ صُحْبَتِهَا» .

سیّد نا ابو ہریرہ رضی اللہ ُعنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سیّد نا عثمان رضی اللہ ُعنہ کو مسجد کے پاس ملے تو فرمایا :عثمان! مجھے ابھی جبرائیل علیہ سلام نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلثوم کا نکاح آپ سے کردیا ہے مہر اتناہی ہے جتنارقیہ کا تھا ۔(5)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← عَبْدُ اللَّهِ قثنا أَبُو مَرْوَانَ قثنا أَبِي،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 844

Daif

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him