Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble

by Musnad Imam Bin Hanble

1,963 Hadith48 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 821

821 - حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَرَاطِيسِيُّ قثنا عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ قثنا الْوَضَّاحُ بْنُ حَسَّانَ الْأَنْبَارِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُثْمَانَ: «أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا، وَأَنْتَ وَلِيِّي فِي الْآخِرَةِ» . وَأَظُنُّهُ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ.

سیّدنا جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میرے دنیا اور آخرت میں دوست ہو ۔ (2)

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَيْدَةُ بْنُ حَسَّانَ، ← طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 821

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 822

822 - حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ قثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ قثنا سَكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْقُرَشِيُّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: إِنِّي لَتَحْتَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَحَضَّضَ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا عَوْنًا فِي هَذَا الْجَيْشِ، ثُمَّ حَضَّضَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَامَ عُثْمَانُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا عَوْنًا فِي هَذَا الْجَيْشِ، ثُمَّ حَضَّضَ فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيَّ ثَلَاثُمِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا عَوْنًا فِي هَذَا الْجَيْشِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَبَّابٍ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: «مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ» . [ص:505]

سّد نا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جیش العسرۃ کی تیاری کے موقع پر جب نبی کریم ﷺ نے (صدقے کا اعلان ) فرمایا :پس کسی نے جواب نہ دیا تو سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : یا ررسول اللہﷺ! میں اس لشکرکی دوسو اونٹ این اور کجا وے کے ساتھ ( یعنی سامان سے لد ے ہوئے ) مدد کرو ں گا ،(پھر فرمایا )ان کو چھوڑ کر اور کو ئی ؟پس پھر بھی کسی نے جواب نہ دیا تو سید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو ئے اور عرض کیا :یارسول اللہﷺمیں اس لشکر کی تین سو اونٹ زین اور کجاوے جے ساتھ (یعنی سامان سے لدے ہوئے )مدد کروں گا ۔سید نا عبدالرحمٰن بن جباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی کریم ﷺکے ہاتھ کی طرف دیکھ رہا تھا کہ آپ ﷺ فرمارہے تھے :آج کے بعد عثمان کا کوئی عمل بھی اسے ضرر نہیں دے گا۔(3)

عبد الرحمن بن خباب السلمى ← فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، ← الْوَلِيدِ بْنِ زِيَادٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 822

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 823

823 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ قثنا السَّكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

سیدنا عبد الرحمٰن بن خباب رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت منقول ہے۔(4)

شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ ← فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، ← الوليد بن أبي هشام ← إِبْرَاهِيمُ قثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ قثنا السَّكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 823

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 824

824 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ قثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ، فَقَالَ: «هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ» ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِهِ، وَاسْتَقْبَلَ بِوَجْهِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ.

سیّدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولﷺنے قریب آنے والے ایک فتنے کا تذکرہ کیا رق وہاں قریب سے ایک شخص چادر اوڑے ہوئے گزرا تو آپ ﷺ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :یہ شخص اور اس کے ساتھی اس وقت ہدایت پر ہوں گے ، ایک آدمی ان کی طرف کھڑا ہوا،اس نے کندھے سے پکڑ کر ان کا چہرہ رسول اللہ ﷺکی طرف کیا اور عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ !یہ شخص ؟فرمایا :ہاں !سووہ سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔(1)

رَسُولُ اللَّهِ فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ، ← کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← إِبْرَاهِيمُ قثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ قثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 824

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 825

825 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ قثنا حَمَّادٌ، هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ تَحْتَ دُومَةٍ، وَهُوَ يَكْتُبُ النَّاسَ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ، أَكْتُبُكَ؟» ، قُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، ثُمَّ جَعَلَ يُمْلِي عَلَى الْكَاتِبِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ أَكْتُبُكَ؟» ، فَقُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، ثُمَّ جَعَلَ يُمْلِي عَلَى الْكَاتِبِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ، أَكْتُبُكَ؟» فَقُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، ثُمَّ جَعَلَ يُمْلِي عَلَى الْكَاتِبِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «أَكْتُبُكَ؟» فَقُلْتُ: مَا خَارَ اللَّهُ لِي وَرَسُولُهُ، فَجَعَلَ يُمْلِي عَلَى الْكَاتِبِ، فَنَظَرْتُ فِي الْكِتَابِ فَإِذَا فِيهِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُمَا لَمْ يُكْتَبَا إِلَّا فِي خَيْرٍ، قَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ، أَكْتُبُكَ؟» فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَكَتَبَنِي، ثُمَّ قَالَ: «يَا ابْنَ حَوَالَةَ، كَيْفَ أَنْتَ وَفِتْنَةٌ تَكُونُ بِأَقْطَارِ الْأَرْضِ كَأَنَّهَا صَيَاصِي الْبَقَرِ، وَالَّتِي تَلِيهَا كَنَفْخَةِ أَرْنَبٍ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «فَإِنَّهُ يَوْمَئِذٍ وَمَنْ مَعَهُ عَلَى الْحَقِّ» ، قَالَ: فَذَهَبْتُ فَلَفَتُّهُ فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقُلْتُ: هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: «نَعَمْ» ، قَالَ: وَقَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: يَدْخُلُ عَلَيَّ رَجُلٌ مُعْتَجِرٌ بِبُرْدِ حِبَرَةٍ يُبَايِعُ النَّاسَ، مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ "، قَالَ: فَهَجَمْنَا عَلَى عُثْمَانَ وَهُوَ مُعْتَجِرٌ بِبُرْدِ حِبَرَةٍ يُبَايِعُ النَّاسَ

ابن حوالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا ،اس وقت آپ ﷺدرخت کے سائے تلے تشریف فرماتھے اور کاتب سے کچھ لکھوارہے تھے،مجھے فرمایا :ابن حوالہ ! کیا تیر ے لیے بھی کچھ لکھوادوں؟میں نے عرض کیا :یارسول اللہﷺ !اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے میرے لیے کس چیز کا انتخاب کیا ہے ؟پھر آ پ ﷺ ہمہ تن کاتب سے لکھوانے میں مشغول ہوگئے ۔پھر آپ ﷺ نے سر اُٹھایا اورفرمایا :ابن حوالہ !کیا تیرے لیے بھی کچھ لکھوادوں ؟میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ!اللہ اور اس کے رسول کے رسول ﷺ نے میرے لیے کس چیز کا انتخاب کیا ہے ؟پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اورفرمایا :ابن حوالہ !کیا تیر ے لیے بھی کچھ لکھوادوں ؟میں نے عرض کیا :یارسول اللہ اﷺ!اللہ اور اس کے رسول نے میرے لیے کس چیز کاانتخاب کیا ہے ؟اسی دوران میری کاتبین کی طرف نظر پڑی تووہ سیّدناابوبکراور سیّدناعمر رضی اللہ عنہ تھے ،میں جان گیا کہ یہ دونوں توبھلائی کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں لکھتے تو آپ ﷺنے فرمایا !ابن حوالہ !کیا تیر ے لیے بھی کچھ لکھوادوں ؟میں نے عرض کیا:لکھوادیں توفرمایا :ابن حوالہ !ان فتنوں کے مقابلے میں کیا کرو گے جو زمین کے اطراف سے گائے کے سینگ کی مانند رونما ہوں گے ،جواس کے بعد آئے گا وہ توخرگوش کی پھونک کی مانند (تیر ) ہو گا، میں نے عرض کیا :اللہ اوراس کے رسول ﷺبہتر جانتے ہیں ۔پھرفرمایا :اس وقت وہ شخص اوراس کے پیروکارحق پر ہوں گے ،میں گیا ،دیکھا توسیّد نا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔میں نے عرض کیا :یارسول اللہ یہ شخص ؟آپ نے فرمایا :جی ہاں !راوی کہتے ہیں ،ایک دن رسول اللہ ﷺنے فرمایا :ابھی میرے پاس خوبصورت چادر اوڑ ھے ہوئے ایک شخص آئے گا لوگوں سے بیعت لے گا ،وہ جنتی ہے ہم دوڑئے ،اچانک سیّد ناعثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جبکہ آپ رضی اللہ عنہ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔(1)

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ قثنا حَمَّادٌ، هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 825

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 826

826 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، قثنا حَجَّاجٌ، قثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ حَجَّ الْبَيْتَ، فَرَأَى قَوْمًا جُلُوسًا فَقَالَ: مَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا: قُرَيْشٌ، قَالَ: مَنِ الشَّيْخُ فِيهِمْ؟ قَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ فَحَدِّثْنِي، أَنْشُدُكَ اللَّهَ بِحُرْمَةِ هَذَا الْبَيْتِ، أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ فَرَّ يَوْمَ أُحُدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ تَغَيَّبَ عَنْ بَدْرٍ فَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَعْلَمُ أَنَّ عُثْمَانَ تَغَيَّبَ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَلَمْ يَشْهَدْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَكَبَّرَ قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: تَعَالَ أُبَيِّنْ لَكَ كُلَّ مَا سَأَلْتَنِي عَنْهُ: أَمَّا فِرَارُهُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَأَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْهُ وَغَفَرَ لَهُ. وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ، فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَتْ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَكَ أَجْرُ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمُهُ» . وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزُّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ بَعَثَهُ مَكَانَهُ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: «هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ» ، فَضَرَبَ بِهَا عَلَى يَدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «هَذِهِ لِعُثْمَانَ» قَالَ ابْنُ عُمَرَ لِلرَّجُلِ: اذْهَبْ بِهَذَا الْآنَ مَعَكَ

سیّد نا عثمان بن اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مصر سے ایک شخص جج کرنے کے لے لئے آیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھ کر کہا یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا :یہ قریشی ہیں اس نے کہا :ان میں الشیخ (معتبر عالم دین )کون ہے،انہوں نے کہا :سیّد نا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ تو اس آدمی نے کہا :ابن عمر !میں تم سے کسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہوں آپ بیان کریں ،میں آپ کو اس گھر کی حرمت کی قسم دلا کر پوچھتا ہوں ،کیا آ پ جانتے ہیں کہ عثمان جنگ بدر میں بھی شریک نہیں ہوئے ؟ابن عمر رضی اللہ عنہ نےفرمایا :جی ہاں اس نے کہا :آپ جانتے ہیں کہ عثمان بیعت رضوان (مقام حدیبیہ پر بیعت کے موقع )سے بھی غائب تھے ؟ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :جی ہاں۔اس کے بعد اس نے کہا :اللہ اکبر(یعنی میں سچا ہوں جو سیّد نا عثمان کے خلاف ہوں )ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :ادھرآؤ میں تمہیں بتاتا ہوں اورتم پر واضح کرتا ہوں کہ جن چیزوں کے بارے میں تو مجھ سے سوال کیا ہے تو فرمایا : رہاان کا اُحد کے میدان میں کچھ دیر کے لئے فرار ہونا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرمادیا اوربخش دیا ہے ۔رہا ان کا بدر سے غائب ہو نا تواسکی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی بیٹی ان کی اہلیہ تھیں اور وہ بیمار تھیں تونبی کریم ﷺنےان سے از خود فرمایا تھا :تم کو غزوہ بدر میں شریک ہونے والے کے برابر اجر دیا جائے گا اور اس کے برابر تمہارے لئے مال غنیمت سے حصہ بھی ہے ۔رہا ان کا بیعت رضوان سےغائب رہنا تو وہ اس لئے ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو مکہ بھیجا تھا اگر اہل مکہ کے نزدیک ان کے علاوہ اور کوئی معزز ہوتا تو سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کو کبھی بھی مکہ نہ بھیجتے بلکہ رسول اللہﷺنے خود اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پررکھ کر فرمایا تھا :یہ ہاتھ عثمان کے لئے ہے (جوزیر بیعت ہے)پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کو فرمایا :اب یہ جوابات اپنے ساتھ لے جانا(2)

عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← إِبْرَاهِيمُ، قثنا حَجَّاجٌ، قثنا أَبُو عَوَانَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 826

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 827

827 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ قثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ جَاوَانَ: لِمَ كَانَ اعْتَزَلَ الْأَحْنَفُ؟ قَالَ: قَالَ [ص:507] الْأَحْنَفُ انْطَلَقْنَا حُجَّاجًا فَمَرَرْنَا بِالْمَدِينَةِ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ فِي مَنْزِلِنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ فَزِعُوا فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَصَاحِبِي، فَإِذَا النَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَى نَفَرٍ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَتَخَلَّلْتُهُمْ حَتَّى قُمْتُ عَلَيْهِمْ، وَإِذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ قُعُودٌ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَمْشِي فِي الْمَسْجِدِ عَلَيْهِ مُلَيَّةٌ صَفْرَاءُ قَدْ رَفَعَهَا، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَنْظُرَ مَا جَاءَ بِهِ، فَلَمَّا دَنَا قَالُوا: هَذَا ابْنُ عَفَّانَ، قَالَ: أَهَاهُنَا عَلِيٌّ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَاهُنَا الزُّبَيْرُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَاهُنَا طَلْحَةُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَهَاهُنَا سَعْدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلَانٍ» ؟ فَابْتَعْتُهُ - قَالَ حُصَيْنٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: بِعِشْرِينَ أَلْفًا، أَوِ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا - فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُهُ، قَالَ: «فَاجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ» ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» ، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ قَالَ: «اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ» ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ فَقَالَ: «مَنْ يُجَهِّزْ هَؤُلَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» ، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ خِطَامًا وَلَا عِقَالًا؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ، ثُمَّ انْصَرَفَ.

احنف سے روایت ہے کہ ہم حج کے ارادے سے روانہ ہوئے ہمارا گزر مدینہ منورہ سے ہوا ،اسی دوران ہم کسی گھر میں تھے تو اچانک ایک شخص نے آ کر کہا :لوگ مسجد میں کوف زدگی کے عالم میں ہیں؟میں بھی اپنے ساتھی کےساتھ گیا ،جب ہم مسجد پہنچے رو مسجد کے درمیان ایک شخص کے پاس سارے لوگ جمع تھے ،میں ان میں گھس کران کے پاس جا کھڑ ا ہوا ،وہا ں سیّدنا علی بن ابی طالب ،سیّد ناطلحہ ،سیّد نا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ وغیرہ ہم تشریف فرماتھے ،کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ زرد رنگ کی پگڑی زیب تن کیے مسجد میں آتے ہوئے دکھائی دیئے ،میں نے ساتھی سے بولا تم ادھر ہی رہو ،میں دیکھتا ہو ں کہ ان لوکون لے کر آیا ہے ،جب وہ قریب آئے رتو لوگوں نے کہا :یہ سیّد نا عثمان آگئے ہیں۔انہوں نے کہا : یہاں پرن علی رضی اللہ عنہ ہیں ؟لوگوں نے کہا :ہاں پھر فرمایا :یہاں پر طلحہ رضی اللہ عنہ ہیں ؟لوگوں نے کہا :ہاں پھر فرمایا :یہاں پر سعد رضی اللہ عنہ ہیں ؟لوگوں نے کہا :ہاں پھر متوجہ ہو کر فرمانے لگے :میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے کیا تم جاتنے ہو کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا کہ بنی فلاں کے میدان کو کون خرید گا؟ تو میں نے خرید ا ۔راوئ حدیث حصین کہتے ہیں :میرے گمان کے مطابق انہوں نےکہا : میں نے بیس یا پچیس ہزار کے عوض وہ جگہ خرید تھی ۔میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا اور عرض کیا :یا رسول اللہﷺ !میں نے وہ زمین خریدی ہے،آپ ﷺنے ارشارد فرمایا :اس کو ہماری مسجد میں شامل کردیں ،اور اس کا اجر آپ کوملے گا ،سب بے کہا جی ہاں!پھر فرمایا :میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کوئی الہ نہیں ہے ،کیا تم جانتے ہو جب رسول اللہ ﷺ نےفرمایا تھا :جو بھی بئر رومہ خرید ے گا ،اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے گا تو میں نے وہ کنواں اتنی اتنی قیمت کا خریدا ،میں نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا :یارسول اللہ ﷺ!میں نے وہ بئر رومہ مسلمانوں کے پانی پینے کے لئے خرید لیا ہے توآ پ نے ارشاد فرمایا :اس کا اجر آ پ کو ملے گا ،سب نے کہا :جی ہاں !پھر فرمایا :میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے علاوہ کو ئی الہ نہیں کیا تم جانتے ہو جب رسول اللہ ﷺنے غزوہ تبوک کے موقع پر لوگوں کے چہروں کو دیکھا تو فرمانے لگے :ان کے لئے جو ضروری چیزیں رتیار کرے گا تو اللہ اس کی مغفرت کرے گا تو میں نے وہ سامان نکیل اوررسیوں سمیت تیار کیا تھا ،سب نے کہا :جی ہاں پھر فرمایا :اے اللہ ! تو گواہ ہو جا،اےاللہ !تو گواہ ہوجا،اے اللہ !توگواہ ہوجا،اےاللہ !اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے۔(1)

قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ جَاوَانَ: لِمَ كَانَ اعْتَزَلَ الْأَحْنَفُ؟ ← حُصَيْنٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ قثنا أَبُو عَوَانَةَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 827

Hassan

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 828

828 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا حَمَّادٌ، وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ قَالَ: سَمِعْتُ خُطَبَاءَ بِالشَّامِ فِي الْفِتْنَةِ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ، أَوِ ابْنُ كُعَيْبٍ، قَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أَقُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ فِتْنَةً كَائِنَةً، فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فَقَالَ: «هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى» ، فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.

ابوالاشعث رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ فتنے کے دور میں میں نے شامی خطبا کو سنا تو ایک آدمی کھڑا ہو ا جس کو مرہ بن کعب یا ابن کعیب کہا جاتاتھا اس نے کہا :اگر میں نے نبی کریم ﷺسے حدیث نہ سنی ہوتی تو میں نہ کھڑ ا ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کا تذکرہ کیا تو وہاں سے ایک شخص خود کو ڈھانپے ہوئےگزررہاتھا(ان کا اشارہ کیا اور ) فرمایا :یہ اور اس کے ساتھی اس دن پر حق پر ہوں گے ۔پس وہ سیّد نا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے ۔(2)

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 828

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 829

829 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا أَبُو هِلَالٍ قثنا قَتَادَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَهِيجُ عَلَى الْأَرْضِ فِتْنَةٌ كَصَيَاصِي الْبَقَرِ» ، فَمَرَّ رَجُلٌ مُتَقَنِّعٌ فَقَالَ: «هَذَا وَأَصْحَابُهُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْحَقِّ» ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذْتُ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ فَقُلْتُ: هُوَ ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «هُوَ ذَا» ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ.

مرہ بہزری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :زمین پر فتنہ گائے کے سینگ کی طرح اُبھرے گا تو وہا ں قریب سے ایک شخص چادر اوڑ ھے گزر رہا تھا آپ ﷺ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :یہ شخص اور اس کے ساتھی اس وقت ہدایت پرہوں گے ،میں ان کی طرف کھڑ ا ہو ،میں نے اس شخص کے کپڑے لیے اور عرض کیا :یا رسول اللہ ﷺ یہ شخص ؟فرمایا ہاں (جب میں نے اسے دیکھا تو ) وہ سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔(3)

مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا أَبُو هِلَالٍ قثنا قَتَادَةُ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 829

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 830

830 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ فِي الدَّارِ، وَكَانَ فِي الدَّارِ مَدْخَلٌ كَانَ مَنْ دَخَلَهُ سَمِعَ كَلَامَ مَنْ عَلَى الْبَلَاطِ، فَدَخَلَهُ فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَهُوَ مُتَغَيِّرٌ لَوْنُهُ قَالَ: إِنَّهُمْ لَيَتَوَعَّدُونِي بِالْقَتْلِ آنِفًا، فَقُلْنَا يَكْفِيَكَهُمُ اللَّهُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَبِمَ يَقْتُلُونِي؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٌ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ، أَوْ زَنَى بَعْدَ إِحْصَانِهِ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ "، فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ قَطُّ، وَلَا أَحْبَبْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِي اللَّهُ، وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا، فَبِمَ يَقْتُلُونِي؟

سید ناابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں سیّد نا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ،جب وہ محصور تھے ،ہم ایسی جگہ جاتے تھے جہان سے ہمیں لوگوں کی باتیں دیتی تھیں ،ایک دن سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی کسی ضرورت کے لیے اس جگہ تشریف لائے ،جبکہ غم وگھبراہت سے آ پ کا چہرہ متغیر تھا ،فرمانے لگے :یہ لوگ اب مجھے قتل کرنے کی سازش تیار کررہے ہیں ہم نے کہا :امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ ہے ۔انہوں نے فرمایا :یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہیں؟ حالا نکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون تین میں سے کسی ایک صورت میں ہی روا ہے :1۔ جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے ۔ 2۔اگر کو ئی شادی شدہ ہونے کے بعد بد کاری کرے ۔3۔کوئی ان کے علاوہ کسی کو نا حق تقل کرے ۔چنانچہ اللہ کی قسم !نہ میں نے زمانہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ ہی کبھی اسلام میں،جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت سے نواز ہے ،نہ میں کبھی آ ج تک اپنے دین کو تبدیل کرنے کی خواہش کی ہے ،نہ میں نے کسی نفس کو ( ناحق) قتل کیا ہے تو پھر یہ لوگ کیوں میرے قتل کے در پے ہیں۔(1)

أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 830

Sahih

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 831

831 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ لَقِيَ عَطَاءً قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُرِّ الْأُمَوِيُّ قَالَ: لَمَّا مَاتَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّانِيَةُ عِنْدَ عُثْمَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا أَبُو أَيِّمٍ، أَلَا وَلِيُّ أَيِّمٍ يَنْكِحُ عُثْمَانَ، إِنِّي أَنْكَحْتُهُ ابْنَتَيَّ، وَلَوْ كَانَتْ عِنْدِي ثَالِثَةٌ لَأَنْكَحْتُهُ، وَمَا أَنْكَحْتُهُ إِحْدَى ابْنَتَيَّ إِلَّا بِوَحْيٍ مِنَ السَّمَاءِ» .

عبداللہ بن حراموی رحمۃاللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺکی دوسری بیٹی جو سیّد نا عثمان کے نکاح میں تھیں وہ فوت ہوگئیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :کیا غیر شادی شدہ عورت کاباپ یا سر پرست عثمان کو رشتہ نہیں دے گا ،بلاشبہ میں نے اپنی دو صاحبزادیوں کو ان کے نکاح میں دیا ،اگر میرے پاس تیسری بیٹی بھی ہوتی تو میں عثمان کے ساتھ اس کا نکا ح کردیتا اوران میں سے کسی ایک کو نکاح میں نے نہیں کیا مگر یہ کہ مجھ پرآسمان سے وحی کی گئی تھی (کہ میں عثمان کے تھ اپنی بیٹیوں کو نکاح یکے بعد دیگرے کردوں)(2)

لَمَّا مَاتَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ الثَّانِيَةُ عِنْدَ عُثْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُرِّ الْأُمَوِيُّ ← شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَدْ لَقِيَ عَطَاءً ← بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ قثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 831

Daif

فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل · کتاب ‹ وَمِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ شُيُوخِهِ سِوَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ · حديث 832

832 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ قثنا سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ قثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ قثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِفَرْدٍ إِلَّا لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَعْنِي يَدْعُو حَتَّى رَأَيْتُ ضَبْعَيْهِ.

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے سوائے سیّد نا عثمان کے کسی شخص کے لئے خاص طور پر دعا نہیں مانگی میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا ان کے لئے خصوصی دُعا مانگ رہے تھے جبکہ زیادہ ہاتھ اُٹھانے کی وجہ سے آپ ﷺ کےبغل کی سفیدی بھی نظر آ رہی تھی ۔(3)

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ

Fazail Al Sahaba Al Ahmad Bin Hanble · Book › And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad · Hadith 832

Daif

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Door2. He was asked about the virtues of Abu, the first-born of al-Siddiq, the mercy and pleasure of God be upon him3. He was asked about the words of Ali ibn Abi Talib and others: The best of this nation after its prophet Abu Bakr and Omar4. His saying, may God’s prayers and peace be upon him: “If I had taken people as a friend, I would not have taken a virgin father as a friend5. He, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Pass a virgin father, let him pray to the people.”6. The remainder of his saying: “Show a first-born father who prays to people.”7. It was not narrated that Abu Bakr was the first to become Muslim8. It was not narrated that a virgin father came to ask permission, so the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said: “Permit him, and give him good tidings of paradise.”9. The Virtue of the Commander of the Believers, Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with him10. The Islam of Umar ibn Al-Khattab, may God be pleased with him11. And among the virtues of Omar bin Al-Khattab from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik, on the authority of his sheikhs other than Abd Allah bin Ahmed, and from the hadith of Abu Bakr bin Malik.12. The virtue of Othman bin Affan, may God be pleased with him13. And from the merits of Othman, from the hadeeth of Abu Bakr bin Malik on the authority of his sheikhs except for Abdullah bin Ahmad14. The news of the Prince of the Believers, Ali bin Abi Talib, and his asceticism, may God be pleased with him15. His mother's name and genealogy16. A merit upon me, peace be upon him17. And from the merits of me, may God be pleased with him, from the hadeeth of Abu Bakr Ibn Malik on the authority of his sheikhs other than Abdullah18. The Virtue of Abd al-Rahman ibn Awf, may God be pleased with him19. The Virtue of Az-Zubayr Bin Awwam, may God be pleased with him
20. Fadil Abi Ubaidah Ibn Al Jarrah, may God be pleased with him
21. Fadil Talha Bin Ubaid Allah, may God be pleased with him
22. Fadil Saad bin Abi Waqas, may God be pleased with him
23. Fadil Fatima, the daughter of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
24. The virtues of good, and the good, may God be pleased with them.
25. The Virtues of Ansar, may God be pleased with them
26. The virtue of Khalid bin Al-Walid, may God have mercy on him
27. Fadil Saad bin Muadh, may God have mercy on him
28. Fadil Haritha Ibn Nu'man, may God be pleased with him
29. Fadil Suhaib, may God be pleased with him
30. The virtues of the Arabs
31. The virtue of Usama bin Zaid, may God be pleased with him
32. Fadil Abdullah bin Masoud, may God be pleased with him
33. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with them
34. Virtues of Khadija and others
35. Fadil Ammar ibn Yasser, may God be pleased with him
36. Virtues 0 People of Yemen
37. Virtues of the family of the Mother of the Believers, may God be pleased with her, and other things among the people of Yemen
38. The virtues of the Banu Ghafar, and Islam and others
39. Fadil Jaafar ibn Abi Talib, may God be pleased with him
40. Fadil Jarir bin Abdullah, may God be pleased with him
41. Fadil Abdullah Bin Omar, may God be pleased with them
42. The virtues of a people of the Levant
43. The Virtue of the Companions of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him
44. The virtue of Amr ibn al-Aas, may God be pleased with him
45. The Virtues of Mu`awiyah Bin Abi Sufyan, may God be pleased with them
46. The virtues of Abu al-Fadl al-Abbas ibn Abd al-Muttalib, the uncle of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him
47. Fadil Abdullah bin Abbas, may God be pleased with him